’’اثمھما اکبر من نفعھما‘‘

’’مرکز الاقتصاد الاسلامی‘‘ اور ’’وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان‘‘ کا شکرگزار ہوں کہ ایک اہم ترین قومی و دینی مسئلہ پر تمام مکاتبِ فکر کے سرکردہ علماء کرام اور تاجر طبقہ کے راہنماؤں کے اس اجتماع کا اہتمام کیا، بالخصوص شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم اور ان کے رفقاء کا شکریہ ادا کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ سب کو جزائے خیر سے نوازیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ نومبر ۲۰۲۲ء

سر سید احمد خان اور قائد اعظم کے کیمپ سے ایک گزارش

قائد اعظم ہمارے قومی لیڈر اور ہمارے محسن تھے، آپ پاکستان کے بانی ہیں، پاکستان کے لیے ان کی خدمات ہیں۔ آج مجھے کہا گیا کہ اس وقت ملتِ اسلامیہ کو جو چیلنجز درپیش ہیں اور مسلم دنیا کو جس صورتحال کا سامنا ہے اس پر بات کروں تو میرا جی چاہ رہا ہے کہ قائد اعظم کے حوالے سے ہی بات کروں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ نومبر ۲۰۲۲ء

جمعۃ المبارک ۲۵ نومبر ۔ یومِ انسدادِ سود

قرآن مجید نے صراحت کے ساتھ سود کے کاروبار کو اللہ اور رسول کے ساتھ جنگ قرار دیا ہے اور واضح حکم دیا ہے کہ سودی کاروبار چھوڑ دو۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سودی نظام ختم کیا تھا اور خلافت راشدہ، خلافت بنو امیہ، خلافت عباسیہ اور خلافت عثمانیہ کے ادوار میں ہماری معیشت میں سود کا کوئی شائبہ نہیں تھا۔ سود کا نظام مغرب نے شروع کیا اور چلتے چلتے جب ہم پر غیر مسلم حکومتیں آئیں تو ہمارا نظام بھی سودی ہوتا چلا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ نومبر ۲۰۲۲ء

حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانیؒ

حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی رحمہ اللہ تعالیٰ بھی ہم سے رخصت ہو گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ کچھ عرصہ قبل کراچی حاضری کے دوران ان کی بیمارپرسی کا موقع ملا تو والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کا آخری دور یا دآ گیا، انہوں نے بھی ضعف و علالت کا خاصا عرصہ بسترِ علالت پر گزارا تھا اور میں ساتھیوں سے کہا کرتا تھا کہ یہ ’’من بعد قوۃ ضعفاً‌ و شیبۃ‘‘ کا اظہار ہے کہ جس بزرگ کے ساتھ ان مکمل تحریر

۲۲ نومبر ۲۰۲۲ء

سودی نظام سے نجات کی نوید

گزشتہ دنوں ہمارے ملک کے وزیرخزانہ جناب اسحاق ڈار نے اعلان کیا ہے کہ حکومت نے سودی نظام کو ختم کرنے اور غیر سودی معیشت کو اپنانے کا فیصلہ کر لیا ہے، اور وفاقی شرعی عدالت نے رمضان المبارک میں جو فیصلہ کیا تھا کہ سودی نظام ختم کرو اور شریعت کا نظام نافذ کرو، اس پر مقرر کردہ مدت کے اندر عملدرآمد کا ہم نے پروگرام بنا لیا ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں جو اپیلیں دائر کی گئی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ نومبر ۲۰۲۲ء

رائے ونڈ کے سالانہ تبلیغی اجتماع میں مختصر حاضری

مولانا محمد ابراہیم دیولا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی شکرگزاری پر گفتگو فرما رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ بہت قدردان ہیں کہ اعمالِ خیر کے ساتھ ساتھ ان کے اسباب اختیار کرنے پر بھی اجر عطا فرماتے ہیں۔ مثلاً‌ نماز عبادت ہے مگر نماز سے متعلقہ ہر عمل پر ثواب ملتا ہے حتٰی کہ نماز کے لیے مسجد میں جانے پر قدم بھی شمارے ہوتے ہیں اور ہر قدم پر اللہ تعالیٰ اجر عطا فرماتے ہیں۔ اسی طرح خیر کا جو عمل بھی آپ کریں اور اس کے لیے جو اسباب بھی اختیار کریں ۔۔۔ مکمل تحریر

۱۶ نومبر ۲۰۲۲ء

قومی خلفشار کے اسباب کا جائزہ لینے کی ضرورت

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ احد کے موقع پر پریشان کن صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کا ذکر قرآن کریم میں تفصیل کے ساتھ کیا گیا ہے۔ جنگ کے ابتدائی مراحل میں مسلمانوں کی فتح اور پیش قدمی کے حالات پیدا ہو گئے تھے مگر اچانک پانسہ پلٹ گیا اور وقتی پسپائی کے ساتھ بہت نقصان کا سامنا کرنا پڑا، مسلمان لشکر کچھ دیر کے لیے تتربتر ہو گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ اکتوبر ۲۰۲۲ء

مسلم امت کا معاشرتی مزاج

جمعیت اہلسنت والجماعت ہمارے شہر کے علماء کرام کی ایک جماعت ہے جس کے تحت ہم وقتاً فوقتاً دینی کاموں کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں اور اجتماعی طور پر کام کرتے ہیں۔ تعلیمی، اصلاحی، مسلکی، دعوتی اور اس کے ساتھ رفاہی کام بھی مل جل کر کرتے رہتے ہیں۔ کافی عرصے سے یہ جماعت کام کر رہی ہے، حالیہ سیلاب کا مرحلہ آیا تو ہم نے مشاورت کی کہ اس محاذ پر بھی کردار ادا کرنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ اکتوبر ۲۰۲۲ء

معاشرہ کے ضرورت مندوں کی خبرگیری

آج کا یہ پروگرام جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ گوجرانوالہ کی طرف سے درسِ قرآن کریم کے عنوان سے ہے جبکہ اس کے اشتہار میں سیلاب زدگان کی امداد اور بحالی کے لیے جمعیت اہل سنت کی سرگرمیوں کا بھی ذکر ہے اس لیے اس حوالہ سے کچھ گزارشات پیش کروں گا کہ جب معاشرہ میں کچھ لوگ کسی اجتماعی آزمائش کا شکار ہو کر بے سہارا ہو جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ اکتوبر ۲۰۲۲ء

ٹرانسجینڈر ایکٹ ۲۰۱۸ء سے آگاہی

مرکزی جمعیت اہلحدیث گوجرانوالہ کا شکرگزار ہوں کہ ایک اہم مسئلہ پر تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام کا یہ مشترکہ اجتماع منعقد کیا جس میں سرکردہ علماء کرام کے ساتھ طلبہ بھی شریک ہیں جو ہماری مستقبل کی قیادت ہے اور مجھے اس پر خوشی ہوئی ہے کہ ہمارے طلبہ کو بھی مسائل کا ادراک ہونا چاہیے تاکہ وہ مستقبل میں امت کی قیادت کا فریضہ صحیح طریقہ سے انجام دے سکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ اکتوبر ۲۰۲۲ء

دینی و قومی جدوجہد ۔ چند اہم مسائل

یہ مجلسِ احرار اسلام کی سالانہ کانفرنس ہے اور بہت اہم مقام پر ہے۔ کوئی تقریر کرنے کی بجائے اس وقت ہمیں قومی سطح پر دینی جدوجہد کے حوالے سے جو چیلنجز درپیش ہیں اور اس مورچے اور اس جیسے دیگر مورچوں کے حوالے سے جن مسائل کا ہمیں سامنا ہے، ان کی ایک فہرست عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہم کہاں کہاں پھنسے ہوئے ہیں، کیا کیا مسائل درپیش ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ اکتوبر ۲۰۲۲ء

مولانا مفتی محمودؒ کا یادگار قومی کردار

جمعیۃ طلباء اسلام پاکستان ۱۵ اکتوبر ہفتہ کو کنونشن سنٹر اسلام آباد میں مفکرِ اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی یاد میں قومی سطح کی ایک تقریب کا اہتمام کر رہی ہے جو وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس پر جے ٹی آئی کی قیادت تبریک و تشکر کی مستحق ہے۔ مولانا مفتی محمودؒ کو ہم سے رخصت ہوئے چار عشروں سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے مگر ان کی نہ صرف یاد دلوں میں تازہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اکتوبر ۲۰۲۲ء

اسوۂ نبویؐ اور رفاہی ریاست

پہلے یہ دیکھیں کہ ریاست اور رفاہی ریاست میں کیا فرق ہوتا ہے؟ کسی بھی ملک کی حکومت اور ریاست کے تین چار بنیادی کام سمجھے جاتے ہیں: (۱) سرحدوں کی حفاظت (۲) ملک میں امن قائم کرنا (۳) ظلم زیادتی ہو تو انصاف فراہم کرنا (۴) لوگوں کو ایک دوسرے پر ظلم کرنے سے روکنا (۵) اور لوگوں کو زندگی کی سہولتیں زیادہ سے زیادہ فراہم کرنا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ ستمبر ۲۰۲۲ء

ٹرانس جینڈر ایکٹ ۲۰۱۸ء ۔ پاکستان شریعت کونسل کا تجزیہ و تجاویز

ٹرانس جینڈر (تحفظ حقوق) ایکٹ ۲۰۱۸ء مئی ۲۰۱۸ء میں منظور کیا گیا۔ پارلیمنٹ نے اس قانون کو منظور کرنے کا ادعا یہ لکھا ہے کہ ٹرانس جینڈر لوگوں کو دیگر شہریوں کے مساوی حقوق حاصل ہوں اور ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ اس قانون کےمطابق ٹرانس جینڈرز کو قانونی طور پر منظور اور تسلیم کر لیا گیا ہے اور ان کو وہی حقوق حاصل ہونگے جو دوسرے مرد و خواتین کو حاصل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ ستمبر ۲۰۲۲ء

مولانا قاری عبد الحلیمؒ اور مولانا ظفر احمد قاسمؒ

ماضی کو یاد رکھنا اور بزرگوں کو یاد کرنا یہ تو قرآن کریم کا حکم بھی ہے اور اسلوب بھی۔ قرآن کریم نے حکم دیا ’’ذکرھم بایام اللہ‘‘ کہ گزرے ہوئے دنوں کو یاد کر کے لوگوں کو نصیحت کریں۔ یعنی پچھلے دنوں میں اچھے لوگوں نے کیا کیا تھا، برے لوگوں نے کیا کیا تھا، اچھے کاموں کا انجام کیا ہوا تھا، برے کاموں کا نتیجہ کیا ہوا تھا۔ پچھلے زمانوں اور لوگوں کو یاد کریں اور اس کے ساتھ نصیحت کریں، سبق حاصل کریں۔ مکمل تحریر

۲۳ ستمبر ۲۰۲۲ء

ٹرانس جینڈر ایکٹ ۲۰۱۸ء ـ۔ ملی مجلسِ شرعی پاکستان کا موقف

ٹرانس جینڈر پرسن کے حوالے سے ایک قانون پر کچھ دنوں سے دینی حلقوں میں بحث چل رہی ہے۔ یہ قانون ۲۰۱۸ء میں سینیٹ اور قومی اسمبلی سے پاس ہوا تھا جس کا عنوان تھا ”خواجہ سرا اور اس قسم کے دیگر افراد کے حقوق کا تحفظ“ خواجہ سرا ملک میں بہت کم تعداد میں موجود ہیں۔ کچھ اوریجنل ہیں ، کچھ تکلف کے ساتھ ہیں اور کچھ کو اب مزید تکلف کے ساتھ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ ستمبر ۲۰۲۲ء

سیلاب زدگان کی امداد اور بحالی

مدینہ منورہ میں ایک علاقہ اشعریوں کا محلہ کہلاتا تھا۔ حضرت ابو موسی اشعریؓ اور ان کے ساتھ چند خاندان غزوہ خیبر کے موقع پر یمن سے ہجرت کر کے آئے تھے اور آکر مدینہ منورہ میں آباد ہوگئے تھے، وہاں انہوں نے الگ جگہ لے کر اپنا محلہ بسایا تھا جو اشعریوں کا محلہ کہلاتا تھا۔ یمن سے آنے والے اس مہاجر قبیلے کی جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین حوالوں سے تعریف کی ہے، ایک دفعہ ان کو ڈانٹا تھا اور دو حوالوں سے ان کی تعریف کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ ستمبر ۲۰۲۲ء

سودی نظام کے خلاف جدوجہد اور تنظیمِ اسلامی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے سود کو ہر شریعت میں حرام ٹھہرایا تھا اور قرآنِ مجید میں بنی اسرائیل پر لعنت کے جو اسباب ذکر ہوئے ہیں ان میں یہ بھی ذکر ہے ’’واخذھم الربٰوا وقد نھوا عنہ‘‘۔ ان کے ملعون ہونے کے اسباب میں ایک یہ بھی تھا کہ ان کو سود سے منع کیا گیا تھا لیکن وہ سود کا کاروبار کرتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ ستمبر ۲۰۲۲ء

دعوتِ دین کے تقاضے اور داعی کی صفات

میسج ٹی وی کا شکرگزار ہوں کہ ایک اہم موضوع پر، جو وقت کی ضرورت ہے، گفتگو کرنے کا موقع فراہم کیا۔ داعی کی صفات کیا ہونی چاہئیں اور دعوت کے تقاضے کیا ہیں؟ اس پر بات کرنے سے پہلے بطور تمہید عرض کرنا چاہوں گا کہ ایک طرف دعوت ہے اور ایک طرف دفاع ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۲۲ء

دفاعِ پاکستان اور تحفظِ ختمِ نبوت

۶ ستمبر یومِ دفاعِ پاکستان اور ۷ ستمبر یومِ تحفظِ ختمِ نبوت ہے، ان دونوں کے ساتھ ہماری تاریخ وابستہ ہے اور دینی و ملی روایات وابستہ ہیں، اس موقع پر تقریبات ہوتی ہیں، وطن کے شہداء اور ختم نبوت کے شہداء کو یاد کیا جاتا ہے، جن کی قربانیوں کی بدولت ہمارا ملک بھی محفوظ ہے اور عقیدہ بھی بحمد اللہ محفوظ ہے۔ ۶ ستمبر ۱۹۶۵ء کو بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو اس کا ہدف لاہور پر قبضہ کرنا تھا۔ پاک فوج کے جوانوں نے بڑی قربانیوں کے ساتھ ملک کا دفاع کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ ستمبر ۲۰۲۲ء

توہینِ رسالت ﷺ کا سنگین جرم اور اس کی سزا کے تقاضے

ملزم کے خلاف استغاثہ کا موقف یہ ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے ایسے گروپوں سے منسلک چلا آرہا تھا جن میں نعوذ باللہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی کھلم کھلا گستاخی کی جاتی رہی ہے، اس لیے وہ اس سنگین جرم میں ملوث ہے اور سزا کا مستحق ہے۔ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام، حضرات صحابہ کرامؓ، ازواجِ مطہراتؓ اور اہلِ بیتِ عظامؓ کی کسی بھی درجہ میں اہانت، تحقیر اور گستاخی سنگین اور شنیع جرم ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۲۲ء

فتنوں کے دور میں ہمارے کرنے کے کام

جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تشریف آوری سےپہلے کے حالات اور کائنات کے آغاز سے لے کر اپنی ذات گرامی تک کے اہم واقعات کا ذکر فرمایا ہے، اور قیامت تک آنے والے بہت سے واقعات ، خطرات اور خدشات کی نشاندہی بھی فرمائی ہے۔ یہ آپ کی جامعیت کا ایک پہلو ہےکہ آپؐ کی تعلیمات کائنات کے آغاز سے لے کر کائنات کی انتہاء تک پورے ماحول کا احاطہ کرتی ہیں، جوکہ تکوینیات کے حوالے سے بھی ہے اور تشریعیات میں بھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ اگست ۲۰۲۲ء

شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ کے فتوٰی کا تسلسل

جب ہم اپنی علمی و دینی تحریکوں کا ذکر کرتے ہیں تو ان میں دو بڑے نام آتے ہیں، پہلا نام حضرت مجدد الف ثانیؒ کا، اور دوسرا نام حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا ہے۔ ان دونوں کی جدوجہد دراصل شاہ صاحبؒ کے فتوے کا تاریخی پس منظر ہے۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ کی تحریک کیا تھی؟ حضرت مجدد الف ثانیؒ سے پہلے برصغیر میں اکبر بادشاہ نے اس دور کے سیکولرازم کا نفاذ چاہا تھا کہ کسی مذہب کی کوئی اجارہ داری نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ اگست ۲۰۲۲ء

آزادی کے مقاصد اور ہماری کوتاہیاں

یومِ آزادی کے حوالے سے اس تقریب کے انعقاد اور اس میں شرکت کا موقع دینے پر صدر شعبہ پروفیسر ڈاکٹر محمد حماد لکھوی اور ان کے رفقاء کا شکرگزار ہوں۔ اس موقع پر جن طلبہ اور طالبات نے قیامِ پاکستان اور حصولِ آزادی کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے وہ میرے لیے خوشی کا باعث بنے ہیں کہ ہماری نئی نسل اپنے ماضی کا احساس رکھتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ اگست ۲۰۲۲ء

ایمانی اور علمی پختگی سے حالات کا مقابلہ

بھارت کی انتہاپسند ہندو تنظیم ’’آر ایس ایس‘‘ کے لیڈر رام مادھو کی طرف سے انڈیا میں رہنے والے مسلمانوں سے تقاضا کیا گیا ہے کہ ’’وہ غیرمسلموں کو کافر نہ کہیں، خود کو عالمی مسلم اُمہ کا حصہ سمجھنا ترک کر دیں، اور نظریۂ جہاد سے خود کو الگ کر لیں‘‘۔ یہ تقاضا کوئی نیا نہیں ہے اور نہ صرف بھارتی انتہاپسندوں کا یہ مطالبہ ہے، بلکہ آج کے عالمی سیکولر حلقوں کا بھی مسلمانوں سے یہی مطالبہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۲۲ء

عدالتی نظام میں اصلاحات اور متبادل مصالحتی نظام

سپریم کورٹ آف پاکستان کے ان دو معزز جج صاحبان کی مذکورہ گفتگو کی تفصیلات ہمارے سامنے نہیں ہیں مگر یہ چند جملے ہی ہماری موجودہ عدالتی، معاشرتی اور معاشی صورتحال کی عکاسی کے لیے کافی ہیں اور ان میں معانی اور معروضی حقائق کا ایک جہان پوشیدہ ہے۔ پاکستان کے قیام کے بعد آزادی اور نظریۂ پاکستان کے تقاضوں کے مطابق ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۲۲ء

فلاحی ریاست اور اسوۂ نبویؐ

جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ویلفیئر اسٹیٹ کا صرف تصور نہیں دیا اور اس کی تعلیمات نہیں بیان کیں بلکہ جب آپؐ تئیس سال کی محنت کے بعد اس دنیا سے تشریف لے گئے تو ایک فلاحی ریاست قائم ہو چکی تھی جسے آج کی دنیا بھی فلاحی ریاست مانتی ہے۔ بخاری شریف کی ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب کسی مسلمان کی وفات ہوتی اور آپؐ سے تقاضا ہوتا کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ جولائی ۲۰۲۲ء

حضرت ابوہریرہؓ کا ذوقِ حدیث

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو احادیث مبارکہ کا خصوصی ذوق تھا ،آپؓ جہاں بیٹھتے ،حدیثیں بیان کرتے ۔ جب آپ ؓنے بہت زیادہ حدیثیں بیان کرنا شروع کر دیں تو آخر عمر میں کچھ لوگوں کو یہ خدشہ پیدا ہوا کہ آپ بوڑھے ہو گئے ہیں پتہ نہیں حافظہ کام کرتا ہے یا نہیں؟ جان بوجھ کر غلط بیان کرنا اور بات ہے لیکن اگر کسی کا حافظہ کمزور ہو تو ممکن ہے کہ بات ادھر کی ادھر بیان کر دے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جولائی ۲۰۲۲ء

قومی و دینی خودمختاری کی جدوجہد اور علماء کرام

میں تاریخ اور سیاست کے طالب علم کے طور پر خود کو اس زمانہ میں محسوس کر رہا ہوں جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے بنگال، میسور اور دیگر علاقوں پر قبضہ کے بعد دہلی کی طرف پیش قدمی شروع کی تو مغل بادشاہت کا منصب شاہ عالم ثانی کے پاس تھا۔ اور مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے شاہ عالم ثانی نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ یہ معاہدہ کر لیا تھا کہ بادشاہت کا ٹائٹل تو اسی کے پاس رہے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جولائی ۲۰۲۲ء

مسجد کے اعمال کو زندہ کرنے کی ضرورت

بعد الحمد والصلوٰۃ! میں سب سے پہلے اس مسجد کی تعمیر پر آپ حضرات کو مبارکباد دینا چاہوں گا، اس کے سنگ بنیاد کی تقریب میں بھی حاضری ہوئی تھی اور آج تین منزلہ شاندار عمارت دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی ہے، اللہ تعالیٰ بنانے والوں، تعاون کرنے والوں اور اہلِ علاقہ سب کے لیے اس کارِ خیر کو دنیا و آخرت کی کامیابیوں کا ذریعہ بنائیں، آمین یا رب العالمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ جون ۲۰۲۲ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter