ایمان بالغیب کی مختلف صورتیں

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متقین کا پہلا وصف یہ بیان فرمایا ہے ’’الذین یومنون بالغیب‘‘ کہ متقین عالم غیب پر ایمان رکھتے ہیں، ان دیکھی چیزوں کو بھی مانتے ہیں۔ جو چیزیں نظر آتی ہیں اور محسوس ہوتی ہیں ان کو بھی مانتے ہیں، ان کو تو ہر آدمی مانتا ہے لیکن کائنات میں بے شمار ایسی چیزیں ہیں جو نظر نہیں آتیں، نہ محسوس ہوتی ہیں اور نہ سمجھ آتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ مئی ۲۰۲۳ء

محکمہ تعلیم میں دینی مدارس کی رجسٹریشن اور ہمارے تحفظات

گزشتہ حکومت کے دور میں اوقاف کے حوالے سے نیا قانون قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں مختلف مراحل میں پاس ہو کر نافذ ہوا تو اس پر دینی حلقوں کی طرف سے تحفظات کا اظہار ہوا اور اسے مساجد و مدارس کی مسلمہ آزادی کے ساتھ ساتھ اوقاف کے شرعی قوانین اور شہری حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئے اس پر نظرثانی کا مطالبہ کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۲۳ء

اعمالِ خیر کی حفاظت بھی ضروری ہے

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ رمضان المبارک آج ہم سے رخصت ہونے والا ہے، گھنٹہ ڈیڑھ کا مہمان ہے، یہ برکتوں اور رحمتوں والا مہینہ اللہ تعالیٰ سال کے بعد ہمیں عطا فرماتے ہیں، اس میں اعمالِ خیر کی توفیق بھی زیادہ ملتی ہے اور مواقع بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے اعمال کو جیسے کیسے بھی ہیں اور جتنے بھی ہیں محض اپنے فضل و کرم کے ساتھ قبول فرمائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ اپریل ۲۰۲۳ء

اسلام آباد میں مسجد سلطان محمد الفاتحؒ کا سنگ بنیاد

انیس ستمبر کو اسلام آباد کے سیکٹر ای الیون میں سلطان محمد الفاتح رحمہ اللہ تعالیٰ کے نام سے موسوم مسجد کے سنگ بنیاد کی تقریب میں شرکت کا موقع ملا۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے خطیب مولانا قاری احمد الرحمن (فاضل جامعہ نصرۃ العلوم) مسجد کے بانی و منتظم ہیں۔ سینیٹر مولانا عطا الرحمٰن اور سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے اور ان کے ساتھ مجھے بھی یہ اعزاز بخشا گیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ ستمبر ۲۰۲۲ء

برطانیہ کا پہلا سفر

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ میرا برطانیہ کا پہلا سفر قادیانیت کے حوالے سے تھا اور امریکہ کا پہلا سفر بھی قادیانیت کے حوالے سے تھا۔ اس نشست میں لندن کے پہلے سفر کا پس منظر عرض کر دیتا ہوں۔ پاکستان میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ میں ہوا کرتی تھی، سالہا سال سے معمول تھا۔ قادیانی ربوہ (چناب نگر) میں کانفرنس کرتے تھے، اس کے مقابلے میں مسلمانوں کی کانفرنس چنیوٹ میں ہوتی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ مارچ ۲۰۱۶ء

امن اور معیشت : سیرت نبویؐ کی روشنی میں

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ہم حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کے حوالے سے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تذکرے کے لیے، آپ کی باتیں سننے اور کرنے کے لیے جمع ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہماری یہ نسبت قبول فرمائے، مل بیٹھنا اور سننا سنانا قبول فرمائے اور جو باتیں سمجھ میں آئیں اللہ تعالی عمل کی توفیق سے بھی نوازیں۔ مشنِ رسالت کیا ہے؟ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ کا مشن کیا تھا؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ اکتوبر ۲۰۲۲ء

مختلف مذاہب کے دانشوروں سے ملاقاتیں

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ان نشستوں میں گفتگو کے لیے بنائی گئی فہرست میں ایک موضوع ہے ”غیر مسلم شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں اور غیر مسلم اداروں میں حاضری“۔ غیر مسلم مذہبی شخصیات کے ساتھ میری ملاقاتیں رہتی ہیں اور غیر مسلم مذہبی اداروں میں آنا جانا بھی رہتا ہے، اس سلسلہ میں اپنے بعض مشاہدات کا تذکرہ کرنا چاہوں گا لیکن اس سے پہلے یہ ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ فروری ۲۰۱۶ء

امریکہ کا پہلا سفر

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ پروگرام کے مطابق آج ہماری اس سال کی آخری نشست ہے۔ اس سال ان فکری نشستوں کا موضوع” یادداشتیں “ تھا۔ مختلف تحریکات، اسفار اور مصروفیات کے بارے میں اپنی یادداشتیں اور معلومات بیان کر رہا تھا ریکارڈ بھی ہو رہی ہیں۔ آج مولانا محمد عبد اللہ راتھر نے فرمایا کہ ان یادداشتوں میں امریکہ کی کوئی بات نہیں ہے، حالانکہ امریکہ کے میرے درجنوں سفر ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم مئی ۲۰۱۶ء

خواجہ سراؤں کے حقوق کے نام پر ہم جنس پرستی کا فروغ

ٹرانس جینڈر پرسن ایکٹ پر بحث و مباحثہ نے جو صورتحال اختیار کر لی ہے اس کے بہت سے پہلو سنجیدہ توجہ کے مستحق ہیں اور ارباب فکر و دانش کو اس سلسلہ میں بہرحال اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ یہ قانون ۲۰۱۸ء کے دوران قومی اسمبلی اور سینٹ میں منظور ہوا تھا اور اس وقت سے ملک میں نافذ العمل ہے، اس کا عنوان خواجہ سرا اور اس نوعیت کے دیگر افراد کے حقوق کا تحفظ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۲۲ء

قطر حکومت کا ایک مستحسن اقدام

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ قطر میں فٹ بال کے ورلڈ کپ کا آغاز ہو گیا ہے اور یہ سرگرمیاں تقریباً ایک مہینہ جاری رہیں گی، دنیا بھر کی مختلف ٹیمیں اور لاکھوں لوگ وہاں پہنچ رہے ہیں اور پوری دنیا کی توجہ ادھر مبذول ہے، کھیل ہوتے رہتے ہیں، فٹ بال ہے، کرکٹ ہے، کبڈی ہے، اور بھی مختلف نوعیت کے کھیل ہیں، لیکن کھیل کے اس سلسلے کے آغاز پر دو باتیں ایسی ہوئی ہیں کہ جن پر اس وقت دنیا بھر میں، سوشل میڈیا پر اور میڈیا کے دوسرے شعبوں میں بحث جاری ہے۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۲۲ء

مسلم خواتین کا برقع کا حق

قرآن کریم نے لباس کو انسان کی زینت کے ساتھ ساتھ ستر پوشی کا ذریعہ، سردی گرمی سے بچاؤ اور جنگ میں حفاظت کا باعث قرار دیا ہے، اور مسلمان عورتوں کو عمومی لباس سے ہٹ کر دوپٹہ (خمار) اور جسم کو ڈھانپنے کے لیے (جلباب) بڑی چادر کے اہتمام کا حکم بھی دیا ہے جو اَب برقع کی صورت میں زیر استعمال ہے۔ مگر مغربی تہذیب کے دلدادہ اباحت پسند لوگ اس کو پسند نہیں کرتے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۲۱ء

پاپائے روم سے ایک گزارش

ہم پاپائے روم کے اس ارشاد کی مکمل تائید کرتے ہوئے ان سے گزارش کریں گے کہ صرف اتنی بات کہہ دینا کافی نہیں ہے کہ یہ گناہ ہے اور ہم اس کو تسلیم نہیں کر سکتے، بلکہ اس کے ساتھ اپنے زیر اثر حلقوں میں اس گناہ کے احساس کو اجاگر کرنا اور اس سے لوگوں کو باز رکھنے کی جدوجہد کرنا بھی مذہبی قیادت کی ذمہ داری ہے۔ انسانی سوسائٹی میں عریانی، فحاشی، سود خوری، بدکاری اور ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ جیسے رجحانات کا مسلسل فروغ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۲۱ء

عورت کا وراثتی حق اور لاہور ہائی کورٹ

کیس کی تفصیلات تو خیر میں موجود نہیں ہیں، مگر یہ بات واضح ہے کہ مسلم معاشرہ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور و قانون کے ہوتے ہوئے بھی ایک خاتون کو پون صدی کے لگ بھگ اپنی وراثت کے جائز حق کے لیے اپنے ہی بھائیوں سے عدالتی جنگ لڑنا پڑی ہے اور بالآخر وہ اس حالت میں زندگی کے دن پورے کر کے اپنے رب کے پاس چلی گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۲۱ء

کراہت کے مختلف دائرے

ہمارے ہاں حلال و حرام کے ساتھ ایک دائرہ مکروہ کا بھی بیان ہوتا ہے اور زندگی کے مختلف شعبوں میں جائز و ناجائز اور مکروہ کے بارے میں مسائل بیان کیے جاتے ہیں۔ کراہیت کا لفظ لغت میں ناپسندیدگی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور جو بات یا چیز کسی حوالہ سے ناپسندیدہ ہو اسے مکروہ کہا جاتا ہے۔ اس کراہت کے مختلف دائرے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ اگست ۲۰۲۱ء

افغان قوم کا نیا سفر اور انسانی سماج کا مستقبل

افغانستان سے امریکی اتحاد کی افواج کے بتدریج انخلا کے ساتھ ہی امارت اسلامی افغانستان کی تیز رفتار پیشرفت دنیا کے بہت سے حلقوں کے لیے حیرانگی کا باعث بنی ہے۔ مگر واقفانِ حال کے لیے کوئی بات خلاف توقع نہیں ہے بلکہ امریکہ کی مسلح مداخلت کے آغاز پر خود ہم نے اس کے منطقی انجام تک پہنچنے کے لیے جو اندازہ اپنے مضامین میں پیش کیا تھا اس سے بہت تاخیر ہو گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۲۱ء

افغانستان اور موجودہ عالمی صورتحال ۔ نوائے وقت کا اداریہ

افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اور جو ہونے والا ہے، اس کے بارے میں ہم اپنے خیالات آئندہ شمارے میں ان شاء اللہ تعالیٰ تفصیل کے ساتھ پیش کریں گے۔ سردست موقر قومی روزنامہ نوائے وقت کا ۲۹ نومبر ۲۰۰۱ء کا اداریہ قارئین کی خدمت میں پیش کیے جا رہے ہیں جس میں موجودہ صورتِ حال اور مستقبل کے خدشات و توقعات کی بہت بہتر انداز میں عکاسی کی گئی ہے اور ہمیں بھی ’’نوائے وقت‘‘ کے اس حقیقت پسندانہ تجزیے سے اتفاق ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۱ء

مذہبی انتہا پسندوں کے خلاف ایکشن

پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ روز بلوچستان سے منتخب ہونے والے ضلعی ناظمین سے بات چیت کے دوران میں کہا ہے کہ انتہا پسندوں کے خلاف ایکشن کا اعلان چند روز تک کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ چند مذہبی انتہا پسندوں کو ۱۴ کروڑ عوام کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انتہا پسندی جس معاشرے میں جڑ پکڑ لے، وہ معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا لیکن یہ فیصلہ کرنا کہ کون تنگ ن مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۱ء

عرب دنیا میں اسلامی حمیت کی تازہ لہر

سعودی عرب نے دہشت گردی سے مبینہ طور پر منسلک گروپوں کے اکاؤنٹس منجمد کرنے کے لیے امریکی درخواست کو رد کر دیا ہے۔ سعودی حکام نے کہا ہے کہ وہ بغیرثبوت کے کارروائی نہیں کر سکتے، امریکی ثبوت ناکافی ہیں۔جبکہ شہزادہ سلطان نے خیال ظاہر کیا ہے کہ افغان جنگ کسی بھی کروٹ بیٹھے، ہمارا موقف مسلمانوں کے خلاف نہیں ہوگا۔ ثبوت کے بغیر کسی عرب یا مسلمان کو مورد الزام ٹھہرانا حق وانصاف کے خلاف ہے۔ عرب لیگ نے بھی مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۱ء

اسلام میں میانہ روی اور اعتدال کی قدریں

میرے لیے یہ سعادت و برکت اور فخر و اعزاز کی بات ہے کہ عالم اسلام کے اس مؤقر و محترم فورم پر امت مسلمہ کے راہنماؤں کے ساتھ گفتگو کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔ رابطہ عالم اسلامی ملت اسلامیہ کا ایک باوقار ادارہ ہے جو ملت اسلامیہ کی وحدت و اجتماعیت کی علامت ہونے کے ساتھ ساتھ علمی و فکری راہنمائی کا مرکز بھی ہے، اور اس حوالہ سے پوری امت کی امیدوں کا محور ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۹ء

اللہ اور رسول کی اطاعت

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مسلمانوں کو جہاں اپنی اطاعت کا حکم دیا ہے وہاں اس کے ساتھ ہی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم بھی دیا ہے۔ اور ارشاد فرمایا ہے کہ ”اطیعوا اللّٰہ واطیعوا الرسول“ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور رسول اکرمؐ کی اطاعت کرو۔ اس لیے جہاں اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری ہم پر فرض ہے وہاں جناب نبی اکرم ؐکے احکام کی بجا آوری بھی ہماری دینی ذمہ داری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۲ء

’’ورتل القرآن ترتیلا‘‘ کے تقاضے

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ رمضان المبارک گزر گیا ہے اور ایک آدھ دن میں رخصت ہونے والا ہے، اللہ تعالیٰ اس رمضان المبارک میں ہماری نیکیوں کو جیسی کیسی بھی ہیں قبول فرمائیں اور صحت و عافیت، توفیق اور قبول و رضا کے ساتھ زندگی میں بار بار یہ برکتوں والا مہینہ عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔ قاری محمد صفوان کو تراویح میں قرآن سنانے پر اور آپ سب نمازیوں کو قرآن کریم سننے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ یہ گلشن ہمارے بزرگوں کا لگایا ہوا گلشن ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ اگست ۲۰۱۳ء

’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کا مقدمہ

حسب وعدہ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی علم اسرار الاحکام پر شہرہ آفاق تصنیف ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ کا مقدمہ اردو متن کی کچھ ضروری تسہیل و تشریح کے ساتھ پیش خدمت ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ احکام شرعیہ میں مصالح کا کوئی لحاظ نہیں رکھا گیا اور اعمال اور ان کی سزا و جزا کے درمیان کوئی عقلی مناسبت نہیں ہے۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی مالک اپنے نوکر کی تابعداری چیک کرنے کے لیے اسے کہے کہ وہ فلاں درخت کو ہاتھ لگا کر آئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ تا ۱۴ مارچ ۲۰۱۶ء

تعارف ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘

’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ کے مقدمہ کو اردو کے قالب میں اس سے قبل اپنے انداز میں پیش کیا تھا جو روزنامہ اسلام کی اشاعت ۱۱ تا ۱۴ مارچ ۲۰۱۶ء میں قسط وار شائع ہو چکا ہے مگر اس کی تمہید شامل نہیں ہو سکی تھی جو حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ نے اس عظیم کتاب کے موضوع کے تعارف اور تصنیف کے پسِ منظر کے طور پر تحریر فرمائی تھی، اسے اب قلمبند کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں تاکہ مقدمہ مکمل ہو جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ و ۱۱ اپریل ۲۰۱۹ء

فضلائے مدارس کے لیے ’’ہاؤس جاب‘‘ کی ضرورت

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ مخدوم العلماء حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب قدس اللہ سرہ العزیز کے فرزند و جانشین اور خانقاہ سراجیہ شریف کندیاں کے سجادہ نشین حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد کی جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں تشریف آوری ہمارے لیے خوشی کی بات بھی ہے اور برکت کا باعث بھی ہے۔ یہ نسبتوں کا اظہار اور ان کی تجدید ہے اور میں حضرت صاحبزادہ صاحب کی تشریف آوری کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان کا جامعہ نصرۃ العلوم اور تمام احباب کی طرف سے شکرگزار ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ فروری ۲۰۱۲ء

اسلامی نظامِ معیشت کی نمایاں خصوصیات

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آپ حضرات کے استاذِ محترم مولانا مفتی حماد اللہ وحید سے آپ کے ساتھ آج کی گفتگو کے لیے ”اسلامی معیشت“ کے عنوان کے بارے میں مشاورت ہوئی ہے۔ لیکن وقت چونکہ مختصر ہے اور صرف ایک ہی نشست کی گنجائش ہے اس لیے میں نے صرف تعارفی گفتگو کا ارادہ کیا ہے اور آپ حضرات سے اس حوالہ سے کچھ عرض کرنا چاہوں گا کہ قرآن کریم اور حدیث و سنت میں زندگی کے دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ معاشیات پر بھی بات کی گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ مئی ۲۰۱۲ء

اکابر و اسلاف کے تذکرہ کا اصل مقصد ان کی پیروی ہے

محرم الحرام اسلامی ہجری سن کا پہلا مہینہ ہے اور یہ ہر سال اپنے ساتھ امت مسلمہ کے دو عظیم سانحوں کی یاد لے کر آتا ہے۔ یکم محرم الحرام امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق اعظمؓ کا یوم شہادت ہے اور دس محرم کو سیدنا حضرت امام حسینؓ کی قیادت میں خانوادۂ نبوت نے کربلا میں اپنی مقدس جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔ اسلامی تاریخ ان کے دو المناک واقعات کی یاد کے ساتھ ہم ہر محرم الحرام میں نئے سال کا آغاز کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ نومبر ۲۰۱۲ء

ابلاغیات اور ہماری اخلاقی ذمہ داریاں

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ مجلس صیانۃ المسلمین پاکستان کے سالانہ اجتماع میں حاضری میرے لیے سعادت کی بات ہے، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی نسبت اتنی بلند و بالا ہے کہ نسبتیں بھی اس کے سامنے سر نیاز خم کر دیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان نسبتوں پر قائم رہنے کی توفیق دیں اور دنیا و آخرت میں ان نسبتوں کی برکات سے فیضیاب کریں، آمین یا رب العالمین۔ حضرات صوفیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی محنت انسان کی روح، قلب اور نفس پر ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ مارچ ۲۰۱۳ء

بخاری شریف حضرت شاہ ولی اللہ الدہلویؒ کی نظر میں

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ سب سے پہلے ان طلبہ کو مبارکباد پیش کروں گا جو آج بخاری شریف کے آخری سبق کے ساتھ اپنے درس نظامی اور دورۂ حدیث کے نصاب کی تکمیل کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ حضرات کو علم مبارک کریں اور آپ کا پڑھنا آپ کے لیے، آپ کے والدین کے لیے، اہل خاندان کے لیے، جامعہ نصرۃ العلوم کے اساتذہ و منتظمین کے لیے، معاونین اور بہی خواہوں کے لیے اور تمام متعلقین کے لیے دنیا و آخرت کی برکتوں کا ذریعہ بنائیں اور دونوں جہانوں کی خوشیاں اور کامیابیاں عطا فرمائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ مئی ۲۰۱۳ء

امت کے زوال کے اسباب

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے میں اس کے بارے میں کچھ معروضات پیش کروں گا، اور اس کے ساتھ ہی مجھ سے کہا گیا ہے کہ آج کی گفتگو میں ’’امت کے زوال کے اسباب‘‘ کے حوالے سے بھی کچھ عرض کروں۔ اس سلسلہ میں گزارش ہے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالی نے ہم سے پہلے دنیا میں مذہبی قیادت کے منصب پر فائز بنی اسرائیل کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کے عروج و زوال کے مراحل بیان فرمائے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جولائی ۲۰۱۳ء

نئے علماء کے لیے لائحہ عمل

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج ہم اپنے ان عزیزوں کو رخصت کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں جنہوں نے ہمارے ساتھ وقت گزارا اور تعلیم حاصل کی- آج یہ فارغ ہو کر گھروں کو جا رہے ہیں اور ان کی جدائی سے ہم عجیب سی کیفیت سے دو چار ہیں، یہ ہمارے بچے ہیں، اولاد کی طرح ہیں اور اب ہم سے رخصت ہو رہے ہیں، میں ان بچوں کو مبارک باد دیتا ہوں کہ انہوں نے اپنا تعلیمی نصاب مکمل کر لیا ہے اور اب وہ عملی زندگی میں داخل ہو رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۳ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter