مختلف مذاہب کے دانشوروں سے ملاقاتیں

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ان نشستوں میں گفتگو کے لیے بنائی گئی فہرست میں ایک موضوع ہے ”غیر مسلم شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں اور غیر مسلم اداروں میں حاضری“۔ غیر مسلم مذہبی شخصیات کے ساتھ میری ملاقاتیں رہتی ہیں اور غیر مسلم مذہبی اداروں میں آنا جانا بھی رہتا ہے، اس سلسلہ میں اپنے بعض مشاہدات کا تذکرہ کرنا چاہوں گا لیکن اس سے پہلے یہ ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ فروری ۲۰۱۶ء

امریکہ کا پہلا سفر

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ پروگرام کے مطابق آج ہماری اس سال کی آخری نشست ہے۔ اس سال ان فکری نشستوں کا موضوع” یادداشتیں “ تھا۔ مختلف تحریکات، اسفار اور مصروفیات کے بارے میں اپنی یادداشتیں اور معلومات بیان کر رہا تھا ریکارڈ بھی ہو رہی ہیں۔ آج مولانا محمد عبد اللہ راتھر نے فرمایا کہ ان یادداشتوں میں امریکہ کی کوئی بات نہیں ہے، حالانکہ امریکہ کے میرے درجنوں سفر ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم مئی ۲۰۱۶ء

خواجہ سراؤں کے حقوق کے نام پر ہم جنس پرستی کا فروغ

ٹرانس جینڈر پرسن ایکٹ پر بحث و مباحثہ نے جو صورتحال اختیار کر لی ہے اس کے بہت سے پہلو سنجیدہ توجہ کے مستحق ہیں اور ارباب فکر و دانش کو اس سلسلہ میں بہرحال اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ یہ قانون ۲۰۱۸ء کے دوران قومی اسمبلی اور سینٹ میں منظور ہوا تھا اور اس وقت سے ملک میں نافذ العمل ہے، اس کا عنوان خواجہ سرا اور اس نوعیت کے دیگر افراد کے حقوق کا تحفظ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۲۲ء

قطر حکومت کا ایک مستحسن اقدام

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ قطر میں فٹ بال کے ورلڈ کپ کا آغاز ہو گیا ہے اور یہ سرگرمیاں تقریباً ایک مہینہ جاری رہیں گی، دنیا بھر کی مختلف ٹیمیں اور لاکھوں لوگ وہاں پہنچ رہے ہیں اور پوری دنیا کی توجہ ادھر مبذول ہے، کھیل ہوتے رہتے ہیں، فٹ بال ہے، کرکٹ ہے، کبڈی ہے، اور بھی مختلف نوعیت کے کھیل ہیں، لیکن کھیل کے اس سلسلے کے آغاز پر دو باتیں ایسی ہوئی ہیں کہ جن پر اس وقت دنیا بھر میں، سوشل میڈیا پر اور میڈیا کے دوسرے شعبوں میں بحث جاری ہے۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۲۲ء

مسلم خواتین کا برقع کا حق

قرآن کریم نے لباس کو انسان کی زینت کے ساتھ ساتھ ستر پوشی کا ذریعہ، سردی گرمی سے بچاؤ اور جنگ میں حفاظت کا باعث قرار دیا ہے، اور مسلمان عورتوں کو عمومی لباس سے ہٹ کر دوپٹہ (خمار) اور جسم کو ڈھانپنے کے لیے (جلباب) بڑی چادر کے اہتمام کا حکم بھی دیا ہے جو اَب برقع کی صورت میں زیر استعمال ہے۔ مگر مغربی تہذیب کے دلدادہ اباحت پسند لوگ اس کو پسند نہیں کرتے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۲۱ء

پاپائے روم سے ایک گزارش

ہم پاپائے روم کے اس ارشاد کی مکمل تائید کرتے ہوئے ان سے گزارش کریں گے کہ صرف اتنی بات کہہ دینا کافی نہیں ہے کہ یہ گناہ ہے اور ہم اس کو تسلیم نہیں کر سکتے، بلکہ اس کے ساتھ اپنے زیر اثر حلقوں میں اس گناہ کے احساس کو اجاگر کرنا اور اس سے لوگوں کو باز رکھنے کی جدوجہد کرنا بھی مذہبی قیادت کی ذمہ داری ہے۔ انسانی سوسائٹی میں عریانی، فحاشی، سود خوری، بدکاری اور ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ جیسے رجحانات کا مسلسل فروغ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۲۱ء

عورت کا وراثتی حق اور لاہور ہائی کورٹ

کیس کی تفصیلات تو خیر میں موجود نہیں ہیں، مگر یہ بات واضح ہے کہ مسلم معاشرہ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور و قانون کے ہوتے ہوئے بھی ایک خاتون کو پون صدی کے لگ بھگ اپنی وراثت کے جائز حق کے لیے اپنے ہی بھائیوں سے عدالتی جنگ لڑنا پڑی ہے اور بالآخر وہ اس حالت میں زندگی کے دن پورے کر کے اپنے رب کے پاس چلی گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۲۱ء

کراہت کے مختلف دائرے

ہمارے ہاں حلال و حرام کے ساتھ ایک دائرہ مکروہ کا بھی بیان ہوتا ہے اور زندگی کے مختلف شعبوں میں جائز و ناجائز اور مکروہ کے بارے میں مسائل بیان کیے جاتے ہیں۔ کراہیت کا لفظ لغت میں ناپسندیدگی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور جو بات یا چیز کسی حوالہ سے ناپسندیدہ ہو اسے مکروہ کہا جاتا ہے۔ اس کراہت کے مختلف دائرے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ اگست ۲۰۲۱ء

افغان قوم کا نیا سفر اور انسانی سماج کا مستقبل

افغانستان سے امریکی اتحاد کی افواج کے بتدریج انخلا کے ساتھ ہی امارت اسلامی افغانستان کی تیز رفتار پیشرفت دنیا کے بہت سے حلقوں کے لیے حیرانگی کا باعث بنی ہے۔ مگر واقفانِ حال کے لیے کوئی بات خلاف توقع نہیں ہے بلکہ امریکہ کی مسلح مداخلت کے آغاز پر خود ہم نے اس کے منطقی انجام تک پہنچنے کے لیے جو اندازہ اپنے مضامین میں پیش کیا تھا اس سے بہت تاخیر ہو گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۲۱ء

افغانستان اور موجودہ عالمی صورتحال ۔ نوائے وقت کا اداریہ

افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اور جو ہونے والا ہے، اس کے بارے میں ہم اپنے خیالات آئندہ شمارے میں ان شاء اللہ تعالیٰ تفصیل کے ساتھ پیش کریں گے۔ سردست موقر قومی روزنامہ نوائے وقت کا ۲۹ نومبر ۲۰۰۱ء کا اداریہ قارئین کی خدمت میں پیش کیے جا رہے ہیں جس میں موجودہ صورتِ حال اور مستقبل کے خدشات و توقعات کی بہت بہتر انداز میں عکاسی کی گئی ہے اور ہمیں بھی ’’نوائے وقت‘‘ کے اس حقیقت پسندانہ تجزیے سے اتفاق ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۱ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter