انتظامیہ کو سیاسی جنگ میں فریق نہ بنائیے!

انتظامیہ کا کام ہوتا ہے کہ ملک میں قانون و آئین کی بالادستی کا تحفظ کرے، امن و امان بحال رکھے اور غیرجانبداری کے ساتھ نظم و نسق چلائے۔ اس فرض کی صحیح ادائیگی کے لیے ضروری ہے کہ انتظامیہ ملک میں سیاسی وفاداریوں سے لاتعلق ہو کر اپنے کام سے کام رکھے اور جہاں کوئی بات اسے قانون کے خلاف نظر آئے، اس کے خلاف بلاجھجھک کاروائی کرے۔ جن جمہوری ممالک میں انتظامیہ اپنے فرائض کو سیاسی عمل سے الگ تھلگ رکھتی ہے وہاں سیاسی عمل بھی جمہوری اقدار کا حامل ہے اور انتظامیہ کو فرائض کی کماحقہ ادائیگی میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ جون ۱۹۷۳ء

بلوچستان کی صورتحال اور قادیانیوں کی سرگرمیاں

بلوچستان اپنے جغرافیائی محل وقوع اور دیگر گوناگوں خصوصیات کے باعث کافی عرصہ سے اندرونی و بیرونی سازشوں کی مذموم مساعی کی آماجگاہ بنا ہوا ہے اور آج بھی سازشی قوتیں تمام وسائل کے ساتھ بلوچستان کے امن کو اپنے مقصد کی بھینٹ چڑھانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ ۱۹۵۲ء کی بات ہے، قادیانی گروہ کے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود نے بلوچستان کو قادیانی علاقہ قرار دینے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا اور ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے محرکات میں یہ منصوبہ بھی شامل تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ جولائی ۱۹۷۳ء

اشتراکیت نہیں، اسلام

پنجاب کے وزیر خزانہ جناب محمد حنیف رامے نے صوبائی اسمبلی میں سمال انڈسٹریز کارپوریشن بل پر بحث کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ پاکستان کے حالات کا اولین تقاضا ہے کہ ہم سودی نظام سے نجات حاصل کریں۔ اور حکومت سود سے پاک اقتصادی نظام رائج کرنے کا ارادہ رکھتی ہے مگر موجودہ سرمایہ دارانہ و جاگیردارانہ نظام میں سود سے چھٹکارا ممکن نہیں، اس کے لیے ضروری ہے کہ موجودہ معاشی نظام سے گلوخلاصی کرا کے اشتراکی نظام رائج کیا جائے۔ حنیف رامے صاحب نے اس سلسلہ میں کارل مارکس فریڈرک، اینگلز اور لینن کے حوالہ سے اشتراکیت کا ذکر کرتے ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ جون ۱۹۷۳ء

ریڈ کراس کی بجائے ہلال احمر

صدارتی کابینہ نے ایک اجلاس میں ریڈ کراس سوسائٹی کا نام تبدیل کر کے انجمن ہلال احمر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور قومی حلقوں میں اس مناسب فیصلہ کو سراہا جا رہا ہے۔ عوامی حلقوں کی طرف سے قیام پاکستان کے بعد ہی سے یہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ ملک میں فرنگی ا قتدار و تسلط کے دور کی تمام یادگاروں اور نشانات کو مٹا دیا جائے اور اسلامی قانون و سیاست، اخلاق و معاشرت، اقتصاد و معیشت، تہذیب و تمدن اور روایات و اقدار کو فروغ دیا جائے۔ آزادی کی جنگ لڑنے والوں کا مطمح نظر بھی یہی تھا اور قیام پاکستان کا بنیادی محرک بھی یہی سوال بنا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ جولائی ۱۹۷۳ء

اور اب بناسپتی گھی!

اشیاء خوردنی کی کمر توڑ گرانی انتہائی تشویشناک صورت اختیار کر چکی ہے۔ غریب عوام بلکہ متوسط طبقہ بھی اس مہنگائی کے سامنے بے بس ہو چکا ہے اور اس سے نجات کی کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی۔ بازار سے جس چیز کا بھاؤ پوچھو اس کا نرخ آسمان سے باتیں کر رہا ہے اور ہر شخص پریشان ہے کہ آخر گرانی کا یہ ڈنڈا کب تک قوم کی پیٹھ پر برستا رہے گا۔ پہلے چینی غریب عوام کے اعصاب پر سوار رہی اور ابھی تک یہ مسئلہ طے نہیں ہو سکا۔ ستم ظریفی کی انتہا دیکھیے کہ جب ہم باہر سے چینی منگواتے تھے تو سستی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ جولائی ۱۹۷۳ء

پارٹی وفاداری کا مسئلہ

وفاقی وزیر سیاسی امور جناب غلام مصطفیٰ جتوئی نے ایک بیان میں ان حضرات کی صفائی پیش کرنے کی سعی فرمائی ہے جنہیں لیلائے اقتدار سے ہمکنار ہونے کی ہوس نے اپنی پارٹیوں کے دستور و منشور اور ووٹروں کی طرف سے عائد شدہ ذمہ داریوں کا پابند نہیں رہنے دیا۔ چنانچہ انہوں نے فرمایا ہے کہ ہر شخص کو پارٹی بدلنے کا حق ہے اور اگر کوئی شخص پارٹی کی پالیسی سے متفق نہ ہو اور دوسری پارٹی میں چلا جائے تو یہ کوئی معیوب بات نہیں۔ جتوئی صاحب کے اس بیان کا حاصل مغالطہ آفرینی کے سوا کچھ نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ جولائی ۱۹۷۳ء

متحدہ جمہوری محاذ کو یک طرفہ نصیحت

متحدہ جمہوری محاذ کی طرف سے حکومت کی غیر جمہوری پالیسیوں اور غیر آئینی اقدامات کے خلاف سول نافرمانیوں کی تحریک پر ارباب اقتدار اور ان کے ہمنوا سخت جزبز ہیں اور عوام کی توجہ اپوزیشن کی تحریک سے ہٹانے کے لیے سیلاب سے پیدا شدہ صورتحال سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے یک طرفہ اور بے بنیاد پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ محاذ میں شامل جماعت اسلامی نے بھی سول نافرمانی سے پیچھا چھڑانے کے لیے اس سہارے کو غنیمت جانا ہے حالانکہ اس سارے افسانے کی حققیت مغالطہ آفرینی کے سوا کچھ نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ اگست ۱۹۷۳ء

زندہ باد مولانا شمس الدین

خدا خوش رکھے جمعیۃ علماء اسلام بلوچستان کے جواں سال سربراہ برادرِ مکرم مولانا سید شمس الدین کو کہ انہوں نے اس نازک دور میں اسلاف کی عظیم روایات کی پاسداری کا مقدس فریضہ سرانجام دیا جبکہ بڑے بڑے ’’پیرانِ پارسا‘‘ اقتدار کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہو چکے ہیں، اور زر و سیم کی دلربائی اور ہوس اقتدار کی حدت کے سامنے ’’زہد و ورع‘‘ کے پرانے اور زنگ آلود قفل بھی پگھل کر رہ گئے ہیں۔ اندازہ لگائیے کہ دباؤ اور لالچ کا وہ کونسا حربہ ہے جو اس مردِ قلندر کو پھسلانے کے لیے آزمایا نہیں گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ اگست ۱۹۷۳ء

مولانا مفتی محمود کے خلاف وائٹ پیپر

سرحد کے وزیراعلیٰ جناب عنایت اللہ گنڈاپور کو جب سے وزارت اعلیٰ کی کرسی پر ٹکایا گیا ہے وہ کچھ عجیب سے احساس کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں۔ ان کے لیے مصیبت یہ ہے کہ جس مسند پر وہ حضرت مولانا مفتی محمود صاحب جیسی قدآور سیاسی شخصیت کو دیکھ چکے ہیں اس پر خود بیٹھتے ہوئے انہیں اردگرد خلا سا محسوس ہو رہا ہے۔ اور شاید اسی خلاء کو پر کرنے کے لیے وہ ’’مفتی صاحب کی بدعنوانیوں کے قرطاس ابیض‘‘ کا سہارا لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اس قرطاس ابیض کا ڈھنڈورا کئی ماہ سے اس انداز سے پیٹا جا رہا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ اکتوبر ۱۹۷۳ء

چوہدری ظہور الٰہی کے خلاف اسلحہ اسکینڈل

بلوچستان کی صوبائی حکومت نے متحدہ جمہوری محاذ کے راہنما اور قومی اسمبلی کے رکن چوہدری ظہور الٰہی کو اس الزام میں گرفتار کر لیا ہے کہ وہ بلوچستان میں شر پسندوں کو اسلحہ سپلائی کر رہے ہیں۔ اور ان کے ایک معتمد چوہدری محمد شریف کو بلوچستان میں اسلحہ لے جاتے ہوئے پکڑ لیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ جام غلام قادر کے بیان کے مطابق چوہدری محمد شفیع کو کوہلو سے بالا ڈھکہ (بلوچستان) اسلحہ لے جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا (امروز ۱۷ نومبر ۱۹۷۳ء)۔ مگر چوہدری صاحب کے فرزند محمد اکرم نے لاہور میں پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کو غلط قرار دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ نومبر ۱۹۷۳ء

صدر انور سادات کے خلاف مہم

قارئین کو یاد ہوگا جب مصر کے مرحوم صدر جمال عبد الناصر عرب عوام کے اتحاد کی مہم اور سامراجی مفادات کی بیخ کنی کے مشن میں مصروف تھے، جنیوا میں بیٹھ کر اسلام کی ’’خدمت‘‘ کرنے والے ایک صاحب، جو اب پاکستان کی قومی اسمبلی کے رکن ہیں، کاغذات کا پلندہ اٹھائے یہ ثابت کرتے پھر رہے تھے کہ جمال عبد الناصر یہودیوں کا ایجنٹ ہے، اس نے اسلام کے خلاف سازشیں کی ہیں اور قرآن کریم کی توہین کی ہے وغیرہ وغیرہ۔ مگر علماء حق کی جرأت مندانہ للکار اور پاکستان کے عرب دوست عوام کی بیداری کے باعث اس جھوٹے پراپیگنڈا کے تاروپود بکھر کر رہ گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ نومبر ۱۹۷۳ء

لاہور میں مسلم سربراہ کانفرنس کا انعقاد

آئندہ ماہ لاہور میں مسلم ممالک کے سربراہوں کی تاریخی کانفرنس منعقد ہونے والی ہے جس کی تیاریاں پورے جوش و خروش کے ساتھ جاری ہیں اور اسلامی سیکرٹریٹ کے سیکرٹری جنرل جناب حسن التہامی گزشتہ روز کانفرنس کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے اسلام آباد ایئرپورٹ پر اخباری نمائندوں سے گفتگو کے دوران مسلم سربراہ کانفرنس کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’لاہور میں منعقد ہونے والی اسلامی کانفرنس کے بعد عالم اسلام کی شیرازہ بندی بین الاقوامی تعلقات میں مؤثر کردار ثابت ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ جنوری ۱۹۷۴ء

سید شمس الدین شہیدؒ کی سیٹ پر ضمنی انتخاب

قائد جمعیۃ علماء اسلام حضرت مولانا مفتی محمود نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ فورٹ سنڈیمن (ژوب) کے ضمنی الیکشن میں سرکاری مداخلت ترک نہ کی گئی تو یہ انتخابات منعقد نہیں ہو سکیں گے۔ ادھر جمعیۃ علماء اسلام بلوچستان کے جنرل سنیٹر حاجی محمد زمان خان اچکزئی نے بھی انتباہ کیا ہے کہ انتخاب میں دھاندلیوں کا پوری قوت سے مقابلہ کیا جائے گا اور دھاندلیوں کے ذریعہ سرکاری امیدوار کو کامیاب بنانے کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ مئی ۱۹۷۴ء

بیلٹ بکس پر عوامی اعتماد کا فقدان ۔ مجرم کون؟

پاکستان میں بیلٹ بکس ابھی تک وہ اعتماد کیوں حاصل نہیں کر سکا جو ایک جمہوری ملک میں اسے ملنا چاہیے؟ یہ سوال نزاکت کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ اہم اور ناگزیر بھی ہے کہ پاکستان میں سیاست و جمہوریت کے مستقبل کا انحصار اس سوال پر ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ آج سیاسی شعور رکھنے والے ہر شخص کو بیلٹ بکس کے تقدس اور اعتماد کا سوال پریشان کیے ہوئے ہے۔ یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں جمہوری عمل تجرباتی دور سے گزر رہا ہے اور یہاں جمہوریت کی جڑیں ابھی اتنی مضبوط نہیں ہوئیں کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ جولائی ۱۹۷۷ء

جیلوں کے نظام میں اصلاح کی ضرورت

اس دفعہ بحمد اللہ تعالیٰ جیل کی اندرونی زندگی کا جائزہ لینے اور جرم و سزا کے ماحول میں بسنے والے انسانوں کا مطالعہ کرنے کا کافی موقع ملا اور بالآخر تین ماہ اٹھارہ دن جیل میں گزارنے کے بعد ۲۸ اکتوبر ۱۹۷۶ء کو اپنی انتیسویں سالگرہ کے دن ضمانت پر جیل سے رہا ہوا۔ اس دوران جیل کے اندر کی زندگی کو جس طرح دیکھا اور اس کے بارے میں جو کچھ محسوس کیا اس کی داستان تو بہت طویل ہے لیکن چند اہم امور کی طرف حکومت وقت اور رائے عامہ کو توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ نومبر ۱۹۷۶ء

سیاسی مسائل کو سیاسی بنیادوں پر طے کیجئے

یہ ہمارے ملک کی بد نصیبی ہے کہ حکمرانوں نے ہمیشہ سیاسی مسائل اور عوام کے جائز تقاضوں کو جمہوری اور سیاسی بنیادوں پر طے کرنے کی بجائے تشدد کے استعمال کو ترجیح دی ہے۔ وہ بزعم خویش یہ سمجھتے رہے ہیں کہ اقتدار کی قوت اور کرسی کا دبدبہ آج کے جمہوری دور میں بھی سیاسی استحکام کی ضمانت دے سکتا ہے۔ مگر ربع صدی کے تجربہ نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ تشدد کے ذریعہ سیاسی اور جمہوری مسائل کو حل کرنے کی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ پاکستان میں سب سے پہلے جس جمہوری، عوامی اور دینی تحریک کو تشدد کے ذریعہ دبایا گیا وہ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ مئی ۱۹۷۳ء

صوبوں کو لڑانے کی سازش

اخبارات نے ایک خبر رساں ایجنسی کے حوالہ سے بلوچستان نیشنل عوامی پارٹی کے سربراہ جناب خیر بخش مری سے منسوب یہ خبر بڑے اہتمام کے ساتھ شائع کی ہے کہ انہوں نے ہفتۂ جمہوریت کے دوران بلوچستان میں مختلف اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب کے عوام کے خلاف سخت زبان استعمال کی ہے اور انہیں ڈاکو اور غاصب قرار دیا ہے۔ اس خبر سے ٹرسٹ کے اخبارات نے نیشنل عوامی پارٹی کے خلاف پراپیگنڈہ کے لیے خوب فائدہ اٹھایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ اگست ۱۹۷۳ء

مری میں صدر بھٹو کے ساتھ جاری مذاکرات

ملک کے اہم قومی مسائل کو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان محاذ آرائی کی بنیاد نہیں بننا چاہیے اور نہ ہی اس وقت ملک کسی قسم کی محاذ آرائی کا متحمل ہے۔ بلکہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ اہم مسائل طے کرتے وقت جمہوری اصولوں کا دامن نہ چھوڑے، اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر افہام و تفہیم کے ساتھ قومی مسائل کا حل تلاش کرے، اور سیاسی مسائل کو سیاسی بنیادوں پر طے کیا جائے۔ کیونکہ اگر سیاسی مسائل کے حل کے لیے غیر جمہوری ذرائع اختیار کیے جائیں تو نتیجہ انتشار، باہمی بد اعتمادی اور بے یقینی کے سوا کچھ نہیں نکلتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ جولائی ۱۹۷۳ء

بھٹو صاحب کا ’’اعلان بلوچستان‘‘

وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو نے ۱۳ اپریل کو بالآخر وہ اعلان کر ہی دیا جس کا قوم کو گزشتہ پون سال سے انتظار کرایا جا رہا تھا اور جس کے بارے میں وسیع پراپیگنڈا کے ذریعہ اس قدر سسپنس پیدا کر دیا گیا تھا کہ (ملک کے سنجیدہ سیاسی حلقوں کے سوا) اعلانِ تاشقند کی طرح اعلانِ بلوچستان بھی عوام کی توجہات کا مرکز اور اخبارات و رسائل میں موضوع بحث بن چکا تھا۔ اور خود وزیراعظم نے اس کے بارے میں یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اس اعلان سے تمام حلقے مطمئن ہو جائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ اپریل ۱۹۷۴ء

جمہوری حکومت کی ’’ایک سالہ کارگزاری‘‘

یہ ہے ایک جھلک اس پارٹی کے کارناموں کی جو عوامی جمہوریت کے نام پر انتخابات لڑ کے برسرِ اقتدار آئی ہے اور جس کے منشور کے سرورق پر یہ درج ہے کہ ’’جمہوریت ہماری سیاست ہے‘‘۔ صدر مملکت نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں وفاقی حکومت کی ایک سالہ کارگزاری کی رپورٹ پیش کی ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ صدر صاحب اس میں یہ تفصیل بھی عوام کو بتاتے کہ اس سال پولیس کے تشدد سے کتنے شہری ہلاک ہوئے، کتنے سیاسی کارکنوں کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے، کتنے لیڈر گرفتار ہوئے، متحدہ جمہوری محاذ کے کتنے جلسوں کو درہم برہم کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ اگست ۱۹۷۳ء

سنت ابراہیمیؑ کا اصل سبق

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ عظیم سنت ہر سال ہمیں یہ بھولا ہوا سبق یاد دلاتی ہے کہ اگر خدا کی دوستی چاہتے ہو تو ہر چیز کو اس کی رضا پر قربان کر دینے کے لیے تیار رہو۔ اگر دنیاوی اسباب کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کی خصوصی نصرت کے طلب گار ہو تو ایثار و قربانی اور اطاعت و وفا کی راہوں پر گامزن ہو جاؤ۔ اور اگر اللہ رب العزت کی بے پایاں خصوصی رحمتوں کے متمنی ہو تو اس کے ہر حکم اور ہر اشارہ پر سر تسلیم خم کر دو۔ قربانی محض ایک رسم نہیں کہ جانور خریدا اور ذبح کر دیا۔ یہ عبادت ہے، اس میں ایک عظیم سبق ہے جسے ہم بھول چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جنوری ۱۹۷۴ء

چینی زبان کی آمد

چین آبادی کے لحاظ سے اس وقت دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے اور ہمارا مخلص پڑوسی ہے جس نے ہر آڑے وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور ہمیں ہر مشکل میں چین کی دوستی اور اعتماد سے فائدہ ملا ہے۔ اور اب جبکہ چین سے گوادر تک سی پیک کا منصوبہ روز بروز آگے بڑھ رہا ہے اور چین کے ساتھ دوستانہ کے ساتھ ساتھ تجارتی تعلقات ایک نیا اور ہمہ گیر رخ اختیار کرتے جا رہے ہیں، سرکاری اور پرائیویٹ دونوں دائروں میں اس ضرورت کا احساس بڑھ رہا ہے کہ ہمیں چینی زبان سے اس حد تک ضرور واقف ہونا چاہیے اور خاص طور پر نئی نسل کو اس سے متعارف کرانا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ اگست ۲۰۱۷ء

شریعت کورٹ آزاد کشمیر کا پس منظر

تحریک آزادیٔ کشمیر کے نامور راہنما، جمعیۃ علماء اسلام آزاد کشمیر کے سابق امیر اور ریاستی اسمبلی کے سابق رکن شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یوسف خانؒ کے ساتھ راقم الحروف نے گزشتہ صدی عیسوی کے آخری سال جولائی کے دوران پلندری حاضر ہو کر جہادِ کشمیر میں علماء کرام کے کردار اور شرعی قاضیوں کے مذکورہ نظام کے پس منظر کے حوالہ سے ایک انٹرویو کیا تھا جس میں انہوں نے ان معاملات پر تفصیل سے روشنی ڈالی تھی۔ یہ انٹرویو ایک قومی اخبار میں شائع ہوا تھا، موجودہ حالات میں اس کی دوبارہ اشاعت کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ جولائی تا یکم اگست ۲۰۱۷ء

’’درس نظامی‘‘ کا پس منظر

عام طور پر ایک مغالطہ پایا جاتا ہے کہ درس نظامی کا یہ نصاب بغداد کے ملا نظام الدین طوسیؒ کا مرتب کردہ ہے جو وہاں کے مدرسہ نظامیہ میں رائج رہا، مگر یہ بات درست نہیں ہے۔ یہ دراصل لکھنو کے ملا نظام الدین سہالویؒ کا مرتب کردہ نصاب ہے جو سلطان اورنگزیب عالمگیرؒ کے معاصر تھے۔درس نظامی کے نصاب میں اس وقت کی دینی اور قومی ضروریات کے حوالہ سے تمام ضروری دینی و عصری علوم و فنون شامل تھے جن کی ایک چھت کے نیچے تعلیم دی جاتی تھی۔ ملک کے تمام لوگ حتٰی کہ غیر مسلم بھی یہی نصاب پڑھتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ جولائی ۲۰۱۷ء

شریعت کورٹ آزاد کشمیر کے اختیارات اور حالیہ صدارتی آرڈیننس

آزاد کشمیر کے چند سرکردہ علماء کرام نے توجہ دلائی ہے کہ ریاست آزاد جموں و کشمیر میں سردار محمد ابراہیم خان مرحوم اور سردار محمد عبد القیوم خان مرحوم کی حکومتوں کے دور میں حضرت مولانا محمد یوسف خانؒ اور دیگر اکابر علماء کرام کی مساعی سے ضلع اور تحصیل کی سطح پر مقدمات کی سماعت کے لیے جج اور قاضی کے اشتراک سے دو رکنی عدالت کا جو نظام شروع ہوا تھا، اور جس سے لوگوں کے تنازعات شریعت کے مطابق طے ہونے کا سلسلہ چلا آرہا ہے، اسے ختم کرنے اور ہائی کورٹ کی سطح پر قائم شرعی عدالت کو غیر مؤثر بنانے کے لیے سرکاری سطح پر بعض اقدامات عمل میں آچکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ جولائی ۲۰۱۷ء

افغان صدر محمد داؤد کا کامیاب دورہ

ہمارے برادر ہمسایہ ملک افغانستان کے سربراہ سردار محمد داؤد پاکستان کا چار روزہ دورہ مکمل کر کے اپنے وطن واپس روانہ ہوگئے ہیں۔ افغان سربراہ کا پاکستان میں جس گرمجوشی اور محبت کے ساتھ خیر مقدم ہوا ہے اس سے ان عناصر کو بہت دکھ ہوا ہوگا جو ایک طویل عرصہ سے ان دو عظیم برادر ملکوں کے درمیان برادرانہ تعلقات کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھنا چاہتے، اور جنہوں نے قیام پاکستان کے بعد تیس برس تک ان تعلقات میں رخنے ڈالنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ مارچ ۱۹۷۸ء

ملی و ملکی حالات اور پاکستان شریعت کونسل کا سالانہ اجلاس

مرکزی مجلس شوریٰ کا سالانہ اجلاس مرکز حافظ الحدیث درخواستیؒ حسن ابدال میں حضرت مولانا فداء الرحمان درخواستی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں ملک کے مختلف حصوں سے علماء کرام نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ جبکہ مولانا عبدا لرؤف فاروقی، مولانا قاضی محمد رویس خان ایوبی، مولانا عبد القیوم حقانی، مولانا قاری جمیل الرحمان اختر، مولانا محمد رمضان علوی، مولانا عبد الخالق، مولانا ثناء اللہ غالب، مولانا عبد الرؤف محمدی، مولانا عبد الرزاق، مفتی محمد نعمان احمد، قاری محمد نعیم سعدی، قاری عبید اللہ عامر، جناب صلاح الدین فاروقی، پروفیسر حافظ منیر احمد اور دیگر رہنماؤں نے مختلف امور پر اظہارِ خیال کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ جولائی ۲۰۱۷ء

سالانہ تعطیلات کا آخری سفر

ظہر کی نماز ہم نے ملہو والی میں پڑھی جو حضرت مولانا گل شیر شہیدؒ اور حضرت مولانا نور محمدؒ کے حوالہ سے دینی حلقوں میں ایک تعلیمی اور تحریکی مرکز کے طور پر تاریخی شہرت رکھتا ہے۔ شیعہ راہنما علامہ ساجد نقوی اسی قصبہ سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کا وہاں تعلیمی مرکز بھی ہے۔ مجھے جماعت اسلامی کے حلقہ کے ایک دینی مدرسہ میں ’’وحدت امت کے تقاضوں‘‘ پر گفتگو کرنا تھی۔ اس علاقہ کی مسلکی فضا کے پیش نظر میں وحدت امت پر گفتگو کے لیے تمہید سوچ رہا تھا کہ جس مسجد میں پروگرام تھا اس میں داخل ہوتے ہوئے نظر گیٹ پر لکھے ہوئے ’’مسجد ذوالنورین‘‘ پر پڑ گئی اور مجھے عنوان مل گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ جولائی ۲۰۱۷ء

مشرق وسطیٰ کے بارے میں امریکی منصوبہ بندی

ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی ’’قومی سلامتی کونسل‘‘ نے ۱۹۹۱ء کے دوران عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کے حوالہ سے ایک منصوبہ طے کیا تھا جو وائس آف امریکہ سے نشر ہوا اور روزنامہ جنگ لاہور نے ۱۵ جولائی ۱۹۹۲ء کو اس کا اردو ترجمہ شائع کیا۔ ربع صدی کے بعد اسے ارباب فکر و دانش کی خدمت میں اس گزارش کے ساتھ ایک بار پھر پیش کیا جا رہا ہے کہ اس امر کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ اس منصوبے پر عملدرآمد کی اب تک کی صورتحال کیا ہے اور اس وقت ہم کس مرحلہ سے گزر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ جولائی ۲۰۱۷ء

ساہیوال میں ایک تعلیمی سہ روزہ

سالانہ تعطیلات گزر جانے کے بعد دینی مدارس میں نئے سال کی تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا ہے، داخلے جاری ہیں، تعلیمی پروگراموں کے حوالے سے مشاورتی اجلاس ہو رہے ہیں اور بہت سے مقامات پر نئے تعلیمی سال کے آغاز پر خصوصی تقریبات کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے۔ متعدد دینی اداروں کا تقاضہ رہتا ہے کہ میں ان کے ہاں حاضری دوں لیکن باقاعدہ اسباق شروع ہوجانے کے بعد شہر سے باہر کے پروگراموں کے لیے سفر میں نے ترک کر دیا ہے، اس لیے چند ضروری تقاضوں کو شوال کی تعطیلات کے دوران ہی نمٹانے کی ترتیب بنا لی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ جولائی ۲۰۱۷ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter