مقالات و مضامین

وفاقی وزیر تعلیم اسلامی جناب شفقت محمود کے نام مکتوب

موجودہ حالات کے تناظر میں پاکستان شریعت کونسل کی طرف سے چند گزارشات پیش کر رہا ہوں، امید ہے کہ آپ ذاتی توجہ فرما کر ان معروضات کو سنجیدہ غوروفکر کے دائرے میں لائیں گے، شکریہ۔ تعلیمی سلسلہ کا مسلسل تعطل قومی نقصان میں اضافہ کا باعث بن رہا ہے، اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ جولائی ۲۰۲۰ء

اقوام متحدہ، انسانی حقوق کا چارٹر اور عالمِ اسلام

پہلی جنگ عظیم کے بعد ”انجمن اقوام“ کے نام سے ایک عالمی تنظیم کا قیام عمل میں لایا گیا تھا، جس کا مقصد اقوام و ممالک کے درمیان جنگ کو روکنا اور متحارب اقوام و ممالک کو اس بات پر آمادہ کرنا تھا کہ وہ باہمی تنازعات کو جنگ کی بجائے بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد خلافت عثمانیہ ختم ہو گئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ ستمبر ۲۰۰۵ء

ظہورِ امام مہدی کا عقیدہ اور مولانا محمد سرفراز خان صفدر

سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ آسمانوں پر اٹھایا جانا اور قیامت سے پہلے دوبارہ نازل ہونا ہمارے معتقدات میں سے ہے اور اس کے ساتھ حضرت امام مہدی کا ظہور اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مل کر دنیا میں دوبارہ اسلام کے غلبہ و نفاذ کی راہ ہموار کرنا سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ دسمبر ۲۰۰۵ء

ہندو مذہب حقیقت کے آئینے میں

جامعہ اسلامیہ ٹرسٹ کامونکی کے مہتمم مولانا عبد الرؤف فاروقی اور ان کے رفقاء ہدیہ تبریک و تشکر کے مستحق ہیں کہ دعوۃ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد کے تعاون سے ”مطالعہ مذاہب“ کے پروگرام کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں اور اس طرح ایک اہم ترین دینی ضرورت کسی حد تک پوری ہو رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ نومبر ۲۰۰۵ء

مسلم امہ اور مغربی حکمرانوں کا طرزِ عمل

لندن بم دھماکوں کے بعد جب برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے اپنے ابتدائی ردِعمل میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی موجودہ صورت حال کو ناکافی قرار دیتے ہوئے دہشت گردی کے اسباب کا جائزہ لینے اور انہیں دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا تو دنیا بھر میں اس پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ جولائی ۲۰۰۵ء

زلزلہ: بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی تشویش

میں ۱۰ ستمبر کو امریکہ پہنچا تھا۔ ۱۰ اکتوبر کو وہاں سے لندن واپسی ہوئی اور اس وقت ساؤتھ لندن میں بیٹھا یہ سطور تحریر کر رہا ہوں۔ امریکہ میں ایک ماہ کے قیام کے دوران نیویارک کے علاقوں بروک لین، کوئینز اور لانگ آئی لینڈ، ورجینیا کے علاقے سپرنگ فیلڈ اور اس کے علاوہ اٹلانٹا، برمنگھم، بالٹی مور، واشنگٹن ڈی سی، نیو جرسی اور دیگر علاقوں میں مختلف دینی اجتماعات میں حاضری کا موقع ملا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ اکتوبر ۲۰۰۵ء

روشن خیالی اور اعتدال پسندی کا عملی ایجنڈا

ماڈل ٹاؤن لاہور میں اہل حدیث مکتب فکر کے نامور عالم دین مولانا حافظ عبد الرحمٰن مدنی کی نگرانی میں ایک علمی و تحقیقی ادارہ ”مرکز التحقیق الاسلامی“ کے نام سے کام کر رہا ہے۔ حافظ صاحب کا تعلق روپڑی خاندان سے ہے اور اچھے علمی و تحقیقی ذوق سے بہرہ ور ہیں۔ ماہنامہ ”محدث“ کے عنوان سے ایک ماہوار جریدہ بھی شائع کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ جولائی تا یکم اگست ۲۰۰۵ء

سونامی، قطرینا اور اب زلزلہ: پوری نسل انسانی کے لیے ایک اشارہ

زلزلہ کی خبر میں نے واشنگٹن میں سنی۔ دارالہدیٰ سپرنگ فیلڈ میں حسب معمول درس حدیث کی مصروفیات میں تھا کہ ایک نمازی نے خبر دی کہ پاکستان میں زلزلہ آیا ہے اور اسلام آباد میں خاصا نقصان ہوا ہے۔ دارالہدیٰ کے دفتر میں انٹرنیٹ پر بعض پاکستانی اخبارات دیکھے تو پتہ چلا کہ نقصانات کا دائرہ صرف اسلام آباد تک ہی محدود نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ اکتوبر ۲۰۰۵ء

اقوام متحدہ اور مسلم ممالک کی بے بسی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل جناب کوفی عنان نے ۲۱ مارچ ۲۰۰۵ء کو جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں متعدد اصلاحات کی تجویز پیش کی ہے اور کم و بیش باسٹھ صفحات پر مشتمل اپنی رپورٹ میں اس عالمی ادارے میں بہت سی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ اپریل ۲۰۰۵ء

’’امام اعظم ابوحنیفہؒ اور عمل بالحدیث‘‘

اجتہاد اسلام کا ایک بنیادی اصول ہے جس کا مقصد قرآن کریم کی صورت میں وحئ الٰہی کے مکمل ہو جانے کے بعد قیامت تک پیش آنے والے نئے حالات و مسائل کا وحئ الٰہی کے ساتھ ربط قائم رکھنا اور قرآن و سنت کی روشنی میں مسائل و مشکلات کا حل تلاش کرنا ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف اجتہاد کی اہمیت بیان فرمائی ہے بلکہ دیانت و اہمیت کے ساتھ اجتہاد کرنے والے مجتہد کو خطا کی صورت میں بھی اجر و ثواب کا مستحق ٹھہرایا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ اپریل ۱۹۹۶ء

"الحاج سید امین گیلانی: شخصیت وخدمات"

شاعرِ اسلام الحاج سید امین گیلانی رحمہ اللہ تعالیٰ ہمارے ان مِلی شعراء میں نمایاں مقام رکھتے ہیں جنہوں نے تحریکِ آزادی، تحریکِ ختمِ نبوت اور دیگر دینی و مِلی تحریکات میں مسلسل اور نمایاں کردار ادا کیا اور وہ ہماری دینی و مِلی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہیں۔ مجھے اُن سے نیاز مندی حاصل رہی ہے اور مختلف تحریکات میں ان کی رفاقت کا اعزاز نصیب ہوا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۲۴ء

’’فقہ الحدیث میں احناف کا اصولی منہج‘‘

۱۵ فروری ۲۰۱۹ء میرے لیے ذاتی اور خاندانی طور پر انتہائی خوشی کا دن تھا کہ اس روز میرے بڑے فرزند حافظ محمد عمار خان ناصر سلّمہ نے پنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کا مقالہ مکمل کر کے آخری زبانی امتحان میں (Viva Voce) سرخروئی حاصل ، فالحمد للہ علیٰ ذٰلک۔ عمار خان ناصر نے حفظِ قرآن کریم اور درسِ نظامی کی تعلیم ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ فروری ۲۰۱۹ء

ارکان پارلیمنٹ کے نام مولانا منظور احمد چنیوٹی کا خط

مولانا منظور احمد چنیوٹی تحریک ختم نبوت کے سرگرم راہنماؤں میں سے ہیں۔ وہ گزشتہ نصف صدی سے اس محاذ پر مسلسل مصروف عمل ہیں۔ انہوں نے زندگی اسی مشن کے لیے وقف کر رکھی ہے اور ہمہ وقت اسی فکر اور دھن میں مگن رہتے ہیں۔ چناب نگر اور چنیوٹ کے درمیان صرف دریائے چناب حائل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جون ۲۰۰۴ء

مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی اور مذہب کا مختصر سا خاکہ

قادیانی مذہب کے بانی غلام احمد قادیانی ہیں، جنہوں نے یہ دعویٰ کر کے ایک نئے مذہب کی بنیاد رکھی کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی نازل ہوتی ہے، انہیں نبوت و رسالت کے منصب سے نوازا گیا ہے، اب دنیائے انسانیت کی نجات ان کی پیروی میں ہے، انہیں ماننے والے ہی مسلمان کہلائیں گے اور فلاح و کامیابی سے ہمکنار ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ و ۲۶ فروری ۲۰۰۴ء

بنگلہ دیش میں قادیانیوں کی سرگرمیاں

پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں ملکوں میں تحریک ختم نبوت کے حوالہ سے سرگرمیوں میں کچھ عرصہ سے اضافہ ہو رہا ہے۔ بنگلہ دیش میں قادیانیوں کے لٹریچر کو خلاف قانون قرار دے دیا گیا ہے، جبکہ قادیانی امت کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لیے دینی حلقوں کی جدوجہد جاری ہے، عوامی جلسے اور مظاہرے ہو رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ فروری ۲۰۰۴ء

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی ایک اہم علمی خدمت

اس سے قبل نیویارک میں گزرنے والے چار ایام کا تذکرہ گذشتہ کالم میں کر چکا ہوں البتہ ایک دو باتوں کا تذکرہ باقی ہے۔ ایک پاکستانی دوست نے جن کا نام لینا شاید مناسب نہ ہو، مجھے اپنا ایک دلچسپ قصہ سنایا جو امریکی معاشرت کے ایک رخ کی عکاسی کرتا ہے اور جسے دیکھ کر بہت سے مسلم خاندان پریشان ہو کر وطن واپسی کی باتیں سوچنے لگ جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ جنوری ۲۰۰۴ء

مولانا محمد عیسیٰ منصوری کی پاکستان آمد

مولانا محمد عیسیٰ منصوری ان دنوں پاکستان تشریف لائے ہوئے ہیں اور مختلف شہروں میں دینی اجتماعات سے خطاب کر رہے ہیں۔ مولانا منصوری کا تعلق گجرات انڈیا سے ہے، پرانے فضلاء میں سے ہیں، عمر ساٹھ برس کے لگ بھگ ہوگی۔ ۱۹۶۸ء میں راندھیر کے معروف مدرسہ جامعہ حسینیہ سے دورہ حدیث کیا اور اس کے بعد تبلیغی جماعت کی سرگرمیوں میں شریک ہو گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ جنوری ۲۰۰۴ء

قرآن پاک کی حق تلفی کے سدباب کا مستحسن فیصلہ، مگر ۔ ۔ ۔

”آن لائن“ کی خبر کے مطابق وفاقی وزیر مذہبی امور جناب اعجاز الحق نے قومی اسمبلی میں متحدہ مجلس عمل کے ارکان جناب لیاقت بلوچ، مولانا عبد المالک خان، عبد الاکبر چترالی اور جناب اسد اللہ بھٹو کے ”توجہ دلاؤ نوٹس“ پر کہا ہے کہ قرآن کریم کی طباعت اور اشاعت میں غلطیوں کا معاملہ ہمارے نوٹس میں ہے اور صوبائی حکومتوں کو اس سلسلہ میں ہدایات دی گئی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ اگست ۲۰۰۴ء

چودھری شجاعت حسین کا شکریہ اور دو گزارشات

یہ خاندانی مزاج کا اثر ہے یا تعلیم و تربیت کے ماحول کا ثمرہ کہ حکمرانوں کے ساتھ راہ و رسم بڑھانے کو بحمد اللہ تعالیٰ کبھی جی نہیں چاہا ور اگر کبھی خودبخود مواقع پیدا ہوئے ہیں تو بھی معاملے کے دائرے کو محدود رکھنے ہی کی کوشش کی ہے۔ جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کی کابینہ میں پاکستان قومی اتحاد شامل ہوا تو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ دسمبر ۲۰۰۴ء

سالانہ تبلیغی اجتماع ۲۰۰۴ء

تبلیغی جماعت کا سالانہ عالمی اجتماع ۱۸ نومبر جمعرات سے رائے ونڈ میں شروع ہو گیا ہے۔ پروگرام کے مطابق جمعرات کو شام کے بعد اجتماع کا آغاز ہوا اور اتوار کو صبح دس گیارہ بجے کے لگ بھگ اختتامی دعا کے بعد اجتماع میں تشکیل پانے والی جماعتیں اپنی اپنی منزل کی طرف روانہ ہو جائیں گی۔ اس دوران بیانات ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ نومبر ۲۰۰۴ء

محبت کی شادی اور طلاق کا بڑھتا رجحان

ایک خبر کے مطابق عدالت عالیہ لاہور نے اوکاڑہ کی لو میرج کرنے والی لڑکی عائشہ تبسم کی مسعود خان سے شادی کو قانونی اور جائز قرار دیتے ہوئے دونوں میاں بیوی کے خلاف تھانہ اے ڈویژن اوکاڑہ میں درج حدود کا مقدمہ جھوٹا قرار دے کر خارج کر دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ جب کوئی خاتون اپنی شرعی شادی کا اعتراف کر لیتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ اپریل ۲۰۰۴ء

عظمت و شہادت کا مہینہ

سن ہجری کے چودہ سو پچیسویں سال کا آغاز ہو گیا ہے اور ہمارے ہاں عام حلقوں میں جو مشہور تھا، بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھ بھی دیا تھا کہ چودھویں صدی ہجری آخری صدی ہو گی اور اس کے بعد کوئی اور صدی نہیں ہے، زمانہ اس کو کراس کرتے ہوئے ربع صدی آگے بڑھ چکا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ فروری ۲۰۰۴ء

اسلامی نظام میں رائے عامہ کی حیثیت

ہجری مہینہ جمادی الثانی ختم ہو چکا اور ماہ رجب المرجب کا آغاز ہو گیا ہے۔ جمادی الثانی کے دوران خلیفہ اول سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تھا، اس مناسبت سے اس ماہ کے دوران ان کی یاد میں اجتماعات کا انعقاد ہوا، ان کی ملی و دینی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ اگست ۲۰۰۴ء

سود اور نفع کا تقابلی جائزہ

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن اور اس پروگرام کے منتظمین کا شکرگزار ہوں کہ اہل دانش و اہل فکر کے ساتھ گفتگو اور تبادلہ خیالات کا موقع فراہم کیا۔ سب سے پہلے میں اس بات پر خوشی اور مسرت کا اظہار کروں گا کہ اس پروگرام کا عنوان ”مروجہ قوانین :اسلام کی نظر میں “بہت اہم عنوان ہے اور اس پر وکلاء اور علماء کا مل بیٹھ کر غور کرنا انتہائی ضروری ہے۔ میں ایک عرصہ سے یہ آواز لگا رہا ہوں کہ ہمیں مل بیٹھنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ مارچ ۲۰۲۴ء

رائے ونڈ کا اجتماع: تبلیغِ دین کا ذریعہ

رائے ونڈ کا سالانہ عالمی تبلیغی اجتماع ۱۸ نومبر جمعرات کی شام شروع ہوا، جو اتوار کو دوپہر تک جاری رہے گا اور اختتامی دعا کے بعد مختلف علاقوں کے لیے تشکیل دی جانے والی دعوت و تبلیغ کی جماعتیں اپنی اپنی منزل کی طرف روانہ ہو جائیں گی۔ یہ اجتماع ہر سال ہوتا ہے اور اس میں دنیا کے مختلف ممالک سے علمائے کرام، دینی کارکن اور مبلغین شریک ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ نومبر ۲۰۰۴ء

الرشید ٹرسٹ کے نقش قدم پر

حضرت مولانا رشید احمد لدھیانوی قدس اللہ سرہ العزیز کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی امتیازی خوبیوں سے نوازا تھا اور ان کی حیات و جدوجہد متعدد حوالوں سے علماء کرام اور اہل دین کے لیے آئیڈیل اور مثال کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان میں سے ایک بڑا حوالہ ”الرشید ٹرسٹ“ کا ہے جس کے ذریعہ حضرت مفتی صاحبؒ نے رفاہی خدمات کی طرف دینی حلقوں اور علماء کرام کو متوجہ کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ اپریل ۲۰۰۴ء

چناب نگر مسجد کا تنازع: پس منظر اور حقائق

چناب نگر میں پولیس چوکی کی مسجد کا تنازع کافی دنوں سے چل رہا ہے اور اس پر عوامی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ انتظار تھا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان یا کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا کوئی اجلاس اس حوالہ سے بلایا جائے گا اور باہمی مشورہ سے کوئی متفقہ لائحہ عمل طے کر لیا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ اگست ۲۰۰۴ء

دینی مدارس میں تحقیق و صحافت: موجودہ صورتحال اور آئندہ لائحہ عمل

۲۱ جولائی ۲۰۰۴ء کو پنجاب یونیورسٹی لاہور کے شیخ زاید اسلامک سنٹر میں مندرجہ بالا عنوان پر ایک سیمینار میں شرکت و خطاب کا موقع ملا۔ اس راؤنڈ ٹیبل سیمینار کا اہتمام انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز اسلام آباد نے شیخ زاید اسلامک سنٹر کے تعاون سے کیا۔ اس کی صدارت پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر رفیق احمد نے کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ جولائی ۲۰۰۴ء

حضرت امام بخاریؒ کی مجتہدانہ شان

دو ستمبر کو جامعہ خیر المدارس ملتان میں اختتام بخاری شریف کی سالانہ تقریب میں حاضری کے لیے حضرت مولانا قاری محمد حنیف جالندھری سے وعدہ تھا اور حاضری کا ارادہ بھی تھا، بلکہ اس بابرکت محفل میں پیش کرنے کے لیے کچھ معروضات قلمبند بھی کر لی تھیں، مگر ایک اچانک گھریلو مصروفیت کی وجہ سے ملتان کا سفر نہ کر سکا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ ستمبر ۲۰۰۴ء غالباً

مولانا منظور احمد چنیوٹی کا نیا محاذ

مولانا منظور احمد چنیوٹی ان دنوں ایک اور محاذ کے لیے مورچہ بندی میں مصروف ہیں اور ہوم ورک کا سلسلہ آگے بڑھا رہے ہیں۔ وہ تحریک ختم نبوت کے سرگرم اور متحرک راہنما ہیں، اس محاذ پر اجتماعی جدوجہد اور کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی سرگرمیوں میں پورا حصہ ڈالتے میں، مگر اپنا جداگانہ مورچہ بھی قائم رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جون ۲۰۰۴ء

سانحۂ فیصل آباد اور مابعد اثرات

مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ ہمارے ملک کے نامور خطباء میں سے تھے۔ وہ صرف خطیب نہیں بلکہ خطیب ساز تھے۔ ان کا طرزِ خطابت منفرد تھا اور ان کے بیسیوں شاگردوں نے اس طرزِ خطابت کو اپنا کر میدانِ خطابت میں اپنے استاد اور مربی کے نام کو باقی رکھا ہوا ہے۔ توحید و سنت کا پرچار ان کا خصوصی موضوع تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ مارچ ۲۰۱۰ء

مولانا غفران ہزارویؒ / مولانا عبد الرحیمؒ / الحاج بابو عبد الخالقؒ

استاذ الاساتذہ حضرت مولانا رسول خان ہزاروی نور اللہ مرقدہ کے فرزند اور مولانا قاری عبد الرشید رحمانی، خطیب اسلامک سنٹر سیلون روڈ اپٹن پارک لندن کے والد گرامی حضرت مولانا محمد غفران ہزارویؒ گزشتہ دنوں مکہ مکرمہ میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۱۹۹۵ء

انسانی معاشرت اور باہمی حقوق کا تصور

اسلامی عقائد کے مطابق انسانی معاشرت کی بنیاد چند عقائد پر ہے: یہ کائنات، زمین و آسمان، مخلوقات اور ہم سب اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ مخلوق ہیں۔ اس نے ہمیں پیدا کیا ہے، صلاحیتوں اور استعدادات سے نوازا ہے، زندگی کے اسباب فراہم کیے ہیں، پورے نظام کو چلا رہا ہے، کائنات کی ہر چیز اس کے علم، قدرت اور کنٹرول میں ہے - - - مکمل تحریر

۹ و ۱۳ تا ۱۶ اپریل ۲۰۲۴ء

جامعہ اسلامیہ انجراء: ایک خاندان کا کارنامہ

جنگل میں منگل کا محاورہ تو بچپن سے سن رکھا ہے، مگر اس کی صحیح تصویر ۲۵ اگست کو ضلع اٹک کے تھانہ انجراء کے صدر مقام پر پراچہ برادری کے قائم کردہ دینی دارالعلوم کو دیکھ کر سامنے آئی۔ راولپنڈی سے کوہاٹ جاتے ہوئے جنڈ کے مقام پر مین سڑک کوہاٹ کی طرف مڑ جاتی ہے، جبکہ دوسری طرف مکھڈ شریف اور انجراء کی طرف سڑک جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم ستمبر ۲۰۰۴ء

خواتین کے بارے میں امتیازی قوانین

گزشتہ دنوں خواتین کے حقوق کا دن عالمی سطح پر منایا گیا۔ پاکستان میں بھی مختلف تقریبات ہوئیں، بعض مقامات پر خواتین نے اپنے حقوق اور مطالبات کے لیے مظاہرے کیے اور خواتین کے ساتھ ہونے والی مبینہ زیادتیوں کے بارے میں سالانہ رپورٹیں سامنے آئیں۔ ان رپورٹوں اور مطالبات میں بطور خاص جس بات پر زور دیا گیا وہ خواتین کے بارے میں امتیازی قوانین ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ مارچ ۲۰۰۴ء

بنگلہ دیش میں شریعت کونسل کی سرگرمیاں

مولانا محی الدین خان ڈھاکہ کے بزرگ علماء کرام میں سے ہیں۔ متحدہ پاکستان کے دور میں جمعیۃ علماء اسلام کے سرگرم راہنما تھے، مشرقی پاکستان میں جمعیۃ علماء اسلام کو منظم کرنے میں انہوں نے بھرپور کام کیا۔ یہ صدر محمد ایوب خان کے دور کی بات ہے۔ وہ جمعیۃ کے اجلاسوں کے لیے لاہور بھی تشریف لاتے رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ جنوری ۲۰۰۴ء

اسلام اور عورتوں کے حقوق

اخباری اطلاعات کے مطابق ۸ مارچ کو عالمی سطح پر خواتین کا دن منایا جا رہا ہے جو ہر سال منایا جاتا ہے اور عورتوں کے حقوق و مسائل کے بارے میں سیمینارز، اخباری بیانات خصوصی رپورٹوں اور دیگر ذرائع سے مختلف امور سامنے آتے ہیں۔ عورت آج کے دور میں مغرب اور عالم اسلام کے درمیان فکری و تہذیبی کشمکش کا ایک اہم موضوع ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ مارچ ۲۰۰۴ء

اسلامی شریعت اور بین الاقوامی انسانی حقوق

اکتوبر ۲۰۰۴ء کے اوائل میں اسلام آباد میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اور ریڈ کراس کے زیر اہتمام ’’متاثرین کا تحفظ: اسلامی شریعت اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی روشنی میں‘‘ کے موضوع پر دو روزہ سیمینار ہوا، جس میں شرکت کی مجھے بھی دعوت تھی، مگر میں بیرون ملک سفر کی وجہ سے سیمینار میں شریک نہ ہو سکا۔ البتہ اپنی معروضات تحریری صورت میں منتظمین کو لندن سے بھجوا دیں، جو قارئین کی دلچسپی کے لیے پیش مکمل تحریر

۱۷ نومبر ۲۰۰۴ء

کیا قانون کا غلط استعمال اسے ختم کر دینے کا جواز بنتا ہے؟

مذہب، مذہبی شخصیات و مقامات اور مذہبی اقدار و روایات کی توہین کو جرم تسلیم کرنے کی بجائے آزادئ رائے کی علامت قرار دیا جا رہا ہے اور اقوام متحدہ کے متعلقہ شعبہ کی طرف سے پاکستان سے باقاعدہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ توہینِ مذہب کے قوانین کو ختم کر دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۲۴ء

مرتد کی سزا کی بحث

مرتد کی سزا قتل کو متنازعہ بنانے کے لیے قانونی موشگافیوں کے سہارے نئی بحث چھیڑ دی گئی ہے۔ یہ بحث قیام پاکستان سے قبل مرزا غلام احمد قادیانی کے لاہوری پیروکاروں کے امیر مولوی محمد علی نے چھیڑی تھی جس پر شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ نے اپنے رسالہ ’’الشہاب‘‘ میں تفصیلی نقد کیا تھا اور ثابت کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۲۴ء

خدمات علماء دیوبند کانفرنس کا ملت کے نام پیغام

گزشتہ روز آل جموں و کشمیر جمعیت علماء اسلام کے سیکرٹری جنرل مولانا محمد نذیر فاروقی جو میرے جیل کے ساتھی اور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے فاضل ہیں جمعیت کے ایک اور سرگرم رہنما مولانا عبد الحی آف دھیر کوٹ کے ہمراہ گوجرانوالہ تشریف لائے اور یکم و دو مئی کو باغ میں جمعیت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی دو روزہ ’’خدمات علماء دیوبند کانفرنس‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ مئی ۲۰۰۴ء

کیا یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جان کے درپے نہیں تھے؟

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مسیحیوں کا عقیدہ ہے کہ وہ نسل انسانی کے گناہوں کے کفارے میں سولی چڑھ گئے تھے اور انہیں سولی کی یہ سزا یہودیوں نے دلوائی تھی۔ اہل اسلام کے نزدیک یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دینے کی کوشش کی تھی مگر کامیاب نہیں ہو سکے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ جون ۲۰۰۴ء

قرآن بورڈ کا قیام اور وزیر اعلیٰ پنجاب کا ایک مستحسن اقدام

چند روز قبل وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد حنیف جالندھری نے فون پر بتایا کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے ان کی سربراہی میں ’’پنجاب قرآن بورڈ‘‘ قائم کیا ہے جس میں مجھے بھی ممبر نامزد کیا گیا ہے۔ اس بورڈ کے قیام کا مقصد یہ بتایا گیا کہ مختلف علاقوں سے یہ اطلاعات موصول ہو رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ دسمبر ۲۰۰۴ء

مذہب کا خانہ اور دستورِ پاکستان کا تقاضا

ان دنوں پاسپورٹ سے مذہب کے خانے کے خاتمے پر بحث کا سلسلہ جاری ہے اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اس پر ۱۸ دسمبر کو اسلام آباد میں آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس طلب کر لی ہے۔ پاکستان کے پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ آج سے ربع صدی قبل اس وقت شامل کیا گیا تھا، جب ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو دستوری طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ دسمبر ۲۰۰۴ء

حسبہ ایکٹ: اہداف و مقاصد

صوبہ سرحد میں ایم ایم اے کی حکومت کی طرف سے پیش کردہ ’’حسبہ ایکٹ‘‘ اس وقت قومی حلقوں میں زیرِ بحث ہے، اس کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر مختلف اطراف سے اظہار خیال کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ جہاں تک احتساب کا تعلق ہے، یہ نہ صرف کسی حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل ہے، بلکہ اسلامی تعلیمات کا حصہ بھی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ ستمبر ۲۰۰۴ء

حدود و قوانین اور مغرب کا معاندانہ رویہ

صدر جنرل پرویز مشرف کے اس بیان پر ملک کے دینی حلقوں میں خاصی لے دے ہو رہی ہے کہ وہ چور کا ہاتھ کاٹنے کا مطالبہ مان کر غریب عوام کو ٹنڈا نہیں کر سکتے۔ بہت سے دینی رہنماؤں نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر سے اس بات پر احتجاج کیا ہے کہ وہ قرآن کریم کے احکام کے بارے میں نامناسب زبان بول رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ دسمبر ۲۰۰۴ء

اقوامِ عالم کا ہائیڈ پارک

جنرل اسمبلی اقوام متحدہ کا ’’ہائیڈ پارک کارنر‘‘ ہے، جہاں دنیا بھر کی حکومتوں کے سربراہوں اور نمائندوں کو سال میں ایک بار دل کی بھڑاس نکالنے کا موقع مل جاتا ہے اور وہ کھل کر دل کی بات کہہ سکتے ہیں۔ جہاں تک فیصلوں اور اختیارات کا تعلق ہے، وہ صرف سلامتی کونسل کے پاس ہیں، اس میں بھی ویٹو پاور رکھنے والے پانچ مستقل ارکان ہی حقیقی اختیارات کا سرچشمہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ ستمبر ۲۰۰۴ء

اسلام کی ناقابل تبدل تعلیمات

’’آن لائن‘‘ کے حوالے سے شائع شدہ ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان سمیت بیشتر ممالک کے دینی مدارس اور سکول بنیاد پرستوں اور دہشت گردوں کی آماجگاہ ہیں اور امریکہ کو ان کے بارے میں تشویش ہے۔ یہ بات انہوں نے امریکی کانگریس کی خارجہ تعلقات کے بارے میں کمیٹی کے اجلاس میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ مارچ ۲۰۰۴ء

اراکان کے مسلمان کسمپرسی کی حالت میں

بنگلہ دیش کے حالیہ سفر میں چاٹگام جانے اور دو تین روز رہنے کا اتفاق ہوا تو ہمیں یہ بات معلوم تھی کہ چاٹگام سے تھوڑے فاصلے پر کاکس بازار ہے، جہاں برما کے صوبہ اراکان سے ہجرت کر کے آنے والے مسلمان پناہ گزینوں کے کیمپ ہیں اور کاکس بازار بنگلہ دیش کو اراکان سے ملانے والے راستے پر واقع ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ فروری ۲۰۰۴ء

دو مسیحی رہنماؤں کی قابل توجہ باتیں

اس وقت دو مسیحی جریدوں کے دسمبر کے شمارے میرے سامنے ہیں۔ لاہور سے پندرہ روزہ ’’کاتھولک نقیب‘‘ کا ۱۶ دسمبر تا ۳۱ دسمبر ۲۰۰۴ء کا شمارہ اور گوجرانوالہ سے ماہنامہ ’’کلام حق‘‘ کا دسمبر ۲۰۰۴ء کا شمارہ۔ ان میں کرسمس کے حوالے سے روایتی مضامین اور دیگر متعلقہ امور کے علاوہ دو باتیں بطور خاص قابل توجہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ دسمبر ۲۰۰۴ء

Pages