بن کعبؓ اسٹوڈیو کے محمد حنظلہ حسان کا انٹرویو

میں گفتگو کا آغاز کروں گا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس ارشاد گرامی سے، جس میں انہوں نے فرمایا کہ ”من کان منکم مستنا فلیستن بمن قد مات“ ، ایک بات تو یہ فرمائی، جو آدمی کسی کو مقتدا بنانا چاہتا ہے نا، جس کو آئیڈیل کہتے ہیں ہمارے دور میں، آئیڈیل جس کو ہم کہتے ہیں، وہ جو فوت ہو چکا ہے نا، اس کو بنائے۔ ”فان الحی لا تؤمن علیہ الفتنۃ“ زندہ آدمی کسی وقت بھی فتنے کا شکار ہو سکتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ اپریل ۲۰۲۴ء

جامعۃ الرشید میڈیا ہاؤس کے محمد ندیم کا انٹرویو

جواب: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ سب سے پہلے تو میں جامعۃ الرشید میڈیا ہاؤس کا شکر گزار ہوں کہ اس ملاقات کا اور چند باتوں کا موقع فراہم کیا۔ گزارش یہ ہے کہ اختلاف کے تو ہمیشہ ضابطے، اصول، آداب ملحوظ رہے ہیں۔ جب بھی اختلاف کو اختلاف سمجھا گیا ہے اور اختلاف کے دائرے میں علمی انداز میں باہمی احترام کے ساتھ اس کا اظہار کیا گیا ہے تو وہ رحمت ثابت ہوا ہے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ دسمبر ۲۰۲۲ء

متفرق رپورٹس

۲۰۲۸ء تک سودی نظام کے خاتمہ کے اعلان کا خیرمقدم: تحریکِ انسدادِ سود پاکستان کی تنظیمِ نو مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں شبانِ ختمِ نبوت کے زیراہتمام منعقد ہونے والے کل جماعتی اجلاس میں تحریکِ انسدادِ سود پاکستان کے کنوینر مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ نئی آئینی ترمیم میں سودی نظام کے خاتمہ کے لیے ۳۱ دسمبر ۲۰۲۷ء کو آخری تاریخ طے ہونے پر ہمیں خوشی ہے کہ دستوری طور پر حکومت کو پابند کر دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم جنوری ۲۰۲۵ء

صحابہ کرامؓ کے طبعی ذوق اور میلان

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم میں مختلف ذوق ودیعت فرمائے تھے جو آگے چل کر امت میں مستقل طبقات کی بنیاد بنے ہیں۔ آج جو دین کے مختلف بیسیوں شعبے نظر آ رہے ہیں، کوئی کسی شعبے میں کام کر رہا ہے اور کوئی کسی شعبے میں، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تکوینی تقسیم صحابہ کرامؓ کے دور میں ہو گئی تھی۔ اور صحابہ کرامؓ میں سے مختلف حضرات کے مختلف ذوق آگے چلتے چلتے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۶ء

میسج ٹی وی کے محمد بلال فاروقی کا انٹرویو

پہلی بات تو یہ ہے کہ تمام حملوں کے پیچھے مسلمان نہیں ہیں۔ میں یہاں پاپائے روم کی بات دہرانا چاہوں گا، پوپ فرانسس سے پوچھا گیا کہ دہشت گردی اور اسلام کا کیا تعلق ہے؟ انہوں نے کہا دہشت گرد ہر مذہب میں موجود ہیں اور جہاں موقع ملتا ہے وہاں اظہار کرتے ہیں، اس لیے اسلام اور دہشت گردی کو جوڑنا ٹھیک نہیں ہے۔ اس حوالے سے میرا جواب بھی وہی ہے جو پاپائے روم کا ہے، پوپ فرانسس کا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ اگست ۲۰۱۶ء

دی پاکستان ڈیلی کے قمر زمان بھٹی کا انٹرویو

گزارش یہ ہے کہ امارتِ اسلامی افغانستان جب سے قائم ہوئی ہے الحمد للہ انہوں نے افغانستان میں امن بھی قائم کیا ہے اور افغانستان میں تمام طبقوں کو اعتماد میں لینے کی کوشش بھی کر رہے ہیں، ان کی پوری کوشش ہے اور ان کا اعلان بھی ہے کہ دنیا کے ساتھ چلیں گے۔ لیکن گزارش یہ ہے کہ ان کے ساتھ اس وقت ہمارے خیال سے ناانصافی ہو رہی ہے: ایک تو امریکہ جب گیا ہے تو آٹھ مہینے کی تنخواہیں ان کے کھاتے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ جنوری ۲۰۲۲ء

اسلامی نظام کی برکات

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ میں مبارک باد دیتا ہوں سب سے پہلے ان طلباء کو جو درس نظامی کی تکمیل کر رہے ہیں اور دعاگو ہوں۔ یہاں پہلے بھی کئی بار حاضری کا اتفاق ہوا ہے لیکن وہ چہرے اب مجھے نظر نہیں آ رہے۔ حضرت مولانا قاری سعید الرحمٰن، مولانا محمد صابر، مولانا عبد السلام رحمہم اللہ تعالیٰ، یہ ان کا صدقہ جاریہ ہے، اللہ تعالیٰ قیامت تک اس سلسلہ کو جاری رکھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ مئی ۲۰۱۳ء

علم کا ذوق اور استاذ کا ادب

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور حضرت میمونہؓ کے بھانجے تھے۔ ان کا لقب ترجمان القرآن اور رأس المفسرین تھا۔ چودہ سال کی عمر میں مفسرین کے سردار بن گئے تھے۔ حضرت عمرؓ کے زمانے میں اکابر صحابہ کے ساتھ مشورے میں بیٹھتے تھے، اس وقت ان کی عمر اکیس سال تھی۔ امام بخاریؓ نے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ ان کو بچہ سمجھ کر کچھ بزرگوں نے محسوس کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اپریل ۱۹۹۹ء

شرعی اجتہاد اور صوابدیدی اجتہاد

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ یہاں کبھی کبھی حاضری ہوتی ہے اور میں اس نیت سے آتا ہوں کہ حضرت مولانا طارق جمیل صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے ساتھ نسبت تازہ ہو جاتی ہے، یہاں کے اساتذہ سے ملاقات اور طلبہ کی زیارت ہو جاتی ہے اور کچھ باتیں عرض کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ اساتذہ کرام کی مہربانی ہے کہ وہ یاد کراتے رہتے ہیں کہ آنا ہے۔ کوئی متعین ایجنڈا نہیں ہے، کسی نہ کسی موضوع پر آج کے حالات کے تناظر میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ ستمبر ۲۰۲۴ء

تحریکِ آزادی اور تحریکِ پاکستان

انگریزوں کے قبضے سے پہلے جنوبی ایشیا میں محمد بن قاسم، محمود غزنوی، شہاب الدین غوری، شمس الدین التمش، ظہیر الدین بابر اور احمد شاہ ابدالی رحمہم اللہ تعالیٰ حکمران رہے۔ غزنوی ، تغلق اور مغلوں کے دور میں مسلمانوں کی حکومت ہندوستان کے مختلف علاقوں میں، پھر دہلی کے ذریعے پورے ہندوستان پر تقریباً ایک ہزار سال قائم رہی۔ مسلمان یہاں حاکم رہے اور شرعی قوانین ایک ہزار سال تک نافذ رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ اگست ۲۰۱۹ء

مجلسِ صوت الاسلام کے تربیتِ خطباء کورس کا آغاز

خطابت کی اہمیت کیا ہے، اس کے مختلف پہلو کیا ہیں، اس کی ضرورت کیا ہے؟ خطابت کہتے ہیں گفتگو کو، جس کو قرآن پاک نے ’’علمہ البیان‘‘ سے تعبیر کیا ہے کہ اللہ پاک نے انسان کو قوتِ نطق، قوتِ بیان عطا فرمائی ہیں اور یہ انسان کا خاصہ ہے۔ یہ نطق و گفتگو انسان کو اللہ پاک نے سکھائی اور آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اس کے ساتھ علم اور فہم نصیب فرمایا۔ چنانچہ جب انسان کی تعریف کرتے ہیں تو حیوانِ ناطق ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ جولائی ۲۰۱۸ء

’’شام کی موجودہ صورت حال کا تاریخی پس منظر‘‘

شام حضراتِ انبیاء کرام علیہم السلام کی سرزمین رہی ہے اور خاص طور پر سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی ذریتِ طیبہ کی علمی و دینی سرگرمیوں کا ہمیشہ مرکز رہی ہے۔ بیت المقدس اس کی عظمت کی علامت ہے اور اس ارضِ طیبہ پر مختلف اقوام کے استحقاق کا دعویٰ آج اقوامِ عالم کے مابین شدید کشمکش کا نقطۂ عروج دکھائی دے رہا ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’ملاحمِ کبریٰ‘‘ یعنی قیامت سے قبل نسلِ انسانی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ دسمبر ۲۰۲۴ء

’’انسدادِ سود کی جدوجہد: پس منظر اور معروضی صورتِ حال‘‘

سود انسانی معیشت کا ایک ناسور ہے جس نے انسانی سماج کو ہر دور میں غیر متوازن رکھنے اور معاشی استحصال کے نت نئے طریقے نکالنے کا کردار ادا کیا ہے جس کا اعتراف آج بھی انصاف پسند ماہرینِ معیشت کر رہے ہیں۔ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی تعلیمات اور الہامی کتابوں میں سود کی نحوست و حرمت کا تذکرہ موجود رہا ہے اور قرآن کریم نے سودی معیشت کو اللہ تعالیٰ اور رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ دسمبر ۲۰۲۴ء

’’مفکرِ اسلام حضرت مولانا سیّد ابوالحسن علی ندویؒ کا تذکرہ‘‘

مفکرِ اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی قدس اللہ سرّہ العزیز کے ساتھ میرا نیاز مندی اور استفادے کا تعلق طالب علمی کے دور سے ہی چلا آ رہا ہے۔ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں عمِ مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی رحمہ اللہ تعالیٰ کے پاس ندوۃ العلماء لکھنؤ کا ترجمان ’’تعمیرِ حیات‘‘ پابندی سے آتا تھا جس کا مطالعہ میں بھی کیا کرتا تھا، پھر ان کی تصانیف تک رسائی ہوئی تو استفادے کا دائرہ وسیع ہوتا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ مئی ۲۰۲۴ء

’’امام بخاریؒ کے امتیازات اور بخاری شریف کی خصوصیات‘‘

والد گرامی شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر قدس اللہ سرہ العزیز جس سال علالت اور ضعف میں اضافہ کے باعث جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں بخاری شریف کے نصاب کی تکمیل نہیں فرما سکے تھے تو ان کے حکم پر بخاری شریف کے اس نصاب کا باقی حصہ مجھے پڑھانے کی سعادت حاصل ہوئی تھی، اور شیخین کریمین حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر اور حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی رحمہم اللہ تعالیٰ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ اپریل ۲۰۲۴ء

’’سفیرِ ختمِ نبوت حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ: حیات و خدمات‘‘

حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی رحمہ اللہ تعالیٰ کا پہلا خطاب اپنی یادداشت کے مطابق میں نے طالب علمی کے دور میں دارالعلوم مدنیہ ڈسکہ میں سنا جو معروف قادیانی راہنما سر ظفر اللہ خان آنجہانی کی کوٹھی کے سامنے قائم ہوا تھا اور اب تک تحریک ختم نبوت کا اہم ترین مورچہ ہے۔ دارالعلوم مدنیہ کے بانی و مہتمم حضرت مولانا محمد فیروز خان فاضل دیوبند قدس اللہ سرہ العزیز اسٹیج پر ہتھیار بدست کھڑے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ مئی ۲۰۲۴ء

یادِ حیات (۲) : دورِ طالب علمی / تحریر و تصنیف کی ابتدا

ہلال خان ناصر: السلام علیکم۔ آج ہم دوسری نشست کے ساتھ حاضر ہیں۔ پچھلی نشست میں ہم نے دادا ابو کی حفظ کی ابتدائی تعلیم کے بارے میں کچھ باتیں کی تھیں، آج ہم اسی کے بارے میں مزید سوالات کریں گے۔ سوال: دادا ابو! یہ بتائیے کہ آپ نے حفظ کتنی عمر میں مکمل کیا؟ جواب: میں نے بارہ سال کی عمر میں حفظ مکمل کیا۔ گکھڑ میں اس مدرسہ سے آغاز ہوا تھا، لیکن کچھ عرصہ تک ایسا ہوا کہ قاری حضرات بدلتے رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ اکتوبر ۲۰۲۴ء

یادِ حیات (۱) : خاندانی پس منظر / شیخینؒ کا تعلیمی سفر

السلام علیکم میرا نام طلال خان ناصر ہے، میں ایف سی کالج میں بی ایس فزکس کا سٹوڈنٹ ہوں اور میرے ساتھ میرے چھوٹے بھائی موجود ہیں۔ السلام علیکم میرا نام ہلال خان ناصر ہے، میں بی ایس کمپیوٹر سائنس کا سٹوڈنٹ ہوں۔ آج ہمارے ساتھ ہمارے دادا جی ہیں۔ ہم بچپن سے ان کے واقعات اور ان کی زندگی کے حالات کے بارے میں ان سے سنتے رہے ہیں اور ان کی مختلف تحریروں میں پڑھتے بھی رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ اکتوبر ۲۰۲۴ء

دینی جدوجہد کے عصری تقاضے

دینی جدوجہد کے بیسیوں پہلو ہیں۔ مثلاً دینی جدوجہد کا ایک دائرہ یہ ہے کہ غیر مسلموں کو دین کی دعوت دی جائے اور انہیں اسلام کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی جائے۔ جو لوگ، جو افراد یا جو ادارے یہ کام کر رہے ہیں وہ دینی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ دینی جدوجہد کا ایک دائرہ یہ ہے کہ عام مسلمان کو دین سے وابستہ کیا جائے، دین کی طرف واپس لایا جائے، مسجدوں کو آباد کیا جائے اور دینی ماحول کو دوبارہ زندہ کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ مئی ۲۰۱۵ء

’’گذارشات برائے نگارشات‘‘

کتاب کے ساتھ تعلق والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر اور عمِ مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی رحمہما اللہ تعالیٰ کی برکت و توجہات کے باعث بچپن سے ہے اور مطالعہ کے ساتھ ساتھ لکھنے پڑھنے کا ذوق بھی ان بزرگوں کی عنایت سے چلا آ رہا ہے۔ بحمد اللہ تعالیٰ تحقیقی، معلوماتی، ادبی، تاریخی، تدریسی اور تجزیاتی ہر نوع کی کتابیں زیر مطالعہ رہی ہیں اور استفادہ کی سعادت سے بہرہ ور ہوتا آ رہا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ دسمبر ۲۰۲۴ء

حضرت نانوتویؒ اور دورِ حاضر کا ’’میلہ خدا شناسی‘‘

بزم شخ الہند گوجرانوالا کے زیر اہتمام ۱۷ نومبر ۲۰۲۴ء کو جامعہ اسلامیہ کامونکی ضلع گوجرانوالا میں منعقدہ حجۃ الاسلام سیمینار سے خطاب کا موقع ملا، جس کا خلاصہ نذرِ قارئین ہے۔ بعد الحمد والصلوٰۃ! بزم شیخ الہند گوجرانوالہ کے مدیر عزیزم حافظ خرم شہزاد اور ان کے رفقاء کا شکر گزار ہوں کہ جنھوں نے بانی دارالعلوم دیوبند، حجۃ الاسلام حضر ت مولانا محمد قاسم نانوتوی قدس اللہ سرہ العزیز کی یاد میں اس عظیم الشان سیمینار کا انعقاد کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ نومبر ۲۰۲۴ء

اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر اور اسلامی تعلیمات

حضرات طلبہ کرام! یہ تین دن کا جو پروگرام ہے، اس میں گفتگو کا عنوان آپ حضرات کے علم میں ہو گا: ’’اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر اور اسلامی تعلیمات‘‘۔ آج دنیا میں انسانی حقوق کے اس اعلامیہ کے حوالہ سے بہت سے علمی، فکری، دینی مسائل چل رہے ہیں اور ایک غزوِ فکری، نظریاتی جنگ، جس کو ثقافتی جنگ بھی کہہ دیتے ہیں کہ یہ سولائزیشن وار ہے۔ اس کو عقیدے کی جنگ بھی کہہ دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ تا ۲۱ فروری ۲۰۰۸ء

’’شرائع الٰہیہ اور انسانی تمدن کا باہمی تعلق: فکرِ شاہ ولی اللہؒ کی روشنی میں‘‘

حضرت شاہ صاحبؒ کے اس فکر و فلسفہ کو مختلف اوقات میں جن اکابر علماء کرام نے اپنے مطالعہ و تحقیق اور تدریس و اشاعت کا موضوع بنایا، ان میں ہمارے عمِ محترم استاذ گرامی حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتیؒ بانئ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ بھی ہیں، جن سے ہزاروں علماء کرام نے استفادہ کیا اور حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے علوم و افکار کی خدمت کے لیے خود کو پیش کیا، جن میں ان کے پوتے، مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی مہتمم جامعہ کے فرزند اور راقم الحروف کے نواسے حافظ محمد خزیمہ خان سواتی سلّمہ بھی شامل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ دسمبر ۲۰۲۴ء

’’اسلام اور انسانی حقوق: اقوام متحدہ کے عالمی منشور کے تناظر میں‘‘

جامعہ انوار القرآن کے شعبہ تخصص اور دارالافتاء کے سربراہ مولانا مفتی حماد اللہ وحید حفظہ اللہ تعالیٰ ایک با ذوق اور باہمت عالمِ دین ہیں۔ ان کی ہمیشہ خواہش بلکہ اصرار رہتا ہے کہ میں جب بھی انوار القرآن میں آؤں، تخصص کے طلبہ کے ساتھ نشست میں کسی نہ کسی موضوع پر ان سے ضرور بات کروں، اور میں بحمد اللہ تعالیٰ ان کے اس ارشاد کی حتی الوسع تعمیل بھی کرتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ اکتوبر ۲۰۱۱ء

دینی مدارس کا مقدمہ

آج اخبارات میں آپ نے خبر پڑھی ہو گی کہ حالیہ آئینی ترامیم کے دوران دینی مدارس کے بارے میں ایک قانونی بل قومی اسمبلی اور سینٹ نے منظور کیا تھا، اس کا ملک بھر کے دینی حلقوں نے تمام مکاتب فکر نے خیر مقدم کیا لیکن صدر محترم آصف علی زرداری نے وہ بل اعتراض لگا کر واپس کر دیا ہے اور اس پر ملک میں ایک تحریک کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ مسئلہ کیا ہے؟ آئینی ترامیم میں کیا ہوا؟ بل واپس کیوں ہوا ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ دسمبر ۲۰۲۴ء

’’تخلیقِ عالم‘‘

حضرت مولانا عبد اللہ لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ ہمارے بزرگوں میں سے تھے جن کی ساری زندگی دینی تعلیم و تدریس میں گزری اور انہوں نے اپنی اگلی نسل کو بھی دینی خدمات کے لیے تیار کیا اور ان کی سرپرستی کرتے رہے۔ وہ علماء لدھیانہ کے اس عظیم خاندان سے تعلق رکھتے تھے جو تاریخ میں تحریک آزادی اور تحریک ختم نبوت میں قائدانہ کردار کا ایک مستقل عنوان رکھتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۹ء

’’صاحبِ قرآن‘‘

آج کی دنیا میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و سنت کے ہمارے لیے سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ بھٹکی ہوئی بلکہ مسلسل بھٹکتی ہوئی انسانی سوسائٹی کو آسمانی تعلیمات اور فطرت سلیمہ کی طرف واپس لانے کے لیے قرآن کریم اور سنت نبوی کو عصر حاضر کی زبان و اسلوب اور نفسیات و ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے پورے شعور و ادراک کے ساتھ پیش کیا جائے اور ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۳ء

’’اطراف‘‘

پروفیسر میاں انعام الرحمٰن ہمارے عزیز ساتھیوں میں سے ہیں۔ ان کا تعلق ایک علمی خاندان سے ہے۔ ان کے دادا محترم حضرت مولانا ابو احمد عبد اللہ لدھیانوی قدس اللہ سرہ العزیز علماء لدھیانہ کے معروف خانوادہ کے بزرگ تھے اور رئیس الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی نور اللہ مرقدہ کے ساتھ قریبی تعلق داری بھی رکھتے تھے۔ مولانا عبد اللہ لدھیانویؒ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے شاگرد تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۲ء

حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کو ہمارے دیوبندی حلقوں میں سید الطائفۃ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ، یعنی ہمارے پورے دیوبندی گروہ کے سب سے بڑے سردار۔ دیوبندیت کوئی مذہب نہیں ایک مکتبِ فکر ہے۔ ہم حنفی ہیں اور اہلِ سنت کے اجتماعی دھارے کا حصہ ہیں۔ لیکن دیوبندیت کے حوالے سے فکری اور علمی تحریک کے طور پر ہمارا تعارف ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ اپریل ۲۰۱۳ء

سودی نظام کے خاتمہ کی جدوجہد: پس منظر اور موجودہ صورتحال

پاکستان جب بنا تو بنیادی مقصد یہ قرار دیا گیا تھا کہ یہاں اسلامی نظام ازسرنو لایا جائے گا اور مسلمانوں کی ثقافت اور عقائد پر ایک اسلامی معاشرہ کی بنیاد رکھی جائے۔ چنانچہ پاکستان بننے کے بعد جب مختلف شعبوں میں کام کا آغاز ہوا اور پاکستان کے ریاستی بینک ’’اسٹیٹ بینک آف پاکستان‘‘ کا افتتاح قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے کیا تو اس موقع پر ان کی تقریر ریکارڈ پر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۵ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter