مقالات و مضامین

قومی وملی تحریکات میں اہل تشیع کی شمولیت (۲)

میں نے اپنے سارے استدلال کی بنیاد جناب نبی اکرم ﷺ کے عمومی طرز عمل اور معاشرتی رویے پر رکھی ہے کہ ان منافقین کے مومن نہ ہونے کے باوجود معاشرتی معاملات میں یہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مسلسل شریک رہے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے انھیں نہ صرف معاشرتی امور بلکہ مذہبی معاملات میں بھی اپنے ساتھ شریک رکھنے میں ہی مصلحت سمجھی ہے اور یہ سلسلہ نبی اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ میں آخر تک رہا ہے۔ ’اخرج فانک منافق‘ قسم کا کوئی واقعہ اگر ہوا بھی ہے تو وہ شخصی واقعہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۱ء

حامد میر صاحب کی سیاسی چاند ماری

مجھے اندازہ نہیں تھا کہ حامد میر صاحب اس حد تک بھی جا سکتے ہیں کہ ایک ریٹائرڈ بریگیڈیئر کی یادداشتوں کا سہارا لے کر حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ جیسے درویش صفت بزرگ پر ایک سیاسی تحریک میں غیر ملکی حکومتوں کے ساتھ ساز باز کا الزام عائد کر دیں گے۔ حامد میر صاحب سینئر صحافی اور کالم نگار ہیں، مطالعہ وتحقیق اور تجزیہ کی دنیا کے آدمی ہیں، البتہ مطالعہ وتحقیق کو کسی بھی موقع پر اپنے ڈھب پر ڈھال لینے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہیں، اسی لیے جب وہ کوئی بات خود سے کہنا چاہتے ہیں تو انھیں کوئی نہ کوئی حوالہ مل جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ اپریل ۲۰۱۱ء

دین کے مختلف شعبوں میں تقسیم کار کی اہمیت

دین کے کاموں کی، مختلف شعبوں میں تقسیم فطری ہے اور حضرات صحابہ کرامؓ کے دور سے چلی آرہی ہے۔ حدیث کی روایت کا اہتمام کرنے والے صحابہ کرام اپنا الگ امتیاز رکھتے تھے، قرآن کریم کی تفسیر و تاویل میں امتیازی شخصیات الگ نظر آتی ہیں، فقہ و استنباط کا ذوق رکھنے والی شخصیات دوسروں سے ممتاز دکھائی دیتی ہیں، کچھ صحابہ کرام فتنوں سے آگاہی اور ان کی نشاندہی کے میدان میں جداگانہ ذوق کے حامل رہے ہیں، بعض ممتاز صحابہ کرام کا قرآن کریم کے حفظ و قرأت میں الگ سے نام لیا جاتا ہے، جرنیل صحابہ کرام کا امتیاز بھی موجود ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ اپریل ۲۰۱۱ء

پاک بھارت تعلقات : ایک جائزہ ۔ ڈاکٹر یوگندر سکند کا سوالنامہ

پاکستان اور بھارت کے درمیان قومی سطح پر دشمنی کے جذبات کا ماحول برقرار رکھنا عالمی استعمار کی طے شدہ پالیسی اور ایجنڈے کا حصہ ہے جو دونوں ملکوں کی ترقی میں رکاوٹ ہے ۔ ۔ ۔ پاکستان میں قوم کی وحدت کی اصل بنیاد بھارت دشمنی نہیں ہے، بلکہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے ساتھ محبت وعقیدت ہماری قومی وحدت کی اصل اساس ہے جس کا اظہار ابھی حال میں ناموس رسالتؐ کے قانون کے حوالے سے قوم کے کم وبیش تمام طبقات نے متحد ہو کر ایک بار پھر کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۱ء

قومی وملی تحریکات میں اہل تشیع کی شمولیت (۱)

اس سوال پر کہ ہمارے والدمحترم حضرت مولانا محمد سرفرازخان صفدرؒ کا موقف اور طرزعمل کیا تھا؟ خصوصاً اس پس منظر میں کہ انہوں نے اثناء عشری اہل تشیع کی تکفیر پر’ ’ارشاد الشیعہ‘‘ کے نام سے کتاب بھی لکھی ہے۔ میں نے گزارش کی کہ انہوں نے ’’ارشادالشیعہ‘‘ تصنیف فرمائی اور اس میں انہوں نے جو موقف اختیار کیا ہے وہ صرف ان کا موقف نہیں بلکہ یہ تو اہل سنت کا موقف ہے، اور خود ہمارا موقف بھی اثنا عشری اہل تشیع کی حد تک یہی ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ ان تمام تحریکات کا حصہ رہے ہیں جن کا میں نے تذکرہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۱ء

توہین رسالتؐ قانون ۔ مختلف طبقات کا موقف

ایک طبقہ ان لوگوں کا ہے جو سرے سے توہین رسالت کو جرم ہی نہیں سمجھتے اور اس پر سزا کو آزادیٔ رائے، آزادیٔ ضمیر اور آزادیٔ مذہب کے منافی تصور کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کے مغربی معیار کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں، بلکہ اس پر ظالمانہ قانون اور کالا قانون ہونے کی پھبتی بھی کستے رہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس طرز فکر کے نمائندہ دانشور سیکولر جمہوریت کو عدل وانصاف کا واحد معیار تصور کرتے ہوئے سوسائٹی کے اجتماعی معاملات اور ریاست و حکومت کی پالیسیوں میں مذہب کا کوئی حوالہ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۱ء

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

ڈاکٹر صاحب کا تعلق حضرت مولانا مفتی جمیل احمد تھانوی اور حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی کے خاندان سے تھا۔ انھوں نے ابتدائی دینی تعلیم جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی میں حاصل کی اور دورۂ حدیث دار العلوم تعلیم القرآن راجہ بازار راول پنڈی میں کیا۔ ان کے حدیث کے استاذ صوبہ خیبر پختون خواہ کے معروف محدث حضرت مولانا عبد الرحمن المینوی رحمہ اللہ تعالیٰ اور قرآن کریم کے ترجمہ وتفسیر کے استاذ شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خان رحمہ اللہ تعالیٰ تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۱ء

اسلام کا نظام خلافت اور دور حاضر میں اس کا قیام ۔ اذان ٹی وی کا سوالنامہ

اسلامی نظام ایک اسلامی حکومت ہی نافذ کرے گی، جبکہ اسلامی حکومت کے قیام کے لیے سب سے بہتر اور آئیڈیل طریق کار وہی ہے جو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد صحابہ کرامؓ نے حضرت ابوبکرصدیقؓ کو باہمی مشورہ اور بحث و مباحثہ کے بعد اتفاق رائے سے خلیفہ منتخب کر کے اختیار کیا تھا۔ اس کے بعد مختلف خلفائے راشدین کے انتخاب کے طریقے اور حضرات صحابہ کرامؓ کی اختیار کردہ متفقہ صورتیں بھی اس طریق کار کی مختلف شکلیں ہو سکتی ہیں، لیکن ان کے لیے پہلے سے خلافت کا نظام اور سسٹم موجود ہونا ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۰ء

نفاذِ شریعت کی جدوجہد: علمی مباحثہ کی ضرورت

یہ سوال قیام پاکستان کے فوراً بعد اٹھ کھڑا ہوا تھا کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والی ایک نئی نظریاتی ریاست کا دستوری ڈھانچہ کیا ہوگا اور اس کی تشکیل میں مختلف مذہبی مکاتب فکر کے باہمی اختلافات کا کس حد تک عمل دخل ہوگا؟ چنانچہ اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے تمام مکاتب فکر کے ۳۱ سرکردہ علماء کرام نے ۲۲ متفقہ دستوری نکات قوم کے سامنے پیش کیے تھے تاکہ پاکستان کے دستوری ڈھانچے اور قانونی نظام کے بارے میں دینی حلقوں کا متفقہ موقف سامنے آ جائے اور یہ بات بھی واضح ہو جائے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۰ء

افکار مفتی محمودؒ اور عصر حاضر

بنیادی طور پر زمینداروں اور کارخانوں کے مسائل کا حل کرنا ضروری ہے ۔اسلام میں یہ متفقہ مسئلہ ہے کہ غیرآباد زمین کو آباد کرنے والا شرعاً اس کا مالک ہوتا ہے۔ اس اصول کے مطابق وہ تمام زمینیں جو قریب کے زمانے میں آباد ہوئی ہیں، ان کے آبادکار مزارعین ان زمینوں کے مالک قرار دیے جائیں، اور قدیم آباد زمینوں سے متعلق یہ تحقیق کی جائے کہ آیا یہ اراضی کسی جائز طریقے سے حاصل کی گئی تھیں یا انگریزوں نے ’’حق الخدمت‘‘ میں بطور جاگیر کے کسی کو عطا کی تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ اکتوبر ۲۰۱۰ء

افراد کی غلامی سے قوموں کی غلامی تک

انسانوں کی تجارت قدیم دور سے جاری ہے اور ہر زمانے میں اس کی کوئی نہ کوئی شکل موجود رہی ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت بھی یہ سلسلہ وسیع پیمانے پر جاری تھا۔ خود حضورؐ کے صحابہؓ میں سے حضرت زید بن حارثہؓ اسی انسان فروشی کے باعث غلام بنے تھے اور فروخت ہوتے ہوتے آپؐ کی بابرکت غلامی تک پہنچے تھے، مگر آپ نے انھیں آزاد کر کے منہ بولا بیٹا بنا لیا۔ حضرت سلمان فارسیؓ بھی اسی بردہ فروشی کا شکار ہوئے اور فروخت ہوتے ہوتے مدینہ منورہ کے ایک یہودی خاندان کی غلامی میں آ گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۱۰ء

عالم اسلام کے تکفیری گروہ: خوارج کی نشاۃ ثانیہ

عالم اسلام کے مختلف حصوں میں اس قسم کے تکفیری اور متشدد گروہوں کو دیکھ کر خوارج کے اس دور کی یاد پھر سے تازہ ہو گئی ہے۔ میں علماء کرام سے یہ عرض کیا کرتا ہوں کہ بات بات پر تکفیر اور اس کی بنیاد پر بے گناہ مسلمانوں کے قتل عام کی نفسیات کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے خوارج کی تاریخ کا مطالعہ اوران کے مقابلے میں اہل سنت کے ائمہ کرام خصوصاً امام اعظم ابو حنیفہؒ کی سیاسی جدوجہد سے واقفیت حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس کے بغیر آج کے متشدد گروہوں کی نفسیات اور ذہنیت کو پوری طرح سمجھنا آسان نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۰ء

شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کا تجدیدی منصوبہ

قارئین کے سامنے ایک پرانی داستان کی یاد تازہ کرنا چاہتا ہوں جو بہت سے دوستوں کو شاید یاد ہوگی۔ کم وبیش ربع صدی قبل کی بات ہے کہ گوجرانوالہ میں دیوبندی مسلک کے علماء کرام اور دیگر متعلقین نے جمعیت اہل السنۃ و الجماعۃ کے نام سے ایک تنظیم قائم کی تھی جس کا مقصد مسلکی معاملات کی بجا آوری اور بوقت ضرورت دیوبندی مسلک سے تعلق رکھنے والے حلقوں اور جماعتوں کو باہمی اجتماع کے لیے مشترکہ فورم مہیا کرنا تھا۔ یہ جمعیت آج بھی موجود ہے، لیکن زیادہ متحرک نہیں رہی اور صرف علماء کرام تک محدود ہوکر رہ گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۰ء

قادیانی مسئلے کو ری اوپن کرنے کی تمہیدات؟

لاہور کے سانحہ کے ذمہ دار عناصر جو بھی ہیں انھوں نے ملک، دین اور قوم تینوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ اگر خدا نخواستہ کسی انتہا پسند تنظیم نے اس کی پلاننگ کی ہے تو یہ قادیانیوں کے ساتھ نمٹنے کا انتہائی غلط طریق کار ہے۔ اور اگر یہ کارروائی پس پردہ خفیہ ہاتھوں کی کارستانی ہے تو ملک کو نقصان پہنچانے اور پاکستان کے داخلی معاملات میں بیرونی مداخلت کا دائرہ کار وسیع کرنے کی کسی سازش کاحصہ ہے۔ اس بات کا فیصلہ کرنا قانون اور عدالت کا کام ہے کہ اس افسوس ناک واقعہ کے عوامل واسباب کیا ہیں اور یہ کن لوگوں کی کارروائی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۰ء

فوجی افسران کی گرفتاری اور سرکاری موقف

پاک فوج کے بعض افسروں کی گرفتاری کے تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد وزیراعظم اور وزیردفاع کے بیانات نے اس سلسلہ میں ملکی اور عالمی سطح پر ہونے والی بحث کو ایک نیا رخ دے دیا ہے اور حکومت کی مسلسل خاموشی سے پیدا ہونے والے شکوک و خدشات ختم ہونے کی بجائے مزید سوالات و شبہات کو جنم دینے کا باعث بن گئے ہیں۔ میجر جنرل ظہیر الاسلام اور بریگیڈیر مستنصر باللہ سمیت دو درجن کے لگ بھگ افراد اس وقت زیرحراست ہیں جن میں فوجی افسران کے علاوہ بعض علماء کرام بھی شامل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۱۹۹۵ء

قرآن کریم اور دستور پاکستان

کیا قرآن کریم خود کسی اسلامی ریاست کے لیے دستور کی حیثیت نہیں رکھتا اور کیا قرآن کریم کو ریاست ومملکت کے تمام معاملات میں بالادستی حاصل نہیں ہے؟ خطبہ حجۃ الوداع میں جناب نبی اکرم ﷺ نے جب اپنی امت کو یہ تلقین فرمائی تھی کہ ’’اپنے حکمران کی اطاعت کرو خواہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، جب تک وہ تمھارے معاملات کو قرآن کریم کے مطابق چلاتا رہے‘‘ تو یہ قرآن کریم کی اسی حیثیت کا اعلان تھا کہ وہ اسلامی ریاست کا دستور ہے اور ریاست و حکومت کے تمام معاملات کا اسی دستور کے دائرے میں رہنا ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۰ء

ڈاکٹر اسرار احمدؒ

ڈاکٹر صاحبؒ نے جماعت اسلامی سے اپنا راستہ الگ کیا، لیکن نفاذ اسلام کی جدوجہد سے دست برداری اختیار نہیں کی اور آخر وقت تک مصروف عمل رہے۔ اس بڑھاپے میں نفاذ شریعت کے لیے ان کی تڑپ اور محنت قابل رشک تھی جسے دیکھ کر جوانوں کو بھی حوصلہ ملتا تھا۔ ان کا موقف تھا کہ شیخ الہند مولانا محمودحسن دیوبندی ؒ نے برطانوی استعمار کے خلاف آزادی وطن کی جدوجہد میں مالٹا جزیرے میں ساڑھے تین سال کی قید و بند کے بعد واپسی پر اپنی جدوجہد کا جو راستہ اختیار کیاتھا، وہی اس محنت کا صحیح راستہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۰ء

حالات حاضرہ ۔ علمائے دیوبند کا اجتماعی موقف

ہمارے ملک کے بہترین وسائل ان عوامی امنگوں کو دور کرنے اور ان کے اسباب کا ازالہ کرنے کی بجائے امریکہ کی مسلط کی ہوئی جنگ میں امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے خرچ ہو رہے ہیں۔ جبکہ امریکہ کی طرف سے ہماری سرحدوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر کے ان ڈرون حملوں کا سلسلہ برابر جاری ہے جن میں ہمارے بے گناہ شہریوں، عورتوں او ر بچوں کی بہت بڑی تعداد شہید ہو کر بستیاں اجڑ چکی ہیں۔ اور یہ بات واضح ہے کہ امریکہ نے اپنی بالادستی قائم کرنے اور عالم اسلام کے وسائل پر قبضہ کرنے اور اسلام اور امت مسلمہ کے تہذیب و تمدن کو تباہ کرنے کی کاروائیوں میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۰ء

دستوری ترامیم اور حکمران طبقے کا رویہ

ستم بالائے ستم یہ کہ ہماری رولنگ کلاس کے اوپر ایک اور ’’رولنگ کلاس‘‘ ورلڈ اسٹیبلشمنٹ کی صورت میں مسلط ہے جو پہلے ان دیکھی اور خفیہ ہوتی تھی، اب کھلم کھلا ملک کے ہر شہری کو دکھائی دے رہی ہے۔ اور صورتحال یہ ہے کہ دستور و قانون کی جو صورت ان دونوں کے مفاد میں ہوتی ہے اور اس پر عملدرآمد سے ان میں سے کسی کا مفاد مجروح نہیں ہوتا، وہ کسی درجے میں عمل میں آجاتی ہے۔ لیکن جمہوریت، رائے عامہ اور دستور وقانون کی جو تعبیر ان میں سے کسی کی ترجیحات کے لیے رکاوٹ بنتی ہے، وہ ان دیکھے فریزر میں منجمد ہو کر رہ جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۰ء

مسلکی اختلافات اور امام اہل سنتؒ کا ذوق ومزاج

آج کی نشست میں، میں مسلکی اختلافات ومعاملات کے حوالے سے والد محترم، امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر اور ان کے دست راست حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی رحمہما اللہ کے ذوق وفکر اور طرز عمل کا ایک سرسری خاکہ قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں، اس لیے کہ گزشتہ نصف صدی کے دوران پورے برصغیر میں حضرت والد محترمؒ کو علماء دیوبند کے مسلکی ترجمان کی حیثیت حاصل رہی ہے اور پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت کے دیوبندی علما انھیں اپنا مسلکی اور علمی راہ نما سمجھتے آ رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۰ء

دینی جدوجہد کے عصری تقاضے اور مذہبی طبقات

انقلاب ایران کے بعد مجھے علماء کرام اور وکلا کے ایک وفد کے ساتھ ایران جانے کا موقع ملا جس میں مولانا منظور احمد چنیوٹی اور حافظ حسین احمد بھی شامل تھے۔ یہ ۱۹۸۷ء کی بات ہے۔ اس موقع پر ایک مجلس میں یہ سوال سامنے آیا کہ کیا پاکستان میں کوئی عالم دین اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ خمینی صاحب کی طرح ایک عوامی انقلاب کی قیادت کر سکے؟ میں نے عرض کیا کہ ایک نہیں بلکہ ہمارے پاس دو شخصیات ایسی موجود تھیں جو خمینی بن سکتی تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۰ء

مساجد ومدارس کے ملازمین کے معاشی مسائل

مساجد و مدارس کے ملازمین کو تنخواہیں اور دیگر مراعات ان کے معاشرتی مقام سے بہت کم ملتی ہیں اور ان کی بنیادی ضروریات کے حوالے سے یہ بہت ہی کم ہیں۔ یہ ایک معروضی حقیقت ہے جس کا چند بڑے اور معیاری اداروں کو چھوڑ کر، جن کا تناسب مجموعی طور پر شاید پانچ فیصد بھی نہ ہو، ملک میں ہر جگہ مشاہدہ کیا جا سکتا ہے- لیکن امام، خطیب، مدرس، مفتی، حافظ، قاری اور موذن قسم کے لوگ اپنی تربیت کے لحاظ سے تنخواہ اور معاشی مفادات کے لیے احتجاج، ہڑتال، جلوس، مظاہرہ اور بائیکاٹ وغیرہ کے عادی نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۰ء

دہشت گردی کے خلاف جنگ اور علماء

علماء کرام سے ملک کے بعض حلقوں کا یہ مسلسل مطالبہ ہے کہ وہ خود کش حملوں کے خلاف اجتماعی فتویٰ جاری کریں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومتی پالیسی کی حمایت کا دو ٹوک اعلان کریں، لیکن موجودہ صورت حال میں یہ بات بہت مشکل ہے کہ علماء کرام حکومت کی پالیسیوں کی آنکھیں بند کر کے حمایت کریں اور نہ ہی حکومت کو اس کی توقع کرنی چاہیے، اس لیے کہ جو بات جس حد تک درست ہوگی، اس کی ضرور حمایت کی جائے گی، لیکن جو بات درست نہیں ہوگی، اس کی حمایت نہیں کی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۰ء

مذہبی طبقات، دہشت گردی اور طالبان ۔ ڈاکٹر یوگندر سکند کا سوالنامہ

جو دینی جماعتیں اور افراد پر امن طور پر اور سیاسی و جمہوری جدوجہد کے ذریعے کام کر رہی ہیں، وہ بھی انہی دینی مدارس کے تعلیم یافتہ ہیں اور جو لاکھوں علماء کرام، مدرسین اور خطبا و ائمہ ملک بھر میں امن و سلامتی کے ماحول میں دینی خدمات کی انجام دہی میں مصروف ہیں انہوں نے بھی انہی مدارس میں تعلیم پائی ہے۔ یہ حضرات نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں پر امن طور پر تعلیمی اور دعوتی خدمات بجا لا رہے ہیں۔ جبکہ وہ لوگ جو مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہیں، ان کا تناسب آٹے میں نمک کا بھی نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۹ء

ارباب علم ودانش کی عدالت میں ماہنامہ الشریعہ کا مقدمہ

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے آرگن ماہنامہ ’’وفاق المدارس‘‘ کا شکر گزار ہوں کہ اس کے گزشتہ شمارے میں ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کی عمومی پالیسی پر نقد وتبصرہ کرتے ہوئے کچھ ایسے امور کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جن کی وضاحت کے لیے قلم اٹھانا ضروری ہو گیا ہے۔ چنانچہ ’’وفاق المدارس‘‘ کے تفصیلی تبصرہ کے جواب کے طور پر نہیں، بلکہ توجہ دلانے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اہم امور کی وضاحت کے لیے یا ’’ارباب علم ودانش کی عدالت میں ’الشریعہ‘ کامقدمہ‘‘ کے طورپر کچھ معروضات پیش کر رہا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۹ء

مولانا قاری خبیب احمد عمرؒ

گزشتہ دنوں میرے بہنوئی مولانا قاری خبیب احمد عمر کا انتقال ہو گیا ہے جو ایک متحرک دینی جماعت ’’تحریک خدام اہل سنت‘‘ کے صوبہ پنجاب کے امیر اور ملک کے معروف دینی ادارہ’’ جامعہ تعلیم الاسلام‘‘ جہلم کے مہتمم تھے۔ وہ ایک ماہ قبل برطانیہ کے تبلیغی دورے پر گئے اور نوٹنگھم میں اپنی بیٹی کے ہاں قیام پذیر تھے کہ انھیں نمونیہ کی تکلیف ہوگئی۔ اسی حالت میں تکلیف کے باوجود انہوں نے بریڈ فورڈ کی ایک مسجد میں جمعہ پڑھایا جس سے تکلیف بڑھ گئی۔ انہیں برمنگھم کے ایک ہسپتال میں لے جایا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۹ء

حدیث وسنت ۔ غامدی صاحب کا موقف

اگر صرف اتنی سی بات ہے تو اصطلاحات و تعبیرات کے اس فرق میں یہ پہلو ضرور ملحوظ خاطر رہنا چاہیے کہ نئی اصطلاح اور جداگانہ تعبیر سے کیا نئی نسل کے ذہن میں کوئی کنفیو ژن تو پیدا نہیں ہو رہا ہے۔ کیونکہ اس وقت ہماری نئی نسل مختلف اطراف سے پھیلائے جانے والے کنفیوژنز کی زد میں ہیں، اسے اس ماحول سے نکالنا ایک مستقل دینی ضرورت کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ ایسے ماحول میں سنجیدہ اہل علم کو نئی نسل کی ذہنی اور فکری الجھنوں میں اضافہ کرنے کی بجائے ان میں کمی کرنے کا اسلوب اختیار کرنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۹ء

چند روز ہانگ کانگ میں

ہانگ کانگ کی مساجد کے بورڈ آف ٹرسٹیز کی دعوت پر ’’تذکرہ خیر الوریٰ‘‘ کے عنوان سے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے حوالے سے منعقد ہونے والے متعدد اجتماعات میں شرکت کے لیے ۵ مارچ سے ۹ مارچ تک ہانگ کانگ میں وقت گزارنے کا موقع ملا۔ شجاع آباد ضلع ملتان میں ہمارے ایک بزرگ دوست مولانا رشید احمد تھے جن کا قائم کردہ مدرسہ جامعہ فاروقیہ ایک عرصہ سے تعلیمی ودینی خدمات سرانجام دے رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ مارچ ۲۰۰۹ء

مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام عدل ریگولیشن کا نفاذ

مالاکنڈ ڈویژن میں یہ مطالبہ گزشتہ دو عشروں سے جاری تھا کہ وہاں مروجہ عدالتی سسٹم کی بجائے شرعی عدالتوں کا نظام قائم کیا جائے اور اس کے لیے مولانا صوفی محمد کی سربراہی میں ’’تحریک نفاذ شریعت محمدی‘‘ نے ایک عوامی تحریک منظم کر رکھی تھی جس کے نتیجے میں ایک مرحلے میں کم وبیش تیس ہزار کے لگ بھگ مسلح افراد مینگورہ کی سڑکوں پر کئی دنوں تک دھرنا دیے بیٹھے رہے تھے اور ان کا مطالبہ یہ تھا کہ انھیں شرعی عدالتی نظام فراہم کیا جائے جہاں قاضی حضرات قرآن وسنت کے مطابق ان کے مقدمات کے فیصلے کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۹ء

خودکش حملہ ۔ ڈاکٹر محمد فاروق خان کے ارشادات

خود کش حملہ ایک جنگی ہتھیار ہے جو مظلوم قومیں ہمیشہ سے استعمال کرتی آرہی ہیں۔ یہ ہتھیار جاپانیوں نے بھی استعمال کیا تھا، جنگ عظیم میں برطانیہ نے بھی استعما ل کیا تھا، اور ۱۹۶۵ء کی جنگ میں پاک فوج نے بھی چونڈہ کے محاذ پر استعمال کیا تھا۔ دوسرے جنگی ہتھیاروں کی طرح یہ بھی میدان جنگ میں استعمال ہو تو جائز ہے، لیکن پرامن ماحول میں ا س کا استعمال ناجائز ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۹ء

غامدی صاحب کے تصور سنت کے حوالہ سے بحث ومکالمہ

مجھے اس امر پر اصرارنہیں ہے کہ غامدی صاحب کی عبارات سے سنت کا جو مفہوم میں نے سمجھا ہے، وہی غامدی صاحب کی مراد بھی ہے۔ اور اسی لیے میں نے ان سے وضاحت کی درخواست کی ہے، لیکن یہ وضاحت غامدی صاحب کو خود کرنی چاہیے۔ ان سے ہٹ کر کسی اور دوست کی وضاحت ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ اگر محترم جاوید غامدی صاحب بذات خود اس بحث میں شریک ہوتے ہیں تو ہم اس کا خیر مقدم کریں گے اور ان کے پورے احترام کے ساتھ اس بحث کو آگے بڑھائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۹ء

جہاد وقتال کے شرعی احکام اور بین الاقوامی قانون

ایک طرف ایک منظم عالمی نظام ہے جسے دنیا کے اکثر ممالک کی حمایت اور پشت پناہی حاصل ہے اور اس بین الاقوامی چھتری کے نیچے بین الاقوامی قوانین، عالمی معاہدات اور معاملات کاایک مربوط سسٹم موجود ومتحرک ہے جسے مسلم دنیا کی کم وبیش سب حکومتیں تسلیم کرتی ہیں۔ جبکہ دوسری طرف عالم اسلام کے وہ دینی، فکری اور علمی حلقے ہیں جو دنیا پر اسلام کے غلبہ اور مسلم معاشروں میں اسلامی شریعت کے نفاذ و ترویج کے لیے کوشاں ہیں اور پورے خلوص کے ساتھ اس کے لیے ہر نوع کی قربانی پیش کرتے چلے جا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۹ء

’’دہشت گردی‘‘ کے خلاف جنگ اور پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد

ملک میں امن وامان کی صورت حال کے حوالے سے اس وقت سب سے بڑا مسئلہ’’ دہشت گردی اور اس کے خلاف جنگ‘‘ کے عنوان سے سرفہرست ہے اور اس جنگ کا پھیلاؤ جوں جوں بڑھتا جا رہا ہے، عوام کے اضطراب میں اضافے کے ساتھ ساتھ قومی خود مختاری اور ملکی سا لمیت کے بارے میں سوالات میں بھی شدت پیدا ہو رہی ہے۔ یہ ’’دہشت گردی ‘‘ کیا ہے اور اس کے خلاف جنگ کے اہداف ومقاصد کیا ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۸ء

اسلامی شریعت کی تعبیرو تشریح: علمی وفکری سوالات

آج کے نوجوان اہل علم جو اسلام کے چودہ سو سالہ ماضی اور جدید گلوبلائزیشن کے ثقافتی ماحول کے سنگم پر کھڑے ہیں، وہ نہ ماضی سے دست بردار ہونا چاہتے ہیں اور نہ مستقبل کے ناگزیر تقاضوں سے آنکھیں بند کرنے کے لیے تیار ہیں۔ وہ اس کوشش میں ہیں کہ ماضی کے علمی ورثہ کے ساتھ وابستگی برقرار رکھتے ہوئے قدیم و جدید میں تطبیق کی کوئی قابل قبول صورت نکل آئے۔ مگر انھیں دونوں جانب سے حوصلہ شکنی کا سامنا ہے اور وہ بیک وقت ’قدامت پرستی‘ اور ’تجدد پسندی‘ کے طعنوں کا ہدف ہیں۔ مجھے ان نوجوان اہل علم سے ہمدردی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۸ء

امریکہ میں مسلمانوں کی دینی سرگرمیاں

میں ۲ اگست کو نیو یارک پہنچا تھا۔ ۹ اگست تک کوئنز کے علاقے میں واقع دینی درس گاہ دار العلوم نیو یارک کے سالانہ امتحانات میں مصروف رہا جہاں درس نظامی کا وہی نصاب پڑھایا جاتا ہے جو ہمارے ہاں کے مدارس میں مروج ہے۔ برطانیہ اور امریکہ میں بیسیوں مدارس اس نصاب کے مطابق نئی نسل کی دینی تعلیم وتدریس میں سرگرم عمل ہیں۔ طلبہ کے مدارس بھی ہیں اور طالبات کے مدارس بھی ہیں۔ بنیادی ڈھانچہ اور اہداف وہی ہیں کہ دینی تدریس وتعلیم اور امامت وخطابت کے لیے رجال کار تیار کیے جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۸ء

سزائے موت کے خاتمے کی بحث

دستور پاکستان میں اسلام کو ملک کا سرکاری دین قرار دیا گیا ہے، قرآن وسنت کے احکام وقوانین کے مکمل نفاذ کی ضمانت دی گئی ہے اور قرآن وسنت کے منافی کوئی قانون نافذ نہ کرنے کا واضح طور پر وعدہ کیا گیا ہے۔ دستور پاکستان کی ان دفعات کی موجودگی میں ملک کے کسی بھی ایوان میں پیش کیا جانے والا ایسا بل دستور سے متصادم ہوگا جس میں سزاے موت ختم کرنے کی بات کی گئی ہو، کیونکہ قرآن وسنت میں بہت سے جرائم کے لیے موت کی سزا مقرر کی گئی ہے اور اسے ایک اسلامی ریاست کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۸ء

اسلام اور شہری حقوق و فرائض: غیر مسلم معاشرے کے تناظر میں ۔ ایک سوالنامہ

دنیا کے مختلف ممالک سے جو مسلمان نقل مکانی کر کے مغربی ممالک میں گئے ہیں اور انھوں نے ان ممالک کو اپنا وطن بنا لیا ہے تو جہاں وہ ان ممالک کے وسائل اور سہولتوں سے استفادہ کر رہے ہیں، وہاں اس سوسائٹی کا بھی ان پر حق ہے کہ وہ اسے کچھ دیں۔ اس ملک اور سوسائٹی نے مسلمانوں کو بہت کچھ دیا ہے اور وہ اسے بھرپور طریقے سے وصول کر رہے ہیں، لیکن صرف لینا اور لیتے ہی چلے جانا انصاف کی بات نہیں ہے اور اس سوسائٹی کو کچھ دینا بھی ان کی ذمہ داری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۸ء

غامدی صاحب کا تصور سنت

محترم جاوید احمد غامدی صاحب کے تصور سنت کے بارے میں ’الشریعہ‘ کے صفحات میں ایک عرصے سے بحث جاری ہے اور دونوں طرف سے مختلف اصحاب قلم اس سلسلے میں اپنے خیالات پیش کر رہے ہیں۔ راقم الحروف نے بھی بعض مضامین میں اس کا تذکرہ کیا تھا اور یہ عرض کیا تھا کہ غامدی صاحب نے سنت نبوی کے بارے میں جو انوکھا تصور پیش کیا ہے، اس کے جزوی پہلوؤں پر گفتگو کے ساتھ ساتھ اس کی اصولی حیثیت کے بارے میں بھی بحث و مکالمہ ضروری ہے تاکہ وہ جس تصور سنت سے آج کی نسل کو متعارف کرانا چاہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۸ء

مسلمانوں کے اختلافات: ایک نو مسلم کے تاثرات

مورس نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ کسی مسلمان کی دعوت پر مسلمان نہیں ہوا اور نہ ہی کسی مسلمان کو دیکھ کر اور اس سے متاثر ہو کر مسلمان ہوا ہے، وہ صرف اور صرف قرآن کریم کے مطالعہ سے مسلمان ہوا ہے۔ بلکہ دوسرے جن نومسلموں کو وہ جانتا ہے، ان میں سے کوئی بھی کسی مسلمان کی دعوت پر یا اس سے متاثر ہو کر مسلمان نہیں ہوا، سب کے سب قرآن کریم پڑھ کر مسلمان ہوئے ہیں۔ البتہ مسلمان ہونے کے بعد مسلمانوں نے ان نومسلموں کو الجھایا ضرور ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۸ء

اک مرد حر تھا خلد کی جانب رواں ہوا

حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی قدس اللہ سرہ العزیز کی وفات اور ان کے جنازے میں شریک نہ ہو سکنے کے صدمہ نے بے ساختہ چند اشعار کا روپ دھار لیا تھا جو بعض جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔ اور اب ایک طویل عرصہ کے بعد عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی نور اللہ مرقدہ کی وفات پر ان کے ساتھ عقیدت ومحبت مندرجہ ذیل اشعار کی شکل میں نوک قلم پر آگئی ہے۔ ’’اشعار موزوں ہو گئے‘‘ کا جملہ عمداً استعمال نہیں کر رہا کہ وزن، قافیہ اور ردیف کے فن سے قطعی طو رپر نا آشنا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۸ء

حضرت صوفی عبد الحمیدؒ سواتی

مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے بانی حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی نور اللہ مرقدہ ۶ اپریل ۲۰۰۸ء کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔وہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے چھوٹے بھائی اور راقم الحروف کے چچا محترم تھے۔ انھوں نے ہجری اعتبار سے ۹۴ برس کے لگ بھگ عمر پائی اور تمام عمر علم کے حصول اور پھر اس کے فروغ میں بسر کر دی۔ وہ اس دور میں ماضی کے ان اہل علم وفضل کے جہد وعمل، زہد وقناعت اور علم وفضل کا نمونہ تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۸ء

اسلامی سربراہ کانفرنس کا مایوس کن اجلاس

اسلامی کانفرنس تنظیم کے مذکورہ سربراہی اجلاس میں عالم اسلام کے دیگر مسائل بھی زیر بحث آئے جن میں فلسطین کی صورت حال کو بطور خاص زیرغور لایا گیا۔ لیکن ان مسائل میں بھی رسمی خطابات اور قراردادوں سے ہٹ کر کوئی سنجیدہ پیش رفت اور لائحہ عمل سامنے نہیں آیا جس سے مایوسی میں اضافہ ہوا ہے۔ اور ہمارے خیال میں مسلم حکومتوں سے دنیا بھرکے مسلم عوام کی اسی مایوسی سے اس ردعمل نے جنم لیا ہے جسے انتہا پسندی، دہشت گردی اور بنیاد پرستی قرار دے کر اس کے خلاف عالمی سطح پر باقاعدہ جنگ لڑی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۸ء

عام انتخابات کے نتائج اور متحدہ مجلس عمل کا مستقبل

عوام کے دینی جذبات کی ترجمانی، دینی حلقوں کے درمیان مفاہمت وتعاون کو وسعت دینے اور ان کی احتجاجی قوت کو منظم و استعمال کرنے کے لیے متحدہ مجلس عمل جو کچھ کر سکتی تھی وہ نہیں ہوا، اور متحدہ مجلس عمل کی پالیسی ترجیحات میں آہستہ آہستہ معروضی اور روایتی سیاست کا غلبہ ہوتا چلا گیا۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر متحدہ مجلس عمل اور دینی جماعتوں نے بھی معروضی سیاست ہی کو اوڑھنا بچھونا بنانا ہے تو اس کے لیے دوسری روایتی سیاسی جماعتیں ہی کافی ہیں اور وہ ان سے زیادہ اچھے انداز میں معروضی سیاست کے تقاضے پورے کر رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۸ء

مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی عدالت

ہمیں مولانا صوفی محمد اور مولانا فضل اللہ کی تحریکوں کے طریق کار سے اتفاق نہیں ہے اور ہم اس ملک میں نفاذ اسلام کے لیے مسلح جدوجہد کے بارے میں تحفظات رکھتے ہیں۔ لیکن ہمیں ان کے اس موقف سے اتفاق ہے کہ باقی پاکستان میں اسلامی قوانین کانفاذ جب بھی عمل میں آئے، مگر ان کی سا بقہ ریاست سوات کی حدود میں جہاں پاکستان کے ساتھ اس کے الحاق سے پہلے تک شرعی قوانین اور قاضی عدالتیں موجود تھیں، کم از کم وہاں تو حسب سا بق شرعی عدالتوں کی عمل داری قائم کر دی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۸ء

مسئلہ فلسطین اور مغربی ممالک کا کردار

امریکہ اور اس کی قیادت میں مغربی حکمران مشرق وسطیٰ میں صرف ایسا امن چاہتے ہیں جس میں اسرائیل کے اب تک کے تمام اقدامات اور اس کے موجودہ کردار کو جائز تسلیم کر لیا جائے اور اس کی بالادستی کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے فلسطینی عوام خود کو اس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں۔ اور اسرائیل جو کچھ بھی کرے فلسطینی عوام اس کے خلاف کسی بھی قسم کی مزاحمت سے ہمیشہ کے لیے دست برداری کا اعلان کر دیں۔ اگر صدر بش فلسطینیوں کو امن وسلامتی کے اسی نکتے پر لانا چاہتے ہیں تو ایسا ہونا ممکن نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۸ء

لاہور میں ایک چرچ کا انہدام

۱۸ دسمبر ۲۰۰۷ء کو روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق لاہور چرچ کونسل کے سیکرٹری جناب مشتاق سجیل بھٹی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا ہے کہ گارڈن ٹاؤن لاہور کے ابوبکر بلاک میں ۱۹۶۳ء سے قائم ایک چرچ کو، جو ’’چرچ آف کرائسٹ‘‘ کے نام سے مسیحیت کی مذہبی سرگرمیوں کا مرکز تھا، ایک بااثر قبضہ گروپ نے ۱۱ دسمبر کو اس پر زبردستی قبضہ کرنے کے بعد ۱۶ دسمبر کو مسمار کر دیا ہے اور اسے ایک کمرشل پلاٹ کی شکل دے دی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۸ء

وکلا تحریک کے قائدین کی خدمت میں چند معروضات

ہم چودھری اعتزاز احسن صاحب کے اس عزم اور اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں اور دستور کی بالادستی اور عدلیہ کے محترم ججوں کی بحالی کے لیے وکلا کی جدوجہد کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ اسی حوالے سے ہم دو گزارشات وکلا کی اس تحریک کی قیادت، بالخصوص چودھری اعتزاز احسن صاحب کی خدمت میں پیش کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں۔ ایک یہ کہ قوم کے دوسرے طبقات کو ساتھ لیے بغیر صرف وکلا کے فورم پر اس تحریک کو منظم کرنے اور آگے بڑھانے کی حکمت عملی ہمارے نزدیک محل نظر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۸ء

عام انتخابات ۲۰۰۸ء اور متحدہ مجلس عمل کا مستقبل

بادی النظر میں قبائلی علاقوں میں دینی مدارس اور مجاہدین کے خلاف امریکی آپریشن، حدود آرڈیننس میں کی جانے والی خلاف شریعت ترامیم، جامعہ حفصہ و لال مسجد کے سانحہ کے بارے میں متحدہ مجلس عمل کی مصلحت آمیز روش، اور صوبہ سرحد میں نفاذ اسلام کے حوالے سے کوئی نظر آنے والی پیش رفت نہ کر سکنے کی صورت حال نے دینی جماعتوں کے اس متحدہ محاذ کے بارے میں دینی حلقوں میں مایوسی کو جنم دیا ہے۔ جبکہ سیاسی حلقوں میں سترہویں آئینی ترمیم کی منظوری میں متحدہ مجلس عمل کا کردار ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۸ء

محترمہ بے نظیر بھٹو کا الم ناک قتل

پاکستان پیپلز پارٹی اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے سیاسی افکار ونظریات، اہداف ومقاصد اور پالیسیوں سے ملک کے بہت سے لوگوں کو اختلاف تھا اور خود ہمیں بھی ان کی بہت سی باتوں سے اختلاف رہا ہے۔ لیکن اختلاف کے اظہار کا یہ طریقہ کہ مخالف کی جان لے لی جائے اور اس طرح کے خودکش حملوں کے ذریعے اسے راستے سے ہٹا دیا جائے، نہ صرف یہ کہ سراسر ناجائز اور ظلم ہے بلکہ ملک وقوم کے لیے بھی انتہائی خطرناک اور تباہ کن ہے اور اس کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۸ء

جامعہ حفصہ کا سانحہ ۔ کچھ پس پردہ حقائق

ہماری رائے میں افغانستان سے روسی استعمار کے انخلا کے بعد سے ہی پاکستان کے ان ہزاروں نوجوانوں کی فہرستوں کی تیاری اور ان کی درجہ بندی شروع ہو گئی تھی جنھوں نے افغانستان کی جنگ میں حصہ لیا تھا اور ٹریننگ حاصل کی تھی۔ اسی وقت سے یہ حکمت عملی بھی طے کر لی گئی تھی کہ مرحلہ وار مختلف علاقوں میں ان مجاہدین کو کسی نہ کسی طرح اشتعال دلا کر سامنے لایا جائے اور ایسا ماحول پیدا کیا جائے کہ یہ ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہو جائیں اور پھر فوجی آپریشن کے ذریعے ان کی قوت کو ختم کر دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم دسمبر ۲۰۰۷ء

Pages