طالبان اور شمالی اتحاد: وزیر خارجہ پاکستان کے بیان کا جائزہ

وزیر خارجہ جناب گوہر ایوب خان نے کہا ہے کہ پاکستان، افغانستان میں طالبان اور شمالی اتحاد کے لیڈروں کو مذاکرات کی میز پر بٹھانا چاہتا ہے۔ اور اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا ہے کہ ’’ہمارے نزدیک دونوں برابر ہیں‘‘۔ خدا جانے خان صاحب نے یہ بات کس ترنگ میں آ کر کہہ دی ہے، ورنہ جہاں تک حقائق کا تعلق ہے وہ اس کی کسی طرح بھی تائید نہیں کرتے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ مارچ ۱۹۹۸ء

لوئیس فرخان اور نیشن آف اسلام

امریکہ کی سیاہ فام آبادی سے تعلق رکھنے والی تنظیم ’’نیشن آف اسلام‘‘ اور اس کے لیڈر لوئیس فرخان کے بارے میں ان دنوں عالمی ذرائع ابلاغ سے مختلف پروگرام نشر ہو رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے یہ خبر آئی تھی کہ برطانوی ہوم آفس نے لوئیس فرخان کے برطانیہ میں داخلے پر وہ پابندی برقرار رکھی ہے جو ۱۹۸۶ء میں اس بنا پر عائد کی گئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ جولائی ۱۹۹۸ء

الشیخ عز الدین بن عبد السلامؒ اور ہمارے آج کے مسائل

امتِ مسلمہ کی چودہ سو سالہ تاریخ ایسے علماءِ حق کے تذکروں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے ہر دور میں حالات کی رفتار کا جائزہ لیتے ہوئے امتِ مسلمہ کی صحیح راہنمائی کی اور وقت کے ظالم و جابر حکمرانوں کو راہِ راست پر لانے اور ان کے سامنے کلمۂ حق بلند کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ انہی میں سے ایک حق گو اور صاحبِ بصیرت عالمِ دین کا تذکرہ آج کے کالم میں کرنے کو جی چاہتا ہے جنہیں تاریخ شیخ الاسلام عز مکمل تحریر

۷ جون ۱۹۹۸ء

استحکامِ پاکستان کی جدوجہد کے پانچ اہم دائرے

مرکزی علماء کونسل گوجرانوالہ بالخصوص مولانا شاہ نواز فاروقی، مولانا عبید اللہ حیدری اور ان کے رفقاء کا شکرگزار ہوں کہ آج کی اہم قومی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے اس سیمینار کا اہتمام کیا اور اس میں کچھ گزارشات پیش کرنے کا موقع فراہم کیا۔ استحکامِ پاکستان کے حوالے سے غور و فکر اور اس کے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے تبادلۂ خیالات آج کا اہم قومی تقاضہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ جنوری ۲۰۲۴ء

سیالکوٹ چیمبر آف کامرس کا سیرت اسٹڈی سنٹر

سیالکوٹ کے ’’سیرت اسٹڈی سنٹر‘‘ کا نام تو کافی عرصہ سے سن رکھا تھا اور اس کی سرگرمیوں کی اطلاعات بھی وقتاً فوقتاً ملتی رہیں، مگر اسے دیکھنے کا اتفاق گزشتہ روز ہوا۔ پروفیسر عبد الجبار شیخ اس ادارے کے ڈائریکٹر ہیں، پرانے اساتذہ میں سے ہیں، متعدد کتابوں کے مصنف ہیں، ریٹائرمنٹ کے بعد آرام سے نہیں بیٹھے اور نہ صرف سیرت اسٹڈی سنٹر کے کاموں کی نگرانی کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جولائی ۲۰۰۳ء

برمنگھم (الاباما، امریکہ) میں دو دن

گزشتہ اٹھارہ برس کے دوران بلامبالغہ بیسیوں بار برمنگھم جانے کا اتفاق ہوا ہے، مگر ۷ اکتوبر ۲۰۰۳ء کو جب میں برمنگھم کے ایئرپورٹ پر اترا تو یہ شہر میرے لیے بالکل نیا تھا، اس لیے کہ یہ وہ برمنگھم نہیں تھا جو برطانیہ کا دوسرا بڑا شہر ہے اور دنیا بھر میں معروف ہے۔ بلکہ یہ امریکہ کی ریاست الاباما کا ایک شہر ہے جو نیویارک سے تقریباً تیرہ سو میل جنوب کی طرف واقع ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ اکتوبر ۲۰۰۳ء

الیکشن میں دینی جماعتوں کی صورتحال او رہماری ذمہ داری

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ملک میں عام انتخابات کی آمد آمد ہے، تاریخ کا اعلان ہو چکا ہے، مختلف جماعتیں میدان میں ہیں اور انتخابی مہم شروع ہو گئی ہے۔اس ماحول میں ملک کی دینی جماعتوں اور دینی حلقوں کو کیا کرنا چاہیے، اس کے بار ےمیں چند گزارشات پیش کرنا چاہوں گا۔ پہلی بات یہ ہے کہ دینی حلقوں، دینی جماعتوں اور علماء کرام کا انتخابی سیاست سے کیا تعلق ہے، یہ انتخابی عمل میں کیوں شریک ہوتے ہیں؟ یہ بنیادی سوال ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ جنوری ۲۰۲۴ء

۸ مارچ: خواتین کا عالمی دن

۸ مارچ کو دنیا بھر میں خواتین کا دن منایا جاتا ہے، اس موقع پر خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر مشتمل رپورٹیں سامنے آتی ہیں، سیمینارز منعقد ہوتے ہیں، اخبارات کی خصوصی اشاعتوں کا اہتمام ہوتا ہے، این جی اوز اپنے اپنے انداز میں پروگرام کرتی ہیں اور عورتوں کی مظلومیت کا تذکرہ ہر سطح پر ہوتا ہے۔ عورت بلاشبہ مظلوم ہے، ہر دور میں مظلوم رہی ہے، اور آج بھی مظلوم ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ مارچ ۲۰۰۴ء

برطانیہ میں مسلمانوں کی دینی تعلیم کا مربوط سلسلہ

برطانیہ کا اس سال کا گرم ترین ویک اینڈ میں نے بہت مصروف گزارا۔ محکمہ موسمیات نے پہلے ہی پیشگوئی کر دی تھی کہ ۱۹ جون کا اتوار اس موسم کا گرم ترین دن ہو گا۔ چنانچہ اس روز لندن کا درجہ حرارت ۳۳ سینٹی گریڈ تھا، مگر گرمی کے آثار ایک دو روز پہلے ہی شروع ہو گئے تھے۔ لیسٹر کے مولانا محمد فاروق مُلا نے مجھے پابند کر رکھا تھا کہ ۱۸ جون کو ہفتہ کا دن ان کے ساتھ گزاروں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ جون ۲۰۰۵ء

برصغیر میں ماضی قریب کی دینی جدوجہد پر ایک نظر

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ نو آبادیاتی دور میں عیسائی ممالک نے دنیا کے مختلف حصوں پر قبضے جمائے اور مسلمان ممالک میں سے کوئی فرانس کے تسلط میں چلا گیا، کوئی برطانیہ، کوئی ہالینڈ، کوئی پرتگال اور کوئی اٹلی کے قبضے میں چلا گیا۔ مجموعی طور پر تقریباً ایک صدی ایسی گزری ہے کہ مسلم ممالک کی اکثریت غیر مسلم مسیحی قوتوں کے تسلط میں تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ فروری ۲۰۱۶ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter