مسئلہ ختم نبوت اور قومی وحدت کا منظر
پارلیمنٹ میں راجہ محمد ظفر الحق، مولانا فضل الرحمان، کیپٹن صفدر، شیخ رشید احمد، شاہ محمود قریشی، میر ظفر اللہ جمالی، چودھری پرویز الٰہی، سینیٹر سراج الحق، سینیٹر حافظ حمد اللہ اور مختلف جماعتوں کے دیگر سرکردہ حضرات کو ایک صف میں دیکھ کر 1974ء کا وہ منظر ایک بار پھر آنکھوں کے سامنے آگیا ہے جب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم، مولانا مفتی محمودؒ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ، پروفیسر غفور احمد مرحوم، چودھری ظہور الٰہی مرحوم، حاجی مولا بخش سومرو مرحوم، مولانا عبد الحقؒ، مولانا ظفر احمد انصاریؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا کوثر نیازیؒ، مولانا محمد ذاکرؒ اور دیگر قائدین نے متفقہ طور پر اس مسئلہ کو دستوری طور پر حل کر دیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلامی جمہوری اتحاد، جمعیۃ کا جماعتی اتحاد اور حلقہ ۹۶
عام انتخابات کا دن جوں جوں قریب آرہا ہے سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم میں شدت اور جوش و خروش پیدا ہو رہا ہے۔ ایک طرف پاکستان پیپلز پارٹی ہے جو اپنے نو سالہ سیاسی حلیفوں پر مشتمل ایم آر ڈی کا تیاپانچہ کر کے اکیلی میدانِ انتخاب میں ڈٹی ہوئی ہے اور دوسری طرف اسلامی جمہوری اتحاد ہے جو اسلامی قوانین کی بالادستی، جہادِ افغانستان کی مکمل حمایت اور ایٹمی قوت کے حصول کے عزم کے ساتھ انتخابی مہم میں پیپلز پارٹی کا سامنا کر رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پیپلز پارٹی اپنے اصل پر
پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت نے برسراقتدار آنے کے بعد گزشتہ چار ماہ سے بھی کم عرصہ کے دوران اپنی پالیسیوں کو جس رخ پر چلانے کی کوشش کی ہے اس سے اس کے عزائم کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ اور ان سیاسی عناصر کی خوش فہمیاں اب ہوا میں تحلیل ہو رہی ہیں جنہوں نے گزشتہ دس سالہ دور میں پی پی پی کی سیاسی رفاقت کا راستہ اس خیال سے اپنا لیا تھا کہ وہ اس پارٹی کو شاید اپنا مزاج اور فکر تبدیل کرنے پر آمادہ کر سکیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اے بادِ صبا ایں ہمہ آوردۂ تست
یادش بخیر مولانا فضل الرحمان نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اصل مسئلہ عورت کی سربراہی کا نہیں ہے بلکہ موجودہ جمہوری نظام ایک غلاظت ہے جس پر خودبخود مکھی آکر بیٹھے گی۔ اگر تم کہو کہ یہ مکھی غلاظت پر کیوں بیٹھتی ہے تو مکھی نے غلاظت پر بیٹھنا ہے چاہے وہ کسی شکل میں ہو۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عورت کی حکمرانی: علماء کے موقف پر اعتراضات کا تجزیہ
عورت کی حکمرانی کے بارے میں علماء کا موقف قرآن و سنت اور اجماع امت کی روشنی میں اس قدر واضح اور مبرہن ہو کر سامنے آچکا ہے کہ اب اس میں مزید کلام کی گنجائش نظر نہیں آتی۔ اور نہ ہی اہل علم و دانش اور اصحاب فہم و فراست کے لیے اس مسئلہ میں کسی قسم کا کوئی ابہام باقی رہ گیا ہے کہ قرآن و سنت کے صریح احکام اور امت مسلمہ کے چودہ سو سالہ تواتر عملی کی رو سے کسی مسلم ریاست میں خاتون کے حکمران بننے کا کوئی شرعی جواز نہیں ہے۔ البتہ اس موقف اور اس کے مطابق علماء کرام کی اجتماعی جدوجہد کے بارے میں مختلف شکوک و شبہات اور اعتراضات سامنے آرہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عورت کی حکمرانی اور مولانا فضل الرحمان کا موقف
عورت کی حکمرانی کے بارے میں تمام مکاتب فکر کے جمہور علماء ایک طرف ہیں کہ قرآن و سنت کے صریح احکام اور امت مسلمہ کے چودہ سو سالہ تواتر عملی کے باعث کسی مسلمان ملک پر عورت کے حکمران بننے کا شرعاً کوئی جواز نہیں ہے۔ جبکہ علماء کہلانے والے چند افراد دوسری طرف ہیں جو کسی منطق، استدلال اور جواز کے بغیر سرکاری ذرائع ابلاغ کے ذریعہ اس پراپیگنڈا میں مصروف ہیں کہ عورت کے حکمران بن جانے میں کوئی حرج نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
یورپی یونین کے مطالبات اور جمہوریہ ترکی
روزنامہ اسلام کے فارن ڈیسک کی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین نے ترکی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک میں رائج سزائے موت کا قانون ختم کرے اور اپنے تعلیمی نظام، ریڈیو اور ٹی وی کی نشریات میں ترکی زبان کا استعمال ترک کر دے اور اس کی بجائے انگریزی کو ذریعہ تعلیم، ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی نشریات کی زبان کے طور پر اختیار کرے۔ یورپی یونین کے اس مطالبہ پر ترکی میں سخت اضطراب پایا جاتا ہے اور ترکی کے نائب وزیراعظم اور نیشنل موومنٹ پارٹی کے سربراہ دولت باصلی نے یورپی یونین کے اس مطالبے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ہاشمی سلطنت کا قیام ۔ نئی امریکی سازش
لندن سے شائع ہونے والے ہفت روزہ نوائے وقت نے ۱۱ اکتوبر ۲۰۰۲ء کی اشاعت میں ایک رپورٹ کے ذریعے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ نے عراق پر متوقع حملہ کے بعد سرے سے عراق کی ریاست کو ختم کر کے اسے اردن میں ضمن کرنے کے پلان پر غور شروع کر دیا ہے اور اس سلسلہ میں امریکی ماہرین منصوبے کو آخری شکل دینے میں مصروف ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مجوزہ پلان یہ ہے کہ عراق اور اردن کو ملا کر ایک علیحدہ سلطنت تشکیل دی جائے گی جس پر اردن کے شاہ عبد اللہ کی قیادت میں ہاشمی خاندان حکومت کرے گا اور اس نئے مجوزہ ملک کا دارالحکومت عمان ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا محمد اعظم طارق کی نظر بندی
انسدادِ دہشت گردی کی عدالت سے مولانا محمد اعظم طارق کی ضمانت منظور ہوجانے کے باوجود انہیں حکومت پنجاب نے مزید تین ماہ کے لیے نظربندی کے عنوان سے زیرحراست رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ این این آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق مولانا محمد اعظم طارق کو حکومتی حلقوں کی طرف سے یہ پیشکش کی گئی ہے کہ اگر وہ جلاوطنی قبول کر لیں تو انہیں رہا کیا جا سکتا ہے ورنہ حکومت اس بات پر مجبور ہے کہ انہیں مسلسل زیرحراست رکھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مولانا موصوف نے یہ پیشکش قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا محمد اعظم طارق کی بھوک ہڑتال
عربی ادب کی کتابوں میں کہاوت بیان کی جاتی ہے کہ ایک لڑکا نہر میں ڈبکیاں کھا رہا تھا اور مدد کے لیے چیخ و پکار کر رہا تھا کہ کوئی اسے آکر ڈوبنے سے بچا لے۔ ایک شخص نے نہر کے کنارے سے گزرتے ہوئے اسے دیکھا اور وہیں کھڑے ہو کر اسے ملامت کرنے لگا کہ اگر تجھے تیرنا نہیں آتا تھا تو نہر میں چھلانگ کیوں لگائی تھی؟ یہ بے وقوفی تم نے کیوں کی؟ نہر میں اترتے ہوئے تم نے کیوں نہ سوچا کہ یہ کتنی گہری ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ربوہ کا نیا نام: صدیق آباد، نواں قادیان یا چناب نگر؟
گزشتہ روز فلیٹیز لاہور میں انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کی طرف سے ربوہ کا نام تبدیل ہونے کی خوشی میں پنجاب اسمبلی کی قرارداد کے محرک مولانا منظور احمد چنیوٹی اور صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر جناب حسن اختر موکل کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی جس میں مختلف دینی جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں نے شرکت کی اور ربوہ کا نام تبدیل کرنے کی قرارداد منظور کرنے پر پنجاب اسمبلی کے ارکان، حکومت، اپوزیشن اور محرک کو خراج تحسین پیش کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
یہودی لابی کا اسلام
لاہور کے روزنامہ ’’آوازِ خلق‘‘ نے ۱۴ اپریل ۱۹۸۹ء کی اشاعت میں مغربی جرمنی کے ایک جریدہ کے لیے پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو کے تفصیلی انٹرویو کا ترجمہ شائع کیا ہے جس میں انہوں نے اپنی پالیسیوں کا دوٹوک انداز میں اظہار کیا ہے۔ اس انٹرویو کے مطابق محترمہ بے نظیر بھٹو نے چور کا ہاتھ کاٹنے اور کوڑے مارنے کی سزاؤں کے بارے میں کہا ہے کہ ظالمانہ اور وحشیانہ قوانین کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مدرسہ تعلیمی بورڈ کا قیام اور مدارس کی رجسٹریشن کا حکومتی فیصلہ
دینی مدارس کے تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے پانچوں وفاقوں نے ان حکومتی اقدامات کو مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے جن کی منظوری وفاقی کابینہ نے دی ہے اور جن کے تحت دینی مدارس کو چھ ماہ کے اندر رجسٹریشن کا پابند کرتے ہوئے سرکاری سطح پر ’’مدرسہ تعلیمی بورڈ‘‘ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ رجسٹریشن نہ کرانے والے مدارس کو بند کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے دینی مدارس کو بیرون ملک سے ملنے والی امداد کو مدرسہ تعلیمی بورڈ کی کلیئرنس کے ساتھ مشروط کر دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
لندن بم دھماکے۔ انجام کیا ہوگا؟
اِدھر اسامہ بن لادن کی تلاش میں خفیہ ادارے منگلا ڈیم کے کنارے جا پہنچے ہیں اور اُدھر لندن میں خوفناک بم دھماکوں نے چار درجن سے زائد انسانوں کی جانیں لے کر مغرب کو خوف و ہراس کی ایک نئی فضا سے دوچار کر دیا ہے۔ میرپور آزادکشمیر میں منگلا ڈیم کے کنارے سیاکھ نامی بستی میں خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے گزشتہ ہفتے علی الصبح ایک دینی مدرسہ کو اچانک آپریشن کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں فراہم کی گئی معلومات کے مطابق سیاکھ کے دینی مدرسہ جامعہ ابراہیمیہ میں اسامہ بن لادن چھپے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
لندن بم دھماکے اور مشرق وسطیٰ میں نوے سالہ برطانوی تاریخ
برطانیہ میں خودکش بم دھماکوں کے ردعمل کا سلسلہ جاری ہے اور تازہ ترین خبروں کے مطابق دوسری جنگ عظیم کے بعد لندن کی تاریخ کا سب سے بڑا کریک ڈاؤن اور آپریشن شروع ہو چکا ہے جس میں چھ ہزار کے قریب سپاہی حصہ لے رہے ہیں۔ یہ آپریشن دہشت گردوں کی تلاش، ان کے نیٹ ورک کا سراغ لگانے اور مستقبل میں دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے کیا جا رہا ہے جو حفاظتی نقطۂ نظر سے انتہائی ضروری سمجھا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
انسانی حقوق کا چارٹر اور مسلمانوں کے تحفظات
دو ہفتے قبل جب میں لندن پہنچا تو مولانا مفتی عبد المنتقم سلہٹی سے بنگلہ دیش میں دینی حلقوں کی اس احتجاجی مہم کے بارے میں معلومات حاصل ہوئیں جو عبوری حکومت کی طرف سے منظور کیے جانے والے ایک مسودہ قانون کے خلاف جاری ہے اور ایمرجنسی کے باوجود ہزاروں لوگ علماء کرام کی قیادت میں احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔ یہ مسودہ قانون عبوری حکومت نے ملک میں نفاذ کے لیے منظور کیا ہے لیکن ابھی نافذ نہیں ہوا، اس میں وراثت کے قانون میں ترمیم کر کے باپ کی وراثت میں لڑکی اور لڑکے کو برابر حصے کا حقدار قرار دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بلوچستان کا ’’تاریخی میزانیہ‘‘
گورنر بلوچستان جناب نواب محمد اکبر خان بگٹی اپنے تمام تر دعاوی کے باوجود صوبائی اسمبلی کا بجٹ اجلاس بلانے کی ہمت نہیں کر سکے اور گورنر کو براہ راست بجٹ کی منظوری کا اختیار دینے کے لیے صدر محترم کو عبوری آئین میں ترمیم کرنا پڑی۔ اس طرح نواب صاحب نے ’’خود کوزہ خود کوزہ گر و خود گلِ کوزہ‘‘ کے مصداق اسے ’’تاریخی میزانیہ‘‘ کا خطاب بھی مرحمت فرما دیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ میزانیہ یقیناً ’’تاریخی‘‘ ہے کہ صوبائی اسمبلی کی موجودگی میں اس کا اجلاس بلائے بغیر گورنر صاحب نے از خود بجٹ پیش کیا اور از خود اس کی منظوری بھی دے دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
متحدہ حزب اختلاف کا قیام اور افغان مجاہدین
قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے موقع پر جناب غلام مصطفیٰ جتوئی کی قیادت میں متحدہ حزب اختلاف کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے اور جناب جتوئی نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ متحدہ حزب اختلاف میں اسلامی جمہوری اتحاد میں شامل ارکان اسمبلی کے علاوہ نوابزادہ نصر اللہ خان، خان عبد الولی خان، مولانا عبد الستار خان نیازی، مولانا فضل الرحمان، جناب غلام مصطفیٰ کھر اور ان کی جماعتوں کے ارکان بھی شامل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
یاسر عرفات اور جہادِ افغانستان
فلسطین کی آزاد حکومت کے سربراہ جناب یاسر عرفات گزشتہ دنوں پاکستان تشریف لائے اور پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرنے کے علاوہ افغان مجاہدین کی آزاد عبوری حکومت کے راہنماؤں سے بھی ملے۔ قومی اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق ان کا یہ دورہ ان عالمی کوششوں کا ایک حصہ تھا جو افغان مجاہدین کو نجیب انتظامیہ کے ساتھ مفاہمت پر آمادہ کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
صدر مملکت غلام اسحاق خان سے معذرت کے ساتھ
اسلامی جمہوری اتحاد سے تعلق رکھنے والے سینٹروں کے ایک وفد نے گزشتہ روز صدرِ مملکت جناب غلام اسحاق خان سے ملاقات کی اور ان سے جہادِ افغانستان کے بارے میں حکومتی پالیسی میں تبدیلی، سندھ میں اسلحہ بھجوانے کے الزامات اور جنرل فضل حق کو قتل کے کیس میں ملوث کرنے کی مہم کے بارے میں اپنے موقف اور جذبات سے آگاہ کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’شریعت بل‘‘ اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ
روزنامہ جنگ لاہور ۱۹ جولائی کی اشاعت کے مطابق سینٹ کی خصوصی کمیٹی نے ’’شریعت بل‘‘ کے مسودہ کی منظوری دے دی ہے اور اب اسے چند روز میں سینٹ کے سامنے آخری منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ یہ شریعت بل قائد جمعیۃ مولانا سمیع الحق اور مولانا قاضی عبد اللطیف نے سینٹ میں پیش کیا تھا جس پر سینٹ کی قائم کردہ خصوصی کمیٹی نے غور کیا اور مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ راہنماؤں سے تبادلۂ خیالات کے بعد مناسب ترامیم کے ساتھ اس کے مسودہ کی منظوری دے دی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جمہوری ممالک کی ایسوسی ایشن اور بے نظیر بھٹو
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بیگم بے نظیر بھٹو نے اپنے دورۂ امریکہ کے موقع پر جمہوری ممالک کی ایسوسی ایشن قائم کرنے کی تجویز پیش کی تھی جس پر امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے حکومتی حلقوں کی طرف سے مثبت ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے اور مغربی پریس اس تجویز کو اس انداز سے اچھال رہا ہے جیسے یہ خود اس کے اپنے دل کی آواز ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا قاضی عبد اللطیف پر بغاوت کا مقدمہ؟
روزنامہ جنگ لاہور ۲۷ اگست کی ایک خبر کے مطابق وفاقی وزارت قانون جمعیۃ علماء اسلام صوبہ سرحد کے امیر مولانا قاضی عبد اللطیف کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کا جائزہ لے رہی ہے۔ خبر کے مطابق قاضی صاحب موصوف نے گزشتہ دنوں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فوج کو موجودہ صورتحال میں مداخلت کی دعوت دی تھی جس کا وفاقی حکومت نے سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
وفاق اور صوبوں کی کشمکش کا افسوسناک پہلو
وفاق اور صوبوں کے درمیان کشمکش جس انتہا کو چھو رہی ہے اس نے ملک کے ہر باشعور شہری کو اضطراب سے دوچار کر دیا ہے۔ اور نہ صرف ملک کا نظام اس کشمکش کے ہاتھوں تعطل کا شکار ہے بلکہ جمہوری عمل اور ملکی سالمیت کے لیے خطرات کا اظہار بھی اب سنجیدہ زبانوں سے ہو رہا ہے۔ اس افسوسناک کشمکش کا آغاز گزشتہ انتخابات کے بعد اس وقت ہوا جب پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت نے برسرِ اقتدار آتے ہی صوبوں میں برسرِ اقتدار آنے والی مخالف حکومتوں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کر دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ایم آر ڈی کے مذہبی رفقاء کے لیے لمحۂ فکریہ
روزنامہ جنگ لندن یکم اکتوبر کی ایک خبر کے مطابق پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بیگم بے نظیر بھٹو نے امریکی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اسلامی قوانین کی تبدیلی میں جلدی نہیں کریں گی کیونکہ اس سے دباؤ بڑھے گا۔ خبر کے مطابق پی پی حکومت کے وزیر قانون سید افتخار گیلانی نے بھی انٹرویو میں اپنے اس سابقہ موقف کا اعادہ کیا ہے کہ زنا کے جو قوانین پاکستان میں نافذ ہیں وہ غیر منصفانہ اور غیر منطقی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عقیدۂ ختم نبوت کے حلف نامہ میں ردوبدل کا معاملہ
الیکشن قوانین میں ترامیم کے سلسلہ میں پارلیمنٹ سے منظور کیے جانے والے بل میں درج عقیدۂ ختم نبوت کے حلف نامہ کی عبارت میں ردوبدل کے انکشاف پر ملک بھر میں گزشتہ دنوں خاصا اضطراب اور ہیجان پیدا ہوگیا تھا۔ اس پر قومی اسمبلی میں ایک نئی ترمیم کے ذریعے حلف نامہ کی سابقہ پوزیشن بحال کر دینے پر خوش اسلوبی کے ساتھ یہ معاملہ ختم ہوگیا ہے جبکہ پاک آرمی کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کے اس اعلان نے مزید اطمینان و اعتماد کا اضافہ کیا ہے کہ پاک فوج ناموس رسالتؐ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور ختم نبوت کی شق کے خاتمہ کو کوئی پاکستانی قبول نہیں کر سکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ
حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ (وفات: اپریل ۱۹۹۸ء) کو پہلی بار اس دور میں دیکھا جب میرا طالب علمی کا زمانہ تھا اور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں صرف ونحو کی کتابیں پڑھ رہا تھا۔ حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ اس قافلہ کے سرگرم رکن تھے جو جمعیۃ علماء اسلام کو منظم کرنے کے لیے قریہ قریہ، بستی بستی متحرک تھا۔ شمالی پنجاب میں جمعیۃ علماء اسلام کو ایک فعال اور متحرک جماعت بنانے میں مجاہد ملت حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ کو جن بے لوث اور ان تھک رفقاء کا تعاون حاصل تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عورت کی حکمرانی کی شرعی حیثیت
مرد اور عورت دونوں نسل انسانی کے ایسے ستون ہیں کہ جن میں سے ایک کو بھی اس کی جگہ سے سرکا دیا جائے تو انسانی معاشرہ کا ڈھانچہ قائم نہیں رہتا۔ اللہ رب العزت نے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کو اپنی قدرت خاص سے پیدا فرمایا اور ان دونوں کے ذریعے نسل انسانی کو دنیا میں بڑھا پھیلا کر مرد اور عورت کے درمیان ذمہ داریوں اور فرائض کی فطری تقسیم کر دی، دونوں کا دائرہ کار متعین کر دیا اور دونوں کے باہمی حقوق کو ایک توازن اور تناسب کے ساتھ طے فرما دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس کی آزمائش کا نیا دور ، ہم سب کے لیے لمحۂ فکریہ
5 اکتوبر کو لاہور میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ لاہور میں منعقدہ اجلاس میں استاذ العلماء حضرت مولانا سلیم اللہ خان نور اللہ مرقدہ کی جگہ وفاق کے نئے سربراہ کا انتخاب کرنے والی ہے اور اس موقع پر ملک بھر سے دینی مدارس کے سرکردہ حضرات جمع ہو رہے ہیں۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان دیوبندی علماء کرام اور دینی مدارس کی وحدت و مرکزیت، تعلیمی ترقی اور علمی وقار کی علامت ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنی شاندار روایات اور تسلسل کے مطابق ملک و قوم اور دین و مسلک کی خدمات جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حق مہر اور دوسری شادی
نکاح میں بیوی کے حق مہر کے بارے میں ان کالموں میں متعدد بار معروضات پیش کی جا چکی ہیں مگر اس سلسلہ میں ہمارے معاشرہ میں پھیلی ہوئی غلط فہمیاں اس قدر زیادہ ہیں کہ کوئی نہ کوئی لطیفہ سامنے آتا ہی رہتا ہے۔ اور بسا اوقات اچھے خاصے پڑھے لکھے دوست اس معاملہ میں اس قدر بے خبر نکلتے ہیں کہ بے ساختہ سر پیٹ لینے کو جی چاہتا ہے ۔۔۔ دوسری شادی کرنے والے کسی صاحب کو ہائیکورٹ کے ایک محترم جج نے حکم دیا ہے کہ چونکہ اس نے دوسری شادی پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر کی ہے اس لیے وہ پہلی بیوی کو اس کا پورا حق مہر ادا کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 104
- 105
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »