مدرسہ آرڈیننس کے مضمرات

گزشتہ روز ملتان میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ کے ایک ہنگامی اجلاس میں وفاق کے ناظم اعلیٰ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کی خصوصی دعوت پر شرکت کا موقع ملا۔ اگرچہ وفاق میں شامل ایک تعلیمی ادارہ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں کئی سالوں سے تدریس کے فرائض سرانجام دے رہا ہوں، مگر وفاق المدارس کے کسی اجلاس میں حاضری کا پہلی بار اتفاق ہوا۔ وفاق کا قیام حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری، حضرت مولانا شمس الحق افغانی اور حضرت مولانا مفتی محمود رحمہم اللہ کی مساعی سے عمل میں آیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ جولائی۲۰۰۲ء

تعلیمی نصاب میں اصلاحات کی نئی بحث اور SDPI کی رپورٹ

دینی مدارس کے نصاب و نظام میں اصلاح کی بحث ابھی جاری تھی کہ ریاستی تعلیمی نصاب میں اصلاحات و ترامیم کا ’’پنڈوراباکس‘‘ بھی کھول دیا گیا ہے اور مختلف رپورٹوں اور تجاویز کی صورت میں یہ تقاضے شروع ہوگئے ہیں کہ عالمی اور جنوبی ایشیا کی سطحوں میں رونما ہونے والی تبدیلیوں اور تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے ریاستی تعلیمی نظام کی ’’اوورہالنگ‘‘ کی جائے اور نصاب کے اہداف اور مواد، دونوں پر نظر ثانی کرکے اسے ازسرِنو ترتیب دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ مارچ ۲۰۰۴ء

ایٹمی عدم پھیلاؤ کی مہم اور عالمی استعمار کا اصل مشن

ڈاکٹر عبد القدیر کے ’’اعتراف جرم‘‘ اور وفاقی کابینہ کی طرف سے سفارش کے بعد صدر پرویز مشرف نے ان کے لیے جس معافی کا اعلان کیا ہے، اس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس سے مسئلہ نمٹ جائے گا اور ایٹمی پھیلاؤ کے مبینہ جرم کے ارتکاب کے حوالہ سے پاکستان کے خلاف جو الزامات عالمی سطح پر سامنے آرہے ہیں، ان کی شدت میں شاید اب کمی آجائے گی، لیکن دوسری طرف عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ محمد البرادعی نے کہا ہے کہ ڈاکٹر عبد القدیر کا مبینہ اعتراف جرم اس وسیع جال کی پہلی کڑی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ فروری ۲۰۰۴ء

ایٹمی سائنسدانوں کی ڈی بریفنگ ۔ چند گزارشات

ایٹمی سائنس دانوں کی ’’ڈی بریفنگ’’ جوں جوں آگے بڑھ رہی ہے، عوام کے اضطراب میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان اور ان کے رفقاء کے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے ایٹمی راز فروخت کیے اور دوسرے ممالک کو ایٹمی طاقت حاصل کرنے میں مدد دی۔ سائنس دانوں کے خفیہ بینک اکاؤنٹس کا تذکرہ ہو رہا ہے، بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا حوالہ دیا جا رہا ہے، عدالت عالیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا جا رہا ہے، جبکہ بعض معزز جج صاحبان کو شکوہ ہے کہ انہیں ضروری معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ فروری ۲۰۰۴ء

پاکستانی پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ اور سعودی پاسپورٹ کا حوالہ

پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کو ختم کرنے کا معاملہ اس قدر سادہ اور معمولی نہیں ہے کہ اسے اس طرح خاموشی کے ساتھ نمٹا لیا جائے۔ اس لیے کہ اس کے پیچھے ایک سو سال کی جدوجہد ہے اور اس مسئلہ کے قادیانی پس منظر کے حوالے سے یہ معاملہ انتہائی حساس اور نازک ہے جس کا تعلق مسلمانوں کے عقیدہ اور جذبات کے ساتھ ہے۔ پاسپورٹ میں مذہب کے خانے کا اضافہ اب سے ربع صدی قبل قادیانی پس منظر میں ہی کیا گیا تھا جب پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے جمہوری طریقے سے مکمل بحث و تمحیص ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ مارچ ۲۰۰۵ء

تعلیمی نظام اور بین الاقوامی مطالبات

ملک کا تعلیمی نظام اس وقت سہ طرفہ یلغار کی زد میں ہے اور اعلیٰ سطح پر اس سلسلہ میں جو سرگرمیاں نظر آرہی ہیں یا درپردہ جاری ہیں، ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام و نصاب کا کوئی شعبہ بھی ان تبدیلیوں کے اہداف سے باہر نہیں ہے جو پاکستان کے حوالے سے طے کر لی گئی ہیں اور انہیں روبہ عمل کرنے کے لیے ’’ہوم ورک‘‘ تیزی کے ساتھ مکمل کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف دینی مدارس کا نظام و نصاب ہے جس میں اصلاح و ترمیم کے لیے مختلف شعبے سرگرم عمل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ مارچ ۲۰۰۴ء

آزاد کشمیر کی حکومت اور علماء کرام سے چند گزارشات

خطۂ کشمیر کی موجودہ صورتحال آپ کے سامنے ہے، کسی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے کہ گزشتہ سات عشروں سے کشمیری عوام کو ان کے مسلمہ حق خودارادیت سے مسلسل محروم رکھا جا رہا ہے اور حالیہ صورتحال یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام دو ماہ سے زیادہ عرصہ سے کرفیو کے ماحول میں ہیں، آزادانہ نقل و حرکت کے حق سے محروم ہیں اور اشیائے خورد و نوش کی قلت کا شکار ہیں، جبکہ ان کی بے بسی اور مظلومیت پر ارباب فہم و شعور کا اضطراب بڑھتا جا رہا ہے مگر عملاً کوئی بھی کچھ کرنے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دے رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ اکتوبر ۲۰۱۹ء

بین الاقوامی معاہدات اور اصحاب فکر و دانش کی ذمہ داری

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ نہ صرف ہم بلکہ کم و بیش ساری دنیا بین الاقوامی معاہدات کے حصار ہیں، اور جنگ و امن کے ساتھ ساتھ حقوق انسانی اور سولائزیشن کے حوالہ سے بھی بیسیوں معاہدات نے پوری دنیا پر حکمرانی کا سکہ جما رکھا ہے۔ میں یہ عرض کیا کرتا ہوں کہ اس وقت دنیا بھر میں حکومتوں کی حکمرانی کم اور معاہدات کی حکمرانی زیادہ ہے، صرف اس فرق کے ساتھ کہ طاقتور اور امیر ممالک اپنے لیے کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیتے ہیں جبکہ غریب اور کمزور اقوام و ممالک کو ان معاہدات کی بہرحال پابندی کرنا پڑتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ اکتوبر ۲۰۱۹ء

حکومتی اعلان کے بغیر جہاد کی شرعی حیثیت

اسلام آباد کے ’’علماء کنونشن‘‘ سے جنرل پرویز مشرف کے خطاب پر بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور قومی اخبارات میں اس کے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کیا جا رہا ہے۔ اس کنونشن کے لیے اپنی مرضی کے علماء و مشائخ کو جس انداز سے جمع کیا گیا، اس سے ماضی کی حکومتی روایات بھی مدھم پڑ گئیں، کیونکہ ماضی کی حکومتیں ایسے مواقع پر اس بات کا خیال رکھتی تھیں کہ کانفرنس یا کنونشن میں اس کے ہم خیال حضرات ہی کی اکثریت ہو مگر توازن قائم رکھنے کے لیے مخالفانہ نقطۂ نظر رکھنے والے کچھ حضرات کو بھی موقع دیا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم مارچ ۲۰۰۴ء

تحفظ ختم نبوت کے عالمی مورچے اور مولانا فضل الرحمان کا دھرنا

۵ اکتوبر کو دن کا ایک حصہ چناب نگر اور چنیوٹ میں گزارنے کا موقع ملا۔ اسباق سے فارغ ہو کر ظہر تک عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکز چناب نگر پہنچا اور ’’تخصص فی الفقہ‘‘ کی کلاس میں فقہ اسلامی کے عصری تقاضوں اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی فکری ضروریات کے عنوان پر شرکاء کے ساتھ کم و بیش ایک گھنٹہ گفتگو ہوئی۔ جبکہ عالمی مجلس کے مرکزی راہنما مولانا عزیز الرحمان ثانی کے ساتھ مختلف امور پر تبادلہ خیالات کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ اکتوبر ۲۰۱۹ء

مغرب کے سامنے صرف سپر اندازی کا مشورہ کیوں؟

ڈاکٹر عبد القدیر خان کے اعتراف ’’جرم‘‘ اور صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے ان کے لیے ’’معافی‘‘ کے بعد ایٹمی پھیلاؤ کے حوالے سے قیاس آرائیوں نے جو نیا رخ اختیار کر لیا ہے، اس سے ان حضرات کے خدشات کو تقویت حاصل ہو رہی ہے کہ جس انداز سے اس معاملہ کو ڈیل کیا گیا ہے، اس سے مسئلہ سمٹنے کے بجائے پھیلاؤ کا زیادہ شکار ہو گیا ہے اور اس کا امکان بڑھتا جا رہا ہے کہ ایٹمی پھیلاؤ کے معاملے میں پاکستان کے بعض سائنس دانوں کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کا مسئلہ پاکستان کا داخلی معاملہ نہیں سمجھا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ فروری ۲۰۰۴ء

اطاعت امیر درست، مگر کن حالات میں!

صدر جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں علمائے کرام اور مشائخ عظام کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بہت سی فکر انگیز باتیں کی ہیں جن پر ہر پاکستانی کو غور کرنا چاہیے، کیونکہ صدر محترم کی رائے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے اور ان کی بہت سے آرا سے ہمیں بھی اختلاف ہے، لیکن اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ جن امور کی انہوں نے نشاندہی کی ہے اور جن مسائل کا پاکستان کے حوالے سے انہوں نے اپنے خطاب میں تذکرہ کیا ہے، وہ اس وقت ہمارے لیے چیلنج کا درجہ رکھتے ہیں اور ان کے بارے میں ہر باشعور شہری فکرمند اور پریشان ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ فروری ۲۰۰۴ء

دینی مدارس اور ’’قومی دھارا‘‘

اے پی پی کے مطابق گزشتہ دنوں کوئٹہ میں دینی مدارس کے اساتذہ کی تربیت کے لیے منعقدہ آٹھ روزہ ورکشاپ کے اختتام پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم محترمہ زبیدہ جلال نے فرمایا ہے کہ دینی مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی راہ میں کوئی اندرونی یا بیرونی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس میں دنیاوی علوم کے فروغ کا مقصد دینی مدارس کے طلبہ کو ملک اور قوم کا ایک کارآمد شہری بنانا ہے۔ وزیر تعلیم نے اس موقع پر دینی مدارس کے حوالے سے سرکاری پروگرام کی وضاحت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ اگست ۲۰۰۳ء

قرآن حکیم کے ہم پر حقوق

رمضان المبارک گزرتا جا رہا ہے اور دنیا بھر میں مسلمان اپنے اپنے ذوق اور توفیق کے مطابق اس کی برکتوں سے فیضیاب ہو رہے ہیں۔ یہ قرآن کریم کا مہینہ ہے، اسی لیے اس میں قرآن کریم سب سے زیادہ پڑھا جاتا ہے اور نماز کے بغیر بھی اس کی عام طور پر تلاوت ہوتی ہے۔ سمجھ کر پڑھنے والے بھی اس کے پڑھنے اور سننے کا حظ اٹھا رہے ہیں اور بغیر سمجھے پڑھنے سننے والے بھی اس کی برکات سے محروم نہیں ہیں۔ یہ قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ کسی اور کتاب کے حافظ موجود نہیں، مگر اس کے حافظوں کی تعداد دنیا میں اس وقت نوے لاکھ کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ نومبر ۲۰۰۳ء

ایٹمی صلاحیت کا حصول اور عالمی قوتوں کا معاندانہ رویہ

انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سربراہ محمد البرادعی نے ’’رائٹر‘‘ سے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ایٹمی پروگرام میں مختلف ملکوں کی مدد کرنے والے انڈر ورلڈ گروہ کا سراغ لگانے اور اسے ناکارہ بنانے کے لیے اٹامک ایجنسی پاکستان کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے اور انہیں امید ہے کہ وہ چند ہفتوں تک اس قابل ہو جائیں گے کہ ایٹمی پھیلاؤ اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں ملوث گروہ اور اس میں شامل افراد کو سامنے لے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ ایٹمی عدم پھیلاؤ کی کوششیں سخت دباؤ کا شکار ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ جنوری ۲۰۰۴ء

فقہی و قانونی جدوجہد کاایک ناگزیر تقاضہ

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالٰی کے اخری رسول کی حیثیت سے انسانی معاشرہ کو جن تبدیلیوں اور اصلاحات سے نوازا ان کا دائرہ زندگی کے تمام شعبوں کو محیط ہے اور ان سماجی تغیرات و اصلاحات کی سطح صرف دعوت و تلقین کی نہیں تھی بلکہ ان کے مطابق معاشرہ کی ازسرنو تشکیل بھی جناب نبی اکرمؐ نے خود فرما دی۔ چنانچہ جب اللہ تعالٰی کے آخری رسول یہ مشن مکمل کر کے ’’فزت و رب الکعبۃ‘‘ فرماتے ہوئے اپنے رب کے حضور پیش ہوئے تو آپؐ کی تعلیمات صرف اقوال و ارشادات پر مبنی نہیں تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ اکتوبر ۲۰۱۹ء

نفاذ اسلام کے دستوری اداروں کو درپیش خطرہ !

روزنامہ دنیا گوجرانوالہ میں ۲۶ ستمبر ۲۰۱۹ء کو شائع ہونے والی خبر ملاحظہ فرمائیے! ’’اسلامی نظریاتی کونسل نے حکومت کی طرف سے اداروں کی تشکیل نو کے حوالہ سے ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی طرف سے اسلامی نظریاتی کونسل اور وفاقی شرعی عدالت کی حیثیت اور ہیئت تبدیل کرنے کی سفارش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل اور وفاقی شرعی عدالت کو چیف ایگزیکٹو اور بورڈ آف گورنر کے سپرد کرنا ۱۹۷۳ء کے آئین کی خلاف ورزی ہے، اصلاحات کمیٹی کی سفارش کو واپس لیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ اکتوبر ۲۰۱۹ء

چینی زبان کا فروغ اور پاکستانی زبان و ثقافت کا تحفظ

روزنامہ انصاف لاہور ۲۰ فروری ۲۰۱۸ء کی رپورٹ کے مطابق: ’’چیئرمین سینٹ جناب رضا ربانی نے کہا ہے کہ چینی زبان پاکستان اور چین کے کاروباری شعبہ کے مابین سہولت پیدا کر رہی ہے، پاکستانی زبان اور ثقافت کو مدنظر رکھتے ہوئے چینی زبان کو فروغ ملنا چاہیے۔ جبکہ چینی سفیر پاؤچنگ کا کہنا ہے کہ چینی زبان دونوں ممالک کے درمیان گہرے رابطے کا ذریعہ بن رہی ہے۔ چین خلوص اور وفاداری کے ساتھ معاشی اور دفاعی لحاظ سے مضبوط پاکستان دیکھ رہا ہے، چینی زبان کے فروغ سے ثقافتی روابط بھی مضبوط ہو رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۸ء

بیت المقدس اور مسلم حکمرانوں کا طرزِ عمل

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے امریکی سفارت خانہ کی بیت المقدس میں منتقلی کے اعلان کو بھاری اکثریت کے ساتھ مسترد کر کے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ بیت المقدس ابھی تک متنازعہ علاقہ ہے اور اسے اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ بین الاقوامی معاملات اور قوانین کے منافی ہے۔ فلسطین آج سے سو سال قبل خلافت عثمانیہ کا ایک صوبہ تھا، جنگ عظیم میں جرمنی کے ساتھ خلافت عثمانیہ بھی شکست سے دوچار ہو گئی تھی جس کے نتیجے میں جرمنی کے ساتھ ساتھ خلافت عثمانیہ کے بہت سے علاقوں کو بھی فاتح اتحادی فوجوں نے قبضہ میں لے لیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۸ء

’’حدود آرڈیننس‘‘ میں ترامیم کا پس منظر

پاکستان میں حدود قوانین کی مخالفت کا سلسلہ ان کے نفاذ کے بعد سے ہی جاری ہے اور ملک کے سیکولر حلقوں کے ساتھ سینکڑوں این جی اوز اور انسانی حقوق کے حوالہ سے کام کرنے والی بیسیوں تنظیمیں اس مقصد کے لیے ربع صدی سے متحرک ہیں۔ ان کی اس مہم کا اصل مقصد تو وہی ہے جو بین الاقوامی حلقوں کا ہے جبکہ ملک کے اندرونی سیکولر حلقوں کی جدوجہد کے اہداف مذکورہ بالا بین الاقوامی اہداف سے مختلف نہیں ہیں، لیکن ان کے اعتراضات میں کچھ داخلی امور بھی ہیں جن میں سے ایک دو کا تذکرہ ضروری معلوم ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ دسمبر ۲۰۰۶ء

دینی جدوجہد کا نیا دور اور اس کے تقاضے

گزشتہ روز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنماؤں مولانا اللہ وسایا اور مولانا عزیز الرحمٰن ثانی کے ہمراہ لاہور میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ملاقات اور اہم ملکی امور پر تبادلۂ خیالات کا موقع ملا۔ محترم سید سلمان گیلانی، عزیزم حافظ محمد خزیمہ خان سواتی، جناب بلال میر اور حافظ شاہد میر بھی شریک محفل تھے۔ ملک کی عمومی صورتحال کے تناظر میں دینی جد و جہد کے اہم پہلو زیر بحث آئے جن میں نئی حکومت کے بعض اقدامات اور ان کا عوامی ردعمل سامنے رکھتے ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۸ء

پرنس ہیری اور مکھی

روزنامہ دنیا گوجرانوالہ میں ۲۴ مئی کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’لندن (این این آئی) پرنس چارلس کی ۷۰ ویں سالگرہ کے موقع پر تقریر کے دوران ایک مکھی پرنس ہیری کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتی نظر آئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پرنس ہیری تقریری کرنے ڈائس پر آئے تو بھن بھن کرتی ایک مکھی نے تقریر کرتے ہوئے شہزادے کو مشکل میں ڈال دیا جس کے باعث ان کا تقریر سے دھیان ہٹ گیا۔ تقریر کے دوران پرنس ہیری اگلا جملہ غلط بول گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۸ء

امریکی سفارت خانہ کی القدس منتقلی اور فلسطینیوں پر وحشیانہ تشدد

امریکہ نے بالآخر بیت المقدس شہر میں اپنا سفارت خانہ قائم کر دیا ہے اور فلسطینیوں پر اسرائیلیوں کے تشدد کی تازہ ترین کارروائی بھی اسی روز ہوئی ہے جس دن یروشلم میں امریکی سفارت خانہ کی باقاعدہ منتقلی ہوئی کہ اس غیر منصفانہ اور ظالمانہ اقدام پر احتجاج کرنے والے مظلوم فلسطینیوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا۔ بیت المقدس شہر خود اقوام متحدہ کے فیصلوں اور قراردادوں کے مطابق متنازعہ ہے اور اس کی مستقل حیثیت کا فیصلہ ابھی ہونا ہے، مگر امریکہ نے بین الاقوامی فیصلوں اور عالمی رائے عامہ کو مسترد کرتے ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۸ء

’’جنرل مشرف کا دورِ اقتدار: سیاسی، نظریاتی اور آئینی کشمکش کا ایک جائزہ‘‘

جنرل پرویز مشرف کا دور اقتدار اس لحاظ سے منفرد اور امتیازی حیثیت رکھتا ہے کہ انھوں نے اپنے اہداف اور پروگرام کو ڈپلومیسی کی زبان میں لپیٹنے کی حتی الوسع کوشش نہیں کی۔ صحیح یا غلط جو کچھ بھی کیا، کھلے بندوں کیا اور بہت سے معاملات جو ان سے پہلے مصلحتوں کے پردوں میں ”صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں“ کی کیفیت سے دوچار تھے، ان کے دور اقتدار میں اوپن ہو گئے ہیں۔ پاکستانی سیاست کی امریکی مفادات کے ساتھ وابستگی کا آغاز قیام پاکستان کے بعد سے ہی ہو گیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ مئی ۲۰۰۸ء

تعلیمی نظام کی سیکولرائزیشن کا ایجنڈا

۱۵ اپریل کو اسلام آباد میں ایک دوست کے ہاں شام کے کھانے پر کچھ احباب سے ملاقات ہوئی جن میں ایک دوست نے، جو پاک سیکرٹیریٹ میں اہم عہدے پر کام کرتے ہیں، توجہ دلائی کہ ریفرنڈم سے زیادہ اس کے بعد تیزی سے آگے بڑھائے جانے والے ایجنڈے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے جس کے لیے ہوم ورک مکمل ہو چکا ہے، ہدایات آ چکی ہیں اور گرین سگنل مل چکا ہے، اس لیے علمائے کرام اور دینی حلقوں کو اس کا سامنا کرنے کے لیے تیاری کرنی چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ اپریل ۲۰۰۲ء

آئی ایم ایف کی چھری اور سرکاری ملازمین کی گردن

صدر مملکت نے ایک آرڈیننس کے ذریعے سرکاری محکموں کے بالاتر افسران کو یہ اختیار دے دیا ہے کہ وہ جس سرکاری ملازم کو بدعنوان سمجھیں، جسے منصبی ذمہ داریوں میں کوتاہی کرنے والا قرار دیں اور جس کے بارے میں ان کی رائے قائم ہو جائے کہ محکمہ کو اس کی ضرورت نہیں رہی، وہ اسے ملازمت سے فارغ کر سکتے ہیں۔ اور اس برطرفی کے خلاف کسی کورٹ کے پاس داد رسی کے لیے جانے کا کوئی حق اب سرکاری ملازمین کے پاس اس آرڈیننس کی رو سے باقی نہیں رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ فروری ۲۰۰۱ء

پاکستانی اور اسرائیلی وزرائے خارجہ کی ملاقات

پاکستان کے وزیر خارجہ جناب خورشید محمود قصوری اور اسرائیل کے وزیر خارجہ سلوان شلوم کے درمیان گزشتہ دنوں استنبول میں ہونے والی ملاقات حسب توقع دنیا بھر میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے اور اس کے حق میں اور خلاف دلائل دیے جا رہے ہیں۔ دنیا کے کوئی بھی دو ملک آپس میں کسی بھی سطح پر رابطہ کر سکتے ہیں اور ان کے درمیان ملاقات و مذاکرات کا اہتمام ہو سکتا ہے، لیکن چونکہ پاکستان نے اب تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور اسرائیل کے بارے میں پاکستان عوام کے جذبات میں شدت و حساسیت پائی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۵ء

ریاست مدینہ کی منزل اور نئی حکومت سے عوام کی توقعات

۲۵ جولائی کے انتخابات میں منتخب ہونے والے قومی اسمبلی کے ارکان نے حلف اٹھا لیا ہے اور وزیر اعظم کے طور پر تحریک انصاف کے چیئرمین جناب عمران خان کو ملک کا نیا حکمران منتخب کر لیا گیا ہے، جو کرپشن سے پاک پاکستان اور ریاست مدینہ طرز کی رفاہی ریاست کے عزم و اعلان کے ساتھ اپنی حکومت کا آغاز کر رہے ہیں۔ انتخابات میں جو کچھ ہوا اور سیاسی پارٹیوں نے ایک دوسرے کے خلاف الزامات و اعتراضات کا جو بازار گرم گیا، پھر اپوزیشن کی کم و بیش سبھی پارٹیوں نے انتخابات میں دھاندلی کے حوالہ سے اپنے تحفظات و خدشات کا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۱۸ء

مارچ میں ’’سہ روزۂ ختم نبوت‘‘

’’عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ اور قادیانیت کے تعاقب کا سب سے بڑا محاذ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ’’مجلس احرار اسلام پاکستان‘‘ اور ’’انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ‘‘ پوری دل جمعی کے ساتھ اس محاذ پر مسلسل سرگرم عمل ہیں، جبکہ مختلف مذہبی مکاتبِ فکر کی متعدد دیگر جماعتیں بھی اپنا اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ عقیدۂ ختم نبوت اور ناموس رسالت ؐ کے تحفظ کی جدوجہد مسلمانوں کے تمام حلقوں اور طبقات کی مشترکہ محنت سے جاری ہے اور اس کے لیے جو بھی کسی دائرہ میں کام کر رہا ہے لائق تحسین ہے اور اس کے ساتھ تعاون کرنا ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۸ء

حمود الرحمن کمیشن رپورٹ اور جنرل مشرف سے دو سوال

”حمود الرحمن کمیشن“ کی رپورٹ کا ایک حصہ بالآخر حکومت نے شائع کر دیا ہے اور اس طرح ملک کے عوام کو کم و بیش تیس سال بعد وطن عزیز کے دولخت ہونے اور مشرقی پاکستان کی جگہ بنگلہ دیش کے قیام کے اسباب و عوامل کو براہ راست جاننے اور ان کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا ہے۔ یہ کمیشن سقوط ڈھاکہ اور مشرقی پاکستان کی ملک سے علیحدگی کے المناک سانحہ کے بعد اس کے اسباب و عوامل کی نشاندہی کے لیے سپریم کورٹ کے سربراہ جسٹس حمود الرحمن مرحوم کی سربراہی میں قائم کیا گیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ جنوری ۲۰۰۱ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter