مولانا عبد السلامؒ اور دیگر مرحومین

عید الفطر کے بعد بدھ اور جمعرات کے دو روز تعزیتوں میں گزرے۔ پاکستان شریعت کونسل اسلام آباد کے امیر اور جی الیون کی جامع مسجد صدیق اکبرؓ کے خطیب مولانا مفتی سیف الدین گلگتی گزشتہ دنوں تہرے صدمہ سے دوچار ہوئے، پہلے ان کی والدہ محترمہ کا انتقال ہوا، پھر کچھ دنوں کے بعد ان کے بہنوئی فوت ہوئے اور ۲۴ رمضان المبارک کو مفتی صاحب کے والد گرامی حاجی محمد نذیر صاحب انتقال کر گئے۔ میں بدھ کو اسلام آباد پہنچا، مفتی صاحب ابھی گلگت سے واپس نہیں آئے تھے، ٹیلی فون پر ان سے تعزیت کی اور مرحومین کے لیے دعائے مغفرت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ اگست ۲۰۱۲ء

جامعہ دارالعلوم کراچی پر چھاپہ

جامعہ دارالعلوم کراچی پر رینجرز اور پولیس کے چھاپے، محاصرے اور تلاشی کی خبر سن کر یوں محسوس ہوا کہ جیسے کوئی بھیانک خواب دیکھ رہا ہوں۔ مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں جمعۃ المبارک کے خطاب کے لیے منبر کی طرف بڑھ رہا تھا کہ چلتے چلتے ایک دوست نے خبر دی کہ دارالعلوم کراچی اس وقت رینجرز کے محاصرہ میں ہے اور کچھ پتا نہیں چل رہا کہ اندر کیا ہو رہا ہے۔ ذہن اچانک سناٹے کی زد میں آگیا اور جذبات کے سمندر میں تلاطم انگڑائیاں لینے لگا مگر کچھ معلوم نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ اگست ۲۰۱۲ء

برما کا مسئلہ عالمی سطح پر اٹھایا جائے!

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ’’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘‘ نے بھی اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ میانمار (برما) کے صوبہ اراکان میں مسلمانوں پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے، ہنگامی حالت کے باوجود بودھ راہبوں کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں پر تشدد کے واقعات رونما ہو رہے ہیں اور اس کی ذمہ داری ملکی سکیورٹی فورسز پر عائد ہوتی ہے۔ رواں سال مئی کے آخر میں شروع ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات میں درجنوں افراد ہلاک اور ہزاروں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے میانمار کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روہنگیا برادری کو اپنے ملک کا شہری تسلیم کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اگست ۲۰۱۲ء

علماء کرام کی شہادت، استعمار کی سازش!

گزشتہ دو روز سے مولانا محمد اسلم شیخوپوری کی المناک شہادتؒ پر تعزیتی پروگراموں کا سلسلہ جاری ہے۔ جامعہ نصرۃ العلوم میں طلبہ کے اجتماع میں راقم الحروف نے مولانا شہیدؒ کی دینی و تعلیمی خدمات کا مختصر تذکرہ کیا، انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا، ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی ہوئی اور ان کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔ ۱۵ مئی کو دارالعلوم گجرات میں جمعیۃ علماء اہل السنۃ کے زیر اہتمام ایک تعزیتی نشست ہوئی جس میں علماء کرام کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ مئی ۲۰۱۲ء

جناب ایس ایم ظفر کی قانونی موشگافی

ایس ایم ظفر ملک کے نامور قانون دان ہیں، وفاقی وزیر قانون رہے ہیں، ممتاز ماہرین دستور و قانون میں ان کا شمار ہوتا ہے اور دستوری و قانونی معاملات میں ان کی رائے کو وقعت اور اہمیت دی جاتی ہے۔ پاکستان قومی اتحاد میں ان کے ساتھ میری رفاقت رہی ہے اور آئی جے آئی (اسلامی جمہوری اتحاد) کی دستوری کمیٹی اور منشور میں مجھے ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ہے۔ سنجیدہ اور باوقار شخصیت ہیں اور جچی تلی بات کرنے کے عادی ہیں مگر گزشتہ روز ایک دوست نے ان کے ایک حالیہ بیان کی طرف توجہ دلائی تو تعجب سا ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ اگست ۲۰۱۲ء

فتنوں سے آگاہی کا میدان اور علماء حق

گزشتہ دنوں چنیوٹ کے دورے کے موقع پر استاذ محترم حضرت مولانا محمد نافع دامت برکاتہم کی زیارت و مجلس نصیب ہوگئی۔ چند سال قبل مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ کے ہمراہ حضرت شیخ مدظلہ کی خدمت میں حاضری ہوئی تھی، اس موقع پر بخاری شریف کی ایک روایت کی قراءت کے بعد انہوں نے اپنی سند کے ساتھ روایت حدیث کی اجازت دی تھی اور ان سے شرفِ تلمذ حاصل ہوگیا تھا۔ اس کے بعد متعدد بار ان کے پاس حاضر ہو کر دعائیں اور شفقتیں سمیٹ چکا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جولائی ۲۰۱۲ء

تین خوشیاں اور ایک تمنا!

آج میں خوش ہوں اور اس خوشی میں اپنے قارئین کو بھی شریک کرنا چاہتا ہوں۔ آج کے اخبارات اس وقت میرے سامنے ہیں اور میری نظریں تین خبروں کا مسلسل طواف کر رہی ہیں۔ ایک خبر بہاولپور میں جمعیۃ علماء اسلام کے عظیم الشان جلسہ عام سے مولانا فضل الرحمان کے خطاب کی ہے، دوسری خبر کوئٹہ میں دفاع پاکستان کونسل کی طرف سے منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کے بارے میں مولانا سمیع الحق کی پریس کانفرنس کے حوالے سے ہے، اور تیسری خبر ایوان اقبال لاہور میں انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کی پچاسویں سالانہ فتح مباہلہ کانفرنس کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ فروری ۲۰۱۲ء

اسٹریٹ پاور ۔ موجودہ دور کا مؤثر ہتھیار

دفاع پاکستان کونسل کے بارے میں امریکی بیانات پر سینٹ آف پاکستان میں اپوزیشن لیڈر مولانا عبد الغفور حیدری کا ردعمل خوش آئند ہے اور اس بات کی علامت ہے کہ الگ الگ عوامی جلسے کرنے کے باوجود جمعیۃ علماء اسلام کے دونوں دھڑوں کی قیادتیں امریکہ کی مسلسل مداخلت اور جارحیت کے خلاف موقف اور پالیسی کے حوالے سے پوری طرح متفق ہیں جو بہرحال باعث اطمینان ہے۔ مولانا حیدری کا یہ حوصلہ افزا بیان آج ہی اخبارات میں نظر سے گزرا ہے کہ وہ دفاع پاکستان کونسل کے بارے میں امریکی بیان کی مذمت کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ فروری ۲۰۱۲ء

’’مکاتیب رئیس الاحرار‘‘

رئیس الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمان لدھیانویؒ کی اپنے معاصرین کے ساتھ خط و کتابت کا مجموعہ ’’مکاتیب رئیس الاحرار‘‘ آج کل میرے مطالعہ میں ہے۔ یہ خط و کتابت ان کے پوتے مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی آف فیصل آباد نے خاصی تگ و دو کے بعد جمع کی ہے اور اسے کتابی شکل میں شائع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے انہوں نے اس کا مسودہ مجھے بھجوایا جو میں نے کراچی کے سفر میں ساتھ رکھ لیا۔ آج جامعہ اسلامیہ کلفٹن میں بیٹھا یہ سطور قلمبند کر رہا ہوں اور رئیس الاحرار کے زریں خیالات سے فیضیاب ہو رہا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ مئی ۲۰۱۲ء

پاکستان میں نفاذ اسلام کے لیے جمعیۃ علماء اسلام کی جدوجہد

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان ۲۷ جنوری جمعۃ المبارک کو کراچی میں اور ۲۹ جنوری اتوار کو گوجرانوالہ میں عوامی جلسوں کا اہتمام کر رہی ہے۔ کراچی کا جلسہ ’’اسلام زندہ باد کانفرنس‘‘ کے عنوان سے اور گوجرانوالہ کا جلسہ ’’تحفظ اسلام و پاکستان کانفرنس‘‘ کے عنوان سے منعقد ہو رہا ہے۔ یہ جلسے جمعیۃ علماء اسلام کی اس ’’رابطۂ عوام مہم‘‘ کا حصہ ہیں جو دوسری سیاسی پارٹیوں کی طرح اگلے الیکشن سے قبل عوامی بیداری اور اپنے کارکنوں کو الرٹ کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ جنوری ۲۰۱۲ء

دینی مدارس میں تربیتی کورسز کا خوش آئند رجحان

ربع صدی کے بعد شعبان العظم کے دو ہفتے اپنے ملک میں گزارنے کا موقع ملا ہے ورنہ ان دنوں عام طور پر برطانیہ یا امریکہ میں ہوتا ہوں۔ مگر برطانیہ گزشتہ تین سال سے ویزا دینے سے انکاری ہے اور امریکہ کا ملٹی پل ویزا بھی ختم ہو چکا ہے۔ برطانیہ کے ویزا آفس کے حکام کو شبہ ہے کہ میں کہیں برطانیہ میں رہ نہ جاؤں، جبکہ میں سمجھ نہیں پا رہا کہ کم و بیش پچیس بار جا کر واپس آجانے کے باوجود اگر میں انہیں وہاں رہ نہ جانے کی تسلی نہیں کرا سکا تو اور کون سی صورت ممکن ہے کہ میں انہیں اطمینان دلا سکوں؟ بہرحال ’’رموز مملکت خویش خسروان دانند‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ جولائی ۲۰۱۲ء

پاکستان اور مسلم دنیا میں نفاذ شریعت کی صورتحال ۔ پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس

اجلاس میں ان خبروں پر غور کیا گیا کہ (۱) مصر کے حالیہ انتخابات میں اکثریت کے ساتھ کامیاب ہونے والی دینی جماعتوں کو غیر مؤثر بنانے کے لیے سپریم کورٹ کی طرف سے انتخابات کو کالعدم قرار دے دیا گیا ہے (۲) اور کویت میں منتخب پارلیمنٹ نے قرآن و حدیث کو ملک کا سپریم لاء قرار دینے کا جو بل منظور کیا ہے اسے امیر کویت نے مسترد کر دیا ہے۔ مولانا قاضی محمد رویس خان ایوبی اور راقم الحروف نے اس پر تفصیلی اظہار خیال کیا اور اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ مسلم ممالک کے حکمرانوں کا عمومی طرز عمل یہی ہے کہ وہ نفاذ اسلام کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ جون ۲۰۱۲ء

قادیانیت کے حوالے سے کام کے مختلف دائرے

۲۷ مارچ کو مجھے عصر کے بعد جوہر ٹاؤن لاہور میں ملی مجلس شرعی کے ایک اہم اجلاس میں شریک ہونا تھا، مولانا قاری جمیل الرحمان اختر سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ ظہر کے بعد انارکلی میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی ۲۱ اپریل کو شالامار چوک لاہور میں منعقد ہونے والی ختم نبوت کانفرنس کی تیاریوں کے سلسلہ میں ایک اجلاس ہو رہا ہے، وہیں آجائیں وہاں سے اکٹھے چلے جائیں گے۔ اس طرح میں نے ظہر کے بعد انارکلی میں حضرت مولانا محمد ابراہیم مرحوم کی مسجد میں منعقدہ مذکورہ اجلاس میں شرکت کی سعادت حاصل کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ مارچ ۲۰۱۲ء

جامعہ شاہ ولی اللہ ۔ خواب سے تعبیر تک!

روزنامہ اسلام میں جامعۃ الرشید کراچی کے سالانہ اجتماع کی تفصیلات نظر سے گزریں تو اس محفل سے بالکل غیر حاضر رہنے کو جی نہ چاہا۔ مولانا مفتی محمد نے مجھے بھی اس اجتماع میں حاضری کی دعوت دی تھی اور میں نے وعدہ کر لیا تھا لیکن حاضری کی ترتیب طے کرتے وقت جب ڈائری پر نظر ڈالی تو معلوم ہوا کہ اسی دن اسی وقت مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ اور مدرسہ انوار العلوم کی مجلس منتظمہ کا اجلاس طے ہو چکا ہے جو مجھ سے پوچھ کر رکھا گیا ہے اور اس میں مدرسہ کے مہتمم کے طور پر حضرت مولانا قاضی حمید اللہ خانؒ کے جانشین کے انتخاب کا مسئلہ بھی ایجنڈے میں شامل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ جون ۲۰۱۲ء

اربابِ علم و تحقیق کی خدمت میں چند سوالات

کراچی میں چار روز گزارنے کے بعد جمعرات کی شب گوجرانوالہ واپسی ہوگئی ہے، اس سفر میں میرے سوشل میڈیا کے ایڈمن اور عزیز نواسہ حافظ محمد خزیمہ خان سواتی بھی ہمراہ تھے، اس دوران بیشتر مصروفیات کی جولانگاہ تعلیمی ادارے رہے اور اساتذہ و طلبہ کے ساتھ مختلف امور پر تبادلۂ خیالات کا موقع ملا، فالحمد للہ علٰی ذٰلک۔ جامعہ انوار القرآن نارتھ کراچی میں ’’ریاست مدینہ اور عصر حاضر‘‘ کے موضوع پر مسلسل تین روز تک گفتگو ہوئی۔ چھ نشستوں میں مجموعی طور پر ساڑھے سات گھنٹے بات ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ اکتوبر ۲۰۱۸ء

اسلامی نظام معیشت اور بیت المال کا تصور

۱۲ مارچ کو تھوڑی دیر کے لیے ضلع اٹک کے گاؤں موزا جانے کا اتفاق ہوا اور ’’قرآن اور صاحبِ قرآن‘‘ کے عنوان سے ایک کانفرنس میں حاضری ہوئی جو مولانا قاری عطاء الرحمانؒ کے قائم کردہ مدرسہ کے سالانہ اجتماع کے طور پر منعقد ہوئی۔ مولانا قاری عطاء الرحمانؒ میرے طالب علمی کے دور کے ساتھی اور ہم سبق تھے، گزشتہ ماہ ان کا انتقال ہوگیا ہے ، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اب ان کی جگہ ان کے بھائی اور بیٹے اس دینی و تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مولانا قاری عطاء الرحمان جمعیۃ علماء اسلام ضلع اٹک کے امیر کی حیثیت سے بھی متحرک رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ مارچ ۲۰۱۲ء

قرآن کریم کی حرمت کے تقاضے

آج کا روزنامہ اسلام میرے سامنے ہے اور قرآن کریم کے حوالہ سے دو اہم خبریں توجہ کو اپنی طرف مبذول کرا رہی ہیں۔ ایک خبر یہ ہے کہ سینٹ آف پاکستان نے افغانستان میں قرآن کریم کی توہین کے مرتکب امریکی فوجیوں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ قائدین ایوان نیر حسین بخاری کی پیش کردہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایوان بالا اس واقعہ کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے، یہ انتہائی مکروہ فعل تھا جو کہ نیٹو افواج کے سپاہیوں نے کیا ہے، اس واقعہ سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں، امریکہ اور نیٹو ممالک اس واقعہ کی تحقیقات کرائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ مارچ ۲۰۱۲ء

گلگت بلتستان میں کشیدگی کا گہرا جائزہ لینے کی ضرورت

شمالی علاقہ جات میں خونریز کارروائیوں کا نیا سلسلہ جہاں انتہائی افسوسناک ہے وہاں مستقبل کے خطرات و خدشات کے لیے الارم کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔ اور یہ اندازہ کرنا اب مشکل نہیں رہا کہ اس خطہ کو کن مقاصد کے لیے اس قسم کی کارروائیوں کے ذریعے تیار کیا جا رہا ہے اور اس علاقہ کے مستقبل کی نئی نقشہ گری کا تانا بانا بننے والے عناصر شمالی علاقہ جات میں کہاں کہاں اور کون کون سا رنگ بھرنے کے خواہشمند ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ اپریل ۲۰۱۲ء

علماء کرام اور دیگر طبقات کے درمیان ربط و تعاون کی ضرورت

گزشتہ جمعرات (۲ فروری) کو ایک روز کے لیے ڈیرہ غازی خان جانے کا اتفاق ہوا، نوجوان علماء کرام کی ایک تنظیم کے زیراہتمام سیرت کانفرنس سے خطاب کے علاوہ مدرسہ امداد العلوم شادن لنڈ کی ایک نشست میں حاضری ہوئی اور راجن پور میں حضرت مولانا سیف الرحمان درخواستی کے مدرسہ جامعہ شیخ درخواستی کے سالانہ جلسہ دستار بندی میں شرکت کی سعادت بھی میسر آئی جس میں اس سال قرآن کریم حفظ مکمل کرنے والے بائیس طلبہ کی دستار بندی کی گئی۔ مگر اس سفر میں میرے لیے زیادہ دلچسپی کا باعث ڈیرہ غازی خان کے ایک ہوٹل میں منعقد ہونے والی وہ تقریب تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ فروری ۲۰۱۲ء

اسلامی خلافت ۔ دلیل و قانون کی حکمرانی

تا ۴ جنوری کو جامعہ اسلامیہ کلفٹن کراچی کی مجلس صوت الاسلام کے زیر اہتمام فضلائے درس نظامی کے ایک تربیتی کورس میں مسلسل تین روز تک ’’خلافت‘‘ کے عنوان پر گفتگو کا موقع ملا۔ یہ کورس ایک تعلیمی سال کے دورانیے پر مشتمل ہوتا ہے اور کئی سالوں سے جاری ہے، مختلف اصحاب فکر و دانش اپنے اپنے پسندیدہ موضوعات پر اس میں گفتگو کرتے ہیں، مجھے بھی ہر سال دو تین روز کے لیے حاضری کی سعادت حاصل ہوتی ہے اور منتظمین کے ساتھ ساتھ فضلائے درس نظامی کا ذوق اور طلب دیکھ کر خوشی ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ جنوری تا یکم فروری ۲۰۱۲ء

امن ضروری ہے اور امن کے لیے انصاف ضروری ہے

ظہیر الدین بابر ایڈووکیٹ ہمارے پرانے ساتھیوں میں سے ہیں، گوجرانوالہ سے تعلق ہے، جمعیۃ طلباء اسلام میں سالہاسال تک متحرک رہے ہیں، اب جمعیۃ علماء اسلام (س) میں مولانا سمیع الحق کے ہراول دستہ کے سرخیل ہیں، جبکہ جمعیۃ طلباء اسلام (س) کا محاذ ان کے فرزند حافظ غازی الدین بابر نے سنبھال رکھا ہے۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے قریبی ساتھی ماسٹر اللہ دین کی نواسی ان کی اہلیہ محترمہ ہیں اور اس خاندان کے ساتھ ہمارے خاندانی مراسم کی تاریخ بحمد اللہ تعالٰی تین نسلوں سے چلی آرہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اپریل ۲۰۱۲ء

نفاذ شریعت کی جدوجہد ۔ حضرت مولانا سلیم اللہ خان کا مکتوب گرامی

شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان دامت برکاتہم ہمارے محترم بزرگ اور اکابر علماء کرام میں سے ہیں اور اہل علم کے لیے مرجع کی حیثیت رکھتے ہیں، ان کے معاصرین اکثر اس دنیا سے کوچ کر چکے ہیں اور ان کی یادگار کے طور پر حضرت شیخ مدظلہ کا وجود ہم سب کے لیے باعث برکت اور غنیمت ہے، اللہ تعالٰی انہیں صحت و عافیت کے ساتھ تادیر سلامت رکھیں، آمین یا رب العالمین۔ گزشتہ دنوں ملک کے اکابر علماء کرام کی خدمت میں راقم الحروف نے ’’ملی مجلس شرعی‘‘ کی ۲۴ ستمبر ۲۰۱۱ء کو لاہور میں منعقد ہونے والی ’’اتحاد امت کانفرنس‘‘ کی رپورٹ ارسال کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ فروری ۲۰۱۲ء

نفاذ شریعت کے لیے حقیقی جدوجہد کی ضرورت ۔ پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس

پاکستان شریعت کونسل کی مجلس مشاورت کا ایک اہم اجلاس ۹ فروری کو مدرسہ امینیہ فاروقیہ امین ٹاؤن فیصل آباد میں مرکزی امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی کی زیر صدارت ہوا جس میں مولانا عبد الرشید انصاری (فیصل آباد)، مولانا عبد الحق خان بشیر (گجرات)، مولانا قاری جمیل الرحمان اختر (لاہور)، مولانا قاری عبید اللہ عامر (گوجرانوالہ)، مولانا محمد رمضان علوی (اسلام آباد)، مولانا سیف اللہ خالد (چنیوٹ)، مفتی سیف الدین گلگتی (اسلام آباد)، قاری محمد طیب مدنی (فیصل آباد)، مولانا محمد صابر سرہندی (فیصل آباد)، مولانا محمد فاروق (کھرڑیانوالہ)، مولانا عبد القیوم حقانی (نوشہرہ) ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ فروری ۲۰۱۲ء

سہ ماہی تعطیلات کا آغاز

اسباق کے دوران میں نے خود پر ایسا سفر ممنوع قرار دے رکھا ہے جس کے لیے جامعہ نصرۃ العلوم میں سبق کی چھٹی کرنا پڑے اس لیے دور دراز کے دوستوں کے تقاضوں کا سارا بوجھ تعطیلات پر آجاتا ہے اور میری چھٹیاں عام طور پر سفر میں گزرتی ہیں۔ سہ ماہی امتحان اور تعطیلات کا دورانیہ ایک ہفتہ کا ہوتا ہے جبکہ دو روز قبل طلبہ کو امتحان کی تیاری کے لیے وقت دینے کا بہانہ بھی کام دے جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ اکتوبر ۲۰۱۸ء

تہذیبی چیلنج اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داریاں

گوجرانوالہ کے بہت سے علماء کرام کا یہ معمول سالہا سال سے چلا آرہا ہے کہ وہ سال میں تبلیغی جماعت کے ساتھ ایک اجتماعی سہ روزہ لگاتے ہیں اور دو تین روز دعوت و تبلیغ کے ماحول میں گزارتے ہیں، اس سہ روزہ میں مجھے بھی ان کے ساتھ شامل ہونے کا موقع مل جاتا ہے۔ اس سال تیس کے لگ بھگ علماء کرام کے اس سہ روزہ کی تشکیل دارالعلوم الشہابیہ سیالکوٹ میں ہوئی اور تین دن ہم تبلیغی جماعت کے ساتھ اعمال میں شریک رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۸ء

گولیکی ضلع گجرات میں ’’شہدائے ختم نبوت کانفرنس‘‘

گولیکی ایک پرانا گاؤں ہے جہاں کی ایک قدیمی جامع مسجد مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان وجہ تنازع بنی ہوئی ہے جس میں ماسٹر سرفراز احمد شہید کے دو چچا زاد بھائی اس سے قبل شہید ہو چکے ہیں، ایک قادیانی کا قتل بھی اس تنازعے کا حصہ ہے اور ایک مسلمان فرحان قیوم نے بھی جام شہادت نوش کیا ہے۔ گولیکی میں کم و بیش ساڑھے تین سو سال سے چلی آنے والی یہ مسجد شروع سے مسلمانوں کی عبادت گاہ رہی ہے لیکن ۱۹۲۲ء میں اس مسجد کا امام ’’امام دین‘‘ قادیانی ہوگیا اور مسجد میں قادیانیوں کا عمل دخل شروع ہوگیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ جنوری ۲۰۱۲ء

نفاذِ اسلام کے لیے مسلح جدوجہد کی متبادل حکمت عملی!

تحریک تحفظ ناموس رسالت کے گزشتہ راؤنڈ کی بات ہے جب آسیہ مسیح کیس کے سلسلہ میں گورنر پنجاب قتل ہوگئے تھے اور ریمنڈ ڈیوس کی پاکستان دشمن سرگرمیوں پر پورا ملک سراپا احتجاج تھا، منصورہ لاہور میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی جس میں تمام مکاتب فکر کے اکابر علماء کرام اور دینی جماعتوں کے سرکردہ راہنما شریک ہوئے۔ کانفرنس کے اختتام پر ملک کی ایک بڑی روحانی درگاہ (کوٹ مٹھن) کے سجادہ نشین محترم نے شرکاء س مکمل تحریر

۱۵ نومبر ۲۰۱۲ء

نسلِ انسانی کی ضروریات اور امام ابوحنیفہؒ کے افکار

اتحاد اہل سنت کے اسلام آباد کے سیمینار میں حضرت امام اعظمؒ کی سیاسی جدوجہد کے حوالے سے کچھ معروضات پیش کی تھیں، لاہور کے سیمینار میں امام صاحبؒ کی فقہی خدمات اور قانون سازی کے بارے میں عظیم جدوجہد پر کچھ عرض کیا تھا، جبکہ آج کے سیمینار میں ’’عقائد اہل سنت کی تعبیر اور وضاحت‘‘ کے بارے میں چند گزارشات کرنا چاہ رہا ہوں۔ حضرت امام ابوحنیفہؒ جس طرح فقہ و احکام میں ہمارے امام ہیں اسی طرح عقائد اور ان کی تعبیرات میں بھی انہیں امام کا درجہ حاصل ہے۔ انہوں نے اپنی علمی زندگی کا آغاز عقائد اہل سنت کی وضاحت اور مناظروں سے کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ جنوری ۲۰۱۲ء

امام اعظم کی تعلیمات اور عصرِ حاضر

دسمبر اتوار کو لوئر مال لاہور کے عامر ہوٹل میں ’’اتحاد اہل سنت‘‘ کے زیر انتظام ’’امام اعظم ابوحنیفہؒ سیمینار‘‘ منعقد ہوا جس کا اہتمام حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ آف کندیاں شریف کی یاد میں کیا گیا تھا۔ مولانا محمد الیاس گھمن سیمینار کے داعی و منتظم اور مولانا عبد الشکور حقانی اسٹیج سیکرٹری تھے۔ لاہور کے علماء کرام اور دینی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی جبکہ خطاب کرنے والوں میں حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود، مولانا حافظ فضل الرحیم، مولانا محب اللہ آف لورائی، مولانا محمد الیاس گھمن، الحاج سید سلیمان گیلانی اور دیگر سرکردہ حضرات شامل تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ دسمبر ۲۰۱۱ء

فکری مرعوبیت اور اس کا سدّباب

عام طور پر علم و فکر کی بات کی جاتی ہے، علم کا دائرہ اپنا ہے اور فکر کا دائرہ اس سے قدرے مختلف ہے۔ فکر کا ایک اہم دائرہ جو میں سمجھا ہوں، صحابیؓ رسول حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کا یہ ذوق ہے جس کا وہ خود ان الفاظ میں ذکر فرماتے ہیں کہ ’’کانوا یساَلونہ عن الخیر وکنت اَساَلہ عن الشر‘‘ اصحابِ رسول عام طور پر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کی بات پوچھا کرتے تھے جبکہ میں شر کے بارے میں دریافت کرتا رہتا تھا۔ خیر کے بارے میں علم اور معلومات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ شر کے بارے میں علم اور معلومات حاصل کرنا بھی ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم جنوری ۲۰۱۲ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter