نظامِ خلافت اور عالمِ اسلام

ڈاکٹر میر معظم علی علوی پاکستان کے بزرگ دانشور ہیں اور تحریکِ پاکستان کے سرگرم کارکن رہے ہیں۔ ایک عرصہ سے ملک میں نظامِ خلافت کے اَحیا کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اسی عنوان پر ان کے خطبات کا ایک مجموعہ کتابی شکل میں شائع ہوا ہے جس کے پیش لفظ کے طور پر ان کی فرمائش پر یہ سطور تحریر کی گئی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ جولائی ۲۰۰۱ء

پاپائے روم اور ان کے معتقدین سے ایک گزارش

پاپائے روم جان پال دوم کی ہدایت پر جمعۃ الوداع کے روز مسیحی برادری نے مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے روزہ رکھا، اور اخباری اطلاعات کے مطابق بعض مقامات پر مسیحی دوستوں نے خود روزہ رکھنے کے ساتھ ساتھ مسلمان دوستوں کا روزہ بھی افطار کرایا۔ قرآن کریم کے ارشاد کے مطابق روزہ پہلی امتوں پر بھی فرض تھا اور منتخب امتوں کے لیے روزوں کی تعداد اور روزے کا یومیہ دوران مختلف رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ دسمبر ۲۰۰۱ء

معاشرتی جرائم کی شرعی سزائیں اور بائیبل

پروفیسر گلزار وفا چوہدری کے حوالے سے گزشتہ کالم میں ہم یہ عرض کر چکے ہیں کہ شریعت کے احکام کی خلاف ورزی پر دنیا اور آخرت دونوں جگہ میں سزا اور عذاب کی جو بات مسلم علماء اور فقہاء کرتے ہیں وہ ان کی خود ساختہ نہیں ہے، بلکہ ان کی بنیاد ’’آسمانی تعلیمات‘‘ اور ’’پاک نوشتوں‘‘ پر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ اگست ۲۰۰۱ء

پاپائے روم اور دمشق کی جامع مسجد اموی

پاپائے روم جان پال دوم نے گزشتہ ہفتے شام کے دارالحکومت دمشق میں جامع مسجد اموی کا دورہ کیا اور شام کے مفتی اعظم الشیخ احمد کفتارو سے ملاقات کے علاوہ مسجد کے ایک حصہ میں عبادت بھی کی۔ پاپائے روم مسیحیوں کے کیتھولک فرقہ کے سربراہ ہیں اور اس مسجد میں جانے والے پہلے پوپ ہیں۔ اخبارات میں الشیخ احمد کفتارو کے ساتھ ان کی فوٹو شائع ہوئی جس کے مطابق وہ مسجد میں مفتی اعظم شام کے ساتھ بیٹھے گفتگو کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ و ۱۷ مئی ۲۰۰۱ء

اسلامی نظریاتی کونسل اور ایک مسیحی شاعر

گزشتہ دنوں اسلامی نظریاتی کونسل نے سرکاری ملازمین کے لیے دفاتر میں نماز کی ادائیگی اور پابندی کے اہتمام کی سفارش کی تو ایک گونہ خوشی ہوئی کہ ملک میں عملاً نہ سہی، مگر سفارش اور تجویز کے درجہ میں تو ایک اسلامی ریاست کا تصور اعلیٰ حلقوں میں موجود ہے۔ کیونکہ نماز اسلام کے بنیادی فرائض میں سے ہے اور امیر المومنین حضرت عمرؓ فرمایا کرتے تھے کہ میں اپنے اہلکاروں کی کارکردگی کا جائزہ نماز کے حوالے سے لیا کرتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ اگست ۲۰۰۱ء

مولانا قاضی عبد اللطیف کے دورۂ قندھار کے تاثرات

قاضی صاحب نے بتایا کہ امیر المومنین ملا محمد عمر اور ان کے متعدد وزراء سے ان کی ملاقات ہوئی ہے اور بعض اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیالات ہوا ہے۔ قاضی صاحب کا کہنا ہے کہ امیر المومنین اور ان کی کابینہ پورے اعتماد اور حوصلے کے ساتھ موجودہ صورتحال اور بین الاقوامی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، اور کسی پریشانی اور گھبراہٹ کے بغیر وہ اپنے اس عزم پر قائم ہیں کہ عالمی دباؤ کے باوجود وہ افغانستان میں مکمل اسلامی نظام قائم کریں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ جولائی ۲۰۰۱ء

افغان صدر حامد کرزئی کی خوش فہمی اور غلط فہمی

بون معاہدہ میں تشکیل پانے والی عبوری افغان حکومت کے سربراہ حامد کرزئی اپنے منصب کا حلف اٹھانے سے قبل افغانستان کے سابق بادشاہ ظاہر شاہ سے ملاقات کے لیے روم گئے اور وہاں سے واپسی پر عبوری افغان حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے حلف اٹھا چکے ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق روم میں ایک گفتگو کے دوران انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ وہ کٹھ پتلی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ دسمبر ۲۰۰۱ء

اسامہ بن لادن اور افغان طالبان کے بارے میں جنرل مشرف کے خیالات

اخباری اطلاعات کے مطابق چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے امریکی اخبار واشنگٹن ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ مغرب کے نامناسب رویہ نے اسامہ بن لادن کو ہیرو بنا دیا ہے۔ عام مسلمان دیکھتا ہے کہ امریکہ سے یا ہالی وڈ کی غیر اخلاقی فلمیں آتی ہیں، یا پھر اسرائیل، بھارت اور روس کے لیے حمایت آتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ مارچ ۲۰۰۱ء

عام انتخابات میں دینی حلقوں کے کرنے کے کام

عام انتخابات سر پر آ گئے ہیں اور مختلف دینی و سیاسی جماعتیں ملک بھر میں الیکشن مہم میں مصروف دکھائی دے رہی ہیں۔ مگر تذبذب اور بے یقینی کی دھند بدستور ملک کے سیاسی افق پر چھائی ہوئی ہے، بلکہ بسا اوقات یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ شاید آخر وقت تک تذبذب اور گومگو کا ماحول قائم رکھنا شاید کسی پلاننگ کا نتیجہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۲۴ء

جنوری ۲۰۲۴ء کی رپورٹس

ملک و ملت اور دین سے وفاداری کا عہد کرنے والے امیدواروں کو ووٹ دیں: ۳۱ جنوری ۲۰۲۴ء بروز بدھ بعد نماز ظہر جامع مسجد مکی کوکاکولا سٹاپ ملتان روڈ لاہور میں پاکستان شریعت کونسل لاہور کے زیرِ اہتمام ایک اہم نشست کا انعقاد کیا گیا جس کا عنوان ’’مسئلہ فلسطین / قومی و صوبائی اسمبلی کے انتخابات/ ملکی و بین الاقوامی صورتحال تھا‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ جنوری ۲۰۲۴ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter