اب قرآن کریم میں ردوبدل کا مطالبہ!

تسلیمہ نسرین کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ نمازوں کی تعداد پانچ سے کم کر کے ایک کر دیں۔ ایک عرصہ قبل انہوں نے قرآن کریم پر (نعوذ باللہ) نظر ثانی اور مروجہ عالمی نظام و قوانین کے حوالہ سے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ضروری ترامیم کرنے کی تجویز پیش کی تھی جس پر ان کے خلاف بنگلہ دیش میں ’’توہین مذہب‘‘ کا مقدمہ درج ہوا اور دینی حلقوں نے عوامی سطح پر احتجاج کا اہتمام کیا۔ اس پر وہ گرفتار ہوئیں مگر یورپین یونین کی مداخلت پر انہیں رہائی دلا کر یورپ کے ایک ملک میں سیاسی پناہ دے دی گئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ مارچ ۲۰۱۶ء

ممتاز قادریؒ کی پھانسی اور مذہبی طبقات کا رد عمل

غازی ممتاز قادری شہیدؒ کو پھانسی دیے جانے کے بعد ملک بھر میں دینی حلقوں میں اضطراب اور بے چینی نے باہمی رابطوں کا جو ماحول پیدا کر دیا ہے وہ یقیناً خوش آئند ہے اور اس سے دینی کارکنوں کا حوصلہ بڑھ رہا ہے ۔ ۔ ۔ میڈیا نے غازی ممتاز قادری شہیدؒ کے جنازہ اور ملک بھر کی احتجاجی سرگرمیوں کو جس طرح بلیک آؤٹ کیا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے، یہ طرز عمل اظہار رائے کی آزادی اور رائے عامہ کے جمہوری حق کے منافی ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ مارچ ۲۰۱۶ء

غازی ممتاز قادری شہیدؒ

ہماری مروجہ دانش کو صرف اپنے ایجنڈے کی فکر ہے جو خود اس کا اپنا نہیں ہے بلکہ اس کا ریموٹ کنٹرول کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ اور یہ ریموٹ کنٹرول بھی اب خفیہ نہیں رہا بلکہ ساری دنیا کو دکھائی دے رہا ہے کہ کون کس کے ایجنڈے پر چل رہا ہے۔ اس دانش کو نہ دستور کی نظریاتی اساس سے کوئی دلچسپی ہے، نہ شریعت کے تقاضوں کی کوئی پروا ہے، اور نہ ہی سول سوسائٹی کے احساسات و جذبات اور رائے عامہ کا کوئی لحاظ ہے۔ اسے صرف اپنے ایجنڈے سے غرض ہے اور اس کے لیے مروجہ دانش اکثر اوقات جنگل کا شیر بن جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ مارچ ۲۰۱۶ء

اسلام کا خاندانی نظام اور مغربی ثقافت

پرانے شماروں کی ورق گردانی کے دوران جنوری 1997ء میں شائع ہونے والی ’’الشریعہ‘‘ کی ایک خصوصی اشاعت سامنے آگئی جو ’’اسلام کا خاندانی نظام اور مغربی ثقافت‘‘ کے عنوان سے ایک سو صفحات پر مشتمل تھی اور اس میں مولانا مفتی محمودؒ، مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ، مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ، مولانا محمد تقی عثمانی، مولانا مفتی فضیل الرحمن عثمانی، اور راقم الحروف کے تفصیلی مضامین کے علاوہ جناب عمران خان، جناب ارشاد احمد حقانیؒ، اور جاوید اقبال خواجہ کی اہم تجزیاتی نگارشات بھی شامل تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم مارچ ۲۰۱۶ء

قابلِ تشویش سیاسی منظر نامہ اور پاکستان شریعت کونسل کی قراردادیں

یہ اجتماع اس عزم کا ایک بار پھر اظہار ضروری سمجھتا ہے کہ پاکستان کو اسلامی تشخص سے محروم کرنے، دستور کی اسلامی بنیادوں کو کمزور کرنے اور پاکستانی قوم کو اسلامی و مشرقی ثقافتی اقدار و روایات کے ماحول سے نکال کر مغربی و ہندووانہ ثقافت کو فروغ دینے کی ہر کوشش کا مقابلہ کیا جائے گا۔ اور پاکستانی قوم متحد ہو کر اپنے عقائد و اقدار کا تحفظ کرتے ہوئے اسلام کے معاشرتی کردار کے خلاف عالمی و ملکی سیکولر لابیوں کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ فروری ۲۰۱۶ء

حضرت شاہ ولی اللہؒ کا فکر و فلسفہ اور دور حاضر

حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ بارھویں صدی کے ان عظیم علماء امت میں سے تھے جنہوں نے دین کے مختلف شعبوں میں اجتہاد و تجدید کا کام سنبھالا اور اللہ تعالیٰ کی توفیق و عنایت سے وہ اس کٹھن گھاٹی سے اس طرح کامیابی سے گزرے کہ ان کے علوم و فیوض اور سعی و کاوش سے اب تک مسلسل استفادہ کیا جا رہا ہے۔بلکہ دینی علوم کے فروغ اور ترویج میں ان کے ذوق و اسلوب کی ضرورت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید اجاگر ہوتی جا رہی ہے۔وہ ایک بڑے محدث، مفسر ، مجاہد ،متکلم اور صوفی تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ فروری ۲۰۱۶ء

قرآنِ کریم کے مروجہ نسخے اور ایک نئی بحث

مصحف عثمانی کے دو نمونے عالم اسلام میں اشاعت پذیر ہو رہے ہیں جو قرأت میں تو ایک دوسرے سے زیادہ مختلف نہیں ہیں مگر رسوم و علامات کے حوالہ سے الگ الگ ہیں۔ عرب دنیا میں قرآن کریم کی طباعت ان رسوم و علامات کے ساتھ ہوتی ہے جو وہاں معروف ہیں، جبکہ جنوبی ایشیا یعنی بنگلہ دیش، پاکستان اور بھارت وغیرہ میں مطبوعہ قرآن کریم کی رسوم و علامات ان سے الگ ہیں جو اس قدر متعارف اور عام فہم ہو چکی ہیں کہ یہاں کے عام مسلمان کے لیے کسی دوسرے نسخہ سے قرآن کریم کی تلاوت کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ فروری ۲۰۱۶ء

ایک اچھی خبر اور ایک حسرت!

جمعیۃ علماء اسلام میرا گھر ہے، میں نے 1962ء میں چودہ سال کی عمر میں اس حویلی میں قدم رکھا تھا اور اب جبکہ ہجری اعتبار سے سترہواں (۷۰) سال گزر رہا ہے اس کے مین گیٹ کے اندر ہی ہوں اور اسی حویلی میں زندگی کے باقی ماندہ لمحات گزارنے کی خواہش رکھتا ہوں۔ کنبے بڑے ہو جائیں تو حویلی میں دیواریں بھی کھینچی جاتی ہیں، نئے نئے پورشن بھی تعمیر ہوتے ہیں اور اسٹرکچر میں رد و بدل بھی ہوتا رہتا ہے۔ ان سارے مراحل سے گزشتہ نصف صدی کے دوران میں بھی بار بار گزرا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ فروری ۲۰۱۶ء

معاہدۂ حدیبیہ کے اہم سبق

صلح حدیبیہ کے معاہدہ میں جہاں یہ طے ہوا تھا کہ مسلمانوں اور قریش کے درمیان دس سال تک جنگ نہیں ہوگی، وہاں دوسری شرائط کے ساتھ ایک شرط یہ بھی تھی کہ اگر مکہ مکرمہ سے قریش کا کوئی شخص مسلمان ہو کر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرے گا تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے واپس کرنے کے پابند ہوں گے۔ لیکن اگر کوئی مسلمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا (نعوذ باللہ) ساتھ چھوڑ کر مکہ مکرمہ چلا جائے گا تو اس کی واپسی ضروری نہیں ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ فروری ۲۰۱۶ء

اور اب دینی سرگرمیوں پر پابندی !

ملک کے تمام مذہبی مکاتب فکر نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کے خاتمہ کی جدوجہد میں حکومت سے بھرپور تعاون کر رہے ہیں۔ لیکن دینی حلقوں میں یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ اس سلسلہ میں وہ امتیازی سلوک کا نشانہ بنے ہوئے ہیں کیونکہ یوں نظر آتا ہے کہ اس ایکشن پلان کا بڑا ہدف دینی جماعتوں کی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔ اور اس کے لیے قانونی و غیر قانونی سرگرمیوں اور دہشت گردی کے خلاف ایکشن میں تعاون کرنے والوں اور نہ کرنے والوں کے درمیان کوئی فرق روا نہیں رکھا جا رہا اور سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ فروری ۲۰۱۶ء

سعودیہ ایران کشمکش اور اس کے مضمرات

سعودی عرب اور ایران کی یہ کشمکش مسلسل آگے بڑھ رہی ہے جس سے مشرق وسطیٰ میں سنی شیعہ تصادم خوفناک صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ عرب اسرائیل تنازعہ بھی پس منظر میں چلا گیا ہے اور پاکستان پر اس کے منفی اثرات کے سیاہ بادل منڈلانا شروع ہوگئے ہیں۔ وطن عزیز پاکستان کی داخلی صورت حال اس سے قبل بھی سنی شیعہ کشمکش اور باہمی خونریزی کے تلخ مراحل سے گزر چکی ہے۔ اس لیے واقفان حال کو اس کے دوبارہ لوٹ آنے کے امکانات و خدشات نے بے چین و مضطرب کر رکھا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ فروری ۲۰۱۶ء

یومِ یکجہتیٔ کشمیر

وہ خطہ جو صدیوں جموں و کشمیر اور اس کے ملحقات کے عنوان سے وحدت سے بہرہ ور تھا اب عملاً انتظامی طور پر تین حصوں میں تقسیم ہے۔ ایک بڑے حصے پر بھارت نے ناجائز قبضہ جما رکھا ہے۔ دوسرا حصہ پاکستان کے زیر انتظام آزاد ریاست جموں و کشمیر کے نام سے اپنی حکومت، اسمبلی اور خود مختار عدالت رکھتا ہے۔ جبکہ تیسرا حصہ جو گلگت، بلتستان، سکردو اور ہنزہ وغیرہ پر مشتمل ہے، یہ پاکستان ہی کے انتظام کے تحت انتظامی صوبہ کے طور پر اپنے الگ تشخص سے بہرہ ور ہو چکا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ فروری ۲۰۱۶ء

مولانا محمد احمد لدھیانوی کی کامیابی

اہل السنۃ والجماعۃ کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی نے انتخابی معرکہ بالآخر جیت لیا ہے اور انتخابی عذر داری میں ان کے مخالف امیدوار کو نا اہل قرار دے کر مجاز اتھارٹی نے مولانا احمد لدھیانوی کو قومی اسمبلی کی رکنیت سے بہرہ ور کر دیا ہے۔ جھنگ کا ضلع دینی راہ نماؤں کی سیاسی سرگرمیوں کا ہمیشہ سے ایک اہم میدان رہا ہے۔ مولانا محمد ذاکرؒ ، مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ ، مولانا حق نواز جھنگویؒ ، مولانا بشیر احمد خاکیؒ ، مولانا ایثار القاسمیؒ ، مولانا محمد اعظم طارقؒ اسی ضلع سے الیکشن لڑتے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ اپریل ۲۰۱۴ء

مولانا محمد عالمؒ اور مولانا محمد عبد اللہ عباسیؒ

گزشتہ ہفتے ہمیں دو بزرگ علماء کرام کی جدائی کے صدمہ سے دوچار ہونا پڑا اور دین کی مخلصانہ محنت کرنے والی صف کچھ اور سکڑ گئی۔ شیخوپورہ میں حضرت مولانا محمد عالم صاحبؒ کا انتقال دینی حلقوں کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے، وہ گزشتہ روز طویل علالت کے بعد وفات پا گئے ہیں، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق ہزارہ کے علاقہ بالاکوٹ سے تھا۔ پہلے ضلع شیخوپورہ کے دیہاتی علاقہ میں دینی تعلیم و تدریس کی خدمات سر انجام دیتے رہے جبکہ 1974ء میں شہر میں انہوں نے جامعہ فاروقیہ کے نام سے مدرسہ قائم کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ جولائی ۲۰۱۴ء

مولانا محمد اقبال نعمانی ؒ

ضلع گوجرانوالہ کے ایک بزرگ عالم دین اور مختلف دینی تحریکات کے سرگرم راہ نما حضرت مولانا محمد اقبال نعمانیؒ کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں جن کا دو روز قبل علی پور چٹھہ میں انتقال ہوگیا ہے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق کمالیہ سے تھا اور جامعہ خیر المدارس ملتان کے فضلاء میں سے تھے۔ کم و بیش نصف صدی قبل علی پور چٹھہ کی مرکزی جامع مسجد کی خطابت کے منصب پر فائز ہوئے اور آخری عمر میں شدید علالت اور معذوری تک اس حیثیت سے علاقہ کے عوام کی دینی اور مسلکی راہ نمائی کا فریضہ سر انجام دیتے رہے۔ مکمل تحریر

۲۱ ستمبر ۲۰۱۳ء

ناموسِ رسالتؐ کے قانون پر نظر ثانی؟

مرکزی جمعیۃ اہل حدیث پاکستان کے امیر محترم سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ توہین رسالتؐ پر موت کی سزا کے قانون کی تبدیلی برداشت نہیں کی جائے گی، البتہ اس کے غلط استعمال کی روک تھام ضروری ہے اور اس پر ہمیں غور کرنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بات اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہی ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل توہین رسالتؐ کے قانون پر نظر ثانی کے لیے تیار ہے مگر اس کے لیے حکومت یہ مسئلہ باقاعدہ طور پر اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ جنوری ۲۰۱۶

اسلامی ریاست چلانے کے لیے رجال کار کی ضرورت

ایک عجیب سی صورت حال اس وقت ہمارے سامنے ہے کہ ملک میں شرعی نظام کا نفاذ صرف ہمارا مطالبہ ہی نہیں بلکہ قومی ضرورت ہے۔ لیکن انتظامیہ، عدلیہ، معیشت اور دیگر شعبوں کے لیے اس کے مطابق رجال کار کی فراہمی کا کوئی نظام کسی سطح پر موجود نہیں ہے۔ نہ ریاستی تعلیمی ادارے اسے اپنے اہداف میں شامل کرنے کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی دینی مدارس کے موجودہ نصاب و نظام میں اس کی کوئی گنجائش دکھائی دے رہی ہے۔ ظاہر بات ہے کہ یہ ذمہ داری انہی دو اداروں میں سے کوئی قبول کرے گا تو بات آگے بڑھے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ جنوری ۲۰۱۶ء

پاک امریکہ تعلقات ۔ حقیقت پسندانہ تجزیہ کی ضرورت

وفاقی وزیر خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے کہ ہم نے جہاد افغانستان میں فریق بن کر غلطی کی تھی اور پھر جنرل پرویز مشرف کے دور میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شریک ہو کر بھی غلطی کی ہے، آئندہ یہ غلطی نہیں دہرائیں گے۔ انہوں نے یہ بات سعودی عرب ایران کشمکش کے تناظر میں کہی ہے۔ جہاں تک اپنی غلطیوں کو محسوس کرنے، ان کا اعتراف کرنے اور آئندہ غلطی نہ دہرانے کے عزم کا تعلق ہے، خواجہ صاحب کا یہ ارشاد خوش آئند ہے اور قومی سیاست میں اچھی پیش رفت کی علامت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ جنوری ۲۰۱۶ء

بعض حالیہ اقدامات پر دینی حلقوں کی فکرمندی

اس بات پر فکرمندی اور تشویش مسلسل بڑھتی جا رہی ہے کہ ملک میں دینی اقدار و روایات کو کمزور کرنے، نافذ شدہ چند اسلامی قوانین و ضوابط کو غیر مؤثر بنانے، اور لادینی فلسفہ و ثقافت کو ترویج دینے کی کوششوں میں جو تیزی اور وسعت دیکھنے میں آرہی ہے، دینی حلقوں میں بے توجہی، بے حسی اور ہر قسم کے حالات کے ساتھ سمجھوتہ کر لینے کا رجحان اس سے کہیں زیادہ بڑھتا جا رہا ہے۔ بالخصوص قومی سیاست میں دینی حلقوں کی نمائندگی کرنے والی قیادت کی قناعت پسندی ایک طرح کا روگ سا بن کر رہ گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جنوری ۲۰۱۶ء

قادیانیوں کا ایک مغالطہ

قادیانی حضرات کا کہنا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے مستقل نبوت کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ حضرت محمد رسول اللہؐ کی پیروی میں نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے جو عقیدۂ ختم نبوت کے منافی نہیں ہے۔ مگر یہ بات محض ایک مغالطہ ہے اور میں جناب سرور کائناتؐ کی سیرت طیبہ کی روشنی میں اس کا جائزہ لینا چاہتا ہوں۔ رسول اللہؐ کے دور میں تین بندوں نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ یمامہ کے مسیلمہ کذاب، بنو اسد کے طلیحہ بن خویلد، یمن کے اسود عنسی، جبکہ ایک خاتون سجاح بھی نبوت کی دعوے دار تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ جنوری ۲۰۱۶ء

حکمت عملی کا جہاد

یہ بات غور طلب ہے کہ منافقین کے خلاف کون سا جہاد ہوا؟ اس لیے کہ دس سالہ مدنی دور میں منافقوں کے خلاف ایک بار بھی ہتھیار نہیں اٹھایا گیا۔ وہ مدینہ منورہ میں رہے اور سارے معاملات میں شریک رہے، شرارتیں بھی کرتے رہے اور بڑے بڑے فتنے انہوں نے کھڑے کیے مگر ایک بار بھی ان کے خلاف تلوار استعمال نہیں ہوئی۔ حتیٰ کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بعض سرکردہ منافقوں کو قتل کرنے کی اجازت مانگی گئی مگر جناب سرور کائنات ؐ نے اجازت دینے سے انکار کر دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۶ء

’’لا الٰہ‘‘ کے ساتھ ’’الا اللہ‘‘ کی ضرورت

سعودی عرب کے مفتی اعظم فضیلۃ الشیخ عبد العزیز آل الشیخ حفظہ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ داعش اسرائیلی فوج کا حصہ ہے اور ان خوارج کی ہی ایک شکل ہے جنہوں نے قرن اول میں اسلامی خلافت کے خلاف بغاوت کر کے ہر طرف قتل و غارت کا بازار گرم کر دیا تھا۔ شیخ محترم نے اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا ہے کہ مسلم ممالک کا فوجی اتحاد داعش کو کچلنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ داعش اسرائیلی فوج کا حصہ ہے یا نہیں یہ ایک بحث طلب بات ہے، مگر اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ داعش نے طور طریقے وہی اختیار کر رکھے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ دسمبر ۲۰۱۵ء

اعجاز قرآن کی ایک اور تاریخی شہادت

برمنگھم یونیورسٹی کی لائبریری میں قرآن کریم کے قدیم ترین نسخے کے اوراق کی دریافت نے علم و تحقیق کی دنیا کو دلچسپی کا ایک اور میدان فراہم کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ اوراق قرآن کریم کے قدیم ترین نسخے کے ہیں اور ان کی تحریر کا دور حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خلافت کا دور سمجھا جا رہا ہے۔ اگر یہ درست ہے تو یہ مقدس اوراق مصحف قرآنی کے اس نسخے کے ہو سکتے ہیں جو حضرت ابوبکر صدیقؓ کے حکم پر جناب نبی اکرم ﷺ کے سب سے بڑے کاتب وحی حضرت زید بن ثابت انصاریؓ نے مرتب کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ دسمبر ۲۰۱۵ء

مدارس کے متعلق وزراء کے حوصلہ افزا تاثرات

وفاقی وزیر مذہبی امور اوقاف و حج سردار محمد یوسف نے اس موقع پر مختلف قومی مسائل پر اظہار خیال کیا اور بطور خاص مدارس دینیہ کے حوالہ سے حوصلہ افزا گفتگو کی۔ ان کا کہنا ہے کہ مدارس کو خواہ مخواہ دہشت گردی کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے حالانکہ دینی مدارس دہشت گردی کی جنگ میں حکومت کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ اگر مدارس میں پڑھنے والے کچھ لوگ دہشت گردی میں ملوث ہیں تو کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم پانے والے بہت سے حضرات بھی دہشت گردی کے اس عمل کا حصہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ دسمبر ۲۰۱۵ء

رسول اکرمؐ کی معاشرتی اصلاحات

جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نسبت اور عقیدت و محبت کا اظہار ہمارے ایمانی تقاضوں میں سے ہے، اور ہر مسلمان کسی نہ کسی انداز میں اس کا اظہار ضرور کرتا رہتا ہے۔ مگر اس کے ساتھ یہ بات بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ جناب رسول اللہؐ کی بعثت کن مقاصد کے لیے ہوئی تھی؟ اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبرؐ نے انسانی معاشرہ کو خیر کے کن کاموں کی تلقین کی تھی، شر کے کن کاموں سے روکا تھا، اور بھرپور محنت کے ساتھ انسانی سوسائٹی کو کن تبدیلیوں اور اصلاحات سے روشناس کرایا تھا جن کی وجہ سے انہیں پیغمبر انقلاب کہا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ دسمبر ۲۰۱۵ء

مسلم ممالک کا فوجی اتحاد

گزشتہ دنوں سعودی عرب نے 34 اسلامی ملکوں کے فوجی اتحاد کے قیام کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد دہشت گردی کے مختلف گروپوں کی کاروائیوں کا انسداد بتایا گیا ہے۔ اس اتحاد کا ہیڈ کوارٹر ریاض میں ہوگا اور اس میں شامل ممالک میں پاکستان کا نام بھی موجود ہے جبکہ ایران، عراق اور شام اس کا حصہ نہیں ہیں۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس کی تفصیلات سے لا علمی کا اظہار کرتے ہوئے اصولی طور پر اس کا خیر مقدم کیا ہے مگر شمولیت کے بارے میں کہا ہے کہ تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ دسمبر ۲۰۱۵ء

غیر سودی بینکاری کی عالمی مقبولیت

ایک قومی اخبار نے یہ خبر شائع کی ہے کہ روس کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن اسمبلی دمتری سویولوو نے ایک قانون منظوری کے لیے پیش کیا ہے کہ روس میں بغیر سود اسلامی بینکاری کی اجازت دی جائے۔ اس سے کچھ عرصہ پہلے دمتری سویولوو اسمبلی میں ایک اور مسودہ قانون بھی پیش کر چکے ہیں جس میں اسلامی اصول کی بنیاد پر لیزنگ میں رکاوٹ ڈالے جانے کو غیر قانونی قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ دسمبر ۲۰۱۵ء

تکفیر کا فتنہ اور موجودہ عالمی مخمصہ

گزشتہ دنوں جامعۃ الازہر کے سربراہ فضیلۃ الدکتور احمد الطیب حفظہ اللہ تعالیٰ کے حوالہ سے ایک قومی اخبار میں یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ انہوں نے اپنے اس موقف کا ایک بار پھر اعادہ کیا ہے کہ شام اور عراق سمیت دنیا کے مختلف ملکوں میں دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث تنظیم داعش کو کافر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ جامعۃ الازہر کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر وہ شخص جو فرشتوں، الہامی کتابوں بشمول قرآن پاک سے انکار کرے وہ ایمان سے خارج سمجھا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ دسمبر ۲۰۱۵ء

مولانا عبد المجید شاہ ندیمؒ

خطیب العصر حضرت مولانا سید عبد المجید شاہ ندیمؒ بھی ہم سے رخصت ہوگئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ وہ اپنے دور کے چند بڑے خطباء میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے کم و بیش نصف صدی تک پاکستان بلکہ دنیا بھر کے مختلف ملکوں کی فضاؤں میں اپنی خطابت کا جادو جگایا اور لاکھوں مسلمانوں کے عقائد و اعمال کی اصلاح کا ذریعہ بنے۔ ان کی خطابت میں حسن قراءت، ترنم، معلومات، مشن اور جذبہ و جوش کا خوبصورت امتزاج پایا جاتا تھا ، اور وہ واضح فکری اہداف رکھتے تھے جن کے لیے وہ زندگی بھر سرگرم عمل رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ دسمبر ۲۰۱۵ء

آج کے انسانی معاشرے کے مسائل اور مذہب کا کردار

میں کانفرنس کے معزز شرکاء کو اس بات پر غور کی دعوت دوں گا کہ ان میں سے کون سے مسائل ہیں جو مذہب کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں؟ زیادہ سے زیادہ دہشت گردی اور شدت پسندی کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ ان میں کسی حد تک مذہب کا کردار ہو سکتا ہے۔ لیکن باقی سب مسائل مذہب کی وجہ سے نہیں بلکہ مذہبی تعلیمات سے انحراف کے نتیجے میں وجود میں آئے ہیں۔ اس لیے ہمیں یکطرفہ بات نہیں کرنی چاہیے اور اپنے ایجنڈے کو متوازن اور بیلنس بنانا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ نومبر ۲۰۱۵ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter