ایران کے جوہری معاہدے کا جائزہ

بڑی طاقتیں کہلانے والے چھ ملکوں کے ساتھ ایران کا ایٹمی معاہدہ اس وقت پوری دنیا میں زیر بحث ہے اور اس کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر اظہار خیال کا سلسلہ جاری ہے۔ معاہدہ کا خلاصہ یہ ہے کہ ان چھ ملکوں نے ایران کو اس بات پر آمادہ کر لیا ہے کہ وہ اپنے ایٹمی پروگرام کو دس سال تک ایٹم بم بنانے کے لیے استعمال نہیں کر سکے گا۔ اور اس سلسلہ میں عالمی سطح پر نگرانی کرنے والے اداروں کو اپنی ایٹمی تنصیبات اور اثاثوں تک رسائی فراہم کرنے کا پابند ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ جولائی ۲۰۱۵ء

مسئلہ قومی زبان اردو کا

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا نے جناب اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ کی درخواست پر وفاقی حکومت سے اردو زبان کو تدریسی نصاب اور عدالتی زبان کے طور پر رائج کرنے کے بارے میں 18 اگست تک جواب طلب کر لیا ہے۔ درخواست گزار نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ قومی زبان اردو کو اس کا جائز مقام نہیں دیا جا رہا۔ کسی بھی قوم کی پہچان اس کی زبان سے ہوتی ہے، عدالت سے استدعا ہے کہ اردو زبان کو سکولوں و کالجوں میں تدریسی نصاب کا حصہ بنانے اور تمام عدالتی کاروائی کو اردو زبان میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ جولائی ۲۰۱۵ء

سردار محمد عبد القیوم خان مرحوم

یہ خبر دل کو غم و اندوہ کی گہرائیوں میں لے گئی ہے کہ تحریک آزادیٔ کشمیر کے نامور راہنما اور پاکستان کی قومی سیاست کے ایک اہم نظریاتی کردار سردار محمد عبد القیوم خان طویل علالت کے بعد 91 برس کی عمر میں ہمیں داغ مفارقت دے گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ سردار صاحب کے ساتھ میرا بہت قریبی تعلق رہا ہے اور میں ان کی تحریکی اور سیاسی زندگی کے نشیب و فراز کے مختلف مراحل کا عینی گواہ ہوں، بلکہ بعض مراحل میں شریک کار بھی رہا ہوں۔ میں نے پہلی بار انہیں کم و بیش نصف صدی قبل اس وقت دیکھا جب ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ جولائی ۲۰۱۵ء

مری میں علمی و فکری نشستیں

گزشتہ دنوں دورۂ تفسیر کی پوری کلاس کے ساتھ چار روز مری میں گزارنے کا موقع ملا۔ جون کے آغاز میں جامعہ فاروق اعظمؓ مری کے سالانہ جلسہ میں حاضری ہوئی تو جامعہ کے مہتمم مولانا قاری سیف اللہ سیفی نے تقاضہ کیا کہ رمضان المبارک کے کچھ ایام ان کے پاس مری میں گزاروں۔ میں نے عذر کیا کہ ہمارے ہاں الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں دورۂ تفسیر کی چالیس روزہ کلاس ہوتی ہے جو وسط رمضان تک جاری رہتی ہے، جبکہ آخری عشرہ کی اپنی مصروفیات ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ جولائی ۲۰۱۵ء

اسلام میں خواتین کے حقوق

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ اب تک پوری دنیا میں گیارہ کروڑ سے زائد لڑکیاں قتل کی جا چکی ہیں۔ اس نسل کشی کو رپورٹ میں ’’جینڈر سائڈ‘‘ کا عنوان دیا گیا ہے اور اس کے اسباب میں (۱) اسقاط حمل (۲) کارو کاری (۳) نو عمری کی شادی اور (۴) چین میں ایک بچہ پیدا کرنے کی پالیسی کو نمایاں قرار دیا گیا ہے۔ اسلام سے پہلے عرب معاشرہ میں لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے کا رجحان عام تھا جس کا قرآن کریم میں ذکر موجود ہے اور کلام باری تعالیٰ میں اس کے دو اہم اسباب بیان کیے گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ جولائی ۲۰۱۵ء

دینی مدارس اور عدالت عظمیٰ

دینی مدارس کو این جی اوز کا ہی ایک وسیع نیٹ ورک سمجھا جاتا ہے اس لیے کہ ہزاروں دینی مدارس ملک بھر میں لاکھوں طلبہ اور طالبات کو نہ صرف مفت تعلیم فراہم کر رہے ہیں بلکہ رہائش، خوراک اور علاج وغیرہ کی سہولتیں بھی انہیں بلا معاوضہ مہیا کی جا رہی ہیں۔ اس تعلیم میں قرآن و حدیث اور دیگر دینی علوم کے ساتھ ساتھ میٹرک تک عصری تعلیم اور کمپیوٹر ٹریننگ بھی شامل ہے۔ اصحاب ثروت اپنی زکوٰۃ و صدقات اور عطیات وغیرہ کے ساتھ تعاون کرتے ہیں جو مستحق طلبہ اور طالبات پر خرچ کی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جولائی ۲۰۱۵ء

نیب کا کردار ۔ ایک لمحۂ فکریہ

ہار کی واپسی کی خبر جن تفصیلات کے ساتھ شائع ہوئی ہیں انہیں پڑھتے ہوئے ہمیں دور نبویؐ کا ایک واقعہ یاد آگیا کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے ایک صاحب کو کسی علاقہ سے زکوٰۃ و عشر اور دیگر محصولات کی وصولی کے لیے عامل بنا کر بھیجا۔ اس دور میں تحصیلدار اور محصولات وصول کرنے والے کے لیے ’’عامل‘‘ کی اصطلاح ہی استعمال ہوتی تھی۔ وہ جب اپنی ڈیوٹی مکمل کر کے واپس آئے تو جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں وصول شدہ اموال پیش کیے مگر ایک گٹھڑی علیحدہ رکھ دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ جولائی ۲۰۱۵ء

تحفظ ختم نبوت کی جدوجہد کے چند پہلو

میں قادیانیوں سے کہا کرتا ہوں کہ انہیں مسیلمہ اور اسود کے راستہ پر بضد رہنے کی بجائے طلیحہؓ اور سجاحؒ کا راستہ اختیار کرنا چاہیے اور غلط عقائد سے توبہ کر کے مسلم امت میں واپس آجانا چاہیے۔ جبکہ اہل اسلام سے میری گزارش یہ ہے کہ قادیانیوں کے دجل و فریب کا مقابلہ اپنی جگہ لیکن انہیں اسلام کی دعوت دینا اور دعوت کے لیے مناسب ماحول پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ اور یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ مقابلہ کا ماحول اور نفسیات الگ ہوتی ہیں جبکہ دعوت کا ماحول اور نفسیات اس سے بالکل مختلف ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۵ء

دستور پاکستان کی اسلامی بنیادیں

جنوری 1953ء میں انہی اکابر علماء کرام کا اجلاس دوبارہ کراچی میں ہوا تھا اور اس میں تمام مکاتب فکر کے اکابر علماء کرام نے مجلس دستور ساز کے تجویز کردہ بنیادی اصولوں پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کے بارے میں متفقہ سفارشات پیش کی تھیں۔ یہ سفارشات شاید دوبارہ منظر عام پر نہیں آسکیں۔ یہ دستاویز پاکستان کی دستور سازی کی تاریخ میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور ہم اسے اسلامی نظریاتی کونسل کے سیکرٹری ڈاکٹر حافظ اکرام الحق کے شکریہ کے ساتھ قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جون ۲۰۱۵ء

غیر ملکی این جی اوز کے خلاف کاروائی!

بلاشبہ ساری این جی اوز ایسی نہیں ہیں اور بہت سی ملکی اور غیر ملکی این جی اوز موجود ہیں جو انسانی فلاح و بہبود، معاشرتی ترقی، سماجی اصلاح اور خدمت خلق کے مختلف دائروں میں مثبت اور مفید خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ لیکن جب سے استعماری قوتوں نے سماجی بہبود اور خدمت انسانیت کے مقدس عنوانات کو اپنے سیاسی اور استعماری مقاصد کے لیے ذریعہ بنانے کی ریت ڈالی ہے، ’’این جی او‘‘ کی اصطلاح ہی جاسوسی، تہذیبی خلفشار، اور سیاسی افراتفری کے فروغ کا عنوان بن کر رہ گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ جون ۲۰۱۵ء

’’وہی شکستہ سے جام اب بھی‘‘

عام طور پر حکومتی جماعتیں اور ارکان اسمبلی بجٹ کی تحسین کرتے ہیں اور اس کا دفاع کرتے ہیں، جبکہ اپوزیشن جماعتوں اور اراکان اسمبلی کی طرف سے اعتراضات سامنے آتے ہیں اور ردّ و مدّح کا شور بپا ہوتا ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہی ہونے لگ جاتا ہے جو وزرائے خزانہ کی طرف سے ایوانوں میں پیش ہو چکا ہوتا ہے۔ البتہ عوام کو وقتی طور پر پڑھنے اور سننے کی حد تک تسلی کی کچھ ایسی باتیں ضرور مل جاتی ہیں جن میں ان کے معاشی مسائل اور مالی مشکلات کا تذکرہ موجود ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ جون ۲۰۱۵ء

رد قادیانیت کے لیے جدید اسلوب اپنانے کی ضرورت

فتنوں سے آگاہی حاصل کرنا اور امت کو ان سے خبردار کرنا دینی تقاضوں اور فرائض میں سے ہے، اور معاشرہ میں کسی بھی حوالہ سے پیدا ہونے والی خرابیوں کی نشاندہی کر کے مسلمانوں کو ان سے بچانے کی کوشش کرنا بھی ہماری دینی ذمہ داریوں میں سے ہے۔ اس لیے توحید و سنت، ختم نبوت، مقام صحابہ کرامؓ اور اہل سنت کے عقائد و مسلک کے تحفظ کے حوالہ سے مختلف مقامات پر اس قسم کے جو کورسز ہو رہے ہیں وہ دینی جدوجہد کا اہم حصہ ہیں اور ان کو کامیاب بنانے کی سب حضرات کو پوری کوشش کرنی چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ جون ۲۰۱۵ء

ملی و قومی مسائل ۔ پاکستان شریعت کونسل کی قراردادیں

اجلاس میں پاکستان شریعت کونسل کی تشکیل نو کے موقع پر یہ دعوت دی گئی کہ ملک بھر میں ایسے اصحاب و دانش سے جو اقتدار اور الیکشن کی سیاست سے الگ تھلگ رہتے ہوئے نفاذِ شریعت کے لیے علمی و فکری جدوجہد کے خواہشمند ہیں، وہ پاکستان شریعت کونسل کے ساتھ شریک کار ہوں۔ اجلاس میں یہ وضاحت بھی دہرائی گئی کہ کسی بھی دینی یا سیاسی جماعت میں کام کرنے والے حضرات علمی و فکری جدوجہد کے لیے پاکستان شریعت کونسل میں شامل ہو سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ جون ۲۰۱۵ء

امام بخاریؒ کی علمی دیانت

امام بخاریؒ کے حوصلہ اور علمی دیانت کا یہ پہلو ہم سب کے لیے لائق تقلید ہے کہ ان کے اساتذہ میں امام محمد بن یحییٰ ذہلیؒ ایک بڑے محدث تھے جن کی مسند حدیث نیشاپور میں تھی۔ اور امام بخاریؒ نے ان سے استفادہ کے بعد نیشاپور میں ہی اپنی مجلس قائم کرنے کا ارادہ کر لیا تھا مگر استاذ محترم سے ایک علمی مسئلہ پر اختلاف ہوگیا۔ امام ذہلیؒ حنابلہ کے امام تھے اور خلق قرآن کے مسئلہ پر اس دور میں اس حد تک شدت آگئی تھی کہ ’’قرآن کریم مخلوق نہیں ہے‘‘ کا اطلاق ظاہری الفاظ اور قرآن کریم سے متعلقہ ہر چیز پر کیا جانے لگا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ مئی ۲۰۱۵ء

اندرونِ سندھ کا سفر

علامہ علی شیر حیدری شہیدؒ نے مختلف مواقع پر تقاضہ کیا کہ میں خیر پور میرس میں ان کے ادارہ جامعہ حیدریہ میں حاضری دوں۔ متعدد بار وعدہ بھی کیا مگر ایسا نہ ہو سکا۔ ان کے شہادت کے بعد یہ تقاضہ عزیز محترم محمد یونس قاسمی کی طرف سے جاری رہا، مگر ہر کام کا ایک وقت قدرت کی طرف سے مقرر ہوتا ہے اس لیے یہ حاضری مؤخر ہوتی رہی۔ حتیٰ کہ گزشتہ دنوں کراچی سے واپسی پر ایک دن کا کچھ حصہ جامعہ حیدریہ میں گزارنے کا موقع مل گیا۔ کراچی سے ڈائیوو بس کے ذریعہ سکھر پہنچا تو مولانا اسد اللہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ مئی ۲۰۱۵ء

کراچی میں تین دن

تین دن کراچی میں گزار کر آج ۵ مئی کو سکھر، لاڑکانہ اور خیرپور کے لئے روانہ ہو رہا ہوں۔ جامعہ اسلامیہ کلفٹن، جامعہ انوار القرآن، آدم ٹاؤن میں ختم بخاری شریف اور دستار بندی کی سالانہ تقریبات میں شرکت کے لئے حاضری ہوئی تھی۔ ۲ مئی کو جامعہ اسلامیہ کی تقریب ہوئی جو نماز مغرب کے بعد شروع ہو کر کم و بیش نصف شب تک جاری رہی۔ حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد آف کندیاں شریف مہمان خصوصی تھے جبکہ جامعہ کے اساتذہ کے علاوہ مولانا عبدالقیوم حقانی اور راقم الحروف نے تفصیلی خطابات کیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ مئی ۲۰۱۵ء

حفظ حدیث کا قابل رشک ذوق

شاہ کوٹ ضلع شیخوپورہ میں ایک ایسی تقریب میں حاضری کا شرف حاصل ہوا جس کی خوشی کے اظہار کے لیے یقیناً میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ پرانے دور میں احادیث کو زبانی یاد کرنے کا ذوق پایا جاتا تھا اور قرآن کریم کی طرح حدیث کے حفاظ بھی بڑی تعداد میں موجود ہوتے تھے۔ یہ شوق رفتہ رفتہ کم ہوتا جا رہا ہے اور آج احادیث کو اہتمام کے ساتھ یاد کرنے اور یاد کرانے کا کوئی نظم کم از کم ہمارے علم میں نہیں ہے۔ قریب کے دور میں حضرت مولانا عبد اللہ درخواستیؒ اس شرف کے ساتھ موصوف تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱ مئی ۲۰۱۵ء

قادیانی رپورٹ ۲۰۱۴ء

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ رپورٹ شائع کرنے کا مقصد اس خود ساختہ مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹنے کے سوا کچھ نہیں ہے جس کا روپ قادیانی جماعت نے عالمی سطح پر ایک عرصہ سے دھار رکھا ہے۔ اور جس کے ذریعہ وہ اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہنے کے ساتھ ساتھ اسلام اور پاکستان کے خلاف سرگرم عمل بین الاقوامی اداروں کی توجہ اور ان سے مفادات حاصل کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ ورنہ ملک کی کوئی بھی سیاسی یا دینی جماعت اس قسم کا سروے کر کے اپنے خلاف شائع ہونے والی خبروں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ اپریل ۲۰۱۵ء

مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور امریکہ

ہم آج امریکہ کے صدر باراک اوباما کے ایک اہم انٹرویو کا تذکرہ کرنا چاہیں گے جو انہوں نے گزشتہ دنوں ’’نیویارک ٹائمز‘‘ کے صحافی تھامس فریڈمین کو دیا ہے اور مشرق وسطیٰ کی سنی آبادی کے حوالہ سے اپنے موقف اور احساسات کا اظہار فرمایا ہے۔ امریکی صدر محترم کا ارشاد ہے کہ ’’جہاں تک ہمارے سنی عرب اتحادیوں مثلاً سعودی عرب کی حفاظت کا سوال ہے تو میرے خیال میں سعودیوں کو واقعی چند حقیقی بیرونی خطرات کا سامنا ہے لیکن ان کو کئی اندرونی خطرات بھی لاحق ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ اپریل ۲۰۱۵ء

قرارداد مقاصد کی آئینی پوزیشن کی بحث

قیام پاکستان کی تحریک میں قائد اعظم مرحوم اور دیگر قائدین کے واضح بیانات اور ملک کی پہلی دستور ساز اسمبلی کی منظور کردہ ’’قرارداد مقاصد‘‘ کو دستور پاکستان کے ’’بنیادی ڈھانچہ‘‘ کی حیثیت حاصل ہے، اس لیے دستور کے کسی بنیادی ڈھانچے کی موجودگی سے انکار پاکستان کے نظریاتی تشخص اور قرارداد مقاصد کی اہمیت کو کم کرنا ہے جو ملک کو اسلامی تشخص سے محروم کر کے سیکولر ریاست بنانے کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔ اور یہ خدشہ اس پس منظر میں اور زیادہ سنگین اور خطرناک ہو جاتا ہے کہ عالمی استعماری حلقے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ اپریل ۲۰۱۵ء

سنی شیعہ کشمکش ۔ خواہشات اور حقائق

کسی شخص کو کینسر ہو جائے تو اس کے اسباب کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے اور اسے بے حوصلہ ہونے سے بچانے کے لیے اسے اس کے مرض سے آگاہ نہ کرنا بھی بسا اوقات حکمت عملی کا تقاضہ بن جاتا ہے، لیکن علاج تو بہرحال کینسر کا ہی ہوتا ہے اور موجود و میسر حالات و اسباب کے دائرہ میں ہوتا ہے۔ سنّی شیعہ کشمکش اور تصادم کو ہم عالم اسلام کے اجتماعی وجود کے لیے کینسر سے کم نہیں سمجھتے، لیکن المیہ یہ ہے کہ یہ کینسر نہ صرف موجود ہے بلکہ مسلسل آگے بڑھ رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اپریل ۲۰۱۵ء

پاکستان شریعت کونسل کے قیام کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نوآبادیاتی نظام کے خاتمہ، اسلامی نظام کے نفاذ، قومی خودمختاری کے تحفظ اور مغرب کی نظریاتی و ثقافتی یلغار کے مقابلہ کے لیے رائے عامہ کو بیدار و منظم کرنے کی غرض سے ’’پاکستان شریعت کونسل‘‘ کے قیام کا اعلان سامنے آیا تو مختلف حلقوں کی طرف سے اس سوال کا اٹھایا جانا ایک فطری امر تھا کہ آخر ان مقاصد کے لیے ایک نئی جماعت کے قیام کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی؟ بعض دوستوں کا خیال ہے کہ پہلے سے موجود بیسیوں جماعتوں میں ایک نئی جماعت کا اضافہ کوئی ضروری امر نہیں تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۱۹۹۶ء

حالات کا تغیر اور علماء کرام کی ذمہ داریاں

ہمارے اکابر کا ہمیشہ سے یہ معمول رہا ہے کہ وہ حالات کے تغیر اور اس سے پیدا شدہ صورت حال پر مسلسل نظر رکھتے ہیں اور اس حوالہ سے سامنے آنے والے مسائل اور ضروریات کو نظر انداز کرنے کی بجائے ان کے حل کی صورتیں نکالتے ہیں۔ اس لیے کہ نئے پیدا ہونے والے مسائل کو نظر انداز کر دینا ان کا صحیح حل نہیں ہوتا بلکہ ان کے مناسب حل کی طرف قوم کی راہ نمائی کرنا علماء کرام کی ذمہ داری شمار ہوتا ہے۔ یہ بات تو فطری طور پر طے ہے کہ حالات تبدیل ہوتے رہتے ہیں، قوموں کے عرف و تعامل میں مسلسل تغیر بپا رہتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ اپریل ۲۰۱۵ء

مشرق وسطیٰ میں ایران کا کردار

ایرانی وزیر خارجہ محترم جواد ظریف اسلام آباد تشریف لائے اور وزیر اعظم پاکستان کے امور خارجہ کے مشیر جناب سرتاج عزیز سے یمن کے بحران پر گفتگو کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر ان کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ایران امت مسلمہ کی وحدت کا خواہاں ہے اور وہ پاکستان کے ساتھ مل کر یمن کے تنازعہ کے سیاسی حل کے لیے کام کرنا چاہتا ہے۔ اس سے قبل ایران کے صدر محترم جناب حسن روحانی نے ترکی کا دورہ کیا ہے اور ترک حکمرانوں کے ساتھ اسی قسم کے جذبات کا اظہار کر چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ اپریل ۲۰۱۵ء

نوجوان علماء کی مثبت سرگرمیاں

کچھ عرصہ سے نوجوان علماء کی سرگرمیوں میں ایک خوشگوار تبدیلی سامنے آرہی ہے جس کا ذکر وقتاً فوقتاً اس کالم میں کرتا رہتا ہوں اور خاص طور پر میرے لیے اس میں اطمینان کے دو تین پہلو نمایاں ہیں: ایک یہ کہ دینی مدارس کے نئے فضلاء اور نوجوان علماء کرام میں کچھ نہ کچھ کرتے رہنے اور فارغ نہ بیٹھنے کا رجحان بڑھ رہا ہے جو ایک اچھی علامت ہے۔ دوسرا یہ کہ سرگرمیوں کا رخ امت کے اجتماعی مسائل و ضروریات کی طرف مڑ رہا ہے جو اس سے بھی اچھی بات ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ اپریل ۲۰۱۵ء

دستور پاکستان اور تحفظ حرمین ۔ پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس

اجلاس میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں اٹارنی جنرل کی طرف سے پیش کردہ اس بیان کا جائزہ لیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ دستور پاکستان کا کوئی ایسا بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں ہے جس کی پابندی پارلیمنٹ کے لیے ضروری ہو۔ اس کے مضمرات و نتائج پر تفصیلی غور و خوض کے بعد اس رائے کا اظہار کیا گیا کہ قیام پاکستان کا مقصد مسلمانوں کی جداگانہ تہذیب کا تحفظ، اسلامی احکام و قوانین کے مطابق معاشرہ کی تشکیل اور امت مسلمہ کے دینی و نظریاتی تشخص کا اظہار تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ اپریل ۲۰۱۵ء

حرمین شریفین کا تحفظ ہر چیز پر مقدم ہے

مشرق وسطیٰ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ حالات پر مسلسل نظر رکھنے والوں کے لیے قطعاً غیر متوقع نہیں ہے، بلکہ ہم ایک عرصہ سے وقتاً فوقتاً اس طرف توجہ دلاتے آرہے ہیں کہ ایسا کچھ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ یمن میں حوثی قبائل کو جس طرح حکومت وقت کے خلاف کھڑا کیا گیا ہے وہ سب پر روز روشن کی طرح عیاں ہے، لیکن یہ سال دو سال کا قصہ نہیں بلکہ اس کی پشت پر کم و بیش چار عشروں کی تاریخ ہے اور ایک مکمل تیاری کے ساتھ ساتھ بھرپور پلاننگ نے حالات کو یہ رخ دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ مارچ ۲۰۱۵ء

سینٹ کے انتخابات اور دینی حلقوں کی امیدیں

سینٹ آف پاکستان کے حالیہ انتخابات میں مولانا عبد الغفور حیدری کا ڈپٹی چیئرمین منتخب ہونا ملک بھر کے سنجیدہ دینی حلقوں بالخصوص دیوبندی علماء اور کارکنوں کے لیے خوشی اور حوصلہ کا باعث بنا ہے۔ بطور خاص اس ماحول میں جبکہ قومی سیاست میں دینی حلقوں اور مدارس کو مسلسل کردار کشی اور سیکولر لابیوں کی طرف سے انہیں قومی سیاست کے میدان سے باہر دھکیل دینے کی مہم شدت کے ساتھ جاری ہے اور اس مہم کی سرپرستی عالمی استعمار اور میڈیا پورے شعور اور مہارت کے ساتھ کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ مارچ ۲۰۱۵ء

مذہبی رواداری اور علماء کی ذمہ داریاں

میں نے اپنی گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ اختلافات تو علمی، فکری اور فقہی دنیا میں چلتے ہی رہتے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو مختلف مزاجوں، ذہنی سطحوں اور فکری دائروں سے نوازا ہے، اس لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ سب ایک ہی طرح سوچیں اور کسی مسئلہ پر سب کی سوچ اور فکر کے نتائج یکساں ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے عقل دی ہے تو اس نعمت کا استعمال بھی ہوگا اور جب عقل کا استعمال ہوگا تو نتائج فکر میں تفاوت اور اختلاف لازمی بات ہے۔ اس لیے اختلاف سے گبھرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ مارچ ۲۰۱۵ء

مسجد میں تقریبِ نکاح

نکاح کی کوئی تقریب مسجد میں ہوتی ہے تو مجھے بہت خوشی ہوتی ہے کہ یہ سنت کے مطابق ہے، اور پھر شادی کے حوالہ سے جو خرافات عام ہوگئی ہیں کم از کم خطبہ اور ایجاب و قبول کے معاملات اس سے ہٹ کر مسجد کے ماحول میں طے پا جاتے ہیں۔ اس لیے ایسی تقریب کے ہر موقع پر خوشی کا اظہار کرتا ہوں اور اپنی گفتگو میں اس کی ترغیب اور حوصلہ افزائی کو بھی شامل کر لیتا ہوں۔ خرافات کا یہ سلسلہ اس قدر وسعت پکڑ چکا ہے کہ کہیں مجبورًا شریک ہونا پڑ جائے تو بہت پریشانی ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ مارچ ۲۰۱۵ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter