غیر سودی بینکاری کی عالمی پیشرفت
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ سود کے حوالے سے ملکی صورتحال تو یہ ہے کہ تفصیلی فیصلے موجود ہیں اور کوئی ابہام نہیں ہے لیکن عملدرآمد کے حوالے سے اب تک جو ہوا ہے وہ آپ کے سامنے ہے۔ سودی نظام کی عالمی صورتحال بھی ہمارے سامنے رہنی چاہیے۔ اب تو عالمی سطح کے معاشی ماہرین بھی یہ کہتے ہیں کہ سودی نظام انسانی معاشرے کے لیے فائدے کی نہیں بلکہ نقصان کی چیز ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’اسوۂ سرورِ کونین ﷺ‘‘
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ سرورِ کائنات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ ایک ایسا بحرِ ناپیدا کنار ہے جس کی وسعتوں اور گہرائی کو آج تک نہیں ماپا جا سکا، اور چونکہ اسوۂ نبوی علیٰ صاحبہا التحیۃ والسلام انسانی سماج کی قیامت تک ہمہ نوع ضروریات کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے جن کا حل وقت اور ضرورت کے ساتھ ساتھ سامنے آتا رہے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’عصرِ حاضر میں نو مسلمین کو درپیش سماجی، معاشی، قانونی مسائل اور ان کا حل‘‘
دنیا کے ہر انسان تک دینِ اسلام کی دعوت پہنچانا اور اسے اسلام قبول کرنے کی ترغیب دینا ہماری دینی و ملّی ذمہ داری ہے اور اسلام کے عالمگیر مذہب ہونے کا منطقی تقاضہ ہے، مگر آج کی گلوبل سوسائٹی میں مختلف ثقافتوں اور تہذیبوں کے مسلسل اختلاط اور شہری و انسانی حقوق کے نئے تصورات نے جو مسائل کھڑے کر دیے ہیں، ان سے غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت کا عمل بہت سی پیچیدگیوں کا شکار ہو گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ناموس رسالتؐ کے تحفظ کا قانون: چند ضروری گزارشات
ناموس رسالتؐ کا قانون ایک بار پھر بعض حلقوں میں زیربحث ہے اور گزشتہ دنوں اسلام آباد میں اس قانون کے تحت گرفتار بہت سے خاندانوں نے متاثرین کے عنوان سے جمع ہو کر یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ان کے عزیزوں کو توہین رسالتؐ کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے اور وہ ان کے بقول بے گناہ ہیں اس لیے ان کے کیسوں پر نظرثانی کی جائے۔ اس کے ساتھ اس سلسلہ میں ان کی طرف سے ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’صوفیائے کرام اور اصلاحِ امت‘‘
تصوف و سلوک دینِ اسلام کا اہم شعبہ ہے جس کے دائرہ میں اولیائے امت رحمہم اللہ تعالیٰ نے قلب و نظر کی طہارت اور اعمالِ صالحہ کو بہتر سے بہتر بنانے کے بارے میں قرآن و سنت کی تعلیمات اور جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کو عملی طور پر منظم کیا ہے اور امتِ مسلمہ کی راہنمائی فرمائی ہے۔ اس شعبہ کے ساتھ میرا تعلق ہمیشہ سے کچھ اس نوعیت کا رہا ہے کہ ’’احب الصالحین و لست منہم، لعل اللہ یرزقنی صلاحاً‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘
جامعہ فتحیہ اچھرہ لاہور ہمارے خطے کے قدیم ترین دینی اداروں میں سے ایک ہے جو ۱۸۷۵ء سے دینی تعلیم و تدریس اور عوامی اصلاح و ارشاد کی مساعی جمیلہ میں مصروف چلا آرہا ہے اور مختلف اوقات میں جہاں مشاہیر اہلِ علم و فضل تعلیمی خدمات دیتے رہے ہیں وہاں بہت سی علمی شخصیات نے اس سے استفادہ کیا ہے ۔ یہ ادارہ اپنی تاریخ کے حوالے سے دارالعلوم دیوبند، مظاہر علوم سہارنپور، مدرسہ شاہی مراد آباد ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جے ٹی آر میڈیا ہاؤس کے مفتی عبد المنعم فائز کا انٹرویو
میرا تو بچپن سے ہی کتابوں سے واسطہ ہے۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر قدس اللہ سرہ العزیز برصغیر کے بڑے علماء میں سے ہیں، ان کی تین درجن کے لگ بھگ بڑی علمی و تحقیقی کتابیں ہیں۔ وہ اپنے کمرے میں بیٹھ کر لکھا کرتے تھے، پڑھا کرتے تھے، ان کے اردگرد کتابیں پھیلی ہوئی ہوتی تھیں، ہم بچے تھے تو ہمارا ہوش سنبھالتے ہی کتاب سے تعارف ہوا اور ہم کتاب سے مانوس ہو گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلامی تعلیمات میں حقوق کا جامع تصور
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ انسانی حقوق یا ہیومن رائٹس آج کی دنیا کا ایک بہت اہم موضوع ہے جس پر پوری دنیا میں ہر سطح پر ہر دائرے میں گفتگو ہو رہی ہے اور اسی کے گرد ساری دنیا کے معاملات اور فیصلے گھومتے ہیں۔ آپ کسی بین الاقوامی فورم میں چلے جائیں، کسی علاقے میں چلے جائیں، کسی ماحول میں چلے جائیں تو ہیومن رائٹس، انسانی حقوق پر بات ہوگی، جبکہ عالمی مسائل اور عالمی معاملات تو طے ہی اس دائرے میں ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اقرأ روضۃ الأطفال ٹرسٹ کی تعلیمی پیشرفت
گیارہ نومبر کو پسرور میں اقرأ روضۃ الأطفال ٹرسٹ کے سالانہ پروگرام میں شرکت کا موقع ملا اور اس کے تعلیمی سرگرمیوں میں دن بدن توسیع اور تنوع کا ماحول دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی۔ یہ ادارہ ملک بھر میں قرآن کریم حفظ کے ساتھ عصری تعلیم کو شامل کرنے اور اعلیٰ معیار پر اس کے انتظامات کے جذبہ سے حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکیؒ اور حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰنؒ کی سرپرستی میں شروع ہوا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اعمالِ صالحہ کی حفاظت کی ضرورت
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ماشاء اللہ دروس کا سلسلہ اور بہاریں جاری ہیں، اللہ تعالیٰ آپ حضرات کی اس محنت کو قبول فرمائیں، دنیا اور آخرت کی برکات نصیب فرمائیں، اور ہمارے بابا جی حضرت مولانا حافظ گلزار احمد آزاد صاحب کا سایہ ہمارے سروں پر سلامت رکھیں، اللہ پاک قبولیت اور برکات سے مسلسل بہرہ ور فرمائیں، آمین۔ آج مجھے گفتگو کرنی ہے کہ نیکیاں کمانا بھی ضروری ہے اور ان کو بچانا بھی ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تحریکِ خلافت اور معاہدہ لوزان
بعد الحمد والصلوٰۃ تحریکِ خلافت کو تقریباً سو سال ہو گیا ہے۔ ۱۹۱۶ء تا ۱۹۲۰ء کے لگ بھگ ایک بڑی تحریک برصغیر میں کلکتہ سے پشاور تک تحریکِ خلافت کے عنوان سے بپا ہوئی۔ یہ ہندوستان میں آزادی کی تحریکات میں سب سے پہلی سیاسی تحریک تھی۔ اس سے پہلے عسکری، فوجی اور جہادی تحریکات رہی ہیں۔ شہدائے بالاکوٹؒ کی تحریک، حاجی شریعت اللہؒ کی بنگال کی فرائضی تحریک، ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’درس حجۃ اللہ البالغہ‘‘
امام الہند حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ کے افکار و فلسفہ کی تعلیم و اشاعت گزشتہ نصف صدی سے میری تدریسی اور تعلیمی سرگرمیوں کا محور چلا آرہا ہے، جو مجھے مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتیؒ سے ورثہ میں ملا ہے۔ اور اس میں دورۂ حدیث کے طلباء کو ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کے کچھ ابواب پڑھانا بھی شامل ہے، جو بحمداللہ تسلسل کے ساتھ جاری ہے اور طلباء کو جو بھی فائدہ ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلامی نظریاتی کونسل اور وفاقی شرعی عدالت
پاکستان جب بنا تو ’’قرارداد مقاصد‘‘ میں یہ طے کیا گیا کہ حاکمیتِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہوگی، حکومت عوام کے منتخب نمائندے کریں گے، اور وہ قرآن و سنت کے پابند ہوں گے۔ اس سے پارلیمنٹ پابند ہو گئی کہ وہ قرآن و سنت کے مطابق فیصلے کرے گی۔ اس وقت یہ مسئلہ پیش آیا کہ پارلیمنٹ تو قرآن و سنت کے علماء پر مشتمل نہیں ہوگی تو یہ فیصلہ کیسے ہوگا کہ کوئی پالیسی یا قانون قرآن و سنت کے مطابق ہے یا نہیں ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سودی نظام کے خلاف جدوجہد کا نیا مرحلہ
حالیہ آئینی ترامیم میں سودی نظام کے خاتمہ کے لیے ۳۱ دسمبر ۲۰۲۷ء آخری تاریخ طے ہونے پر ملک بھر کے دینی و عوامی حلقوں میں مسرت کا اظہار کیا گیا ہے اور گوجرانوالہ کے مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام نے ایک مشاورت میں طے کیا ہے کہ اس حوالہ سے اب سودی نظام کے خلاف دینی و عوامی جدوجہد کو ازسرنو منظم کرنے کی ضرورت ہے، جس پر ۳۱ اکتوبر کو مرکز عثمان اہل حدیث کھیالی گوجرانوالہ میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سودی نظام قرآن و سنت کی روشنی میں
پاکستان بننے کے بعد ہی سود کے خاتمے کی بات شروع ہو گئی تھی اور ۱۹۷۳ء کا دستور جب نافذ ہوا تھا تو اس میں یہ ضمانت دی گئی تھی کہ حکومت جلد از جلد سودی نظام ختم کر کے اس لعنت سے ملک کو نجات دلائے گی۔ اس کے بعد پچاس سال گزر گئے اور عدالتی کاروائیاں، سیاسی جدوجہد اور جلسے جلوس سب کچھ ہوتا آ رہا ہے لیکن اس ’’جلد از جلد‘‘ کا دائرہ طے نہیں ہو رہا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
چھبیسویں دستوری ترمیم اور دینی حلقوں کے مطالبات
پارلیمنٹ میں دستورِ پاکستان کی ۲۶ویں ترمیم منظور ہوئی ہے، اس پر ملک بھر میں ہر سطح پر بحث جاری ہے۔ چونکہ اس میں بعض باتیں شریعت اور نفاذِ اسلام سے متعلق ہیں اس لیے دینی حلقے بھی اس پر مسلسل مکالمہ و مباحثہ کر رہے ہیں۔ یہ ترامیم جیسے بھی ہوئی ہیں یہ ایک الگ موضوع ہے، میں اس بحث میں نہیں پڑتا، لیکن ان کے ذریعے دینی ماحول میں کیا فرق پڑا ہےاور اب آئندہ دینی جدوجہد کرنے والوں نے کیا کرنا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قادیانیوں کے پھیلائے دو مغالطوں کا جائزہ
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ قادیانی ہر دور میں مغالطوں سے کام لیتے آئے ہیں، مغالطہ دینا ان کا خاص فن ہے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت میں نبوت کے جھوٹے دعویداروں کی پیشگوئی فرمائی تھی کہ میری امت میں تیس اور ایک روایت کے مطابق ستر لوگ ایسے پیدا ہوں گے جو نبوت کا دعویٰ کریں گے۔ اور ساتھ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان جھوٹے مدعیانِ نبوت کے دو وصف بیان کیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عثمانیہ میڈیا آفیشل کا انٹرویو
وقف املاک ایکٹ جو اسلام آباد کی حدود کے دائرے میں پارلیمنٹ نے پچھلے دنوں منظور کیا ہے اور نافذ ہو گیا ہے، اس کے بارے میں ملک بھر میں ہر سطح پر اور ہر دائرے میں تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ دنوں اسلام آباد میں مختلف دینی جماعتوں کے اور وفاقوں کے نمائندوں کا ایک بہت بڑا کنونشن ہوا ہے، میں بھی اس میں شریک تھا اس میں بھی اس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس کو اصولی طور پر مسترد کرنے کا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
درسِ قرآن ڈاٹ کام کے انور غازی کا انٹرویو
میں درس قرآن ڈاٹ کام کا شکریہ ادا کروں گا کہ مجھے آج کی اس محفل میں گفتگو اور کچھ عرض کرنے کا موقع فراہم کیا۔ میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ میں نے عملی سیاست کبھی بھی نہیں چھوڑی، آج بھی نہیں چھوڑی، صرف اس کا مورچہ بدلا ہے۔ میں پچیس سال، تقریباً ربع صدی حضرت مولانا مفتی محمود، حضرت مولانا غلام غوث ہزاوی، نوابزادہ نصر اللہ خان، حضرت مولانا شاہ احمد نورانی اور حضرت مولانا عبید اللہ انور رحمہم اللہ تعالیٰ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
علماء کرام کے دروس قرآن
حضرت مولانا حافظ گلزار احمد آزاد ہمارے شہر کے باذوق اور باہمت علماء کرام میں سے ہیں جو گزشتہ نصف صدی سے تعلیمی، فکری اور تحریکی میدانوں میں مسلسل سرگرم عمل ہیں۔ وہ جامعہ رشیدیہ ساہیوال اور جامعۃ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے فیض یافتہ اور دونوں اداروں کے مسلکی اور تحریکی مزاج و ذوق کا امتزاج ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خلافت اسلامیہ اور آج کے حالات و ضروریات
اسلام کے سیاسی نظام کا عنوان ’’خلافت‘‘ ہے کہ حکمران فرد ہو یا کوئی طبقہ و جماعت، وہ حکمرانی میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت کرتا ہے اور احکام و قوانین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات و فرامین کا پابند ہوتا ہے۔ فقہاء کرامؒ نے ہر دور میں اس کے اصول و قواعد کی اس وقت کی ضروریات کے مطابق وضاحت کی ہے اور آج بھی اس پر بحث و تمحیص جاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دعا کی قبولیت کا اولین تقاضہ
امیر المومنین حضرت عمر بن خطابؓ جب زخمی ہوئے اور علاج معالجہ کے بعد طبیبوں نے کہا کہ حضرت بظاہر کوئی امکان نہیں ہے، آپ نے جو وصیت وغیرہ کرنی ہے وہ کر لیں۔ دوستوں نے کہا، امیر المومنین حضرت صدیق اکبرؓ نے اپنی جگہ آپ کو نامزد کیا تھا تو امت نے مان لیا تھا، آپ بھی کسی کو نامزد کر لیں، کسی کا اعلان فرما دیں کہ میرے بعد وہ امیر ہوگا تو لوگ مان لیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
میسج ٹی وی کے محمد بلال فاروقی کا انٹرویو
قادیانی حضرات کے ساتھ ہمارا بنیادی تنازعہ مرزا غلام احمد قادیانی کے ان دعاوی سے پیدا ہوا تھا جب انہوں نے پہلے تو ایک مسلمان مناظر کے طور پر ہندوؤں، عیسائیوں اور آریہ سماج سے مناظروں کا سلسلہ شروع کیا اور خود کو اسلام کے ایک متکلم کے طور پر پیش کیا، اپنا ایک حلقہ بنایا۔ لیکن آہستہ آہستہ جب وہ دعووں کی طرف بڑھنے لگے کہ میں مہدی ہوں، میں مسیح موعود ہوں، میں عیسیٰ ثانی ہوں، میں پیغمبر ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔ یہ بتدریج دعوے کیے، تو اس سے مسلمان علماء تشویش کا شکار ہونے لگے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مجوزہ دستوری ترامیم اور قرآن و سنت کی بالادستی کے ناگزیر تقاضے
قادیانیت کے حوالہ سے مبارک ثانی کیس پر سپریم کورٹ آف پاکستان کا تفصیلی فیصلہ سامنے آنے کے بعد فضا بحمد اللہ تعالیٰ خاصی حد تک صاف ہو گئی ہے اور اس فیصلہ پر مختلف مکاتب فکر کے اکابر علماء کرام کی طرف سے اطمینان کے اظہار نے کچھ ذہنوں میں پائے جانے والے تحفظات اور ابہامات دور کر دیے ہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدۂ شکر ادا کرتے ہوئے ہم سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ صادر کرنے والے جسٹس صاحبان بالخصوص چیف جسٹس جناب قاضی فائز عیسیٰ کو ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اہلِ بیتؓ اور حضرات حسنین کریمینؓ کے ساتھ ہماری عقیدت و محبت
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ گزشتہ دو نشستوں میں ہم نے امیر المومنین سیدنا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور امیر المومنین حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے مختصر بات کی تھی۔ آج ہم حضرات حسنین کریمین سیدنا حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے گفتگو کرنا چاہیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قادیانی جماعت، حکومت اور علماء کرام کی خدمت میں چند گزارشات
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ حضرت مولانا قاری سیف اللہ سیفی صاحب یاد فرماتے ہیں تو حاضری ہو جاتی ہے، علماء کرام کی زیارت و ملاقات ہوتی ہے اور ایک اچھے ماحول میں کچھ وقت گزر جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارا مل بیٹھنا قبول فرمائیں، اس ادارے اور اس کے پروگرام میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائیں، اور یہ چند لمحے جو ملے ہیں، کچھ مقصد کی باتیں کہنے سننے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
وفاقی وزیر مذہبی امور جناب انیق احمد کے نام مکتوب
محترمی جناب انیق احمد صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟ وفاقی وزیر مذہبی امور کی ذمہ داریاں سنبھالنے پر میری طرف سے ہدیۂ تبریک قبول فرمائیں۔ اللہ پاک آپ کو ان ذمہ داریوں سے بہتر انداز میں عہدہ برآ ہونے کی توفیق دیں اور ملک و قوم کی زیادہ سے زیادہ خدمت کرنے کی سعادت سے بہرہ ور فرمائیں، آمین یا رب العالمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا عبد الجبار سلفی صاحب کے نام مکتوب
آپ نے گزشتہ جمعہ کے روز گکھڑ کے اجتماع میں حضرت مولانا قاضی مظہر حسین نور اللہ مرقدہ کے مکاتیب کا مجموعہ عنایت کیا تھا، بے حد شکریہ! آج ان کے آثار و تبرکات پر ایک نظر ڈالنے کا موقع ملا، بہت خوشی اور اطمینان ہوا، بزرگوں کے ارشادات و افادات کو محفوظ رکھنا اور انہیں عوام اور علماء کرام کے سامنے استفادہ کے لیے پیش کرنا بہت بڑی دینی و علمی خدمت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا محمد سفیان قاسمی کے نام مکتوب
حضرت مولانا محمد سالم قاسمی نور اللہ مرقدہ کی وفات حسرت آیات پر آپ سے براہ راست رابطہ نہیں ہو سکا تھا، یہ ہم سب کا مشترکہ صدمہ ہے اور ہم سب ایک دوسرے کی تعزیت کے مستحق ہیں۔ یقیناً یہ دور ’’یقبض العلم بقبض العلماء‘‘ کا منظر پیش کر رہا ہے اور اہلِ علم ایک ایک کر کے ہم سے رخصت ہوتے جا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’اسلام اور اقلیتیں: پاکستانی تناظر‘‘
پروفیسر ڈاکٹر محمد ریاض محمود صاحب الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے پرانے رفقاء میں سے ہیں اور صاحبِ فکر و نظر استاذ ہیں۔ انہوں نے اسلامی ریاست میں غیر مسلم اقلیتوں کے حقوق و معاملات کا پاکستان کے تناظر میں جائزہ لیا ہے اور ایک ضخیم مقالہ میں مشکلات و مسائل پر اپنے نقطۂ نظر کا اظہار کیا ہے جس میں انہیں محترم خورشید احمد ندیم صاحب کی راہنمائی حاصل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 9
- 10
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »