وزیر تعلیم افغانستان حضرت مولانا عبد الباقی حقانی کے نام مکتوب

افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا، امارت اسلامی افغانستان کی حکومت کے قیام، اقتدار کی پراَمن منتقلی اور آنجناب کے نئے منصبی ذمہ داریاں سنبھالنے پر پاکستان شریعت کونسل کے امیر محترم مولانا قاضی محمد رویس خان ایوبی و دیگر ارکان کی طرف سے پرخلوص مبارکباد قبول فرمائیے۔ یہ دنیا بھر کے اہلِ دین کی دیرینہ آرزوؤں کی تکمیل کی طرف اہم پیش رفت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ ستمبر ۲۰۲۱ء

اساتذہ جامعہ نصرۃ العلوم کے نام مکتوب

گزارش ہے کہ بحمد اللہ تعالٰی جامعہ نصرۃ العلوم میں اسباق کا آغاز ہو چکا ہے۔ اللہ تعالٰی خیر و عافیت کے ساتھ ہم سب کو یہ خدمت توجہ اور تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔ میں اس موقع پر بطور خاص سب اساتذہ سے گزارش کرنا چاہ رہا ہوں کہ کرونا بحران کی وجہ سے کم و بیش دو ماہ کی تاخیر پہلے ہی ہو چکی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ اَگست ۲۰۲۰ء

وفاقی وزیر مذہبی امور صاحبزادہ پیر نور الحق قادری صاحب کے نام مکتوب

یہ معلوم کر کے اطمینان ہوا ہے کہ اسلام آباد میں ہندو مندر کی تعمیر کے حوالہ سے اسلامی نظریاتی کونسل سے باقاعدہ استفسار کیا گیا ہے۔ ہماری رائے میں ایسے مسائل پر دستوری اداروں وفاقی شرعی عدالت اور اسلامی نظریاتی کونسل کے ذریعے ہی کوئی متوازن، قابل قبول اور قابل عمل حل تلاش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ جولائی ۲۰۲۰ء

’’یومِ آزادی اور اس کا پیغام‘‘

چودہ اگست ہمارا یومِ آزادی ہے اور اس موقع پر ملک بھر میں بیانات، تقریبات اور مجالس کا اہتمام کیا جاتا ہے جو آزادی اور قیامِ پاکستان کی عظیم نعمتِ خداوندی پر رب العزت کا شکر ادا کرنے کے ساتھ ساتھ تحریکِ آزادی اور تحریکِ پاکستان کے شہداء اور مجاہدین کی یاد تازہ کرنے کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ ان میں قیامِ پاکستان کے مقصد کی تکمیل کے لیے جدوجہد کا نئے سرے سے عزم کیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ اگست ۲۰۲۴ء

دین کی تبلیغ اور جدید ذرائع ابلاغ

کوہِ طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کے شرف سے نوازا اور فرعون کی طرف یہ پیغام دے کر بھیجا کہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں سرکشی چھوڑ دو اور بنی اسرائیل کو آزادی کے ساتھ اپنے وطن واپس جانے دو تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس موقع پر اللہ رب العزت سے دو درخواستیں کیں۔ ایک یہ کہ میرے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو نبی بنا کر میرا شریک کار بنا دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ جنوری ۲۰۱۳ء

میسج ٹی وی کے عبد المتین اسحاق کا انٹرویو

میرا مکمل نام محمد عبد المتین خان زاہد ہے۔ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ میں بھی یہی ہے۔ ہمارے خاندان میں حروف ابجد کے حساب سے ایک بزرگ نام رکھا کرتے تھے۔ آپ میرے نام محمد عبد المتین خان زاہد کے ابجد کے حساب سے اعداد نکالیں گے تو اس کا مجموعہ ۱۳۶۷ بنے گا، جو ہجری اعتبار سے میرا سن پیدائش ہے۔ ہم سب بہن بھائیوں کے اور میری اولاد کے نام بھی ایسے ہی ہیں۔ اس کے بعد وہ بزرگ فوت ہو گئے اور وہ رسم بدل گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ جولائی ۲۰۲۴ء

حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ گزشتہ نشست میں ہم نے حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمات اور ان کے دینی جدوجہد میں کردار کے حوالے سے بات کی تھی، آج کی گفتگو حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں ہوگی۔ ان دو بزرگوں کا نام جب بھی تاریخ میں آتا ہے تو اکٹھا ہی آتا ہے۔ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کا نام لیں تو حضرت گنگوہی کا تذکرہ ضروری ہو جاتا ہے اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کا نام لیں تو حضرت نانوتویؒ کا تذکرہ بھی ضروری ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ جنوری ۲۰۱۳ء

حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ

بعد الحمد و الصلوٰۃ۔ گزشتہ سال ہماری ماہانہ نشستوں کا یہ عنوان تھا کہ ہم اپنے بزرگوں میں سے کسی بزرگ کا تعارفی انداز میں تذکرہ کرتے تھے۔ بزرگوں سے مراد ہمارے قریب کے زمانے کے بزرگ ہیں، جنہیں ہم عام اصطلاح میں اکابر علماء دیوبند کہتے ہیں۔ ہمارا قریبی نسب نامہ یہی ہے۔ ویسے تو جتنی شاخوں کے جتنے بزرگ گزرے ہیں سب ہمارے بزرگ اور اکابر ہیں, لیکن ہمارے قریبی نسب نامے کے بزرگوں میں سے ایک ایک شخصیت کا ایک ایک نشست میں تذکرے کا پروگرام ہم نے رکھا ہوا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ ستمبر ۲۰۱۳ء

میڈیا کا مثبت کردار

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کا شعبہ ”دعوۃ اکیڈیمی“ اسلام کی دعوت و تبلیغ اور اسلامی علوم کی ترویج و اشاعت کے لیے طویل عرصے سے سرگرم عمل ہے۔ ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ اور ڈاکٹر خالد علویؒ جیسے ممتاز اہلِ علم اپنے اپنے دور میں اس کی سربراہی کا فریضہ سرانجام دے چکے ہیں۔ آج کل صاحبزادہ ڈاکٹر ساجد الرحمٰن اس ذمہ داری کو بحسنِ و خوبی سنبھالے ہوئے ہیں۔ مجھے وقتاً فوقتاً دعوۃ اکیڈیمی کی سرگرمیوں میں شریک ہونے کا موقع ملتا رہتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ مارچ ۲۰۱۳ء

تنقید اور استہزا میں بہت فرق ہے

میں نے وہ فلم نہیں دیکھی جس پر دنیا بھر کے مسلمان سراپا احتجاج ہیں، نہ دیکھنا چاہتا ہوں اور نہ ہی شاید دیکھ سکوں۔ گزشتہ روز ایک عزیز نے پوچھا کہ استاد جی! آپ کو وہ فلم دکھا دوں؟ میں نے کہا کہ برخوردار! میں نہیں دیکھ پاؤں گا، اس لیے کہ ایک عام انسان کی توہین پر بھی میرے دل میں کچھ نہ کچھ کسک ضرور پیدا ہوتی ہے، کائنات کی سب سے محترم شخصیت حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت کا منظر کیسے دیکھ سکوں گا؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ ستمبر ۲۰۱۲ء

سپریم کورٹ کا فیصلہ اور دینی حلقوں کا اضطراب

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج کل پورے ملک میں قادیانیوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ زیرِ بحث ہے۔ تمام دینی جماعتیں اور تمام مکاتب فکر اپنے اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں اور تقریباً یہ سب کے ہاں قدر مشترک ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ فیصلہ دینی تقاضوں اور عوام کی امنگوں کے مطابق نہیں ہے۔ میں سادہ سے لہجے میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ دینی حلقے مطمئن کیوں نہیں ہیں، مسئلہ کیا ہے اور دینی حلقوں کا موقف کیا ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ جولائی ۲۰۲۴ء

’’شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ: شخصیت و افکار‘‘

شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی قدس اللہ العزیز کو متحدہ ہندوستان کی تحریکِ آزادی میں ایک سنگم اور سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جنہوں نے تحریکِ آزادی کا رخ عسکری جدوجہد سے سیاسی جدوجہد کی طرف موڑا، حکومتِ الٰہیہ کے عنوان سے تحریکِ آزادی کا نظریاتی اور تہذیبی ہدف متعین کیا، قوم کے تمام طبقات کو تحریکِ آزادی میں شریک کرنے کی روایت ڈالی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ مئی ۲۰۲۲ء

’’صحابیاتؓ کے اسلوبِ دعوت و تربیت کی روشنی میں پاکستانی خواتین کی کردار سازی‘‘

خواتین کی علمی و تبلیغی سرگرمیاں اسلام کی شاندار تاریخ کا اہم ترین باب ہیں۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں امہات المومنین رضوان اللہ علیہن کو امت کی علمی راہنمائی میں مرکزی مقام حاصل تھا۔ اور نہ صرف قرآن و حدیث کی تشریح و تعبیر میں وہ مراجع کی حیثیت رکھتی تھیں بلکہ فقہ و افتاء کے دائرہ میں بھی ان کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے جس سے امت نے ہر دور میں استفادہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ جولائی ۲۰۲۴ء

ٹیکس کے دو اسلامی اصول

بعد الحمد الصلوٰۃ۔ آج کل پورا ملک مصائب کا شکار ہے لیکن دو تین مسئلے بڑی اہمیت کے ساتھ ہر طبقے اور ماحول میں ڈسکس ہو رہے ہیں۔ ٹیکسوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، بجلی کے بل ناقابل برداشت ہو گئے ہیں اور مہنگائی تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے۔ آج ہمارے ہاں جامع مسجد میں تاجربرادری اور علماء کرام کی میٹنگ تھی ، مشاورت کا آغاز ہوا ہے کہ اس کو روکنے کی، اس پر احتجاج کی کوئی صورت ہو سکتی ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ جولائی ۲۰۲۴ء

اخلاقی ادب اور قیامِ امن کا چیلنج

۱۲ اپریل جمعرات کو پنجاب یونیورسٹی کے شیخ زاید اسلامک سینٹر میں عالمی رابطہ ادب اسلامی کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے ایک روزہ قومی سیمینار میں حاضری کی سعادت حاصل ہوئی، جو ”اخلاقی ادب اور قیامِ امن کا چیلنج“ کے عنوان پر منعقد ہوا اور جس کی مختلف نشستوں سے سرکردہ علمائے کرام اور اربابِ فکر و دانش نے خطاب کیا۔ صبح نو بجے سے شام ساڑھے چھ بجے تک سیمینار کی مختلف نشستیں ہوئیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ اپریل ۲۰۱۲ء

اسلامی سزاؤں کی منسوخی مناسب نہیں

وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا ہے کہ پاکستان میں سزائے موت ختم کی جا رہی ہے اور اس کے لیے مسودۂ قانون کی تیاری آخری مراحل میں ہے۔ جرائم کی سزاؤں میں سے سزائے موت کو ختم کر دینے کی مہم ایک عرصے سے عالمی سطح پر جاری ہے اور اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی بھی ایک قرارداد کے ذریعے سفارش کر چکی ہے کہ سزائے موت کو سرے سے سزاؤں کے زمرے سے نکال دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ مئی ۲۰۱۲ء

مولانا غلام ربانیؒ / مولانا مفتی علی محمدؒ / مولانا محمد متین ہاشمیؒ / مولانا ظفر احمد انصاریؒ

حضرت مولانا غلام ربانی صاحبؒ جمعیۃ علماء اسلام کے سرکردہ زعماء میں سے تھے۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے شاگرد اور رئیس الموحدین حضرت مولانا حسین علیؒ آف واں بھچراں کے مرید تھے۔ دونوں بزرگوں کے ساتھ انہیں والہانہ تعلق تھا۔ ایک عرصہ سے رحیم یار خان کی مکی مسجد میں خطابت کے فرائض سرانجام دے رہے تھے اور دارالعلوم حسینیہ کے نام سے ایک دینی ادارہ کے بھی سربراہ تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۱۹۹۲ء

تعارف و تبصرہ

حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ تعالیٰ برصغیر کی اُن گنی چنی دینی و علمی شخصیات میں سے ہیں جن کا وجود برصغیر میں مسلمانوں کے دورِ زوال و انحطاط میں ان کے ایمان کا سہارا بنا، اور جن کا علمی و روحانی فیض رہتی دنیا تک اہلِ علم کے لیے استفادہ کا مرکز رہے گا۔ حضرت شاہ صاحبؒ اپنے دور کے عظیم محدث، فقیہ، متکلم، فلسفی اور دانشور تھے جن کے بارے میں علامہ محمد اقبال مرحوم کا یہ کہنا ہے کہ ’’اسلام کی ادھر کی پانچ سو سالہ تاریخ شاہ صاحبؒ کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۱۹۹۲ء

تعارف و تبصرہ

’’مناقب صحابہ کرامؓ‘‘: ماہنامہ ’’الہلال‘‘ مانچسٹر برطانیہ کے مدیر جناب حافظ محمد اقبال رنگونی نے حضرات صحابہ کرامؓ کے مناقب و فضائل کے مختلف پہلوؤں پر ممتاز علماء کرام کے چیدہ چیدہ مضامین کو یکجا شائع کیا ہے۔ اس موضوع پر یہ ایک قابل قدر ذخیرہ ہے جو سوا دو سو صفحات پر مشتمل ہے اور معیاری کتابت و طباعت اور عمدہ جلد کے ساتھ مزین ہے۔ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۱۹۹۲ء

شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ

عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کے سربراہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد مدظلہ العالی نے گزشتہ روز گوجرانوالہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک بھر میں نئے شناختی کارڈوں کے اجراء کے موقع پر شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کا اضافہ کیا جائے اور مسلمانوں اور غیر مسلموں کے شناختی کارڈوں کا رنگ الگ الگ کر دیا جائے۔ مکمل تحریر

جنوری ۱۹۹۲ء

بہبودِ آبادی اور اسلام

۲۶ دسمبر کو گوجرانوالہ کے ایک ہوٹل میں محکمہ بہبود آبادی پنجاب کے زیر اہتمام علماء کرام کا سیمینار ہوا، جس میں مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام نے شرکت کی۔ محکمہ بہبود آبادی کے صوبائی سیکرٹری جناب الطاف ایزد خان نے صدارت کی، ان کے ساتھ محکمہ کے صوبائی ڈائریکٹر جنرل قیصر سلیم صاحب مہمان خصوصی تھے اور ڈسٹرکٹ ویلفیئر آفیسر گوجرانوالہ جناب محمد شعیب اس سیمینار کے منتظم تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ و ۲۹ دسمبر ۲۰۱۲ء

سوسائٹی سے لاتعلق ہو جانا دین نہیں ہے

جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں سہ ماہی امتحانات کا آغاز ہو چکا ہے اور میں حسبِ معمول پہلے پرچے کی نگرانی میں شریک ہو کر ہفتہ کی شام کو کراچی پہنچ گیا ہوں۔ حسنِ اتفاق سے اسی شام کو مولانا فداء الرحمٰن درخواستی امیر پاکستان شریعت کونسل کے پوتے کا ولیمہ تھا، جس میں شرکت کی مجھے بھی سعادت حاصل ہو گئی۔ مولانا موصوف کے بیٹے مولانا قاری حسین احمد درخواستی اور مولانا رشید احمد درخواستی بھائی ہونے کے ساتھ ساتھ سمدھی بھی ہو گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ دسمبر ۲۰۱۲ء

مغرب تو ہماری پچ پر قابض ہے

گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ کے شعبہ علوم اسلامیہ نے ۱۲ مئی کو ”مغربی فکر و فلسفہ کا چیلنج اور مسلمانوں کی ذمہ داریاں“ کے عنوان پر ایک سیمینار کا اہتمام کیا، جس کی صدارت شعبہ کے صدر پروفیسر چودھری محمد شریف نے کی اور اس سے گفٹ یونیورسٹی کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر طاہر اقبال کے علاوہ پروفیسر ڈاکٹر حماد لکھوی، پروفیسر ڈاکٹر مدثر احمد، پروفیسر زاہد احمد شیخ، پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک اور راقم الحروف نے بھی خطاب کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ مئی ۲۰۱۲ء

بخاری شریف اور دینی مدارس

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ابھی آپ کے سامنے دورۂ حدیث کے ایک طالب علم نے بخاری شریف کا آخری باب اور حدیث پڑھی ہے۔ میں سب سے پہلے بخاری شریف مکمل کرنے والے طلبہ اور ان کے اساتذہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے بخاری شریف پڑھنے اور تکمیل تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائی۔ اس حدیث کے پڑھنے کے ساتھ ہی آپ حضرات رسمی طور پر علماء کرام کی صف میں شامل ہو جائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ اکتوبر ۲۰۰۲ء

حضرت شاہ ولی اللہؒ اور ان کا فکر و فلسفہ

لاہور میں ”شاہ ولی اللہ سوسائٹی“ کا احیاء اور اس کی سرگرمیوں کا آغاز فکری و نظریاتی حلقوں کے لیے خوش آئند بات ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے افکار و تعلیمات کے فروغ کے لیے ”شاہ ولی اللہ سوسائٹی“ مفکرِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ نے قائم کی تھی اور ایک عرصے تک ان کے تلامذہ اس فورم پر حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فکر و فلسفے کی تبلیغ و اشاعت کے لیے سرگرم عمل رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ مئی ۲۰۱۲ء

کراچی کا تازہ سفر

کراچی میں ایک ہفتہ گزار کر گوجرانوالہ واپس پہنچ گیا ہوں۔ کراچی سمندر کے کنارے پر ہے، لیکن خود بھی انسانی آبادی کا ایک وسیع سمندر ہے۔ مجھے کراچی آتے جاتے تین عشروں سے زیادہ وقت گزر گیا ہے اور اس کے لیے بیسیوں بار کا جملہ بہت کم معلوم ہوتا ہے۔ پہلی بار ۱۹۷۷ء کی تحریک نظامِ مصطفی کے بعد کراچی جانے کا اتفاق ہوا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ دسمبر ۲۰۱۲ء

حضرت والد محترمؒ کا کمرہ

حضرت والد محترم رحمہ اللہ کے دور سے معمول چلا آ رہا ہے کہ بہت زیادہ مصروفیت نہ ہو تو جمعۃ المبارک کے روز مغرب کی نماز گکھڑ میں حضرت والد صاحب کی مسجد میں ادا کرتا ہوں۔ اس کے بعد مختصر درس ہوتا ہے، بہت سے دوستوں سے ملاقات ہو جاتی ہے اور اس طرح اپنے آبائی شہر کے احوال سے بھی باخبر رہتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ اپریل ۲۰۱۲ء

’’تجلیاتِ قرآن‘‘

مولانا منیر احمد معاویہ جامعہ عثمانیہ اڈا تلونڈی تحصیل چونیاں نے قرآن کریم کی عظمت و فضیلت اور برکت و ثواب کے مختلف پہلوؤں پر معلومات کا ایک اچھا ذخیرہ ’’تجلیاتِ قرآن‘‘ کے عنوان سے کتابی صورت میں مرتب کیا ہے اور قرانی تعلیمات کو عام فہم انداز میں پیش کرنے کی اچھی کوشش کی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو ان کے لیے ذخیرۂ آخرت بنائیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس سے نفع اٹھانے کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔ مکمل تحریر

۳ فروری ۲۰۱۶ء

مولانا منیر احمد معاویہ کے خطبات

مولانا منیر احمد معاویہ جامعہ عثمانیہ اڈا تلونڈی تحصیل چونیاں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدحت و منقبت کے حوالہ سے اپنے مختلف خطبات میں عقیدت و محبت کا اظہار کیا ہے جو ان کے حسنِ ذوق کی علامت ہیں۔ یہ خطبات تین جلدوں میں کتابی صورت میں شائع ہوئے ہیں جو کم و بیش نو سو صفحات پر مشتمل ہیں، اصحابِ ذوق اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ فروری ۲۰۱۶ء

دینی مدارس کی جہدِ مسلسل اور درپیش چیلنجز

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ہم نے الشریعہ اکیڈمی کے نام سے یہ ٹھکانہ بنا رکھا ہے جس میں چھوٹے موٹے کام کرتے رہتے ہیں۔ ہمارا بنیادی کام یہ ہے کہ دینی حلقوں میں آج کے عصری تقاضوں کا احساس اجاگر کرنا اور جہاں تک ہو سکے بریفنگ مہیا کرنا۔ آج کے عصری تقاضے کیا ہیں، دینی حوالے سے آج کی ہماری ضروریات کیا ہیں اور ہم نے ان کو کیسے پورا کرنا ہے؟ ان تقاضوں کی نشاندہی، احساس اور ہلکی پھلکی بریفنگ ہم نے اپنے کام کو اس دائرے میں محدود کر رکھا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ نومبر ۲۰۱۳ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter