دستوری ترامیم کا پیکیج اور صدر مملکت کی آئینی ذمہ داری

صدر مملکت جناب آصف علی زرداری نے گزشتہ روز ایوان صدر میں ساتویں قومی مالیاتی ایوارڈ پر دستخط کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”ماہِ رواں کے آخر تک آئین کو ”خرافات“ سے پاک کر دیا جائے گا۔“ یہ بات انہوں نے دستوری اصلاحات کے لیے پارلیمنٹ کی قائم کردہ کمیٹی کے کام اور پیشرفت کے حوالے سے کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ مارچ ۲۰۱۰ء

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور عصری اقدار

۲۵ فروری ۲۰۱۰ء کو اسلامی نظریاتی کونسل کے زیر اہتمام اسلام آباد میں کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مسعود کی زیر صدارت ”سیرت نبویؐ اور عصری اقدار“ کے عنوان پر سیرت کانفرنس کا انعقاد ہوا، جس میں راقم الحروف کو مہمان خصوصی کے طور پر اظہارِ خیال کی دعوت دی گئی اور صدر اجلاس کے علاوہ جناب اکبر ثاقب اور جناب ناصر زیدی نے بھی خطاب کیا۔ راقم الحروف کی گزارشات کا خلاصہ درج ذیل ہے: مکمل تحریر

۲۵ فروری ۲۰۱۰ء

حافظ تقی الدین مرحوم کی وفات اور پرانی وضع کے کچھ لوگ

گزشتہ روز ہمارے شہر کے ایک بزرگ سیاسی کارکن حافظ تقی الدین صاحب انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ کے خاندان سے تھا اور کسی زمانے میں لیفٹ کے معروف سیاسی کارکن رہے ہیں۔ ان کے والد بزرگوار حضرت مولانا عبد العزیزؒ محدثِ پنجاب کہلاتے تھے اور علماء دیوبند کی مسلمہ علمی شخصیات میں شمار ہوتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ جنوری ۲۰۱۱ء

گوجرانوالہ کے دینی مدارس پر بلاجواز چھاپے

جمعرات ۲۶ مئی کو مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے تحت دینی مدارس کے منتظمین کا علاقائی اجتماع ہو رہا ہے، جس کا فیصلہ گزشتہ روز مرکزی جامع مسجد ہی میں علماء کرام کے ایک اجلاس میں کیا گیا۔ اس اجلاس میں راقم الحروف شریک تھا، مگر جمعرات کے اجتماع میں شریک نہیں ہو سکے گا، اس لیے کہ میں نے اس دن کا دارالعلوم تعلیم القرآن باغ، آزاد کشمیر کے سالانہ جلسے کے لیے وعدہ کر رکھا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ مئی ۲۰۱۱ء

توہینِ رسالت کی سزا کی بحث

محترم مولانا محمد احمد حافظ نے ’’فکری دہشت گردی‘‘ کے عنوان سے جس بحث کا آغاز کیا ہے، وہ اگر روزنامہ اسلام کے صفحات پر نہ چھیڑی جاتی تو بہتر ہوتا۔ اس قسم کے مباحثوں کے لیے اور بھی بہت سے فورم موجود ہیں، لیکن اب یہ بحث چھڑ گئی ہے تو اسے یکطرفہ نہیں رہنا چاہیے، بلکہ دوسری طرف کا موقف بھی قارئین کے سامنے آنا ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم و ۲ مئی ۲۰۱۱ء

’’قرآن کریم اور عصرِ حاضر‘‘

مولانا حافظ کامران حیدر نے ایک انتخاب ’’قرآن کریم اور عصرِ حاضر‘‘ کے عنوان سے زیر نظر مجموعہ میں پیش کیا ہے جو ان کے حسنِ ذوق کی علامت ہے۔ حضرت مولانا مفتی محمد سعید خان صاحب زید مجدہم کا شکر گزار ہوں کہ ان کے توجہ دلانے سے انہی کی نگرانی میں حافظ کامران حیدر مختلف عنوانات پر میرے ان مضامین و بیانات کے مجموعے ترتیب دے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ دسمبر ۲۰۲۳ء

قادیانیوں کو صراطِ مستقیم کی دعوت

بعد الحمد والصلوۃ۔ ہم سب کے لیے سعادت کی بات ہے کہ عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے مشن کے حوالے سے آج یہاں جمع ہیں۔ اس مسجد میں منکرینِ ختمِ نبوت کے گروہ قادیانیوں کے بارے میں تین روزہ تربیتی کورس ہوا ہے، جس میں مردوں اور خواتین نے شرکت کی ہے اور انہیں قادیانی گروہ کی سرگرمیوں اور دجل و فریب سے آگاہ کیا گیا ہے۔ یہ بھی ایک اہم دینی تقاضہ ہے کہ فتنوں سے آگاہی حاصل کی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ جون ۲۰۱۵ء

دینی مدارس کے بارے میں تین مغالطے

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ سب سے پہلے تو ان فضلاء، قراء اور حفاظ اور ان کے ساتھ فاضلات اور حافظات کو مبارکباد دینا چاہوں گا جو جامعہ نصرۃ العلوم سے اس سال دورۂ حدیث، تجوید اور حفظ قرآن کریم کی تعلیم کا نصاب مکمل کر کے سند فراغت حاصل کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے پڑھنے کو ان کے لیے، ان کے والدین کے لیے، اساتذہ کے لیے، ان کے ساتھی طلبہ اور طالبات کے لیے، جامعہ نصرۃ العلوم کے منتظمین و معاونین کے لیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ مئی ۲۰۱۵ء

حدیث و فقہ اور بخاری شریف

یہ حدیث بخاری شریف میں کتاب النکاح کی آخری روایت ہے جو ایک طویل روایت کا حصہ ہے، ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ روایت امام بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ نے مختلف مقامات میں بیان کی ہے اور اس کا ایک حصہ یہاں نقل کیا ہے۔ امام بخاریؒ کا ذوق و اسلوب یہ ہے کہ وہ محدث ہونے کے ساتھ ساتھ فقیہ و مجتہد بھی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ اپریل ۲۰۱۵ء

دینی مدارس کی تعلیم اور عصرِ حاضر کی ضروریات

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو اس امتیاز پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے دینی تعلیم کے حوالہ سے عام طور پر پائے جانے والے ایک دو مغالطوں کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا جس پر اساتذہ اور طلبہ سب کو ضرور غور کرنا چاہیے۔ ایک بات یہ ہے کہ دینی مدارس میں دی جانے والی تعلیم کے بارے میں بالعموم یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ قدیم تعلیم ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ مارچ ۲۰۱۵ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter