مقالات و مضامین

رابطہ عالم اسلامی کا مؤتمر عالمی

بحمد اللہ تعالٰی حرمین شریفین کی حاضری اور رابطہ عالم اسلامی کے عالمی موتمر میں شرکت کے بعد وطن واپس آگیا ہوں۔ رابطہ عالم اسلامی نے مکہ مکرمہ میں ۲۲ تا ۲۴ رمضان المبارک عالمی موتمر کا انعقاد کیا جس کا عنوان ’’الوسطیہ والاعتدال فی نصوص الکتاب والسنہ‘‘ تھا۔ خادم الحرمین الشریفین الملک سلیمان بن عبد العزیز حفظہ اللہ تعالٰی کے خصوصی پیغام سے کانفرنس کا آغاز ہوا اور مسلسل تین روز جاری رہنے کے بعد ’’وثیقہ مکہ مکرمہ‘‘ کے اعلان پر موتمر اختتام پذیر ہوا۔ دو سو کے لگ بھگ ممالک سے بارہ سو کے قریب سرکردہ علماء کرام کانفرنس میں شریک تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم جون ۲۰۱۹ء

دنیا کی ضرورت خلفاء راشدین والا اسلام ہے

برطانیہ کے ولی عہد شہزادہ چارلس نے کچھ عرصہ قبل ایک تقریب میں اپنے دانشوروں کو یہ مشورہ دیا تھا کہ: ’’اسلام کا مطالعہ کریں اور بطور نظام زندگی اور متبادل سسٹم اسے اسٹڈی کریں۔ لیکن اسلام کا مطالعہ کرتے ہوئے دو باتوں کی طرف مت دیکھیں، ایک یہ کہ ہمارے بڑوں نے اسلام کے بارے میں کیا کچھ کہا ہے، دوسرا یہ کہ اس وقت مسلمان کیسے نظر آرہے ہیں۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ مئی ۲۰۱۹ء

قیامت کب آئے گی؟

۲۱ دسمبر گزر گیا ہے اور قیامت کی پیشگوئی کرنے والوں کی طرف سے حسبِ سابق یہ عذر سامنے آیا ہے کہ کیلنڈر کا حساب صحیح طور پر نہیں لگایا جا سکا۔ گزشتہ سال کیلیفورنیا کے معمر پادری فادر کیمنبگ کی طرف سے ۱۲ مئی ۲۰۱۱ء کو قیامت واقع ہو جانے کی پیشگوئی کی گئی تھی اور اس روز بھی بہت سے لوگ قیامت کے انتظار میں تھے مگر وہ دن بھی ایسے ہی گزر گیا تھا جیسے ۲۱ دسمبر ۲۰۱۲ء کا دن گزر گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۳ء

قادیانیوں کی عالمی سر گرمیاں

قومی اسمبلی میں جمعیۃ علماء اسلام کے راہنما مولانا عطاء الرحمٰن نے ایک تحریک کے ذریعے ایوان کو توجہ دلائی ہے کہ کینیڈا میں پاکستانی سفارت خانے کے تعاون سے قادیانیوں نے ایک تقریب منعقد کی ہے جس میں تقریب کے منتظمین کے خیال میں اسلام کی صحیح تصویر دنیا کے سامنے پیش کرنا مقصود تھا۔ مولانا موصوف نے کہا کہ پاکستان کے دستور کے مطابق قادیانی گروہ مسلمان نہیں ہے اس لیے ان کی کسی تقریب کو اسلام کے حوالہ سے منعقد کرنے میں پاکستانی سفارت خانے کا مبینہ تعاون دستور پاکستان کی خلاف ورزی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۳ء

پاپائے روم اور روایتی مسیحی تعلیمات

سہ روزہ ’’دعوت‘‘ نئی دہلی میں ۴ دسمبر ۲۰۱۲ء کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کیتھولک فرقہ کے موجودہ سربراہ پاپائے روم پوپ بینیڈکٹ نے ۲۰۱۲ء کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے حساب سے درست ماننے سے انکار کر دیا ہے اور اپنی تازہ تصنیف میں، جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سوانح عمری پر مشتمل ہے اور اس کے دس لاکھ نسخے شائع کیے گئے ہیں، کہا ہے کہ رواں سال کو ۲۰۱۲ء کہنا درست نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم جنوری ۲۰۱۳ء

بیت المقدس کی آزادی اور یہودی سازشیں

روزنامہ دنیا گوجرانوالہ نے خبر شائع کی ہے کہ: ’’مسجد اقصیٰ کے خطیب شیخ عکرمہ صبری نے اسرائیل کی شہریت کو حرام قرار دیا ہے اور اپنے سابقہ فتوے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی شہریت حاصل کرنا شرعی حوالہ سے حرام ہے کیونکہ مقبوضہ بیت المقدس کے حوالہ سے اسرائیل کے ساتھ معرکے کا ایک پہلو یہاں کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنا بھی ہے اور اسرائیل مسجد اقصیٰ کے اطراف میں پھیلے اس با برکت شہر کی آبادی پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۳ء

روہنگیا مسلمانوں کی مظلومیت اور مسلم حکمرانوں کی ذمہ داری

میانمار (برما) کے صوبہ اراکان میں مسلمانوں کے قتل عام کے حوالہ سے ان صفحات پر ہم اپنے جذبات کا اس سے قبل کئی بار اظہار کر چکے ہیں کہ اس خطہ کے مسلمان انتہائی مظلومیت کا شکار ہیں کہ جس ملک میں وہ صدیوں سے رہ رہے ہیں وہاں کی حکومت انہیں اس ملک کا شہری تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ سرکاری اور غیر سرکاری طور پر ان کا مسلسل قتل عام ہو رہا ہے، پڑوس کے ممالک حتٰی کہ بنگلہ دیش بھی ان کے مہاجرین کو با قاعدہ پناہ دینے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۳ء

جھوٹے مقدمات کا گھناؤنا کاروبار

روزنامہ جنگ لاہور میں ۲۳ جنوری ۲۰۱۳ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق گوجرانوالہ کے ڈسٹرکٹ میڈیکل آفیسر ڈاکٹر نثار احمد نے کہا ہے کہ: ’’مخالفین کو پھنسانے کے لیے ناک اور انگلی کی ہڈی ٹوٹنے کی ۸۰ فیصد ضربات خودساختہ ہوتی ہیں اور خود ہڈیاں توڑ کر مخالفین کے خلاف مقدمات درج کروانے کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے، ہسپتالوں میں خودساختہ ضربات لگانے اور ہڈیاں توڑنے کے ماہر افراد کے ایجنٹ دندناتے پھر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۳ء

عام انتخابات کے نتائج اور دینی حلقوں کا مستقبل

ملک میں ایک بار پھر عام انتخابات کا انعقاد ہوا ہے اور اس دفعہ پاکستان مسلم لیگ (ن) واضح اکثریت کے ساتھ مرکز میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی ہے، پنجاب میں بھی نون لیگ کی حکومت بنے گی جبکہ سندھ میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم مخلوط حکومت بنانے کی تیاریوں میں ہیں، خیبر پختون خواہ میں تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے حکومت سازی کے لیے معاہدہ کر لیا ہے جبکہ بلوچستان میں بھی نون لیگ کی قیادت میں مخلوط حکومت کے قیام کے امکانات دکھائی دینے لگے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۳ء

بم دھماکوں کے پس پردہ کیا کچھ ہے؟

روزنامہ پاکستان لاہور میں شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’وارث پورہ سے ملحقہ بلال ٹاؤن گلی نمبر ۷ میں بم دھماکے میں ملوث تین میں سے ۲ ملزمان کو پولیس نے مختلف مقامات پر چھاپے مار کر گرفتار کر لیا جبکہ تیسرا ملزم ذیشان عرف ببلو مسیح بم دھماکہ میں شدید زخمی ہونے کے بعد دم توڑ گیا تھا۔ سی پی او رفعت مختار راجہ ایس ایس پی آپریشنز گوہر نفیس نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ گزشتہ روز منگل کی رات ۹ بجے کے قریب بم دھماکہ کے ملزموں کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۳ء

انتخابات اور دینی جماعتیں

ملک بھر میں انتخابات کی گہماگہمی ہے اور بہت سی پارٹیاں ملک میں اقتدار حاصل کرنے کے لیے مہم جوئی میں مصروف ہیں، ان سطور کی اشاعت تک انتخابی مہم عروج پر ہو گی اور سیاسی پارٹیاں اور ان کے امیدوار قسمت آزمائی کی جدوجہد میں مگن ہوں گے۔ بہت سی مذہبی جماعتیں بھی حسبِ معمول انتخابی میدان میں ہیں اور ان کے سینکڑوں امیدوار ملک کے مختلف حلقوں سے الیکشن لڑ رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۳ء

جنرل (ر) پرویز مشرف کی واپسی

سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف گزشتہ روز کراچی واپس پہنچ گئے ہیں اور عام انتخابات میں حصہ لینے کا عزم رکھتے ہیں۔ ملک میں ان کی آمد پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے مگر ان کا کہنا ہے کہ وہ عالمی قوتوں اور حکومت پاکستان سے اپنے تحفظ کی گارنٹی لے کر وطن واپس آئے ہیں اور عام انتخابات میں اہم کردار ادا کریں گے۔ عام انتخابات میں حصہ لینا ملک کے ہر شہری کا حق ہے اور یہ فیصلہ کرنا ووٹروں کا کام ہے کہ وہ کسے اپنی نمائندگی کے لیے چنتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۳ء

افغان طالبان اور پاکستانی طالبان: نئی حکومت کی ذمہ داریاں

انتخابات میں مرکزی حکومت اور صوبہ پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کو جو مینڈیٹ ملا ہے وہ خود اس کی اپنی توقعات سے بڑھ کر ہے، اس لیے اس کی ذمہ داری بھی دوسروں سے کہیں زیادہ ہے۔ اس وقت نئی حکومت کو جن چیلنجوں کا سامنا ہے ان میں ڈرون حملوں کے ماحول میں ملکی خود مختاری کی بحالی، خود کش حملوں کے حوالہ سے ملک میں بد امنی اور قتل و غارت کے روز افزوں واقعات، لوڈشیڈنگ اور مہنگائی کا عذاب سر فہرست ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۳ء

لال مسجد کا سانحہ اور جنرل (ر) پرویزمشرف

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس نور الحق قریشی نے غازی عبد الرشید شہیدؒ کے فرزند ہارون الرشید کی درخواست پر اسلام آباد کی پولیس کو حکم دیا ہے کہ جامعہ حفصہؓ کے المناک سانحہ میں فوجی آپریشن کے نتیجہ میں جاں بحق ہونے والے غازی عبد الرشید شہید ؒ،ان کی والدہ محترمہ ؒ اور دیگر شہداء کے قتل کا کیس جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف درج کیا جائے کیونکہ لال مسجد کے بارے میں عدالتی انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے مطابق اس فوجی آپریشن کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۳ء

سودی نظام اور سپریم کورٹ آف پاکستان

روزنامہ اسلام ، اسلام آباد میں ۲۶ جون ۲۰۱۳ء کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیں: ’’سپریم کورٹ میں ہاؤس بلڈنگ کے حوالے سے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران ۳ رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے فیصلے کے لیے بینکنگ کورٹ کوئٹہ کو کیس واپس بھجواتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ سودی نظام ابھی تک چل رہا ہے، مذہب کے نام پر بے ایمانی کی جا رہی ہے، سود پر لفظوں کا غلاف چھڑا دیا گیا ہے، سود وصول کرنے والے مذہب سے مذاق کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۳ء

کیسا اسلام اور کون سی جمہوریت؟

پاکستان کے قیام کے بعد اسلام کے نام پر بننے والی اس ریاست کے ارباب حل و عقد کو سب سے پہلا اور اہم مسئلہ یہ درپیش تھا کہ اس کا دستور اور نظامِ حکومت کیا ہو گا اور حکمرانی کا حق کسے حاصل ہو گا؟ طاقت کے بل پر کسی کو حکمرانی کا حق دینے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا، برطانوی استعمار کے تسلط سے ملک کی آزادی اور پاکستان کا قیام دونوں جہادِ آزادی کے ساتھ ساتھ سیاسی عمل، رائے عامہ اور جمہوری جد و جہد کا نتیجہ تھے اور اس تسلسل سے انحراف سرے سے ممکن ہی نہیں تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ مئی ۲۰۱۹ء

قومی اداروں میں بالادستی کی کشمکش

اس وقت ہمارے قومی اداروں میں بالا دستی کی کشمکش کا عجیب سا ماحول بن گیا ہے۔ (۱) پارلیمنٹ کو بالادستی حاصل ہے یا سپریم کورٹ آخری اتھارٹی ہے؟ (۲) دستور کی تعبیر و تشریح اور تطبیق میں پارلیمنٹ بالاتر ہے یا سپریم کورٹ کی بیان کردہ تعبیر و تشریح حتمی ہے؟ (۳) فوج اور خفیہ ادارے عدالت کے سامنے جواب دہ ہیں یا نہیں؟ (۴) اور اس کشمکش میں ایوان صدر کا مقام کیا ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۲ء

لڑکیوں کا مبینہ قتل اور این جی اوز

گزشتہ دنوں کوہستان ہزارہ میں رقص و سرور کی کسی محفل میں پانچ لڑکیوں کے قتل کی ایک خبر عام ہوئی اور اس پر بنائی گئی ویڈیو کو مختلف حلقوں میں وسیع پیمانے پر پھیلایا گیا جس کا سپریم کورٹ آف پاکستان نے نوٹس لیا۔ روزنامہ اسلام لاہور کی خبر کے مطابق سپریم کورٹ نے لڑکیوں کے قتل کی خبر کو جھوٹی خبر قرار دے کر اس کیس کو نمٹا دیا ہے۔ اس سلسلہ میں جسٹس منیرہ عباسی نے اپنی رپورٹ میں عدالت عظمٰی کو بتایا کہ لڑکیاں زندہ ہیں اور قتل کی خبر جھوٹی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۲ء

مسلم ممالک میں نفاذِ اسلام کی جدوجہد

روزنامہ نوائے وقت لاہور کی خبر کے مطابق مصر کی سپریم کورٹ نے مصر کے حالیہ پارلیمانی انتخابات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا حکم دے دیا ہے، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پارلیمانی انتخابات غلط قوانین کے تحت ہوئے تھے اور ایک تہائی نمائندے پارلیمنٹ کا رکن بننے کے اہل نہیں تھے۔ جبکہ کویت کی دستوری عدالت نے بھی ایک فیصلے میں، جسے کسی جگہ بھی چیلنج نہیں کیا جا سکتا، کویت کے حالیہ انتخابات کو کالعدم قرار دے کر ماضی کی پارلیمنٹ بحال کرنے کا حکم صادر کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۲ء

یہ آزادیٔ رائے نہیں ہے

امریکی مندوب نے جنیوا میں انسانی حقوق کمیشن سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی ممالک کی جانب سے توہین مذہب اور توہین رسالت ؐ کو غیر قانونی قرار دینے کے مطالبات پر رائے زنی کرتے ہوئے کہا کہ جب دنیا نے مذہب اور اظہار رائے کی آزادی کو ایک ساتھ فروغ دینے کی اجازت دی تو مذہبی یگانگت اور معاشی خوشحالی اور ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا اور جب بھی دونوں آزاد یوں کو محدود کیا گیا تو تشدد غربت اور مایوسی کے جذبات پروان چڑھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۲ء

ملالہ یوسف زئی اور میڈیا

ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملہ کے بعد ورلڈ اور قومی میڈیا نے جو ہاہاکار مچائے رکھی اس نے چند دنوں تک تو اچھے بھلے ارباب دانش کو پریشان کیے رکھا ہے لیکن اب جوں جوں میڈیا اور لابیوں کا اڑایا ہوا غبار بیٹھتا جا رہا ہے لوگوں کو اصل حقیقت کا کچھ کچھ اندازہ ہونے لگا ہے اور بہت سے سوالات جو زیرلب تھے اب سامنے آتے جا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۲ء

مسیحیت اور سیکولرزم کی کشمکش

مسیحی ماہنامہ ’’شاداب‘‘ لاہور کے اکتوبر ۲۰۱۲ء کے شمارے میں شائع ہونے والی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ: ’’عیسائیت کے پیروکاروں میں کمی اور سیکولرزم سے مقابلہ کے لیے دنیا بھر کے بشپس کا اجلاس ویٹی کن سٹی میں ہو گا، یہ اجلاس تاریخی مگر متنازعہ دوسری ویٹی کن سٹی کونسل کی ۵۰ ویں سالگرہ کے موقع پر کیا جا رہا ہے جس سے عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ بینڈکٹ خطاب کریں گے۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۲ء

برما میں مسلمانوں کی حالت زار

دوبئی سے شائع ہونے والے اردو اخبار ہفت روزہ ’’سمندر پار‘‘ کے شمارہ ۶ تا ۱۲ جولائی ۲۰۱۲ء کی ایک رپورٹ ملاحظہ فرمائیے: ’’برما میں بوزی قبائل کے دہشت گرد گروپ ’’ماگ‘‘ کی جانب سے مسلمان آبادی پر مسلط کی گئی جارحیت میں اب تک کم سے کم ۲۵۰ مسلمان شہید، ۵۰۰ زخمی اور لاکھوں کی تعداد میں بے گھر ہو گئے ہیں۔ انسانی حقوق کے ایک برمی مندوب محمد نصر نے عرب ٹی وی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ مسلمانوں پر مسلط کی گئی جارحیت میں تین سو افراد تاحال لاپتہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۲ء

جامعہ دار العلوم کراچی کا محاصرہ اور سرچ آپریشن

گزشتہ جمعۃ المبارک کے روز رینجرز اور پولیس نے جامعہ دار العلوم کورنگی کراچی کا محاصرہ کر کے تین گھنٹے تک سرچ آپریشن کیا اور کچھ بھی برآمد نہ ہونے پر فورسز واپس چلی گئیں۔ جامعہ دار العلوم کراچی ملک کے بڑے تعلیمی اداروں میں سے ہے جس کی تعلیمی و تحقیقی سر گرمیوں اور خدمات کا دائرہ عالمی سطح تک پھیلا ہوا ہے اور خاص طور پر افتاء میں اسے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں مرجع کی حیثیت حاصل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۱۲ء

حقوقِ انسانی اور امریکہ

دوبئی سے شائع ہونے والے اردو اخبار ہفت روزہ ’’سمندر پار‘‘ نے ۶ تا ۱۲ جولائی ۲۰۱۲ء کے شمارہ میں یہ رپورٹ شائع کی ہے کہ: ’’امریکی شہر نیویارک میں ایک معروف نیلام گھر کے تحت سابق امریکی صدر کا دستخط شدہ امریکہ میں غلاموں کی آزادی کے قانون کا نایاب و تاریخی مسودہ ۲۰ لاکھ (۲ ملین ڈالر) سے زائد رقم میں نیلام ہو گیا ہے۔ ۱۸۶۴ء میں پیش کیے جانے والے Emancipation Proclamation نامی اس قانونی مسودہ کو اس وقت کے امریکی صدر ابراہام لنکن نے منظور کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۲ء

سیدنا حضرت عیسٰی علیہ السلام اور عیسائی مصنف

روزنامہ ’’اردو نیوز‘‘ جدہ میں شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’امریکی ریاست ایوا کی لوتھر یونیورسٹی میں مذاہب اور عقائد کے شعبہ کے سربراہ عیسائی اسکالر ڈاکٹر روبرٹ شیڈنگر نے ایک کتاب تصنیف کر کے امریکی عیسائیوں کو برہم کر دیا ہے۔ کتاب کا عنوان ہے ’’ کیا حضرت عیسٰیؑ مسلمان تھے؟ ‘‘ امریکی اسکالر آسمانی کتابوں کے مسلسل مطالعہ اور دنیا بھر کے علمائے دینیات کی آرا جمع کر کے اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ حضرت عیسٰیؑ صحیح معنوں میں ’’مسلم‘‘ تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۱۲ء

مغربی فلسفہ حیات کی مذاہب اور ثقافتوں کے ساتھ کشمکش

روزنامہ ’’اردو نیوز‘‘ جدہ میں ۱۴ جولائی ۲۰۱۲ء کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’بھارتی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے کہا ہے کہ جمہوریت میں پنچایت یا فتوے کے ذریعے بندشوں کے نفاذ اور کسی کی نجی آزادی سلب کرنے کے اقدام کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ بات وزیر داخلہ نے جمعہ کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہی، ان سے دہلی سے ملحق باغپت کی ایک پنچایت کے فیصلے کے بارے میں پوچھا گیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۱۲ء

جارج بش اور ٹونی بلیئر کے خلاف مقدمہ چلانے کا مطالبہ

روزنامہ پاکستان میں نیویارک سے جناب قمر علی عباسی ’’اور پھر بیان اپنا ‘‘ کے عنوان سے کالم لکھتے ہیں، انہوں نے ۱۰ ستمبر ۲۰۱۲ء کو شائع ہونے والے اپنے کالم میں انکشاف کیا ہے کہ: ’’برطانیہ کے نوبل انعام یافتہ آرچ بشپ نے برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر اور امریکہ کے سابق صدر جارج بش پر عراق جنگ میں ان کے کردار پر بین الاقوامی کریمینل کورٹ ہیگ میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۲ء

حجاب اور اطالوی وزیر داخلہ

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۶ ستمبر ۲۰۱۲ء میں شائع شدہ ایک خبر کے مطابق اٹلی کے وزیر داخلہ روبرٹو میرونی نے مسلم خواتین کے حجاب پہننے پر پابندی سے متعلق مسودہ قانون پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ جب حضرت مریم علیہا السلام کی ہر تصویر حجاب کے ساتھ ہے تو وہ کس طرح مسلمان خواتین کے حجاب پہننے پر پابندی عائد کر سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۲ء

توہینِ رسالت ؐ کو عالمی سطح پر جرم قرار دیا جائے

توہین رسالت ؐ پر مبنی بدنام زمانہ حالیہ امریکی فلم کے خلاف عالمِ اسلام بلکہ پوری دنیا میں جس شدید ردعمل کا اظہار ہوا ہے وہ بلاشبہ اس حقیقت کا ایک بار پھر اظہار ہے کہ اس گئے گزرے دور میں بھی جناب نبی اکرم ؐ کے ساتھ مسلمانوں کی محبت و عقیدت اور جذباتی وابستگی پوری شدت کے ساتھ قائم ہے اور اس میں خدانخواستہ کمی یا کمزوری کی جو امید عالمی سیکولر لابیوں نے ایک عرصہ سے اپنے ذہنوں میں بسا رکھی ہے اس کا کوئی امکان ابھی تک پیدا نہیں ہو سکا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۲ء

’’سودی نظام‘‘ پر اسلام آباد میں ایک اہم سیمینار

مفتیان کرام سے میں نے مختصرًا چند باتیں عرض کریں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ تفسیر قرطبیؒ میں مذکور ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے کسی شخص نے پوچھا کہ کیا قاتل کے لیے توبہ کی گنجائش ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں ہے۔ یہ سن کر وہ چلا گیا۔ اس پر مجلس کے حضرات نے عرض کیا کہ حضرت! توبہ کی گنجائش تو ہر گنہگار کے لیے ہوتی ہے اور آپ نے بھی اس سے قبل فرمایا تھا کہ قاتل کے لیے توبہ کی گنجائش ہے، جبکہ اس سائل کو آپ نے اس کے خلاف بات کہہ دی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ مئی ۲۰۱۹ء

کراچی کے دو بڑے جامعات کے خلاف کاروائیاں

رمضان المبارک کے دوران جامعہ دار العلوم کورنگی کراچی پر رینجرز کے چھاپے اور تلاشی کے افسوسناک واقعات پر ہم نے عرض کیا تھا کہ یہ معمولی واقعہ نہیں ہے اور بالادست قوتیں اس قسم کی کاروائیاں کر کے دینی مدارس کو خوف و ہراس کا شکار بنا نے کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی طرف نئی نسل کی روز افزوں رغبت کو روکنے کی خواہاں ہیں۔ لیکن ہمیں افسوس ہے کہ اس پر ملک بھر میں جس ردعمل کے اظہار کی توقع کی جا رہی تھی وہ سامنے نہیں آیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۲ء

روہنگیا مسلمانوں کی داستان مظلومیت

میانمار (برما) کی سرحدوں کے اندر اراکان نام کا خطہ جو ایک دور میں مسلمانوں کی خودمختار ریاست ہوا کرتا تھا ان دنوں بدھ دہشت گردوں کی وحشت و بربریت کا شکار ہے اور مسلم اکثریت کا یہ صوبہ اس ظلم و جبر اور وحشیانہ تشدد کے باعث مسلمانوں کے وجود سے خالی ہوتا جا رہا ہے۔ اس خطہ کے مسلمانوں کا جرم یہ بتایا جاتا ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۲ء

قومی خود مختاری، ملک کا اسلامی تشخص اور بین الاقوامی معاہدات

روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ ۲۰ نومبر ۲۰۱۲ء کی خبر کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ’’ریکوڈک معاہدہ‘‘ کے بارے میں شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور آبزرویشن دی ہے کہ بلوچستان حکومت کو معاملہ اسمبلی میں لے جانا چاہیے تھا، اگر کوئی بین الاقوامی معاہدہ ملک کے قوانین کے خلاف ہے تو اسے تحفظ حاصل نہیں ہوتا، پاکستان ایک خود مختار ملک ہے اور اس کے ساتھ عالمی معاہدوں میں ملک کے قوانین کا پورا پورا خیال رکھا جانا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۲ء

علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ کی المناک وفات

گزشتہ شمارہ کے ادارتی صفحات میں ہم نے لاہور کی اہل حدیث کانفرنس میں بم کے دھماکے کی المناک واردات پر تبصرہ کرتے ہوئے اس میں زخمی ہونے والے دو اہل حدیث راہنماؤں علامہ احسان الٰہی ظہیر اور مولانا حبیب الرحمان یزدانی کے لیے دعائے صحت کی اپیل کی تھی لیکن مشیت ایزدی سے دونوں راہنما زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مکمل تحریر

۳ اپریل ۱۹۸۷ء

قرآن و سنت کی تعلیم و تدریس میں حکومتی ذمہ داری

پنجاب اسمبلی نے گزشتہ دنوں ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے حکومت سے سفارش کی ہے کہ قرآن کریم کو سرکاری تعلیمی اداروں کے نصاب تعلیم کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے اور اس کی تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے وسائل فراہم کیے جائیں۔ روزنامہ اسلام لاہور ۹ مارچ ۲۰۱۲ء کی خبر کے مطابق یہ قرار داد ایک خاتون رکن اسمبلی محترمہ عاصمہ ممدوٹ نے پیش کی ہے جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۲ء

اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات

روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ ۱۹ مارچ ۲۰۱۲ء میں شائع ہونے والی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ ’’اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے پارلیمنٹ کو بھجوائی گئی ۹۵ ہزار کے قریب سفارشات اور ۷۰ کے لگ بھگ رپورٹیں قانون سازی کا حصہ بننے کی بجائے کاغذوں کی نذر ہو کر رہ گئی ہیں اور ان رپورٹوں کو اب تک کسی ایجنڈے کا حصہ نہیں بنایا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۲ء

نو مسلم خواتین کے مسائل اور تحفظات

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۸ مارچ ۲۰۱۲ء کی ایک خبر کے مطابق نو مسلم خواتین کے حقوق اور مسائل کے حوالہ سے کام کرنے والے ادارہ ’’شرکت گاہ‘‘ کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن فوزیہ وقار اور عورت فاؤنڈیشن لاہور ریجن کی نسرین زہرہ اور ممتاز نے کہا ہے کہ: ’’پاکستان میں مذہب تبدیل کرنے والی خواتین کو مکمل تحفظ اور حقوق حاصل نہیں ہو سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۲ء

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانہ اور قادیانی

ملک کے ممتاز صحافی اور کالم نویس جناب خوشنود علی خان نے اپنے ایک حالیہ کالم میں انکشاف کیا ہے کہ اسلام آباد میں وسیع تر اراضی پر تعمیر ہونے والے نئے امریکی سفارت خانہ کی تعمیر و منصوبہ بندی کا کام قادیانیوں کے حوالہ کر دیا گیا ہے اور کم و بیش دو سو قادیانیوں پر مشتمل عملہ اس منصوبہ میں مصروف عمل ہے۔ اسلام آباد میں نئے امریکی سفارت خانے کی تعمیر کی جو تفصیلات اخبارات کے ذریعے سامنے آئی ہیں ان پر بجائے خود عوامی حلقوں کی طرف سے تحفظات کا اظہار ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۲ء

سزائے موت ختم کرنے کی تیاری

روزنامہ ایکسپریس فیصل آباد ۲۴ مئی ۲۰۱۲ء میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا ہے کہ پاکستان میں سزائے موت ختم کر دی جائے گی، اس ضمن میں مسوّدہ قانون تیاری کے آخری مراحل میں ہے، انہوں نے کہا کہ نئے مجوزہ قانون کے تحت تعزیرات میں سزائے موت ختم کر دی جائے گی جبکہ حدود قوانین میں بدستور یہ سزا قائم رہے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۲ء

غریبوں کے قرضوں پر تین گنا سود

روزنامہ اسلام لاہور ۲۴ اپریل کی خبر کے مطابق جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الغفور حیدری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اگلے بجٹ میں غریب عوام کے لیے رہائشی سہولیات اور بینکوں سے حاصل کردہ قرضوں پر سود کی معافی کی سکیم کا اعلان کرے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت غریب عوام کو ریلیف دینے کی بجائے انہیں بے گھر کر رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سیاستدانوں، وڈیروں اور جاگیرداروں کے اربوں روپے کے قرضے معاف کر دیے گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۲ء

عالمی رابطہ ادب اسلامی

۱۲ اپریل کو پنجاب یونیورسٹی کے شیخ زاید اسلامک سنٹر میں عالمی رابطہ ادب اسلامی کے زیر اہتمام ’’اخلاقی ادب اور قیام امن کا چیلنج‘‘ کے عنوان پر منعقدہ ایک روزہ قومی سیمینار میں شرکت اور اس کی ایک نشست میں بطور مہمان خصوصی کچھ معروضات پیش کرنے کا موقع ملا۔ عالمی رابطہ ادب اسلامی مسلم ارباب فکر و دانش کا عالمی سطح کا فورم ہے جس کا قیام اپریل ۱۹۸۱ء کے دوران ندوۃ العلماء لکھنو میں مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کی دعوت پر منعقد ہونے والے ایک عالمی سیمینار کے موقع پر عمل میں لایا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۲ء

سرکاری دفاتر میں اردو زبان کی ترویج کا مسئلہ

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۴ اپریل کی خبر کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس شیخ عظمت سعید نے اردو کو دفتری زبان قرار دینے کے لیے دائر درخواست پر وفاقی حکومت سے دس روز میں جواب جبکہ اٹارنی جنرل آف پاکستان کو عدالتی معاونت کے لیے طلب کر لیا ہے۔ درخواست گزار کے وکیل اےکے ڈوگر نے عدالت کو بتایا کہ پاکستان میں اب بھی انگریزی کو دفتری زبان کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۲ء

نصابی کتابوں سے عقیدۂ ختم نبوت کا افسوسناک اخراج

برصغیر پاک و ہند میں تو برطانوی حکومت نے جو نئی تعلیمی پالیسی دی اس پالیسی کے مرتب لارڈ میکالے نے صاف طور پر کہہ دیا کہ ہم ایک ایسا نظام تعلیم دے رہے ہیں جس سے تعلیم و تربیت پانے والے مسلمان اپنے دین پر قائم نہیں رہ سکے گا۔ چنانچہ اسی لیے مستقبل کے خدشات پر نظر رکھنے والے علماء کرام اور اہل دانش نے دینی تعلیم کا الگ سے پرائیویٹ نظام قائم کر کے مسجد و محلہ کی سطح پر قرآن کریم اور دینیات کی تعلیم کا ماحول بنایا اور دینی مدارس کا ایک وسیع جال پورے جنوبی ایشیا میں پھیل گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ مئی ۲۰۱۹ء

جامعہ عباسیہ بہاولپور کے حوالہ سے ایک وضاحت / سودی نظام کے خلاف قومی اسمبلی میں بل

فیس بک پر میرے نام سے ایک پوسٹ چل رہی ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ جامعہ عباسیہ بہاولپور کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے۔ یہ پوسٹ میری نہیں ہے اور بات بھی خلاف واقعہ ہے۔ دراصل میں نے ایک وائس میسج میں بتایا تھا کہ درس نظامی کے ایک بڑے ادارہ جامعہ عباسیہ بہاولپور کو صدر محمد ایوب خان مرحوم کے دور حکومت میں محکمہ تعلیم کی تحویل میں دیا گیا تھا، اور اسے اسلامی یونیورسٹی کا نام دے کر عصری تعلیم اور درس نظامی کو یکجا کر کے کچھ عرصہ چلایا گیا تھا، مگر آہستہ آہستہ درس نظامی کے پورے نصاب کو اس سے خارج کر دیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ مئی ۲۰۱۹ء

سندھ میں اسلام قبول کرنے والے ہندوؤں کا مسئلہ

بھرچونڈی شریف کا نام سامنے آتے ہی سرِ نیاز خودبخود عقیدت سے خم ہو جاتا ہے کہ سندھ کی اس عظیم خانقاہ کے بانی عارف باللہ حضرت حافظ محمد صدیق قادریؒ ان اکابر صوفیائے کرام میں سے ہیں جنہوں نے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو اللہ تعالیٰ کے ذکر اور جناب نبی اکرم صلی اللہ اللہ علیہ وسلم کی محبت کا خوگر بنانے کے ساتھ ساتھ حریت فکر اور آزادیٔ وطن کے جذبات سے بھی مسلسل روشناس رکھا۔ جبکہ ہمارے لیے اس خانقاہ کے ساتھ بے پایاں عقیدت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ضلع سیالکوٹ کے ایک نو مسلم نوجوان کو جو بوٹا سنگھ سے عبید اللہ بنا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم مئی ۲۰۱۹ء

مانسہرہ میں ’’ناموس رسالتؐ ملین مارچ‘‘

ملک بھر میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی تنظیم نو کا کام جاری ہے، رکن سازی کے بعد مرحلہ وار انتخابات کا سلسلہ چل رہا ہے اور مرکزی و صوبائی جماعتی انتخابات کی طرف پیشرفت ہو رہی ہے، اس کے ساتھ ہی ’’تحفظ ناموس رسالتؐ ملین مارچ‘‘ کے عنوان سے اجتماعات بھی تسلسل کے ساتھ ہو رہے ہیں اور ایک درجن کے لگ بھگ شہروں میں کامیاب عوامی ریلیوں کے بعد اب ۲۸ اپریل کو مانسہرہ میں بڑا عوامی مظاہرہ کرنے کی تیاریاں نظر آرہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ اپریل ۲۰۱۹ء

قرآن و سنت کی دستوری بالادستی

روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ (۱۸ جنوری ۲۰۱۲ء) کی خبر کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس محترم جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا ہے کہ اگر کوئی قانون قرآن و سنت کے کسی قانون کے درمیان حائل ہے تو اس کے لیے وفاقی شرعی عدالت سے رجوع کیا جائے۔ یہ بات انہوں نے ایک رٹ درخواست کی سماعت کے دوران کہی جس میں درخواست گزارنے استدعا کی ہے کہ قوانین کو اسلامی رنگ میں ڈھالنے کے لیے قراردادِ مقاصد کے تحت قرآن و سنت کے احکام کو ملکی قوانین کے طور پر نافذ کرنے کا حکم دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۲ء

قومی خواتین کمیشن کا قیام

روزنامہ نئی بات لاہور (۲۰ جنوری ۲۰۱۲ء) میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق قومی اسمبلی نے گزشتہ روز ’’قومی کمیشن برائے خواتین‘‘ کے قیام کا بل منظور کر لیا ہے جو وزیر اعظم کے مشیر برائے انسانی حقوق مصطفٰی نواز کھوکھر نے پیش کیا اور اسے اپوزیشن کی بعض ترامیم کو شامل کرنے کے بعد متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ اس قانون کے مطابق حکومت پاکستان ’’قومی کمیشن برائے خواتین‘‘ قائم کرے گی جس میں ہر صوبہ سے دو جبکہ وفاق، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت و بلتستان کا ایک ایک نمائندہ شامل ہو گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۲ء

افغان طالبان کی استقامت کو سلام

روزنامہ پاکستان لاہور میں ۱۴ جنوری ۲۰۱۲ء کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس کے ایک ٹاپ سیکرٹ جائزے میں خبردار کیا گیا ہے کہ طالبان نے اقتدار حاصل کرنے اور دوبارہ سخت مذہبی قوانین نافذ کرنے کے مقصد کو ترک نہیں کیا۔ اس جائزے نے اوبامہ انتظامیہ کی طرف سے کابل اور شورش پسندوں کے درمیان امن معاہدہ کرانے کے لیے جو کوششیں کی جا رہی ہیں، ان کی کامیابی کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۲ء

Pages