مقالات و مضامین

جرائم شکنی ۔ ہمارا روایتی نظام اور اسلام کا مزاج

ہمارے ارباب حل و عقد ابھی تک یہ نکتہ نہیں سمجھ پا رہے کہ کسی واقعہ کے بعد اس کے اثرات کے ازالہ کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے کی بجائے وقوعہ سے پہلے ایسے اسباب کی روک تھام ضروری ہے جو ان واقعات کا باعث بنتے ہیں۔ ورنہ اگر اسباب موجود رہیں گے تو واقعات رونما ہوتے رہیں گے اور کسی ایک جگہ عارضی رکاوٹ و بندش دیکھ کر وہ اسباب اپنے نتائج دکھانے کے لیے کسی اور جگہ سر اٹھا لیں گے۔ اسی لیے جب قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی ایک علاقے میں شکنجہ سخت کرتے ہیں تو دہشت گردی اپنا علاقائی دائرہ کار تبدیل کر لیتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ جنوری ۱۹۹۹ء

این جی اوز اور انسانی حقوق کے ادارے

یہ این جی اوز یعنی غیر سرکاری تنظیمیں سماجی خدمت، صحت، انسانی حقوق، اور نادار لوگوں کی خدمت کے نام پر ملک بھر میں ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں۔ انہیں عالمی اداروں سے کروڑوں روپے کی امداد ملتی ہے اور وہ ایک وسیع نیٹ ورک میں لاکھوں پاکستانیوں کو شریک کار بنا کر اپنے مقاصد کے لیے مسلسل مصروف کار ہیں۔ یہ تنظیمیں اگر فی الواقع غریب عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں اور نادار عوام کے نام پر حاصل ہونے والے فنڈز ان کی صحت اور بہبود کے لیے صرف کریں تو ان سے کسی کو کیا شکایت ہو سکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جنوری ۱۹۹۹ء

عبادات اور معاملات میں توازن

اس واقعہ سے جہاں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اسلام حقوق اللہ اور حقوق العباد میں توازن قائم رکھنے حکم دیتا ہے اور حقوق اللہ کی ادائیگی کی کوئی ایسی صورت قبول نہیں کرتا جس سے حقوق العباد متاثر ہوتے ہوں۔ وہاں ایک اور بات بھی ذہن میں آتی ہے کہ انسان جب بھی اپنے بارے میں کوئی فیصلہ کرتا ہے تو اس کے سامنے وقتی حالات ہوتے ہیں اور وہ انہی کی روشنی میں معاملات انجام دیتا ہے۔ جبکہ اسلام ایسا کوئی فیصلہ کرنے میں تمام احوال و ظروف کا لحاظ رکھتا ہے جو کہ بسا اوقات انسان کو عجیب محسوس ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جنوری ۱۹۹۹ء

مسیحی دنیا کو قرآن کریم کی دعوت

تاریخ نے قرآن کریم کی اس پیش گوئی کو اس طرح سچا کر دکھایا کہ آج یہودی اور عیسائی اپنی تمام تر دشمنی اور لڑائیاں بھلا کر باہم شیر و شکم ہوگئے ہیں کہ عیسائی دنیا کے وسائل اور یہودی دماغ مل کر اسلام اور عالم اسلام کے خلاف متحدہ محاذ قائم کیے ہوئے ہیں۔ مگر ان سب باتوں سے قطع نظر جی چاہتا ہے کہ مسیحی برادری کو ان کی اس عید پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے قرآن کریم کی وہ دعوت دہرا دی جائے جس میں مسیحی دنیا بلکہ سب اہل کتاب کو آسمانی تعلیمات کی ’’مشترک اقدار‘‘ کی طرف واپس لوٹ آنے کی دعوت دی گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ دسمبر ۱۹۹۸ء

حلال و حرام کا فرق اور عام مسلمان

مرکزی جامع مسجد میں اپنے دفتر میں بیٹھا تھا کہ دو اصحاب تشریف لائے، انہوں نے کہا کہ ہم مسئلہ پوچھنے آئے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ایک دوست نے، جو یورپ کے ایک ملک میں رہتا ہے، لاعلمی میں اس جانور کا گوشت کھا لیا ہے جس کا نام بھی نہیں لینا چاہیے۔ اب اس کا کیا حکم ہے اور اسے اس کی تلافی کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ میں نے عرض کیا کہ اگر لاعلمی میں کھایا ہے تو اس کا قصور نہیں ہے، البتہ اس بے احتیاطی پر اسے توبہ استغفار کرنی چاہیے کیونکہ کوئی چیز کھاتے وقت ایک مسلمان کو اس کے بارے میں باخبر ہونا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ دسمبر ۱۹۹۸ء

مروجہ قوانین کی اسلامائزیشن کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹ

اب دستور کے مطابق ملک میں رائج تمام قوانین کے بارے میں اسلامی نظریاتی کونسل کی مکمل رپورٹ پارلیمنٹ کے سپرد کی جا چکی ہے جس میں متعدد قوانین اور ان کی مختلف شقوں کا جائزہ لے کر ان کی شرعی حیثیت کا تعین کر دیا گیا ہے۔ اور کونسل نے جن قوانین اور دفعات کو قرآن و سنت سے متصادم محسوس کیا ہے ان کی جگہ متبادل قوانین کے مسودہ جات بھی رپورٹ میں شامل کر دیے گئے ہیں۔ دستور کے مطابق پارلیمنٹ اس بات کی پابند ہے کہ حتمی رپورٹ اس کے حوالے ہونے کے بعد دو سال کے اندر اس کے مطابق قانون سازی کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ دسمبر ۱۹۹۸ء

اسلامی نظریاتی کونسل اور جہاد سے متعلق عصری سوالات

قرآن کریم نے قتال کا لفظ تو ہتھیار کی جنگ کے لیے ہی استعمال کیا ہے مگر جہاد کے لفظ میں عموم ہے۔ قرآن کریم نے جہاد بالنفس کے ساتھ جہاد بالمال کا ذکر کیا ہے جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد باللسان کو بھی اس کے ساتھ شامل کیا ہے۔ بلکہ غزوۂ احزاب کے بعد حضورؐ نے واضح اعلان فرمایا تھا کہ اب قریش ہمارے مقابلہ میں ہتھیار لے کر نہیں آئیں گے بلکہ زبان کی جنگ لڑیں گے اور شعر و خطابت کے میدان میں جوہر دکھائیں گے۔ چنانچہ آپؐ کے ارشاد پر صحابہ کرامؓ میں سے نامور خطباء اور شعراء نے جہاد باللسان کا یہ معرکہ سر کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ اپریل ۲۰۱۶ء

نفاذِ اسلام اور دورِ غلامی کی عبوری تعبیرات

دور غلامی میں بعض بنیادی مسائل میں ہمارے فقہاء نے وقتی اور عبوری طور پر ایسی صورتیں نکالی تھیں جن کا جواز بس اسی دور میں ہو سکتا تھا۔ آزادی اور اقتدار کے دور میں اسلامی احکام کی وہ صورتیں کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہو سکتیں۔ مثال کے طور پر نماز اور زکوٰۃ کے دو بنیادی احکام کو سامنے رکھ لیجیے جو اسلام کے احکام میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اور جنہیں سوسائٹی میں عملی طور پر لاگو اور نافذ کرنے کی ذمہ داری کو قرآن نے اسلامی حکومت کے فرائض میں بیان کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ دسمبر ۱۹۹۸ء

وزیراعظم کا استقبال اور غریب عوام کی درگت

یہ واقعات نئے نہیں ہیں، جب بھی حکمرانوں کو کسی حوالہ سے بڑے ہجوم اور اجتماع کی ضرورت پڑتی ہے اس کے لیے اسی طرح کے حربے اختیار کیے جاتے ہیں۔ اس سے حکمرانوں کی وقتی سیاسی ضرورتیں تو پوری ہو جاتی ہیں، انتظامی افسران اور ممبران اسمبلی کو شاباش مل جاتی ہے اور کچھ لوگوں کی انا کو نفسیاتی تسکین بھی حاصل ہو جاتی ہے، مگر غریب عوام کی جو درگت بنتی ہے اس کا اندازہ انہی لوگوں کو ہو سکتا ہے جو عوام میں رہتے ہیں اور انہی کے ساتھ میسر سفر کے ذرائع اختیار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم دسمبر ۱۹۹۸ء

ربوہ کا نام اور اس کے باشندوں کے مالکانہ حقوق

ایک فریق قرآن کریم کے ایک لفظ کو غلط استعمال کر کے دنیا بھر کے لوگوں کو دھوکہ دے رہا ہے، جبکہ دوسرے فریق نے دھوکہ کی اس فضا کو ختم کرنے کے لیے پیش رفت کرنا چاہی ہے۔ اب انصاف پسند لوگ خود فیصلہ کریں کہ ان میں سے کون سا فریق انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور کون سا فریق انسانی حقوق کی پاسداری میں مصروف ہے۔ بلکہ اگر انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو ربوہ کے نام کی تبدیلی انسانی حقوق کا مسئلہ نہیں بلکہ اس شہر کے باشندوں کو مکانات اور دکانوں کے مالکانہ حقوق دینے کا مسئلہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ نومبر ۱۹۹۸ء

اسلامی نظام حکومت میں صوبائی خودمختاری

اس پس منظر میں جب ہم صوبائی خودمختاری کے مسئلہ کو سنت نبویؐ اور خلفاء راشدینؓ کے طرز عمل کی روشنی میں دیکھتے ہیں تو دو باتیں بطور اصول سمجھ میں آتی ہیں۔ ایک یہ کہ اسلام نے علاقائی یونٹوں کے وجود کو تسلیم کیا ہے لیکن لسانی اور قومی عصبیتوں کی نفی کی ہے۔ نبی اکرمؐ نے ایک طرف تو زبان، رنگ اور نسل کی بنیاد پر اجتماع کرنے اور اس حوالہ سے دوسروں کے خلاف نفرت پھیلانے کو جاہلی عصبیت قرار دے کر اس سے بیزاری کا اظہار فرمایا۔ اور دوسری طرف آپؐ کے زمانے میں جو علاقے فتح ہوئے ان کی انتظامی وحدتوں کو برقرار رکھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ نومبر ۱۹۹۸ء

سیرت نبویؐ اور ڈکٹیٹرشپ

یہ مسئلہ فی الواقع سنگین ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سب سے اعلیٰ قانون ساز ادارے کے ایک رکن کی زبان پر جناب رسالت مآبؐ کی ذات گرامی کے بارے میں یہ گمراہ کن اور گستاخانہ الفاظ آخر کس طرح آگئے؟ اس معاملہ کے ضروری پہلوؤں کا جائزہ لینا اور انصاف و دینی حمیت کے تقاضے کو پورا کرنا متعلقہ شخصیات اور اداروں کی ذمہ داری ہے۔ مگر ہم اس مسئلے کے بارے میں ایک اور پہلو سے کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ جناب رسول اللہؐ کے بارے میں مذکورہ سینیٹر کا یہ جملہ اس کا اپنا نہیں بلکہ ایک درآمدی فقرہ ہے جو مغرب کے نظریہ ساز کارخانوں میں ڈھلا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ نومبر ۱۹۹۸ء

اسلام کا نظامِ حکومت اور رائے عامہ

اسلام کے سیاسی نظام کے حوالے سے ’’جمہوریت‘‘ کی نفی کرنے والے حضرات بھی عام طور پر ادھوری بات کہتے ہیں جس سے کنفیوژن پیدا ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ یہ بات تو کہہ دیتے ہیں کہ مغربی جمہوریت کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے لیکن اس کے ساتھ یہ وضاحت نہیں کرتے کہ خود اسلام میں حکومت کی تشکیل کا اصول کیا ہے اور حکومت کے قیام اور اسے چلانے میں رائے عامہ کو کیا مقام حاصل ہے؟ چنانچہ اس سلسلہ میں ایک دو اصولی باتیں قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کو جی چاہتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ نومبر ۱۹۹۸ء

قبائلی علاقہ جات اور شرعی قوانین

پاکستان کی شمالی مغربی سرحد کے ساتھ ساتھ آزاد قبائل کو ایک عرصہ سے یہ منفرد حیثیت حاصل ہے کہ ان کا نظام اور کلچر باقی ملک کے لوگوں سے مختلف ہے۔ فرنگی حکمرانوں کے دور میں یہ ’’آزاد علاقہ‘‘ کہلاتا تھا اور افغانستان اور روس سے فاصلہ قائم رکھنے کے لیے ’’بفر زون‘‘ کا کام دیتا تھا۔ جبکہ قیام پاکستان کے بعد بھی اس کی اس حیثیت میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی اور پاکستان کا حصہ ہونے کے باوجود اس خطہ کا انتظامی اور عدالتی نظام ملک کے دیگر حصوں سے جداگانہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ نومبر ۱۹۹۸ء

مولانا محمد عبد اللہ شہیدؒ

مولانا محمد عبد اللہؒ اسلام آباد کی مرکزی جامع مسجد (لال مسجد) کے خطیب کی حیثیت سے سرکاری ملازم تھے اور ان کا عہدہ وفاقی حکومت کے ایڈیشنل سیکرٹری کے برابر بتایا جاتا ہے۔ لیکن ان کی یہ حیثیت دینی اور ملی معاملات میں ان کی حق گوئی میں کبھی حائل نہیں ہوئی۔ وہ صاف گو اور حق گو عالم دین تھے اور جس بات کو صحیح سمجھتے تھے اس کے اظہار میں کوئی خوف، مصلحت یا لالچ ان کی راہ میں کبھی رکاوٹ نہیں بن سکی۔ وہ تحفظ ختم نبوت اور نفاذ شریعت کی جدوجہد میں ہمیشہ پیش پیش رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ اکتوبر ۱۹۹۸ء

حدیث نبویؐ کی ترویج میں مسلم خواتین کی خدمات

مولانا محمد اکرم ندوی انڈیا سے تعلق رکھنے والے ایک محقق عالم دین ہیں جو آکسفورڈ سنٹر فار اسلامک اسٹڈیز میں ایک عرصہ سے علمی و تحقیقی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ ان سے پہلی ملاقات اچانک اور عجیب انداز میں ہوئی۔ پانچ سال قبل کی بات ہے جب راقم الحروف نے لندن جانے کے لیے تاشقند کا راستہ اختیار کیا، ازبک ائیرلائن سفر کا ذریعہ تھی، تاشقند میں چار پانچ روز گزارنے کے بعد جب تاشقند کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے لندن کے لیے روانہ ہوا تو ایئرپورٹ پر اسی قسم کے حالات کا سامنا کرنا پڑا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ اکتوبر ۱۹۹۸ء

ایرانی سفیر کے طالبان حکومت سے چار مطالبات

اگر طالبان کی حکومت اپنے دعوؤں کے مطابق افغان عوام کو امن اور خوشحالی کی منزل سے ہمکنار کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہی وقتی طور پر بدنامی کا باعث بننے والی سخت پالیسیاں اپنے نتائج کے لحاظ سے باقی دنیا کے لیے بھی قابل تقلید بن سکتی ہیں۔ اور اگر خدانخواستہ طالبان اپنے دعوؤں کو عملی جامہ نہ پہنا سکے تو تاریخ کے عجائب گھر میں ابھی بہت سے خانے خالی ہیں، کسی ایک میں وہ بھی فٹ ہو جائیں گے۔ لیکن اس کا فیصلہ ہونے میں ابھی کچھ وقت درکار ہے جس کا سب کو حوصلے کے ساتھ انتظار کرنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ ستمبر ۱۹۹۸ء

دعوتِ اسلام کا فریضہ اور اس کے تقاضے

اس خطۂ زمین میں اسلام کی دعوت و تبلیغ کا عمل حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ اور حضرت سید علی ہجویریؒ جیسے عظیم صوفیاء کرام کا ورثہ ہے۔ ان مشائخِ امت نے محبت اور اخلاق کے ذریعے اسلام کا پیغام اس سرزمین کے باشندوں تک پہنچایا اور لاکھوں پیاسے دلوں کو سیراب کر گئے۔ مگر بدقسمتی سے اس روایت کا تسلسل قائم نہ رہا اور ہم مسلمانوں نے صدیوں تک جنوبی ایشیا میں سیاست اور اقتدار پر اپنی گرفت کو ہی سب کچھ سمجھتے ہوئے محبت اور کردار کے ذریعہ اسلام کی دعوت و تبلیغ کی بساط لپیٹ کر ایک طرف رکھ دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ ستمبر ۱۹۹۸ء

قرآن و سنت کی بالادستی کا دستوری سفر

قرآن و سنت کو ملک کا سپریم لاء قرار دینے کا فیصلہ اعلیٰ ایوانوں میں اس سے قبل بھی ایک سے زائد بار ہو چکا ہے لیکن اصل مسئلہ موجودہ نو آبادیاتی سسٹم کا ہے کہ اس نے اس فیصلہ کو کبھی ایک خاص حد سے آگے بڑھنے کا موقع نہیں دیا۔ اور جب بھی قرآن و سنت کی بالادستی کے کسی فیصلے نے یہ ’’ریڈ لائن‘‘ کراس کرنے کی کوشش کی وہ کسی نہ کسی جال میں پھنس کر رہ گیا۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلا اقدام ’’قرارداد مقاصد‘‘ کی منظوری کا تھا جو پاکستان کے پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان مرحوم نے دستور ساز اسمبلی سے منظور کرائی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ ستمبر ۱۹۹۸ء

حضرت عائشہؓ کا علمی مقام

حضرت عائشہؓ قرآن کریم کی بہت بڑی مفسرہ تھیں، حدیث رسولؐ کی ایک بڑی راویہ و شارحہ تھیں، دینی مسائل و احکام کی حکمت و فلسفہ بیان کرنے والی دانشور تھیں، عرب قبائل کی روایات و کلچر و نسب ناموں و تاریخ پر عبور رکھتی تھیں، انہیں ادب و شعر و خطابت پر دسترس حاصل تھی، وہ مجتہد درجے کی مفتیہ تھیں، عوامی مسائل پر رائے دینے والی راہنما تھیں، اور طب و علاج کے بارے میں بھی ضروری معلومات سے بہرہ ور تھیں۔ اور یہ سب کمالات انہوں نے درسگاہ نبویؐ سے سیکھے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ ستمبر ۱۹۹۸ء

اسامہ بن لادن پر امریکی حملہ

ہم امریکی صدر بل کلنٹن سے پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ ’’دہشت گردی‘‘ کی تعریف کیا ہے؟ کیا کسی کے خلاف ہتھیار اٹھانا مطلقاً دہشت گردی ہے؟ اور کیا اپنی آزادی، خود مختاری، اور حقوق کے لیے جابر اور ظالم قوتوں کو ہتھیار کا جواب ہتھیار کی زبان میں دینا بھی دہشت گردی کہلاتا ہے؟ اگر امریکی صدر کی منطق یہی ہے تو ہم بصد احترام یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ خود امریکہ نے برطانوی استعمار کے تسلط کے خلاف جنگ لڑ کر آزادی حاصل کی تھی اور ہتھیار اٹھا کر برطانوی حکمرانوں کو امریکہ سے بوریا بستر سمیٹنے پر مجبور کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ اگست ۱۹۹۸ء

حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ

حضرت درخواستیؒ کا احادیث نبویہؓ کے ساتھ شغف انہیں اپنے سب معاصرین میں ممتاز کیے ہوئے تھا۔ وہ جب رسول اللہؐ کا تذکرہ کرتے یا آپؐ کی کوئی حدیث سناتے تو اکثر ان کی آنکھوں میں آنسو آجایا کرتے تھے اور وہ صرف خود نہیں روتے تھے بلکہ ان کے سامنے بیٹھے ہوئے لوگوں کے لیے بھی آنسوؤں کو روکنا مشکل ہو جایا کرتا تھا۔ رسول اللہؐ کا تذکرہ کرتے ہوئے اور آپؐ کی احادیث سناتے ہوئے انہیں نہ وقت گزرنے کا کوئی احساس ہوتا تھا اور نہ ہی گرد و پیش کا کوئی ہوش رہتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ اگست ۱۹۹۸ء

’’نیشن آف اسلام‘‘ کا تاریخی پس منظر

ویلس دی فارد 1934ء میں غائب ہوگیا اور ایلیجاہ محمد نے اس کی جگہ سنبھال کر یہ اعلان کیا کہ فارد اصل میں خود اللہ تھے (نعوذ باللہ) جو انسانی شکل میں آئے تھے اور اب ایلیجاہ محمد کو اپنا رسول بنا کر واپس چلے گئے ہیں۔ ایلیجاہ محمد نے کہا کہ وہ خدا کا رسول بلکہ خاتم المرسلین ہے اور اب دنیا کی نجات اس کے ساتھ وابستہ ہے۔ مالکم ایکس شہیدؒ نے بتایا ہے کہ جب وہ ایلیجاہ محمد کے دست راست کے طور پر مختلف اجتماعات میں خطاب کیا کرتے تھے تو خطبہ میں سورہ فاتحہ کے ساتھ یہ کلمہ شہادت پڑھا کرتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ اگست ۱۹۹۸ء

وقت کے حکمرانوں کے لیے تین آئینے

جب بادشاہ سلامت عوامی جلوس کی قیادت کرتے ہوئے آگے بڑھے اور لوگوں نے منظر دیکھا تو حیرت زدہ رہ گئے، لیکن کس کو گویائی کا یارا تھا؟ جب وزیر و مشیر اور ارباب علم و دانش خاموش تھے تو عام لوگوں کو کیا پڑی تھی کہ مفت میں بے وقوف کہلاتے اور بادشاہ کے عتاب کا نشانہ بھی بنتے۔ چنانچہ جلوس اپنے روٹ پر روانہ ہوگیا جس میں سب سے اونچی گاڑی پر بادشاہ سلامت پوری آب و تاب کے ساتھ اپنے اصلی لباس میں کھڑے چاروں طرف سے داد و تحسین وصول کر رہے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اگست ۱۹۹۸ء

دورِ فاروقیؓ کے دو سبق آموز واقعات

امیر المومنین یہ سن کر رو پڑے اور حضرت عائشہؓ سے پوچھا کہ آپ بتائیں کیا جناب نبی اکرمؐ نے کبھی مسلسل تین روز گندم کی روٹی کھائی ہے؟ کیا رسول اللہؐ کے پاس اون کا ایک ہی جبہ نہیں تھا جس کے مسلسل استعمال سے آپؐ کی جلد پر خراشیں پڑ گئی تھیں؟ اور کیا آپؐ کے جسم پر ننگی چٹائی پر لیٹنے کی وجہ سے نشانات نہیں پڑ جاتے تھے؟ پھر حضرت حفصہؓ سے کہا کہ یہ بات تمہی نے بتائی تھی کہ ایک صبح آپؐ اٹھے تو ناراضگی کا اظہار فرمایا کہ اس نرم بستر کی وجہ سے وہ رات کا قیام نہیں فرما سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ اگست ۱۹۹۸ء

درس نظامی کا دینی نصاب اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی

میرے متعدد سوالات کے جواب میں ڈاکٹر صاحب نے جو تفصیل بتائی اس کا خلاصہ یہ ہے کہ طالب علم کسی بھی دینی مدرسہ میں پڑھتے ہوئے اس تعلیمی پروگرام میں شریک ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ اس کے مدرسہ کی تعلیم میں کوئی حرج ہوتا ہے اور نہ ہی کسی دینی مدرسہ کے نظام میں کوئی مداخلت ہوتی ہے جس سے دینی مدارس کی آزادی اور خودمختاری کے لیے کوئی خطرہ محسوس ہو۔ دوسری بات یہ ہے کہ طالب علم کو زیادہ تر انہی مضامین کا امتحان دینا ہے جن کی تعلیم وہ دینی مدرسہ میں حاصل کر رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ جولائی ۱۹۹۸ء

امت کی قیادت اور اس کے عملی و اخلاقی تقاضے

ہم اپنے ایٹمی دھماکوں پر بہت خوش ہیں اور خوش ہونا بھی چاہیے کہ پاکستان نے پہلی مسلم ایٹمی طاقت کی حیثیت حاصل کر کے عالم اسلام کی قیادت کی طرف عملی قدم بڑھایا ہے۔ لیکن قیادت صرف قوت کا نام نہیں ہے بلکہ اس کی اصل اساس علم اور اخلاق پر ہوتی ہے۔ جب تک ہم علم و تحقیق اور اخلاقیات کے تقاضے پورے کرنے کے لیے خود کو تیار نہیں کرتے، صرف ایٹمی قوت کے بل بوتے پر اپنی برتری کا خواب پورا نہیں کر سکتے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ جولائی ۱۹۹۸ء

لوئیس فرخان کا اسلام اور صدر قذافی

لوئیس فرخان کا گروپ ’’نیشن آف اسلام‘‘ کے نام سے فارو محمد کے خدا ہونے اور ایلیجاہ محمد کے پیغمبر ہونے کے ساتھ خالص نسل پرستانہ عقائد و روایات کا مسلسل پرچار کر رہا ہے۔ ’’دی فائنل کال‘‘ کے نام سے ایک میگزین لوئیس فرخان کی ادارت میں شائع ہوتا ہے جس میں پابندی کے ساتھ ایلیجاہ محمد کی تصویر کے ساتھ یہ عقیدہ درج ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ 1930ء میں فارو محمد کی شکل میں ظاہر ہوا تھا اور وہی مسیح اور مہدی ہے جس کا عیسائیوں اور مسلمانوں کو انتظار ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ جولائی ۱۹۹۸ء

امریکی صدر، انسانی حقوق اور اقوام متحدہ

انسانی حقوق کا مغربی فلسفہ، اقوام متحدہ کا منشور، اور اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں کی قراردادوں کا موجودہ فریم ورک ہی سرے سے متنازعہ ہے۔ مثلاً نکاح و طلاق اور خاندانی نظام کے بارے میں اقوام متحدہ کے چارٹر نے جو اصول بیان کیے ہیں، قرآنی تعلیمات ان کو قبول نہیں کرتیں۔ اور اس چارٹر کو من و عن قبول کرنے سے کوئی بھی مسلمان فرد، خاندان، یا قوم بنیادی اسلامی تعلیمات سے منحرف قرار پاتی ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی دفعات اس چارٹر میں ایسی موجود ہیں جو اسلامی احکام و قوانین کی نفی کرتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ جولائی ۱۹۹۸ء

کوسووو پر سرب جارحیت کا تاریخی پس منظر

صدیوں یہ پوزیشن رہی ہے کہ یہ خطہ جسے بلقان کے تاریخی نام سے پکارا جاتا ہے، مسلمانوں اور صلیبی قوتوں کا محاذ جنگ رہا ہے۔ ایک طرف ترکی کی خلافت عثمانیہ تھی اور دوسری طرف یونان اور دیگر مغربی صلیبی ممالک جن کے درمیان جنگوں کا ایک لامتناہی سلسلہ چلتا رہا۔ یہی کوسووو ہے جہاں 1389ء میں خلافت عثمانیہ اور سربیا کی فوجیں آمنے سامنے ہوئیں اور ترکی کی افواج نے سربوں کو شکست دے کر کوسووو پر قبضہ کر لیا جس کے بعد 1912ء تک کم و بیش چھ سو برس کوسووو خلافت عثمانیہ کا حصہ رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ جولائی ۱۹۹۸ء

ترکی میں بدکاری کی سزا اور لندن کے فون باکسز

پھر وہی ہوگا جو مغربی معاشرہ میں ہو رہا ہے کہ رشتوں کا تقدس فضا میں تحلیل ہو جائے گا، خاندان بکھر جائیں گے، اولڈ پیپلز ہومز آباد ہوں گے، بوڑھی مائیں اور باپ اپنی اولاد کو دیکھنے کے لیے عید کا انتظار کیا کریں گے، اور لندن میں عام نظر آنے والے ایک اشتہار کے مطابق ماں اپنی لڑکی کو اسکول جانے سے قبل پوچھا کرے گی کہ کیا اس نے بستے میں ’’کنڈوم‘‘ رکھ لیے ہیں، اور قوم کے منتخب نمائندے پارلیمنٹ میں ماحول کی خرابی اور اخلاق کی گراوٹ کا رونا رو کر مطمئن ہوں گے کہ انہوں نے برائی کے خاتمہ کے لیے اپنا فرض ادا کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ جولائی ۱۹۹۸ء

معاشی خود کفالت کی اسلامی بنیادیں

متحدہ ہندوستان میں انگریزی عملداری کے تحت داخلی و خودمختاری فارمولا کے مطابق جب پہلی بار انتخابات ہوئے اور چند صوبوں میں کانگریس کی وزارتیں قائم ہوگئیں تو جناب گاندھی نے اپنے وزراء کو اس بات کی تلقین کی کہ اگر وہ حکمرانی میں کسی شخصیت کو بطور آئیڈیل سامنے رکھنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ سب سے پہلی شخصیات ہیں۔ یہ تاریخ کا خراج عقیدت ہے جو خلفائے راشدینؓ کے حصے میں آیا جس کی وجہ ان کی سادگی، قناعت اور فقر و فاقہ کی زندگی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ جون ۱۹۹۸ء

پاکستان کا ایٹمی دھماکہ اور مستقبل کی پیش بندی

میں ایٹمی دھماکے کے ساتھ بلکہ اس سے بھی زیادہ ایک اور دھماکے پر میاں محمد نواز شریف کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔ وہ وزیراعظم سیکرٹریٹ کی عالی شان عمارت چھوڑ دینے اور تعیش اور آسائش کا راستہ ترک کر دینے کا دھماکہ ہے جو میرے جیسے نظریاتی کارکن کے لیے ایٹمی دھماکے سے بھی بڑا ہے۔ کیونکہ اگر ہم اس تجربہ میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو نہ صرف عسکری میدان میں بلکہ اقتصادی اور معاشی میدان میں بھی آج کی قوتوں کے سامنے کھڑے ہو سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ جون ۱۹۹۸ء

توہین رسالت کا قانون اور مسلم مسیحی یکجہتی

لاہور کے بشپ کیتھ لیزلی نے ڈاکٹر جان جوزف کے قتل کے خدشات کی نشاندہی کرنے کے علاوہ یہ بات بھی کہی کہ انبیاء کرامؑ کی توہین پر موت کی سزا صرف اسلام کا قانون نہیں ہے بلکہ بائبل کا حکم بھی یہی ہے، اس لیے اس قانون پر مسلمانوں اور مسیحیوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ البتہ وہ اتنا ضرور چاہیں گے کہ قانون کے نفاذ کے طریق کار کو ازسرِنو ایسے مرتب کیا جائے کہ کسی شخص کو اپنے کسی ذاتی مخالف کے خلاف اتنا بڑا الزام لگا کر اسے عدالتوں میں گھسیٹنے کی آزادی حاصل نہ ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ مئی ۱۹۹۸ء

یوم مئی، محنت کش طبقہ اور قومی بجٹ

امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں لا رضاء مع الاضطرار کہ مجبوری کی حالت میں رضا کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص مجبوری اور اضطرار کی حالت میں اپنے حق سے کم پر راضی ہو جاتا ہے تو اس کی رضا کا شرعًا کوئی اعتبار نہیں ہے اور اسے اس کا وہ حق بھی ملنا چاہیے جس سے وہ مجبوری کی وجہ سے دستبردار ہوگیا ہے۔ اس اصول پر اگر ملازمت کے معاہدوں کو پرکھا جائے تو وہ سارے کنٹریکٹ مشکوک ہو جاتے ہیں جو بے روزگار لوگوں نے فاقے اور بھوک سے بچنے کے لیے مجبورًا سائن کیے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ مئی ۱۹۹۸ء

امت مسلمہ کے مسائل اور امام مسجد نبویؐ کا خطبہ

شیخ حذیفی نے کہا کہ سعودی عرب کو خلیجی ممالک میں کلیدی حیثیت حاصل ہے اس لیے امریکہ اس پر بطور خاص نظریں جمائے ہوئے ہے اور مغربی طاقتیں سعودی عرب کی وحدت و سالمیت کو نقصان پہنچانے اور اس کی اسلامی حیثیت کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ انہوں نے عربوں کے موجودہ المیہ کا پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کے بعد بڑی طاقتوں نے عربوں کو چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تبدیل کر دیا اور قومیتوں کے نام پر آپس میں الجھا دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ اپریل ۱۹۹۸ء

دو گھنٹے افغان سفارت خانے میں

افغان سفیر نے کہا کہ مغربی ممالک بالخصوص امریکہ اس پر زور دے رہا ہے کہ افغانستان میں وسیع البنیاد حکومت قائم کی جائے۔ اس سے ان کی مراد ہرگز یہ نہیں ہے کہ عوام کے مختلف گروہوں اور طبقات کی نمائندگی حاصل ہو، اس سے ان کا مقصد یہ ہے کہ خالص اسلامی ذہن رکھنے والے لوگوں کی تنہا حکومت نہ رہے اور اس میں سیکولر اور کمیونسٹ عناصر کو بھی شریک اقتدار کیا جائے تاکہ طالبان اسلامی نظام کے مکمل نفاذ کے پروگرام پر عمل نہ کر سکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ اپریل ۱۹۹۸ء

میاں نواز شریف کی خدمت کمیٹیاں اور ہٹلر کی نازی پارٹی

یوں محسوس ہوتا ہے کہ میاں محمد نواز شریف حکومتی نظام اور قومی زندگی کے مختلف شعبوں کو ’’پارٹی‘‘ کے ذریعے کنٹرول کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اور انہیں کسی ستم ظریف نے ’’نازی پارٹی‘‘ کے طریق کار پر کوئی کتاب پڑھا دی ہے یا کم از کم ایران کے ’’پاسداران انقلاب‘‘ کا تصور ان کے ذہن کے کسی گوشے میں ضرور موجود ہے۔ کیونکہ جس طرح انہوں نے اپنے اختیارات میں اضافہ کیا ہے اور تمام اہم آئینی اختیارات اپنی ذات میں مرکوز کر لیے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ اپریل ۱۹۹۸ء

مگر کونسا اسلام؟

آج اسلام دنیا کی ضرورت بن گیا ہے اور مروجہ سیاسی، معاشی اور معاشرتی سسٹم کی ناکامی کے بعد اب آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی کی طرف رجوع کیے بغیر نسل انسانی کے پاس کوئی چارہ کار نہیں رہا۔ جبکہ آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی اگر محفوظ حالت میں کسی مذہب کے پاس موجود ہیں تو وہ صرف اسلام ہی ہے۔ لیکن کنفیوژن اس بات نے پیدا کر رکھا ہے کہ کتابوں میں جو اسلام ملتا ہے اس کا موجودہ مسلمانوں کی زندگیوں اور معاملات سے کوئی تعلق دکھائی نہیں دیتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ اپریل ۱۹۹۸ء

ترکی کو الجزائر بنانے کی کوشش!

برادر اسلامی ملک ترکی میں حکومت نے اسلامی سرگرمیوں کو روکنے کا بل منظور کیا ہے جس کے تحت مذہبی تنظیموں میں شمولیت اور ان سے تعاون کو جرم قرار دینے کے علاوہ اسلامی شعائر و علامات کے اظہار کو بھی ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق حکومت نے یہ قانون فوج کے دباؤ کے تحت منظور کیا ہے جو خود کو سیکولرازم کی محافظ قرار دیتے ہوئے ہر اس رجحان کو کچل دینا چاہتی ہے جو کسی بھی درجے میں اسلامیت کے اظہار کی علامت سمجھا جاتا ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ اپریل ۱۹۹۸ء

اسامہ بن لادن ۔ کل کا مجاہد، آج کا دہشت گرد

ان نوجوانوں نے ایک نیا مشن اپنے سینوں میں پال لیا کہ اپنے اپنے ملکوں میں کفر و استحصال کے نظاموں کے خاتمہ اور اسلام کے عادلانہ نظام کے نفاذ کے لیے اسی جذبہ کے ساتھ کام کریں گے جس جذبے کے ساتھ افغانستان میں روسی استعمار کا مقابلہ کیا تھا۔ یہ صورتحال امریکہ کے نئے ’’عالمی سیٹ اپ‘‘ کے یکسر منافی اور مسلم ممالک کی مغرب پرست حکومتوں کے لیے قطعی غیر متوقع اور پریشان کن تھی۔ چنانچہ جو لوگ روسی افواج کے مقابلہ میں ہتھیار اٹھا کر ’’مجاہدین‘‘ اور ’’حریت پسند‘‘ کہلاتے تھے انہیں ’’دہشت گرد‘‘ کا خطاب دے دیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ اپریل ۱۹۹۸ء

سنی شیعہ کشیدگی کی آڑ میں!

یہ امر واقعہ ہے کہ سوسائٹی کے ایسے غنڈہ عناصر کی اچھی خاصی تعداد نے، جن کا پیشہ ہی غنڈہ گردی ہے، ان دونوں کیمپوں کو پناہ گاہ بنا لیا ہے اور ان کی چھتریوں تلے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل میں انہیں بدستور آسانی محسوس ہو رہی ہے۔ ان کے علاوہ ذاتی انتقام اور خاندانی جھگڑوں کے لیے بھی اس ’’شیلٹر‘‘ کو استعمال کیا گیا ہے۔ ان سب عوامل نے مل کر فرقہ واریت کو ایک مہیب دیو کی شکل دے ڈالی ہے جسے قابو میں لانے کی کوئی تدبیر کارگر نہیں ہو رہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ مارچ ۱۹۹۸ء

صدر محترم اور ان کی مسنون داڑھی

صدر محترم جناب محمد رفیق تارڑ جب سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی صدارت کے منصب پر فائز ہوئے ہیں ان کی داڑھی مسلسل موضوع گفتگو بنی ہوئی ہے اور کسی نہ کسی حوالہ سے اس کا تذکرہ سامنے آتا رہتا ہے۔ جہاں تک نمازی ہونے کا تعلق ہے موجودہ ایوان صدر میں داخل ہونے والے سارے صدر نمازی رہے ہیں۔ جنرل محمد ضیاء الحق شہیدؒ ، جناب غلام اسحاق خان، جناب وسیم سجاد، اور سردار فاروق احمد خان لغاری سکہ بند نمازی شمار ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ مارچ ۱۹۹۸ء

خلافت راشدہ اور حضرت عمر ثانی ؒ

مذہبی امور کے وفاقی وزیر راجہ محمد ظفر الحق نے گزشتہ روز اسلام آباد میں حمید نظامی مرحوم کی یاد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بڑی دلچسپ باتیں کی ہیں اور موجودہ حالات کے تناظر میں قوم کو ملت اسلامیہ کے شاندار ماضی کے آئینے کے سامنے کھڑا کر دیا ہے۔ راجہ صاحب کا کہنا ہے کہ ان سے کسی نے پوچھا کہ پاکستان میں خلافت راشدہ کا نظام کیسے نافذ ہوگا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ اس کے لیے ’’خلیفہ راشد‘‘ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں تاریخ سے ’’عمر ثانی‘‘ کا خطاب پانے والے حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کا بھی ذکر کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ مارچ ۱۹۹۸ء

امریکی جرائم اور شہر سدوم

کہتے ہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے اور ہم آج اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ نسل انسانی کا ایک بڑا حصہ آسمانی تعلیمات سے انکار پر ڈٹا ہوا ہے اور ’’ہم جنس پرستی‘‘ کے مادر پدر آزاد کلچر اور ’’فری سیکس سوسائٹی‘‘ کا دائرہ پوری دنیا تک وسیع کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ اس کی قیادت امریکہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ اس دو نکاتی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے اپنی پوری توانائیاں ، وسائل اور صلاحیتیں وقف کر چکا ہے۔ امریکی نفسیات کو سمجھنے کے لیے اس کے ماضی پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے، اس لیے کہ امریکی ایک قوم نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ مارچ ۱۹۹۸ء

روزنامہ اوصاف میں ’’نوائے قلم‘‘ کا آغاز

میں ’’صحافت برائے صحافت‘‘ کا قائل نہیں ہوں اور نہ ہی اس معنٰی میں خود کو صحافی سمجھتا ہوں۔ صحافت میرے نزدیک محض ایک ذریعہ ہے لوگوں کے ذہنوں تک رسائی کا، اور اس ذریعے کو صحیح مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہی اس کے ساتھ انصاف کا اصل تقاضہ ہے۔ اس لیے یہ کہنے میں کوئی حجاب محسوس نہیں کرتا کہ اسلام، ملت اسلامیہ اور پاکستان کے ساتھ میری کمٹمنٹ دو ٹوک اور بے لچک ہے۔ اور ان تین میں سے کسی ایک حوالہ سے بھی ’’غیر جانبداری‘‘ کا قائل بلکہ متحمل نہیں ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ مارچ ۱۹۹۸ء

پاکستان میں نفاذ اردو، ہندوستان میں فروغ اردو

جہاں تک اردو زبان کی دفتری اور عدالتی شعبوں میں ترویج و تنفیذ کا معاملہ ہے، اور قومی اداروں میں اردو کے عملی فروغ کے لیے سپریم کورٹ کی ہدایات کا تعلق ہے، ان پر عملدرآمد کا کوئی سنجیدہ ماحول سرکاری حلقوں میں دکھائی نہیں دے رہا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ نظریۂ پاکستان کی پہلی اساس یعنی مسلم تہذیب و ثقافت کے امتیاز و تحفظ کے ساتھ ساتھ اس کی دوسری اساس یعنی اردو زبان بھی ورلڈ اسٹیبلشمنٹ اور اس کے سائے میں قومی اسٹیبلشمنٹ کی مصلحتوں کے جال میں الجھ کر رہ گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ مارچ ۲۰۱۶ء

دینی و عصری تعلیم کے امتزاج کا خواب ۔ قومی تعلیمی کمیشن کا سوالنامہ

مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے کہا ہے کہ ’’ہمیں ایک ایسے نظام تعلیم کی ضرورت ہے جس میں دینی اور دنیوی تعلیم اکٹھی دی جائے، جہاں دین کی بنیادی معلومات سب کو پڑھائی جائیں۔ اس کے بعد ہر ہر شعبہ میں اختصاص کے مواقع دیے جائیں۔ یہ نظام تعلیم ہمارے اسلاف کی تاریخ سے مربوط چلا آرہا ہے۔‘‘ یہ پڑھ کر دل سے بے ساختہ ’’تری آواز مکے اور مدینے‘‘ کی صدا بلند ہوئی اور ماضی کی بعض یادیں تازہ ہوگئیں۔ یہ بات سب سے پہلے مفتی صاحب کے والد گرامی مفتی اعظم حضرت مولانا محمد شفیعؒ نے اب سے کوئی چھ عشرے قبل فرمائی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ و ۲۱ مارچ ۲۰۱۶ء

اب قرآن کریم میں ردوبدل کا مطالبہ!

تسلیمہ نسرین کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ نمازوں کی تعداد پانچ سے کم کر کے ایک کر دیں۔ ایک عرصہ قبل انہوں نے قرآن کریم پر (نعوذ باللہ) نظر ثانی اور مروجہ عالمی نظام و قوانین کے حوالہ سے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ضروری ترامیم کرنے کی تجویز پیش کی تھی جس پر ان کے خلاف بنگلہ دیش میں ’’توہین مذہب‘‘ کا مقدمہ درج ہوا اور دینی حلقوں نے عوامی سطح پر احتجاج کا اہتمام کیا۔ اس پر وہ گرفتار ہوئیں مگر یورپین یونین کی مداخلت پر انہیں رہائی دلا کر یورپ کے ایک ملک میں سیاسی پناہ دے دی گئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ مارچ ۲۰۱۶ء

ممتاز قادریؒ کی پھانسی اور مذہبی طبقات کا رد عمل

غازی ممتاز قادری شہیدؒ کو پھانسی دیے جانے کے بعد ملک بھر میں دینی حلقوں میں اضطراب اور بے چینی نے باہمی رابطوں کا جو ماحول پیدا کر دیا ہے وہ یقیناً خوش آئند ہے اور اس سے دینی کارکنوں کا حوصلہ بڑھ رہا ہے ۔ ۔ ۔ میڈیا نے غازی ممتاز قادری شہیدؒ کے جنازہ اور ملک بھر کی احتجاجی سرگرمیوں کو جس طرح بلیک آؤٹ کیا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے، یہ طرز عمل اظہار رائے کی آزادی اور رائے عامہ کے جمہوری حق کے منافی ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ مارچ ۲۰۱۶ء

Pages