جاہلیتِ قدیمہ اور جاہلیتِ جدیدہ

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ کچھ عرصہ پہلے آسٹریلیا کے ایک سابق وزیر اعظم مسٹر ٹونی ایبٹ کا ایک بیان شائع ہوا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ثقافتیں اور تہذیبیں ایک جیسی نہیں ہوتیں اور مغرب کو آج کی تہذیبی کشمکش میں اپنی برتری ثابت کرنا ہو گی۔ یہ دو جملے ہیں لیکن ان میں ایک طویل داستان ہے، اس حوالے سے میں آپ کے سامنے مجموعی تناظر میں اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب کے اصولی فرق پر بات کرنا چاہوں گا۔ یہ دونوں تہذیبیں جو اس وقت آمنے سامنے ہیں اور جن کے درمیان انسانی معاشرے میں کشمکش جاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ نومبر ۲۰۲۳ء

بیت المقدس پر اہلِ اسلام کا استحقاق

کچھ عرصہ سے فلسطین اور بیت المقدس کے حوالے سے گفتگو چل رہی ہے، آج میں اس کے ایک پہلو پر چند گزارشات پیش کرنا چاہوں گا۔ وہ یہ کہ بیت المقدس پر استحقاق کس کا ہے؟ دعویدار تو یہودی، عیسائی اور مسلمان تینوں ہیں مگر تاریخی حوالے سے میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جب تک یہود اہلِ حق تھے اور ’’انی فضلتکم علی العالمین‘‘ کا اعزاز ان کے پاس تھا، بیت المقدس ان کا قبلہ تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ نومبر ۲۰۲۳ء

پتنگ بازی پر مستقل پابندی کی سفارش

روزنامہ جنگ لاہور ۲۷ فروری ۲۰۰۴ء کی خبر کے مطابق لاہور کی ضلعی حکومت نے صوبہ پنجاب کی حکومت سے سفارش کی ہے کہ لاہور میں پتنگ بازی پر مستقل پابندی لگا دی جائے اور اگر جشن بہاراں یا بسنت کے موقع پر ضروری ہو تو اسے شرائط اور پابندیوں کے ساتھ شہر سے باہر کھلے میدانوں میں محدود کر دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۴ء

الحاج ابراہیم یوسف باوا کی رحلت

اسلام کے عالمی مبلغ اور شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنیؒ کے خلیفہ مجاز الحاج ابراہیم یوسف باوا گزشتہ روز برطانیہ کے شہر گلاسٹر میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق برما کے دارالحکومت رنگون سے تھا اور وہ ایک عرصہ سے گلاسٹر میں مقیم تھے جہاں وہ ایک دینی ادارہ چلا رہے تھے اور ماہنامہ ’’الاسلام‘‘ کے نام سے جریدہ شائع کرتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۴ء

پسند کی شادی پر پابندی کا مطالبہ

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۱۶ ستمبر ۲۰۰۴ء کی رپورٹ کے مطابق معروف قانون دان ایم ڈی طاہر نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک رٹ دائر کی ہے جس میں عدالتِ عالیہ سے درخواست کی گئی ہے کہ پسند کی شادی پر پابندی عائد کی جائے اور گھروں سے بھاگ کر والدین کی مرضی کے خلاف شادی کرنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کے لیے قانون سازی کی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۴ء

انسانی سوسائٹی میں مذہب کا کردار اور مذہبی راہنماؤں کی ذمہ داری

گزشتہ روز اسلام میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے مذہبی راہنماؤں کا عالمی سطح پر اجلاس ہوا جس میں صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف نے بھی شرکت کی۔ اس سیمینار کا اہتمام وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے راہنماؤں نے کیا اور اس میں پاکستان کے علاوہ بعض مغربی ممالک سے بھی مختلف مذاہب کے مذہبی پیشواؤں نے شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۴ء

دینی مدارس میں سرچ آپریشنز کی سرکاری مہم

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۲۲ اگست ۲۰۰۴ء کی رپورٹ کے مطابق تمام مکاتبِ فکر کے دینی مدارس کے وفاقوں پر مشتمل ’’اتحادِ تنظیماتِ مدارسِ دینیہ‘‘ نے دینی مدارس اور مساجد پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے چھاپوں اور سرچ آپریشنز کو مسترد کرتے ہوئے احتجاجی مہم منظم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ملک کے مختلف شہروں میں بھرپور کنونشن منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۴ء

مذہبی یادگار اور امریکی چیف جسٹس

روزنامہ جنگ لاہور ۱۴ نومبر ۲۰۰۳ء کی خبر کے مطابق امریکہ کی ریاست الاباما کے چیف جسٹس کو اس لیے اس کے منصب سے سبکدوش کر دیا گیا ہے کہ اس نے عدالت سے ایک مذہبی یادگار کو ہٹانے سے انکار کر دیا ہے۔ امریکی دستور کے مطابق عدالت یا کسی بھی قومی اور اجتماعی شعبہ کو کسی مذہبی اثر سے آزاد ہونا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۳ء

چینی مسلمانوں کا مسئلہ

روزنامہ جنگ لاہور ۴ نومبر ۲۰۰۳ء کی رپورٹ کے مطابق صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف نے اپنے حالیہ دورۂ چین کے دوران چینی حکمرانوں کو یقین دلایا ہے کہ وہ چین کے شمال مغربی سرحدی صوبہ سنکیانگ میں مسلمانوں کی تحریک کے لیے پاکستان کی سرزمین کو استعمال نہیں ہونے دیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۳ء

اسرائیل اور امریکہ کیلئے نوشتۂ دیوار

روزنامہ اسلام لاہور ۵ نومبر ۲۰۰۳ء میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ایک حالیہ سروے میں یورپی ممالک کے شہریوں نے اسرائیل اور امریکہ کو عالمی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ یہ سروے یورپی یونین کی طرف سے کرایا گیا جس میں یورپی یونین کے ہر ملک کے تقریباً پانچ سو باشندوں سے سوال کیا گیا کہ وہ کن ممالک کو عالمی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۳ء

حلال و حرام سے آگاہی اور علماء کرام کی ذمہ داری

حلال آگہی کونسل پاکستان اور محترم جناب آفاق شمسی کا شکرگزار ہوں کہ میری کراچی حاضری کے موقع پر حضرات علماء کرام کے ساتھ علمی، تعلیمی اور روحانی مرکز جامعہ اشرف المدارس میں ملاقات کا اہتمام فرمایا۔ میری حضرت حکیم محمد اختر ؒ کے ساتھ نیاز مندی تھی، ان کی خدمت میں حاضری ہوتی رہتی تھی اور بعض بیرونی اسفار میں ان کے ساتھ شرکت رہی ، حکیم محمد مظہر صاحب کے ساتھ بھی نیاز مندی کا تعلق ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ نومبر ۲۰۲۳ء

بغداد پر حملہ: برطانوی پارلیمنٹ کی ایک قرارداد

روزنامہ جنگ لاہور ۲۲ مارچ ۲۰۰۳ء کی ایک خبر کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ میں گزشتہ روز یہ قرارداد پیش کی گئی ہے کہ بغداد پر حملہ کے دوران اس بات کا بطور خاص لحاظ رکھا جائے کہ شہر کے وسط میں موجود چڑیا گھر کو کوئی نقصان نہ پہنچے کیونکہ اس سے بہت سے جانور ہلاک ہو جائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۳ء

دینی مدارس میں انقلابی تبدیلیوں کیلئے سرکاری فنڈ

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۹ فروری ۲۰۰۳ء کی خبر کے مطابق وفاقی وزیر تعلیم زبیدہ جلال نے کہا ہے کہ حکومت جن مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے رقوم فراہم کرے گی ان پر وفاقی وزارت تعلیم کا مکمل کنٹرول ہوگا۔ یہ بات انہوں نے منگل کے روز برطانوی ادارہ ’’ڈیپارٹمنٹ فار انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ‘‘ کے نمائندہ سوماچکربائی کو کہی جنہوں نے ایک وفد کے ہمراہ ان سے ملاقات کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۳ء

ترکی میں طیب اردگان کی جسٹس پارٹی کی جیت

ترکی کے عام انتخابات میں جناب طیب اردگان کی ’’جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی‘‘ نے قومی اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل کر لی ہے، اور ان کے خصوصی نائب جناب عبد اللہ گل کو وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھانے کی دعوت دے دی گئی ہے۔ طیب اردگان ترکی کے سابق وزیر اعظم جناب نجم الدین اربکان کی ’’رفاہ پارٹی‘‘ میں شامل تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۲ء

میر ایمل کانسی مرحوم کی سزائے موت

بلوچستان کے کانسی قبیلے سے تعلق رکھنے والے نوجوان میر ایمل کانسی کو گزشتہ روز امریکہ میں زہریلے انجکشن کے ذریعے سزائے موت دے دی گئی اور ان کی نعش کو پاکستان لا کر کوئٹہ میں ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔ ایمل کانسی پر امریکہ میں سی آئی اے کے بعض اہلکاروں کو قتل کرنے کا الزام تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۲ء

صدر جنرل پرویز مشرف، مسلم لیگ (ق)، متحدہ مجلسِ عمل

عام انتخابات کے انعقاد کے ایک ماہ بعد قومی اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ (ق) نے وزیر اعظم اور اسپیکر کا الیکشن جیت کر حکومت بنا لی ہے، اور ان سطور کی اشاعت تک نئی حکومت کے خدوخال اور عزائم واضح ہو چکے ہوں گے۔ اس سے قبل صدر جنرل پرویز مشرف نے بھی آئین میں کی گئی نئی ترامیم اور چند ماہ قبل کرائے جانے والے صدارتی ریفرنڈم کے تحت آئندہ پانچ سال کے لیے صدر کے عہدہ کا حلف اٹھا لیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۲ء

۲۰۰۲ء کے انتخابات: متحدہ مجلسِ عمل کا قیام اور عوام کی ذمہ داری

۱۰ اکتوبر کی آمد آمد ہے اور ملک بھر میں عام انتخابات کی تیاریاں جاری ہیں۔ اگرچہ بعض حلقوں کی طرف سے الیکشن کے التوا کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے، لیکن صدر جنرل پرویز مشرف اور ان کی ٹیم کے ذمہ دار حضرات بار بار اور دوٹوک اعلان کر رہے ہیں کہ انتخابات ضرور ہوں گے اور مقررہ وقت پر ہی ہوں گے، اس لیے اس سلسلہ میں کسی تذبذب کا بظاہر اب کوئی جواز نظر نہیں آ رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۲ء

کرپشن ختم کرنے کا عہد اور اس کے تقاضے

گزشتہ دنوں ایک جرمن این جی او کی دعوت پر اسلام آباد میں کرپشن کے خلاف کانفرنس کا اہتمام ہوا جس میں ملک کی چند بڑی سیاسی جماعتوں نے بھی شرکت کی۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے کانفرنس سے خطاب کیا اور اس موقع پر ملک میں کرپشن کے خاتمہ کے لیے مشترکہ عزم کرتے ہوئے ایک عہد نامہ پر دستخط کیے گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۲ء

عراق پر امریکی حملے کی تیاری اور برطانوی وزیر

روزنامہ جنگ کراچی ۲۳ ستمبر ۲۰۰۲ء کی خبر کے مطابق برطانیہ کی بین الاقوامی ترقی کی وزیر کلیئرشاٹ نے عراق پر ممکنہ حملے کی سخت مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ہم مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور جنگ نہیں چھیڑ سکتے۔ بی بی سی کے مطابق انہوں نے کہا کہ عراقی عوام پہلے ہی بہت کچھ سہہ چکے ہیں، کوئی نہ کوئی طریقہ نکالنا چاہیے جس سے اقوامِ متحدہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۲ء

فرائضِ شرعیہ اور لاہور ہائی کورٹ

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۱ ستمبر ۲۰۰۲ء کی خبر کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے ممتاز قانون دان ایم ڈی طاہر کی یہ درخواست، کہ تعلیمی اداروں میں جہاد کی تعلیم کو لازمی قرار دیا جائے، یہ کہہ کر نمٹا دی ہے کہ جہاد شرعی فرائض میں سے ہے اس لیے اس کی ترغیب کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ مسٹر ایم ڈی طاہر نے درخواست میں لکھا ہے کہ جہاد دینی فریضہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۲ء

صوبائی وزیر قانون کی طرف سے وفاقی شرعی عدالت ختم کرنے کا مطالبہ

روزنامہ جنگ لاہور ۲۳ اگست ۲۰۰۲ء کی خبر کے مطابق پنجاب کے صوبائی وزیر قانون رانا اعجاز احمد خان نے لاہور میں اقلیتوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے شریعت کورٹ کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تعصب پر مبنی کوئی بھی عدالت نہیں ہونی چاہیے، انصاف کے لیے ہمارے پاس ہائی کورٹ موجود ہے جو آئین کے مطابق ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۲ء

انسانی دنیا کے اعمال اور پوپ جان پال کی فکر انگیز باتیں

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۹ اگست ۲۰۰۲ء میں شائع شدہ خبر کے مطابق کیتھولک مسیحی فرقہ کے سربراہ پوپ جان پال دوم نے اپنے آبائی علاقہ پولینڈ میں ۲۰ لاکھ افراد کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انسانیت کو خدا کے ساتھ دھوکہ کرنے سے باز رکھنے کی تلقین کی ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب کے دوران جینیاتی انجینئرنگ کی مخالفت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۲ء

نائجیرین لڑکی کیلئے قبرص میں سیاسی پناہ

روزنامہ جنگ لاہور ۲۲ اگست ۲۰۰۲ء کی رپورٹ کے مطابق نائجیریا کی ایک حاملہ طالبہ کو قبرص میں عارضی طور پر پناہ دے دی گئی ہے۔ ۲۱ سالہ اتاندا فتیمو کو اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب وہ ۱۷ اگست کو جعلی پاسپورٹ پر آئرلینڈ پہنچ گئی تھی، اسے آئرلینڈ سے واپس قبرص بھیج دیا گیا۔ اس طالبہ نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۲ء

دینی مدرسہ آرڈیننس اور کل جماعتی کانفرنس

دینی مدارس کے بارے میں حکومت کے مجوزہ آرڈیننس کے حوالے سے ’’وفاق المدارس العربیہ پاکستان‘‘ کا موقف اور فیصلہ قارئین کی خدمت میں ’’نصرۃ العلوم‘‘ کے اسی شمارے میں پیش کیا جا رہا ہے۔ دینی مدارس کے دیگر وفاقوں نے بھی ’’اتحادِ تنظیماتِ مدارسِ دینیہ‘‘ کے فورم پر یہی فیصلہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۲ء

پاکستان کو سیکولر معاشرہ بنانے کا مغربی ایجنڈا

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۲۰ جولائی ۲۰۰۲ء کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے وزیر خارجہ جنرل کولن پاول آئندہ ہفتے پاکستان اور بھارت کے دورے پر آ رہے ہیں اور انہوں نے امریکہ کے ایک ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس دورہ میں پاکستان اور بھارت کے حکمرانوں سے صرف جنوبی ایشیا میں کشیدگی کم کرنے کے سوال پر بات نہیں کریں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۲ء

سودی نظام: عدالتِ عظمیٰ کا فیصلہ اور سرکاری موقف

وفاقی شرعی عدالت نے ملک میں سود سے متعلقہ مروجہ مالیاتی قوانین کو قرآن و سنت کے منافی قرار دیتے ہوئے حکومتِ پاکستان کو ان قوانین کو ختم کرنے اور ان کی جگہ اسلامی مالیاتی قوانین نافذ کرنے کا جو حکم دیا تھا، اسے سپریم کورٹ آف پاکستان نے منسوخ کرتے ہوئے وفاقی شرعی عدالت کو اس کیس کی ازسرِنو سماعت کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۲ء

موجودہ حالات میں علماء کرام اور اہلِ دین کی ذمہ داری

اتحادِ اہلسنت قلعہ دیدار سنگھ کے احباب نے فرمائش کی ہے کہ ان کی اس ماہانہ نشست میں موجودہ عالمی صورتحال میں علماء کرام اور اہلِ دین کی ذمہ داریوں کے حوالے سے کچھ گزارشات پیش کروں۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے تو آج کے حالات پر ایک نظر ڈالنا ہو گی جن کا نقشہ کچھ اس طرح ہے کہ دنیا میں اس وقت ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ جون ۲۰۰۲ء

ووٹر فارم میں عقیدۂ ختمِ نبوت کے حلف نامہ کی بحالی

حکومت نے ووٹرز فارم میں عقیدۂ ختمِ نبوت کا حلف نامہ بحال کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، اور اس طرح ایک طویل مدت کے بعد دینی حلقوں کے کسی مطالبہ کو حکومتی حلقوں میں پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ جس سے ایک بات پھر واضح ہو گئی ہے کہ دینی جماعتیں اگر کسی مسئلہ پر متفق ہو کر دوٹوک موقف اختیار کر لیں تو حکومت کے لیے اس کو نظرانداز کرنا آسان نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۲ء

ملٹی نیشنل کمپنیوں کو لیز پر اراضی دینے کا فیصلہ

روزنامہ خبریں لاہور ۲۰ جون ۲۰۰۲ء کی خبر کے مطابق وفاقی کابینہ نے صدر جنرل پرویز مشرف کی زیرصدارت اجلاس میں ملک میں کارپوریٹ فارمنگ کے لیے زرعی زمین غیر ملکی کمپنیوں کو لیز پر دینے کے پروگرام کی منظوری دے دی ہے۔ جس کے بعد غیر ملکی ادارے پاکستان میں کارپوریٹ فارمنگ کے لیے زرعی زمین لیز پر حاصل کر سکیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۲ء

دینی مدارس کیلئے نیا حکومتی نظام

وفاقی کابینہ نے بالآخر دینی مدارس کے بارے میں اپنے فیصلے کا اعلان کر دیا ہے۔ روزنامہ جنگ لاہور ۲۰ جون ۲۰۰۲ء کی رپورٹ کے مطابق صدر جنرل پرویز مشرف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے ایک اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات نثار اے میمن نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کابینہ کے فیصلوں کا اعلان کیا ہے۔ جس کی رو سے تمام دینی مدارس کی رجسٹریشن ہو گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۲ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter