معز امجد اور ڈاکٹر محمد فاروق کے جواب میں
محترم جاوید احمد غامدی کے بعض ارشادات کے حوالے سے جو گفتگو کچھ عرصے سے چل رہی ہے اس کے ضمن میں ان کے دو شاگردوں جناب معز امجد اور ڈاکٹر محمد فاروق خان نے ماہنامہ اشراق لاہور کے مئی ۲۰۰۱ء کے شمارے میں کچھ مزید خیالات کا اظہار کیا ہے جن کے بارے میں چند گزارشات پیش کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ معز امجد صاحب نے حسب سابق (۱) کسی مسلم ریاست پر کافروں کے تسلط کے خلاف علماء کے اعلان جہاد کے استحقاق (۲) زکوٰۃ کے علاوہ کسی اور ٹیکس کی ممانعت (۳) اور علماء کے فتویٰ کے آزادانہ حق کے بارے میں اپنے موقف کی مزید وضاحت کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عورت ۔ ثقافتی جنگ میں مغرب کا ہتھیار
اس وقت عالم اسلام اور مغرب میں فلسفۂ حیات اور کلچر و ثقافت کی جو کشمکش جاری ہے اور جسے خود مغرب کے دانشور ’’سولائزیشن وار‘‘ قرار دے رہے ہیں اس میں مغرب کا دعویٰ ہے کہ وہ جس کلچر اور ثقافت کا علمبردار ہے وہ ترقی یافتہ اور جدید ہے اس لیے ساری دنیا کو اسے قبول کر لینا چاہیے۔ لیکن مغرب کا یہ دعویٰ درست نہیں ہے کیونکہ جدید تہذیب کی اقدار و روایات میں کوئی ایک بات بھی ایسی شامل نہیں ہے جسے نئی قرار دیا جا سکے بلکہ یہ سب کی سب اقدار و روایات وہی ہیں جو ’’جاہلیت قدیمہ‘‘ کا حصہ رہ چکی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
شادی اور اس کے سماجی اثرات
شادی کو عام طور پر ایک سماجی ضرورت سمجھا جاتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک طبعی ضرورت ہے اور سماجی ضرورت بھی ہے۔ لیکن اسلام نے اسے صرف ضرورت کے دائرے تک محدود نہیں رکھا بلکہ زندگی کے مقاصد میں شمار کیا ہے اور نیکی اور عبادت قرار دیا ہے جس سے شادی کے بارے میں اسلام کے فلسفہ اور باقی دنیا کی سوچ میں ایک بنیادی فرق سامنے آتا ہے۔ کیونکہ اگر شادی کو محض ایک ضرورت اور مجبوری سمجھا جائے تو پھر یہ ضرورت جہاں پوری ہو اور جس حد تک پوری ہو بس اسی کی کوشش کی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
انسانی حقوق اور اسوۂ نبویؐ
سب سے پہلے محکمہ اوقاف پنجاب کا شکر گزار ہوں کہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ اور حیات مبارکہ کے حوالہ سے منعقد ہونے والی اس تقریب میں شرکت اور آپ حضرات سے گفتگو کا موقع فراہم کیا۔ سیرت نبویؐ پر گفتگو کرنے والا اپنی بات شروع کرنے سے پہلے اس الجھن میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ اس وسیع و عریض چمنستان کے سدا بہار پھولوں میں سے کس کا انتخاب کرے اور کسے چھوڑے کیونکہ اس باغ کے ہر پھول کی خوشبو نرالی ہے اور کسی ایک کو چھوڑ کر آگے نکل جانے کا حوصلہ نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حزب التحریر کے نوجوانوں سے ایک گزارش
۲۱ فروری ۲۰۰۱ء کو فیلیٹیز ہوٹل لاہور میں پاکستان شریعت کونسل کا سیمینار تھا جس میں جمعیۃ علماء اسلام، جمعیۃ علماء پاکستان، جماعت اسلامی، مجلس احرار اسلام، مجلس تحفظ ختم نبوت اور دیگر جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں مولانا عبد المالک خان، علامہ شبیر احمد ہاشمی، مولانا عبد الرؤف فاروقی، مولانا عبد الرشید انصاری، قاری زوار بہادر، مولانا قاری جمیل الرحمان اختر، چوہدری ظفر اقبال ایڈووکیٹ اور دیگر رہنماؤں کے علاوہ راقم الحروف نے بھی مختصر اظہار خیال کیا جبکہ پاکستان شریعت کونسل کے امیر حضرت مولانا فداء الرحمان درخواستی نے سیمینار کی صدارت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس اور دورِ جدید کے مسائل و تقاضے
اس دفعہ دارالعلوم جمیکا نیویارک کے مہتمم مولانا محمد یامین اور ان کے رفقاء کار بھائی برکت اللہ اور مولانا حافظ اعجاز احمد کی دعوت پر میں نے عید الاضحٰی کی تعطیلات دارالعلوم نیویارک میں گزاریں۔ عید کے دوسرے روز اسلام آباد سے کویت ایئرویز کے ذریعے سفر کرتا ہوا شام کو نیویارک پہنچا اور ۱۹ نومبر کو واپسی کے سفر کا آغاز کر کے ان سطور کی اشاعت تک گوجرانوالہ پہنچ جاؤں گا، ان شاء اللہ تعالٰی۔ بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے ہمارے مخلص ساتھیوں بھائی برکت اللہ اور مولانا محمد یامین نے اپنے دیگر رفقاء کے تعاون سے اب سے کوئی چودہ برس قبل یہ ادارہ قائم کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پاکستان کے سیاسی طبقات
گزشتہ ایک کالم میں میاں محمد نواز شریف اور ان کے خاندان کی سعودی عرب جلاوطنی پر تبصرہ کرتے ہوئے طاقت اور دولت کی کشمکش کے حوالہ سے کچھ عرض کرنے کا وعدہ کیا تھا اس لیے آج اسی سلسلہ میں کچھ گزارشات پیش کی جا رہی ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد ملک کی باگ ڈور جن طبقات کے ہاتھوں میں چلی گئی وہ تین تھے: (۱) جاگیردار اور زمیندار (۲) بیوروکریٹس (۳) اور جرنیل صاحبان۔ جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کی آمد تک ملک کی اسٹیبلشمنٹ انہی تین طبقات سے عبارت رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
آسمانی تعلیمات کے حوالے سے ایک مستقل آزمائش
سورۃ المائدہ آیت ۴۴ تا آیت ۵۰ میں اللہ تعالیٰ نے آسمانی کتابوں کے نزول کا مقصد اور تسلسل بیان فرمایا ہے کہ ہم نے تورات نازل کی جس کے مطابق حضرات انبیاء کرامؑ لوگوں کے درمیان فیصلے کیا کرتے تھے، پھر انجیل نازل کی اور اس کے ماننے والوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے معاملات اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ اس کتاب کے مطابق کیا کریں، اس دوران زبور نازل ہوئی اور حضرت داؤدؑ کو بھی اللہ رب العزت نے یہی حکم دیا کہ وہ لوگوں کے معاملات اور تنازعات کا کتاب اللہ کی روشنی میں فیصلہ کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ملک کی بربادی کا سبب ۔ علامہ ابن خلدونؒ کی نظر میں
علامہ ابن خلدونؒ آٹھویں صدی ہجری کے وہ نامور مؤرخ ہیں جنہوں نے نہ صرف تاریخ پر قلم اٹھایا ہے اور انسانی معاشرہ کی تاریخ کے مختلف ادوار کے حالات و واقعات کو قلمبند کیا ہے بلکہ قوموں کی نفسیات، انسانی تاریخ کے مد و جزر اور اتار چڑھاؤ کے پس منظر اور اقوام کے عروج و زوال کے اسباب و عوامل پر فلسفیانہ گفتگو بھی کی ہے اور انہیں تاریخ کی فلسفہ نگاری کا بانی شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی مرتب کردہ تاریخ اور اس کے مقدمہ میں قوموں کے عروج و زوال اور حکومتوں کی کامیابی و ناکامی کے معاشی اسباب پر بحث کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا اکرم اعوان کا پرویز مشرف کے نام خط
امریکہ کے صدارتی انتخابات میں جارج ڈبلیو بش اور الگور کی تاریخی کشمکش اور پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی خاندان سمیت جلاوطنی نے بہت سے موضوعات کو نگاہوں سے وقتی طور پر اوجھل کر دیا تھا، اب کچھ دھند چھٹی ہے تو بعض باتیں یاد آنے لگی ہیں۔ امریکی انتخابات میں تو سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد مسٹر الگور نے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے جارج ڈبلیو بش کو مبارکباد دے کر بات صاف کر دی ہے مگر میاں نواز شریف کی جلاوطنی کے حوالہ سے الجھنوں میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کیا اسلامی نظام صرف مولویوں کا مسئلہ ہے؟
وزیر داخلہ جناب معین الدین حیدر نے یہ کہہ کر اسلامی نظام اور اس کی علمبردار دینی قوتوں کے خلاف ایک بار پھر وہی گھسی پٹی دلیلیں دہرائی ہیں جو اس سے قبل پچاس سال سے ہم سن رہے ہیں کہ ’’الگ الگ جھنڈے اٹھا کر مذہبی جماعتیں ملک میں کون سا اسلام نافذ کرنا چاہتی ہیں اور اگر دینی جماعتیں واقعی موزوں، مفید اور مناسب طور پر یہ کام کر رہی ہیں تو وہ اب تک کے الیکشنوں میں اچھے نتائج کیوں نہیں دکھا پائیں؟‘‘ یہ بات پاکستان کے قیام کے بعد ہی سیکولر حلقوں نے کہنا شروع کر دی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ
دارالعلوم (وقف) دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ کی علالت کے بارے میں کئی روز سے تشویشناک خبریں آرہی تھیں، اسی دوران خواب میں ان کی زیارت ہوئی، عمومی سی ملاقات تھی، میں نے عرض کیا کہ حضرت! دو چار روز کے لیے دیوبند میں حاضری کو جی چاہ رہا ہے مگر ویزے کی کوئی صورت سمجھ میں نہیں آرہی، میری طرف غور سے دیکھا اور فرمایا اچھا کچھ کرتے ہیں۔ خواب بس اتنا ہی ہے، اب خدا جانے پردۂ غیب میں کیا ہے، مگر یہ اطمینان ہے کہ خاندانِ قاسمی کی نسبت سے جو بھی ہوگا خیر کا باعث ہی ہوگا، ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
آسمانی تعلیمات کے حوالہ سے درپیش چیلنجز اور اسوۂ نبویؐ
جامعۃ العلوم الشرعیۃ کے ساتھ میرا بہت پرانا تعلق ہے، اس کے بانی حضرت مولانا حافظ محمد اسحاقؒ میرے دوستوں اور جماعتی ساتھیوں میں سے تھے۔ جبکہ ہمارے گوجرانوالہ کے مخدوم و محترم استاذ الاساتذہ حضرت مولانا قاضی شمس الدینؒ یہاں پڑھاتے رہے ہیں جو جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے پہلے شیخ الحدیث تھے۔ میری ان سے مسلسل نیاز مندی رہی ہے اور زندگی بھر ان کی شفقتوں سے فیض یاب ہوتا رہا ہوں، وہ مولانا حافظ محمد اسحاقؒ کے خسر بزرگوار تھے اور اب حضرت قاضی صاحبؒ کے نواسے اس دینی ادارہ کی خدمت و انتظام میں مصروف ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ملالہ دیوی اور قندوز و کشمیر کے شہداء
ملالہ دیوی کی وطن واپسی اور قندوز کے دینی مدرسہ پر امریکی ڈرون حملہ کی خبریں ایک ہی دن قومی اخبارات میں پڑھنے کو ملیں اور ذہن میں ان دونوں خبروں کے باہمی تعلق کے حوالہ سے کئی سوالات گردش کرنے لگے۔ دیوی کے درشن میں ہمارے محترم وزیراعظم شریک تھے اور یہ خبریں بھی سامنے آئیں کہ ملالہ نے کہا ہے کہ میں وزیراعظم نہیں بننا چاہتی، جبکہ مستقبل میں وزیراعظم کے عہدہ کے ایک بڑے امیدوار سیاستدان نے کہا ہے کہ وہ اسے وزیرتعلیم بنائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قادیانیوں کے حمایتی اداروں اور حلقوں کے نام دو ٹوک پیغام
آج میں عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے حوالہ سے قادیانی مسئلہ کے ایک پہلو پر کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جب ہمارا اور قادیانیوں کا اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ ان کا مذہب ہمارے مذہب سے الگ ہے اور ہم دونوں ایک مذہب کے پیروکار نہیں ہیں تو پھر قادیانیوں کو مسلمانوں کے مذہب کا نام، اصطلاحات، علامات اور ٹائٹل استعمال کرنے پر اس قدر اصرار اور ضد کیوں ہے؟ اور وہ ایک الگ اور نئے مذہب کا پیروکار ہونے کے باوجود اپنا نام، علامات اور اصطلاحات و شعائر الگ اختیارکرنے کے لیے تیار کیوں نہیں ہیں؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
شام کی موجودہ صورتحال کا تاریخی پس منظر
مارچ اتوار کو جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جہلم کے سالانہ جلسہ کی آخری نشست میں حاضری ہوئی، تحریک خدام اہل سنت پاکستان کے امیر حضرت مولانا قاضی ظہور الحسین اظہر میر مجلس تھے جبکہ جمعیۃ علمائے برطانیہ کے قائد مولانا قاری تصور الحق مہمان خصوصی تھے۔ اس موقع پر جو گزارشات پیش کرنے کا موقع ملا ان کا خلاصہ درج ذیل ہے۔ بعد الحمد والصلوٰۃ۔ یہ ہمارے بزرگوں کی جگہ ہے جہاں حاضر ہو کر بہت سی نسبتیں اور یادیں تازہ ہو جاتی ہیں۔ یہاں ایک دور میں حضرت مولانا قاضی مظہر حسینؒ، حضرت مولانا عبدا للطیف جہلمیؒ، حضرت مولانا حکیم سید علی شاہؒ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
متحدہ مجلس عمل کی بحالی
متحدہ مجلس عمل کی بحالی کا اعلان کر دیا گیا ہے جس کے تحت مولانا فضل الرحمان کو صدر، جناب لیاقت بلوچ کو سیکرٹری جنرل اور مولانا شاہ اویس نورانی کو سیکرٹری اطلاعات منتخب کر کے مرکزی باڈی تشکیل دی گئی ہے۔ اور کم و بیش سبھی دینی مکاتب فکر کی اہم قیادتوں نے اگلا الیکشن متحدہ مجلس عمل کے فورم پر ایک پرچم، ایک منشور اور ایک نشان کے ساتھ لڑنے کا عزم ظاہر کیا ہے جس پر ملک بھر کے سنجیدہ دینی حلقوں میں اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس کا مقصد قیام اور معاشرتی کردار
ان دنوں دینی مدارس میں تعلیمی سال کا اختتام ہے، اس مناسبت سے ملک کے مختلف حصوں میں سالانہ امتحانات کے علاوہ ختم بخاری شریف کی تقریبات اور سالانہ جلسے منعقد ہو رہے ہیں۔ اور چونکہ کچھ عرصہ سے یہ دینی مدارس عالمی میڈیا کی طرف سے کردار کشی کی مہم کا ایک بڑا ہدف ہیں اس لیے ان مجالس میں دینی مدارس کے قیام کے اسباب اور معاشرہ میں ان کے کردار کے حوالہ سے بھی گفتگو ہوتی ہے۔ راقم الحروف کو گزشتہ دنوں جامعہ علوم اسلامیہ میر پور آزاد کشمیر، جامعہ اسلامیہ کشمیر روڈ راولپنڈی صدر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضراتِ صحابہ کرامؓ اور ان کا اسوۂ حسنہ
یہ اجتماع حضرات صحابہ کرامؓ اور اہل بیت عظامؓ کے فضائل و مناقب اور خدمات کے تذکرہ کے لیے منعقد ہوتا ہے اور آج بھی ہم اسی مقصد کے لیے جمع ہیں۔ صحابہ کرامؓ ہوں، اہل بیتؓ ہوں یا دیگر بزرگان دینؒ، ان کے تذکرہ اور یاد کے بہت سے فوائد و ثمرات ہیں۔ اس سے ہم اجر و ثواب حاصل کرتے ہیں، ان بزرگوں کے ساتھ اپنی نسبت کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے نقشِ پا سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ اور میرے خیال میں سب سے بڑا مقصد اور فائدہ یہی ہے کہ ہم ان سے راہنمائی حاصل کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تعلیمی اداروں میں قرآن کریم کی تعلیم اور پنجاب اسمبلی کی قرارداد
پنجاب اسمبلی نے ۸ مارچ ۲۰۱۲ء کو محترمہ عاصمہ ممدوٹ کی پیش کردہ ایک قرارداد متفقہ طور پر پاس کی ہے جس میں قرآن کریم کی تعلیم و تدریس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ (۱) سرکاری تعلیمی اداروں کے نصابِ تعلیم میں قرآن کریم کو نصابی کتاب کے طور پر شامل کیا جائے۔ (۲) مکمل قرآن کریم ترجمہ سمیت پڑھایا جائے۔ (۳) اس کے لیے حکومت کی طرف سے تمام ضروری وسائل فراہم کیے جائیں۔ (۴) قرآن و حدیث کی تعلیم و تدریس کو تعلیمی اداروں میں یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مواخذہ سے استثنا اور اسلامی تعلیمات
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ سوئس عدالت کو خط لکھنا آئین کے آرٹیکل ۶ کی خلاف ورزی ہوگی جس کی سزا موت ہے، اس لیے وہ توہینِ عدالت میں سزا پانے کو ترجیح دیں گے جو چھ ماہ قید ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وہ پی پی سے بے وفائی نہیں کریں گے اور اپنے ہی صدر کی پیٹھ میں چھرا نہیں گھونپیں گے۔ سوئس عدالت کو خط لکھنے کا معاملہ عجیب سی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔سپریم کورٹ کی واضح ہدایت کے باوجود وزیراعظم پاکستان، صدر آصف علی زرداری کے مقدمات کے حوالے سے سوئس عدالت کو خط لکھنے کے لیے تیار نظر نہیں آتے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پاکستانی عوام کیسا نظام چاہتے ہیں؟
گیلپ انٹرنیشنل کے حالیہ سروے نے ایک بار پھر یہ بات واضح کر دی ہے کہ پاکستان کے عوام کی غالب اکثریت آج بھی ملک میں اسلامی نظام کا نفاذ چاہتی ہے۔ اخباری رپورٹوں کے مطابق یہ سروے اسامہ بن لادن کی وفات سے پہلے کیا گیا تھا، اس کے مطابق۶۷ فیصد عوام نے اسلامی نظام کے نفاذ کی خواہش کا اظہار کیا ہے، ۲۰ فیصد نے خاموشی اختیار کی ہے اور ۱۳ فیصد نے کہا ہے کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ بات بار بار دہرانے کی اب ضرورت نہیں رہی کہ پاکستان کا قیام ہی اس مقصد کے لیے عمل میں آیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلامی نظام اور ہمارا اجتماعی عمل
آج دنیا بھر میں مسلمان عید کی خوشی کے ساتھ سیدنا ابراہیمؑ کی عظیم قربانی کی یاد تازہ کر رہے ہیں۔ صاحبِ استطاعت حضرات جانور ذبح کریں گے اور اس عزم کا اظہار کریں گے کہ مولائے کریم! آج ہم آپ کی رضا اور خوشی کے لیے جانوروں کی قربانی دے رہے ہیں، کل اگر ضرورت پڑی اور آپ کا حکم ہوا تو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ قربانی دراصل اسی عزم کو تازہ کرنے کا نام ہے اور حضرت ابراہیمؑ کی سنت ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے اپنے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کی گردن پر چھری رکھ دی اور اپنی طرف سے انہیں قربان کر دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
وحی کی ضرورت اور اس کی حقیقت و ماہیت
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ حضرات علمائے کرام، محترم بزرگو، دوستو اور عزیز طلبہ! حضرت مولانا قاری سعید الرحمان صاحب نے مجھے اور آپ دونوں کو آزمائش میں ڈال دیا ہے کہ شیخ الحدیث حضرت مولانا حسن جان مدظلہ کے خطاب کے بعد اور شیخ الحدیث حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ مدظلہ کے خطاب سے پہلے مجھے حکم دیا ہے کہ بخاری شریف کے سبق کے افتتاح کی اس تقریب میں آپ حضرات کی خدمت میں کچھ گزارشات پیش کروں۔ سمجھ میں نہیں آرہا کہ ان دو بزرگوں کے درمیان مجھ جیسا طالب علم کیا بات کرے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا مفتی عبد المتینؒ
دینی، علمی اور جماعتی حلقوں کے لیے یہ خبر انتہائی صدمہ کا باعث ہوگی کہ آزاد کشمیر کے بزرگ اور مقتدر عالم دین حضرت مولانا مفتی عبد المتین صاحب (تاریخ وفات: ۲۲/اکتوبر ۱۹۸۲ء) فاضل دیوبند طویل علالت کے بعد گزشتہ جمعہ کے روز راولپنڈی کے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں انتقال فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مفتی صاحب مرحوم آزاد کشمیر کے علاقہ تھب تحصیل باغ کے رہنے والے تھے۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا السید حسین احمد مدنی نور اللہ مرقدہ کے شاگرد اور والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر مدظلہ العالمی کے ہم سبق تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تحریک پاکستان اور شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج کی یہ تقریب الشبان المسلمون کے زیراہتمام تحریک پاکستان کے عظیم راہنما شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کی خدمات اور جدوجہد کے تذکرہ کے لیے منعقد ہو رہی ہے۔ اس سے پہلے پروفیسر محمد عبد الجبار صاحب اور مولانا محمد انذر قاسمی اپنے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں جبکہ پروفیسر میاں منظور احمد صاحب جو حضرت علامہ عثمانی کے شاگرد بھی ہیں میرے بعد اظہارِ خیال فرمانے والے ہیں۔ مجھے حکم دیا گیا کہ حضرت مولانا شبیر احمدؒ عثمانی کی جدوجہد اور خدمات کے بارے میں کچھ معروضات پیش کروں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بین الاقوامی ادارے اور غیر سرکاری تنظیمیں، عالمی استعمار کے مورچے
بین الاقوامی ادارے اور این جی اوز مختلف ممالک میں اپنے اہداف و مقاصد کے حصول کے لیے کس طرح کام کرتی ہیں، اس سے واقفیت دینی کام کرنے والی جماعتوں اور کارکنوں بالخصوص علمائے کرام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اور اسی غرض سے چند منتخب مضامین زیرنظر شمارہ میں قارئین کی خدمت میں پیش کیے جا رہے ہیں جو موضوع کے تمام پہلوؤں کا احاطہ تو نہیں کرتے البتہ ان سے عالم اسلام میں کام کرنے والی این جی اوز کے بنیادی اہداف اور طریق کار کے اہم پہلوؤں کا ایک ہلکا سا خاکہ ضرور سامنے آجاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عالم اسلام کے دینی حلقے اور امریکہ بہادر
افغانستان میں سوویت یونین کی شکست کے بعد جہاں سوویت یونین کی عظیم قوت بکھری ہے اور مشرقی یورپ اور وسطی ایشیا کی ریاستیں آزاد ہوئی ہیں وہاں عالمی سطح پر طاقت کا توازن بھی ختم ہو کر رہ گیا ہے اور اس کے بعد امریکہ ’’انا ولا غیری‘‘ کے نعرہ کے ساتھ دنیا کی تنہا چودھراہٹ کو مستحکم کرنے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہا ہے۔ لیکن اس کے دل میں یہ خوف بھی بیٹھا ہوا ہے کہ ایسا ہونا ممکن نہیں ہے کیونکہ یہ قانونِ فطرت کے خلاف ہے اور جلد یا بدیر کسی نہ کسی طاقت کو اس کے مد مقابل آنا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پچاس سالہ تقریبات اور ہمارا قومی طرزِ عمل
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام کی پچاس سالہ تقریبات کے موقع پر ۲۳ مارچ ۱۹۹۷ء کو اسلام آباد میں مسلم سربراہ کانفرنس منعقد ہوئی جس میں دنیا بھر کی مسلم حکومتوں کے سربراہوں اور ان کے نمائندوں نے شریک ہو کر عالم اسلام کے مسائل پر گفتگو کی اور پاکستانی قوم کو پچاس سالہ قومی زندگی مکمل ہونے پر مبارک باد دی۔ آزادیٔ وطن کے حوالہ سے پچاس سالہ تقریبات کا اہتمام بھارت میں بھی ہو رہا ہے جبکہ بنگلہ دیش نے انہی دنوں اپنے قیام کی پچیس سالہ تقریبات منائی ہیں۔ پاکستان کے قیام کو پچاس سال مکمل ہونے پر ملک بھر میں ہر سطح پر تقریبات کا اہتمام ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قادیانی مسئلہ ایک نئے موڑ پر
گزشتہ سال امریکی وزارتِ خارجہ نے پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں اپنی سالانہ رپورٹ میں قادیانیوں کا بطور خاص ذکر کیا تو قادیانی مسئلہ کا ادراک رکھنے والوں کو بخوبی اندازہ ہوگیا تھا کہ حالات کا رخ اب کدھر کو ہے اور امریکہ بہادر اس حوالہ سے ہم سے کیا چاہتا ہے۔ پاکستان میں قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم قرار دینا اور انہیں اسلام کا نام اور مسلمانوں کی مخصوص مذہبی علامات و اصطلاحات استعمال کرنے سے قانوناً روکنا امریکہ اور دیگر مغربی لابیوں کے نزدیک انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 86
- 87
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »