اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر اور اسلامی قوانین

گزشتہ ایک مضمون میں اس بات کا مختصر تذکرہ کیا تھا کہ مغربی اداروں، اقوام متحدہ کے مختلف شعبوں اور عالمی لابیوں کی طرف سے معاشرتی جرائم کی اسلامی سزاؤں مثلاً ہاتھ کاٹنے، سنگسار کرنے، کوڑنے مارنے اور سرعام سزا دینے کو جب ’’وحشیانہ سزائیں‘‘ قرار دے کر ان کی مخالفت کی جاتی ہے، اور ان مسلم ممالک سے ان قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ جنوری ۲۰۰۲ء

اسلام میں پردے کے احکام اور غامدی صاحب

ساتویں صدی ہجری کے معروف مفسر قرآن امام ابو عبد اللہ محمد بن احمد انصاریؒ نے ’’تفسیر قرطبی‘‘ میں ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ ترجمان القرآن حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنے علمی حلقے میں تشریف فرما تھے کہ ایک شخص نے آ کر مسئلہ پوچھا کہ اگر کوئی شخص کسی مسلمان کو عمداً قتل کر دے تو کیا اس کے لیے توبہ کی گنجایش ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ اپریل ۲۰۰۲ء

دینی حلقوں کی آزمائش اور ذمہ داری

پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلس مشاورت کے ایک اہم اجلاس کی کارروائی ”نوائے قلم“ کے قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ پاکستان شریعت کونسل نے حکومت اور دینی حلقوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ کوئی خفیہ ہاتھ پاکستان میں فوج اور دینی حلقوں کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کر کے ترکی اور الجزائر جیسے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ مئی ۲۰۰۲ء

شیطانی قوتوں کے ذہنی و فکری حملے

جادو، کالا علم، رمل، جفر اور نجوم آج کل پھر سے عام ہو گئے ہیں جیسے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل عام انسانی سوسائٹی میں عموماً اور عرب معاشرہ میں بالخصوص عام تھے اور جناب نبی اکرمؐ نے بڑی محنت اور تگ و دو سے لوگوں کو ان خرافات سے نجات دلائی تھی۔ جدھر دیکھیں نجومی اور کالے علم کے کسی نہ کسی ماہر کا بورڈ لگا ہوا نظر آتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ فروری ۲۰۰۲ء

اقلیتوں کے حقوق: چند ضروری گزارشات

چرچ کے حوالے سے اس ہفتے تین خبریں سامنے آئیں۔ ایک یہ کہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب نے مسیحی رہنماؤں کو مسجد میں آنے کی دعوت دی اور انہیں مسجد میں اپنے مذہب کے مطابق عبادت کرنے کا موقع فراہم کیا۔ دوسری خبر یہ کہ اسلام آباد کے ایک انٹرنیشنل چرچ میں اتوار کے روز عبادت میں مصروف افراد پر دستی بموں سے حملہ کیا گیا - - - مکمل تحریر

۲۴ مارچ ۲۰۰۲ء

اقوام متحدہ کی طرف سے حدود آرڈیننس پر نظرثانی کا مطالبہ

امریکی ایوانِ نمائندگان کی طرف سے پاکستان میں قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دینے اور توہینِ رسالتؐ پر موت کی سزا کے قوانین کی منسوخی کے مطالبات پر ابھی دینی حلقوں کے ردعمل کا سلسلہ جاری تھا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے ’’حدود آرڈیننس‘‘ پر نظر ثانی کا مطالبہ بھی سامنے آ گیا ہے۔ مکمل تحریر

۲۰ مارچ ۲۰۰۲ء

صحرا میں اذان

’’حدود آرڈیننس’’ ایک بار پھر این جی اوز کی سرگرمیوں کا عنوان بن گیا ہے اور انسانی حقوق کے جن علمبرداروں کو افغانستان میں امریکہ کی وحشیانہ بمباری سے جاں بحق ہونے والے ہزاروں بے گناہ شہریوں کی ہلاکت پر سانپ سونگھ گیا تھا، وہ کوہاٹ کی ایک خاتون کو سنگسار ہونے سے بچانے کے لیے لنگر لنگوٹ کس کر میدان میں اتر آئی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ مئی ۲۰۰۲ء

کیا عالمِ اسلام دنیا کی قیادت سنبھالنے کا اہل ہے؟

حضرت مولانا محمد علی جالندھری رحمۃ اللہ علیہ تحریک آزادی کے سرگرم رہنماؤں میں سے تھے جنہوں نے مجلس احرار اسلام کے پلیٹ فارم سے آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا، اور پاکستان بننے کے بعد سیاسی سرگرمیوں سے کنارہ کش ہو کر عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی تحریک کو منظم کرنے میں مگن ہو گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ اپریل ۲۰۰۲ء

مسلمان ریڈ انڈین نہیں ہیں

امریکہ اور عالم اسلام کے بارے میں ’’گیلپ انٹرنیشنل‘‘ کے ایک حالیہ سروے کی رپورٹ ان دنوں عام طور پر موضوع بحث ہے۔ سی این این کے مطابق اس سروے میں ایک طرف امریکی عوام سے یہ پوچھا گیا ہے کہ عالم اسلام میں امریکہ کے خلاف جذبات کیوں پائے جاتے ہیں؟ اور ان حالات میں مسلمان ممالک کو کیا کرنا چاہیے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ مارچ ۲۰۰۲ء

برطانیہ میں ہفتۂ بیدارئ اسلام اور وزیراعظم ٹونی بلیئر کے خیالات

برطانیہ میں گزشتہ دنوں ’’ہفتہ بیدارئ اسلام‘‘ منایا گیا۔ یہ ہفتہ ہر سال منایا جاتا ہے اور اس موقع پر مختلف تقریبات کے ذریعے اسلامی تعلیمات اور اسلامی تہذیب کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں کے بارے میں مسلمانوں کے طرز عمل اور اسلامی احکام کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس سلسلہ میں ایک تقریب چار نومبر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوئی، جس کے لیے برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے بھی پیغام ارسال کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۔

Pages


2016ء سے
Flag Counter