محترم مجیب الرحمٰن شامی کی خدمت میں!

مجیب الرحمٰن شامی صاحب ہمارے محترم اور بزرگ دوست اور ملک کے ممتاز دانشور ہیں جنہوں نے دینی و قومی تحریکات میں ہمیشہ اجتماعی ضمیر کی نمائندگی کی ہے اور اپنے دائرہ کار میں صفِ اول کے راہنما کا کردار ادا کیا ہے۔ گزشتہ روز انہوں نے ایک نشری گفتگو میں قادیانیوں کے شہری حقوق اور ان کے بقول قادیانیوں کے ساتھ ہونے والی مبینہ زیادتیوں کا تذکرہ کیا ہے اور ملک کی دینی قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مل بیٹھ کر اس مسئلہ کا کوئی حل نکالیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ جون ۲۰۲۴ء

امام ذہبیؒ کی کتاب الکبائر (۲) : دوسرا کبیرہ گناہ قتلِ ناحق ہے

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ومن یقتل مومنا متعمدا فجزاءہ جھنم خالدا فیھا وغضب اللہ علیہ ولعنہ واعدلہ عذاب عظیما۔ (النساء ۹۳) ’’اور جو شخص کسی مسلمان کو قصداً قتل کر ڈالے تو اس کی سزا جہنم ہے کہ ہمیشہ ہمیشہ کو اس میں رہنا، اور اس پر اللہ تعالیٰ غضبناک ہوں گے اور اس کو اپنی رحمت سے دور کر دیں گے اور اس کے لیے بڑی سزا کا سامان کر لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ جون ۱۹۷۳ء

امام ذہبیؒ کی کتاب الکبائر (۱۰) : ماں باپ کی نافرمانی

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے سوال کیا گیا کہ اعراف کیا ہے اور وہاں کون سے لوگ جائیں گے؟ آپؓ نے فرمایا، اعراف جنت اور جہنم کے درمیان ایک پہاڑ ہے، اس پر درخت ہیں، نہریں ہیں، چشمے ہیں اور پھل بھی ہیں، اور اس جگہ وہ لوگ ہوں گے جو ماں باپ کی اجازت کے بغیر جہاد پر چلے گئے اور وہاں اللہ کی راہ میں شہادت پائی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ اگست ۱۹۷۳ء

امام ذہبیؒ کی کتاب الکبائر (۹) : ماں باپ کی نافرمانی

آٹھواں کبیرہ گناہ ماں باپ کی نافرمانی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وقضیٰ ربک الا تعبدوا الا ایاہ و بالوالدین احسانا اما یبلغن عندک الکبر احدھما او کلاھما فلا تقل لھما اف ولا تنھرھما وقل لھما قولا کریما۔ واخفض لھما جناح الذل من الرحمۃ وقل رب ارحمھما کما ربیانی صغیرا۔ (الاسراء ۲۳، ۲۴) ’’اور تیرے رب نے حکم کر دیا کہ بجز اس کے کسی کی عبادت نہ کرو اور اپنے ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ اگست ۱۹۷۳ء

امام ذہبیؒ کی کتاب الکبائر (۷) : پانچواں کبیرہ گناہ منعِ زکوٰۃ ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: لا یحسبن الذین یبخلون بما آتاہم اللہ من فضلہ ھو خیرا لہم بل ہو شر لہم سیطوقون ما بخلوا بہ یوم القیامۃ۔ (آل عمران ۱۸۰) ’’اور ہر گز خیال نہ کریں ایسے لوگ جو ایسی چیز میں بخل کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے فضل سے دی ہے کہ یہ بات کچھ ان کے لیے اچھی ہو گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جولائی ۱۹۷۳ء

امام ذہبیؒ کی کتاب الکبائر : رشتہ داروں سے قطع تعلق

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ایک مجلس میں بیٹھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بیان کر رہے تھے۔ دورانِ گفتگو آپؓ نے فرمایا کہ میں ہر ’’قاطع رحم‘‘ سے حرج محسوس کرتا ہوں، اس لیے ہماری مجلس میں جو قاطع رحم ہو وہ اٹھ جائے۔ ایک نوجوان مجلس سے اٹھ گیا اور اپنی پھوپھی کے پاس گیا جس سے اس نے کئی سالوں سے لاتعلقی اختیار کر رکھی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۔

سنٹر فار اسلامک سٹڈیز: آکسفورڈ میں اسلامی ثقافت کی پہچان

برطانیہ کا سفر جتنے دن کا بھی ہو، آکسفورڈ میں ایک رات کی حاضری لازمی ہوتی ہے۔ مغربی دنیا کے اس عظیم تعلیمی و تہذیبی مرکز میں” آکسفورڈ سنٹر فار اسلامک سٹڈیز “ کے نام سے ایک علمی و تحقیقی ادارہ سالہا سال سے کام کر رہا ہے، جسے سلطان آف برونائی اور برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس سمیت بہت سی عالمی شخصیات کی سرپرستی حاصل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ جنوری ۲۰۰۷ء

پولیس، حساس ادارے کی رپورٹ اور پنجاب حکومت کا مستحسن اقدام

ایک حساس ادارے کی طرف سے لاہور کے پولیس افسروں کے بارے میں خفیہ رپورٹ کے انکشاف پر پولیس کے حلقوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے اور وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے جہاں ایک حساس ادارے کی اس خفیہ رپورٹ کی اشاعت پر آئی جی پنجاب سے جواب طلبی کی ہے، وہاں بدنام قرار دیے جانے والے افسران کو ملازمت سے فارغ کر دینے کا بھی اعلان کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ فروری ۲۰۰۷ء

سالانہ عالمی تبلیغی اجتماع

تبلیغی جماعت کا سالانہ عالمی اجتماع جمعرات کی شام کو رائے ونڈ میں شروع ہو گیا ہے۔ اس سال اجتماع کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے، اس لیے ملک کے مختلف حصوں کے حضرات دو الگ الگ پروگراموں کے مطابق اجتماع میں شریک ہوں گے۔ بعض علاقوں کے حضرات آج بھی رائے ونڈ پہنچ رہے ہیں، ان کا اجتماع اتوار کی صبح تک جاری رہے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ نومبر ۲۰۰۷ء

حیاتِ شہیدؒ کا ایک ورق

مولانا شمس الدینؒ کا قبیلہ حریف آل کہلاتا ہے۔ اس قبیلہ کے جد امجد حضرت حریف شہید رحمۃ اللہ علیہ بخارا سے ہجرت کر کے فورٹ سنڈیمن کے شمال جنوب میں ۳۰ میل دور ایک صحت افزا مقام شین غر میں آئے تھے اور وہیں قیام پذیر ہو گئے تھے۔ یہ ہجرت بھی عجیب حالات میں ہوئی، حریف شہیدؒ کے والد محترم حضرت عبد اللہ رحمۃ اللہ علیہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ مارچ ۱۹۷۵ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter