مسئلہ رؤیت ہلال پر دو تجاویز
رمضان المبارک نصف سے زیادہ گزر گیا ہے اور عید الفطر کی آمد آمد ہے۔ عید کے موقع پر رؤیت ہلال کا مسئلہ پھر حسب سابق زیر بحث آئے گا اور میڈیا حسب عادت اس سلسلہ میں اختلاف کی من مانی تشہیر کرے گا۔ اس حوالہ سے ہم اپنا موقف مختلف مواقع پر اس کالم میں تحریر کر چکے ہیں کہ مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی ایک باقاعدہ ریاستی ادارہ ہے، اسے مجاز اتھارٹی کے طور پر پاکستان میں سب جگہ تسلیم کیا جانا چاہیے اور اگر اس کے کسی فیصلے سے اختلاف ہو تو اسے اختلاف کے درجہ میں رکھتے ہوئے صحیح طریقہ سے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے مگر کوئی متوازی فیصلہ کرنے سے گریز کرنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا سید علی میاںؒ کی یاد میں ایک نشست
۲۵ فروری کو مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں الشریعہ اکادمی کی طرف سے مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کی یاد میں ایک تعزیتی ریفرنس کا اہتمام کیا گیا جس میں شہر کے سرکردہ علماء کرام اور اہل دانش نے شرکت کی۔ اسلامیہ کالج گوجرانوالہ کے ریٹائرڈ پرنسپل پروفیسر محمد عبد اللہ جمال نے نشست کی صدارت کی جبکہ گوجرانوالہ تعلیمی بورڈ کے شعبہ امتحانات کے نگران پروفیسر غلام رسول عدیم مہمان خصوصی تھے، انہوں نے تفصیل کے ساتھ ندوۃ العلماء لکھنو کی ملی خدمات اور مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’دی لیڈر‘‘ اور قومی نصاب کمیٹی
جہاں تک نظم کو نصاب سے خارج کرنے کا تعلق ہے یہ خوش آئند بات ہے کہ وزارت تعلیم نے ملک کے کروڑوں عوام اور ارباب علم و دانش کے جذبات کا احترام کیا ہے اور اس کا بروقت نوٹس لیا ہے۔ لیکن اس سلسلے میں جو عذر پیش کیا گیا ہے وہ محل نظر ہے اور اس نے ایک اور نازک سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا ہمارے ہاں قومی نصاب سازی کا معیار یہی ہے کہ کسی صاحب کو انٹرنیٹ سے اپنے ذوق کی کوئی نظم مل گئی اور اس نے اسے اٹھا کر نصاب میں شامل کر دیا؟ ظاہر ہے کہ یہ کتاب ’’قومی نصاب کمیٹی‘‘ میں منظوری کے مراحل سے گزری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قرآن کریم اور نبی کریمؐ سے مسلمانوں کی عقیدت
سعودی عرب کا رسم الخط اور انداز تحریر جنوبی ایشیا سے مختلف ہے۔ قرآن کریم کے متن میں تو کسی جگہ کوئی فرق نہیں اور نہ ہو سکتا ہے لیکن بعض سورتوں کے ناموں اور بعض الفاظ کے طرز تحریر میں فرق ہے جس سے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کو سعودی عرب کی طرز پر طبع شدہ قرآن کریم کی تلاوت میں دقت پیش آتی ہے۔ چنانچہ حرمین شریفین یعنی مسجد حرام اور مسجد نبویؐ میں بھی اس فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے عام لوگوں کو تلاوت کے لیے دونوں طرز کے نسخے الگ الگ فراہم کیے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ڈنمارک میں توہین آمیز کارٹونوں کی اشاعت اور مسلمانوں کا ردِ عمل
مغرب یہ سمجھتا ہے کہ قرآن کریم اور جناب رسول اکرمؐ کی ذات گرامی کے ساتھ ایک عام مسلمان کی اس درجہ محبت و عقیدت اور کمٹمنٹ کی موجودگی میں مسلمان سوسائٹی کو قرآن و سنت کی تعلیمات سے لاتعلق نہیں کیا جا سکتا اور مسلمانوں کو اسلام کی بنیادی تعلیمات و احکام کی عملداری سے دستبردار کرانے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ عالمی سطح پر مسلمانوں کو مذہبی رواداری، برداشت اور تحمل کے خوبصورت عنوانوں کے ساتھ جو سبق پڑھایا جا رہا ہے اس کا ایک پس منظر یہ بھی ہے کہ قرآن کریم اور آنحضرتؐ کے ساتھ عام مسلمان کی اس درجہ کی بے لچک کمٹمنٹ کو کمزور کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مشرق وسطیٰ میں ’’ٹرمپائزیشن‘‘ کے دور کا آغاز
یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس نئی منصوبہ بندی کا ہوم ورک کسی حد تک مکمل ہو چکا ہے کہ ٹرمپ صاحب اسے لے کر آگے چل پڑے ہیں اور انہوں نے اپنے سفر کا آغاز کر دیا ہے۔ جبکہ جرمن وزیر خارجہ کے بقول اب سے شروع ہونے والا دور ’’ٹرمپائزیشن‘‘ کا دور ہوگا جس کی شروعات ’’اسلامی سربراہ کانفرنس‘‘ سے ہوئی ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے نہ صرف اس سے سرپرستانہ خطاب کیا ہے بلکہ جاتے ہوئے سعودی عرب اور قطر کے غیر متوقع تنازعہ کا تحفہ بھی دے گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
انقلابِ ایران اور مریم رجاوی
ایک کامیاب مذہبی انقلاب کے طور پر ہم بھی انقلابِ ایران کا خیرمقدم کرنے والوں میں شامل تھے اور ہم نے یہ توقع وابستہ کر لی تھی کہ ایران کا کامیاب اور بھرپور مذہبی انقلاب عالم اسلام کی ان مذہبی قوتوں اور تحریکوں کا معاون بنے گا جو اپنے اپنے ممالک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے محنت کر رہی ہیں۔ لیکن یہ توقع غلط ثابت ہوئی حتیٰ کہ خود ہمارے ہاں پاکستان میں اسلامی تحریکوں کو سپورٹ کرنے کی بجائے ’’فقہ جعفریہ‘‘ کے نفاذ کی تحریک کے عنوان سے پریشان کن مسائل کھڑے کر دیے گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خلافتِ راشدہ اور مروجہ سسٹم
اپوزیشن لیڈر میاں محمد نواز شریف نے خلفائے راشدینؓ کا نظام نافذ کرنے کی بات کی ہے تو اس کے ساتھ ’’خلافت راشدہ‘‘ کی اصطلاح قومی سطح پر بحث و مباحثہ کا عنوان بن گئی ہے۔ میاں صاحب کے مخالفین کا کہنا ہے کہ وہ جب برسرِ اقتدار تھے اس وقت انہیں خلفائے راشدینؓ کا نظام نافذ کرنے کی بات کیوں نہ سوجھی؟ اور بعض راہنماؤں نے اس خیال کا اظہار بھی کیا ہے کہ خلافت کی بات موجودہ نظام کے خلاف سازش ہے اور اس طرح سسٹم کو خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پاکستان میں سودی نظام ۔ تین پہلوؤں سے
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سودی نظام و قوانین کے ۳۰ جون ۲۰۰۲ء تک خاتمہ کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان کے تاریخی فیصلے پر نظر ثانی کے سلسلے میں یو بی ایل کی اپیل ان دنوں شریعت اپیلٹ بنچ سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیر سماعت ہے۔ اس موقع پر دینی و ملی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے ’’پاکستان شریعت کونسل‘‘ کی طرف سے چند گزارشات فریقین کے وکلاء اور اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے دیگر سرکردہ ارباب علم و دانش کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’تجدید‘‘ اور ’’تجدد‘‘ میں بنیادی فرق
تجدید اور مجدد کی اصطلاح تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد گرامی سے لی گئی ہے جس میں یہ پیش گوئی فرمائی گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ اس امت میں ہر صدی کے آغاز پر ایک مجدد بھیجے گا جو دین کی تجدید کرے گا۔ جبکہ تجدید کا معنٰی علماء امت کے ہاں یہ معروف چلا آرہا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سوسائٹی اور افراد کے اعمال و اقدار میں غیر محسوس طریقہ سے کچھ اضافے ہوتے چلے جاتے ہیں، جس طرح کھیت اور باغ میں کچھ خودرو پود پیدا ہوتے رہتے ہیں جنہیں وقفہ وقفہ سے تلف کر کے چھانٹی کر دی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’رویتِ ہلال: قانونی و فقہی تجزیہ‘‘
رؤیت ہلال کا مسئلہ ہمارے ہاں طویل عرصہ سے بحث ومباحثہ اور اختلاف وتنازعہ کا موضوع چلا آ رہا ہے اور مختلف کوششوں کے باوجود ابھی تک کوئی تسلی بخش اجتماعی صورت بن نہیں پا رہی۔ اکابر علماء کرام کی مساعی سے حکومتی سطح پر مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی قائم ہوئی تو امید ہو گئی تھی کہ اب یہ مسئلہ مستقل طور پر طے پا جائے گا، مگر ملک کے بیشتر حصوں میں اجتماعیت کا ماحول قائم ہو جانے کے باوجود بعض علاقوں میں انفرادیت کی صورتیں ابھی تک موجود ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تعارفِ ادیان و مذاہب: چند ضروری تقاضے
ہمارے ہاں ”تقابل ادیان“ کے عنوان سے مختلف مدارس اور مراکز میں کورسز ہوتے ہیں جن میں ادیان و مذاہب کے درمیان چند اعتقادی اختلافات پر مباحثہ و مناظرہ کی تربیت دی جاتی ہے، جو اپنے مقاصد کے اعتبار سے انتہائی ضروری ہے اور اس کی افادیت سے انکار نہیں ہے۔ مگر میری طالب علمانہ رائے میں یہ اس وسیع تر موضوع کے لحاظ سے انتہائی محدود اور جزوی سا دائرہ ہے جبکہ اس عنوان پر اس سے کہیں زیادہ وسیع تناظر میں گفتگو کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ریاست، حکومت اور مذہب کا باہمی تعلق
قرآن و سنت کی معاشرتی تعلیمات، اسلامی تاریخ کے دور نبویؐ اور خلافت راشدہ کے نظام سے باخبر نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے جدید تعلیم یافتہ دوستوں کا ایک حلقہ مسلسل غلط فہمی کا شکار رہتا ہے کہ یورپ کے قرون مظلمہ (تاریک صدیوں) کی طرح ہمارا ماضی بھی بے علمی، جہالت اور ظلم و جبر سے عبارت تھا اور انقلابِ فرانس نے مغربی معاشرہ کی طرح ہمیں بھی پہلی بار اس دور سے نکال کر روشنی کی طرف لے جانے کا فریضہ سرانجام دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب اور اس کے فلسفہ و نظام کا طوق ہر وقت گردن میں پہنے رہنے میں عافیت محسوس کی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی اصطلاحات کا اجماعی مفہوم اور لفظوں کی میناکاری
لفظوں کی میناکاری کے ذریعے قرآنی اصطلاحات کے اجماعی مفہوم کو مشکوک کرنے کی مہم کے بارے میں گزشتہ ایک کالم میں کچھ معروضات پیش کر چکا ہوں۔ ان دنوں خود مجھے اس قسم کی صورتحال کا سامنا ہے، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ صاحب نے ایک میسج میں بتایا کہ وزیرآباد کے کوئی بزرگ ’’ربوٰا‘‘ کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہیں، میں نے انہیں آپ کا فون نمبر دے دیا ہے وہ آپ سے اس سلسلہ میں ملیں گے۔ ایک روز کے بعد ان صاحب کا فون آگیا، وہ ملاقات کے لیے تشریف لائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلامی قوانین کے تحفظ پر قومی سیمینار
کانفرنس میں درج ذیل اعلامیہ منظور کیا گیا۔ ’’وطن عزیز پاکستان کے آئین میں موجود اسلامی شقوں کے خلاف ایک منظم منصوبہ کے تحت کام کیا جا رہا ہے۔ نہایت افسوس کے ساتھ اس کام میں بعض ملکی اداروں اور تنظیموں سے بھی سوئے استفادہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مختلف اسلامی شقوں کو بے اثر کرنے کے لیے اب تک کئی ایک اقدامات کیے جا چکے ہیں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ مشال خان کے بہیمانہ قتل کے بعد سے توہین رسالت کے قانون کو تبدیل کرنے اور قرارداد مقاصد کو پاکستان کے آئین سے نکالنے کے حوالے سے ملکی اداروں اور تنظیموں کے ذریعے کام کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
شہزادہ چارلس کی دوسری شادی اور چرچ آف انگلینڈ
برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس اور لیڈی ڈیانا کے درمیان طلاق مؤثر ہوجانے کے بعد جن مسائل نے جنم لیا ہے ان میں چارلس کی دوسری شادی کا مسئلہ بھی ہے کیونکہ شہزادہ چارلس مبینہ طور پر کمیلا پارکر نامی ایک لڑکی میں دلچسپی لے رہے ہیں اور اس سے شادی کے خواہشمند ہیں۔ جبکہ چرچ آف انگلینڈ کے ذمہ دار پادری صاحبان اس کی مخالفت کر رہے ہیں اور اخبای رپورٹوں کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ چارلس کو چرچ میں دوبارہ شادی کی اجازت دینے سے چرچ اور ریاست کے تعلقات کو نقصان پہنچے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عورت کی ملازمت ۔ فطرت کے اصولوں کو ملحوظ رکھا جائے
بھارتی اخبارات میں ان دنوں عورت کے حوالے سے تین موضوعات پر بطور خاص بات ہو رہی ہے اور مختلف اطراف سے ان پر اظہارِ خیال کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک عنوان یہ ہے کہ الٹراساؤنڈ کے ذریعے یہ معلوم ہونے پر کہ پیدا ہونے والا بچہ صنف نازک سے تعلق رکھتا ہے ہزاروں حمل گرا دیے جاتے ہیں، اور اسقاط حمل کے تناسب میں مسلسل اضافے نے سنجیدہ حضرات کو پریشانی میں ڈال دیا ہے۔ گزشتہ دنوں دہلی کے ایک اخبار میں اس سلسلے میں ایک سیمینار کی رپورٹ نظر سے گزری جس میں کہا گیا ہے کہ بچی کی پیدائش کو عام طور پر معیوب سمجھا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ
برصغیر کے نامور محقق و مؤرخ علامہ شبلی نعمانی رحمہ اللہ نے اپنے مقالہ ’’تعصب اور اسلام‘‘ میں ایک مسیحی مؤرخ کے حوالے سے یہ واقعہ بیان کیا ہے کہ جب مسلمانوں نے مصر کا مشہور شہر سکندریہ فتح کیا تو وہاں کی مسیحی آبادی سے یہ معاہدہ طے پایا کہ ان کی عبادت گاہوں سے تعرض نہیں کیا جائے گا اور کنیساؤں میں جو بت اور مجسمے نصب ہیں انہیں بھی نہیں چھیڑا جائے گا۔ لیکن اس کے تھوڑے عرصے بعد ایسا ہوا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے ایک مجسمے یا تصویر پر کسی نے نشانہ بازی کر کے اس کی ایک آنکھ پھوڑ دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ایک بدری صحابی کی ’’ڈی بریفنگ‘‘
فتح مکہ پر بھی ایسا ہوا کہ تیاریاں جاری تھیں اور رازداری کا بھی اہتمام کیا جا رہا تھا کہ ان تیاریوں کی دشمن کو قبل از وقت خبر نہ ہو جائے مگر ایک واقعہ ایسا ہوا جس نے صحابہ کرامؓ کو پریشان کر دیا۔ بخاری شریف کی روایت ہے کہ آنحضرتؐ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ، حضرت زبیر بن العوام اور حضرت مقداد بن الاسودؓ پر مشتمل ایک مہم بھیجی اور انہیں ہدایت کی کہ مکہ مکرمہ جانے والے راستے پر ’’روضۂ خاخ‘‘ نامی جگہ پر ایک خاتون سفر کرتی ہوئی ملے گی، وہ کسی کا خط لے کر مکہ مکرمہ جا رہی ہے، اس سے وہ خط قابو کر کے میرے پاس لے آؤ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
غیر سودی بینکاری کا فروغ اور ہماری ذمہ داریاں
رسک کم اور نفع زیادہ کی بنیاد پر کی جانے والی غیر سودی بینکاری کو کیا اسلامی بینکاری قرار دیا جا سکتا ہے؟ مجھے اس میں تامل ہے اس لیے کہ اسلامی معیشت کی بنیاد عقیدہ، اخلاقیات اور سوسائٹی کے وسیع تر سماجی مفادات پر ہے جبکہ مغرب کی یہ غیر سودی بینکاری محض مالیاتی مفادات کا پس منظر رکھتی ہے۔ اسلام میں مفادات کا حصول ثانوی درجہ رکھتا ہے جبکہ عقیدہ و اخلاق کے ساتھ ساتھ سوسائٹی کی مجموعی دیانت اور وسیع تر سماجی مفاد کا تحفظ اسلام کے مقاصد میں اولین حیثیت کا حامل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی اصطلاحات کا اجماعی مفہوم
کسی بھی زبان کے کسی بھی لفظ کے بارے میں اصول یہ ہے کہ اس کا ایک تو لغوی ور وضعی معنٰی ہوتا ہے جس کے لیے وہ وضع کیا جاتا ہے اور ابتداء میں بولا جاتا ہے، پھر جب وہ لفظ عام استعمال کے ذریعہ کسی مخصوص معنٰی پر زیادہ بولا جانے لگے یا کسی شعبہ میں اسے کسی خاص مفہوم کے لیے مخصوص کر لیا جائے تو وہ اس کا اصطلاحی معنٰی کہلاتا ہے۔ اس کے باوجود اگر وہ لفظ اس سے مختلف کسی مطلب کے لیے استعمال ہو تو اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ بھی اس کا مصداق ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
افغان حریت پسندوں کا جہادِ آزادی: پس منظر، ثمرات اور توقعات
آج سے آٹھ سال قبل جب روس نے افغانستان کو اپنی مسلح فوجی یلغار کا نشانہ بنایا تو روس کی عظیم فوجی قوت، افغانستان میں کمیونسٹ لابی کے مؤثر اور مسلسل ورک، اور دینی حلقوں کے نمایاں خلفشار و انتشار کو دیکھتے ہوئے یہ بات عام طور پر زبانوں پر آگئی تھی کہ اب بخارا، تاشقند اور سمرقند کی طرح افغانستان کا یہ خطہ بھی روس کے زیر تسلط مسلم ریاستوں کے زمرے میں شامل ہو جائے گا۔ کیونکہ بظاہر افغانستان میں کوئی ایسی قوت دکھائی نہیں دے رہی تھی جو کمیونسٹ لابی کے تسلط اور روسی افواج کی مداخلت کا سامنا کر سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قادیانی امت کے سربراہ مرزا طاہر احمد کے نام کھلا خط
جناب مرزا طاہر احمد صاحب ۔ سربراہ قادیانی جماعت۔ مقیم ٹل فورڈ، لندن۔ السلام علیٰ من اتبع الہدٰی۔ گزارش ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس سال پھر اپنی سالانہ رپورٹ میں پاکستان میں قادیانی جماعت کے مبینہ انسانی حقوق کی پامالی کا ذکر کیا ہے اور متعدد قادیانیوں کے خلاف درج مقدمات کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے حکومتِ پاکستان کو اس کا ملزم ٹھہرایا ہے۔ میں اس خط کے ذریعے اسی اہم مسئلہ پر آپ سے مخاطب ہو رہا ہوں کیونکہ یہ مسئلہ اس وقت نہ صرف مسلمانوں اور قادیانیوں کے مابین تنازعہ اور کشیدگی میں شدت کا باعث بنا ہوا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی تعلیم اور عصری تقاضے ۔ تحریکِ اصلاحِ تعلیم کے زیر اہتمام سیمینار
بلتستان کے دورے کے کچھ تاثرات ابھی باقی ہیں لیکن اس سے قبل ۱۷ اکتوبر کو لاہور کے ایک ہوٹل میں ’’دینی تعلیم اور عصری تقاضے‘‘ کے زیرعنوان منعقد ہونے والے سیمینار کے حوالے سے کچھ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ اس سیمینار کا اہتمام تحریک اصلاح تعلیم اور صفا اسلامک سنٹر کے سربراہ ڈاکٹر محمد امین نے ایک قومی اخبار کے مذہبی ونگ کے تعاون سے کیا، اور اس میں ڈاکٹر صاحب موصوف کے علاوہ صوبائی وزیر قانون رانا ث مکمل تحریر
فرقہ ورانہ تخریب کاری اور حکومتی رویہ
امورِ داخلہ کے وزیر مملکت راجہ نادر پرویز نے روزنامہ جنگ لاہور کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ’’حکومت کے علم میں لایا گیا ہے کہ تخریب کاروں کے ایک گروہ نے ۱۲ ربیع الاول کے موقع پر ملک میں وسیع پیمانے پر فساد بپا کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔‘‘ (روزنامہ جنگ لاہور ۔ ۳۰ اکتوبر ۱۹۸۷ء) ۔ ملک کے مختلف حصوں میں تسلسل کے ساتھ ہونے والے بم دھماکوں کے پس منظر میں وفاقی وزیر مملکت کا یہ خدشہ اگرچہ کچھ زیادہ خلافِ قیاس نہیں ہے لیکن سوال یہ ہے کہ خود حکومت کا رویہ اس سلسلہ میں کیا ہے؟ مکمل تحریر
شریعت بل پر اتفاق رائے ۔ وزیراعظم محمد خان جونیجو کے نام کھلا خط
گزارش ہے کہ روزنامہ مشرق لاہور ۲۷ جون ۱۹۸۷ء کی اشاعت میں ایک خبر شائع ہوئی ہے جس کے مطابق وفاقی کابینہ نے شریعت بل کے بارے میں عوامی رابطہ کے عنوان سے وزراء کے ملک گیر دوروں کا پروگرام طے کیا ہے اور اس پروگرام کی تکمیل تک سینٹ کے اجلاس کے انعقاد کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ خبر کے مطابق وزراء کے ان دوروں کا مقصد یہ بیان کیا گیا ہے کہ شریعت بل کو تمام طبقات کے لیے قابل قبول بنایا جائے۔ اس خبر کے حوالہ سے آنجناب کی خدمت میں چند ضروری گزارشات پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ذکری فتنہ ۔ مولانا محمد الیاس سے انٹرویو
سوال۔ ذکری فتنہ کیا ہے، اس کا آغاز کب ہوا اور اس کا بانی کون تھا؟ جواب۔ ذکری فتنہ نیا نہیں بلکہ بہت پرانا فتنہ ہے، تقریباً ساڑھے چار سو سال قبل نور محمد اٹکی نامی ایک شخص نے اس فتنہ کی بنیاد رکھی۔ اس فتنہ کے پیروکار اسلام کے پانچوں بنیادی ارکان کلمہ، نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور تمام اسلامی عبادات کے علاوہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے منکر ہیں اور نور محمد اٹکی کو نبی، مہدی وغیرہ مانتے ہیں۔ انہوں نے اپنا خود ساختہ کلمہ ’’لا الہٰ الا اللہ نور پاک نور محمد مہدی رسول اللہ‘‘ بنایا ہوا ہے، ان کے نزدیک نماز پڑھنا کفر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سانحۂ مستونگ
اضاخیل پشاور کے ’’صد سالہ عالمی اجتماع‘‘ کے بعد سے اس بات کا خدشہ اور خطرہ مسلسل محسوس ہو رہا تھا کہ کچھ نہ کچھ ہوگا۔ صد سالہ اجتماع کی بھرپور کامیابی اور اس میں دیے جانے والے واضح پیغام نے دنیا کو ایک بار پھر بتا دیا ہے کہ شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کا قافلہ دینی و قومی تحریکات کے لیے عدم تشدد پر مبنی پر امن جدوجہد کی پالیسی پر نہ صرف قائم ہے بلکہ آئندہ کے لیے اس نے اس کا تسلسل قائم رکھنے کا عزم نو بھی کر لیا ہے۔ اس لیے خیال تھا کہ تشدد کو اوڑھنا بچھونا بنانے والوں کے لیے اس کو ہضم کرنا مشکل ہوگا اور وہ اپنے غصے کا کہیں نہ کہیں اظہار ضرور کریں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
گلگت کے فسادات اور حکومت کی ذمہ داری
گلگت میں رمضان المبارک کے آخر میں سنی شیعہ کشیدگی میں جو اچانک اضافہ ہوا تھا وہ بالآخر خونریز فسادات پر منتج ہوا اور سینکڑوں افراد کی جانیں ان فسادات کی نذر ہوگئیں۔ سینکڑوں جانوں کی بھینٹ وصول کرنے والے ان فرقہ وارانہ فسادات کے اسباب کیا ہیں اور کون عناصر ان کے ذمہ دار ہیں؟ اس کا جائزہ لینے کے لیے متحدہ سنی محاذ کا ایک وفد اس ہفتہ کے دوران گلگت جا رہا ہے اور اس سلسلہ میں حتمی بات اس وفد کی رپورٹ کے بعد ہی کی جا سکتی ہے۔ تاہم اب تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق واقعات کی ترتیب کچھ اس طرح بنتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا محمد اسلم قریشی کی بازیابی
جہاں تک مولانا محمد اسلم قریشی کی سلامتی اور واپسی کا تعلق ہے اس پر ہر طبقہ کی طرف سے اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ان کی زندگی کے بارے میں جو خدشات مسلسل باعث اضطراب بنے ہوئے تھے وہ دور ہوگئے ہیں مگر آئی جی پولیس کی موجودگی میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران انہوں نے ازخود روپوش ہونے، اپنے بارے میں عوامی تحریک کا علم ہونے کے باوجود واپس نہ آنے، ایران کی فوج میں بھرتی ہونے اور اچانک واپس آنے کی جو کہانی بیان کی ہے اسے ملک کے دینی و عوامی حلقوں میں بے یقینی اور شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 111
- 112
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »