مقالات و مضامین

قانون سازی کا اختیار اور غامدی صاحب

جس طرح بہت سی دواؤں کا سائیڈ ایفیکٹ ہوتا ہے اور ماہر معالجین اس سے تحفظ کے لیے علاج میں معاون دوائیاں شامل کر دیتے ہیں، اسی طرح بہت سی باتوں کا بھی سائیڈ ایفیکٹ ہوتا ہے اور سمجھدار لوگ جب محسوس کرتے ہیں کہ ان کی کسی بات سے کوئی غلط فہمی پیدا ہو رہی ہے تو وہ اس کا ازالہ بھی اپنی اسی گفتگو میں کر دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ دسمبر ۲۰۰۵ء

شرعی سزائیں اور مغربی فلسفہ

گزشتہ ہفتے بریڈ فورڈ، برطانیہ کے ’’ریڈیو رمضان‘‘ کے ذمہ دار حضرات کی طرف سے فرمائش ہوئی کہ ان کے سامعین سے ٹیلیفون کے ذریعے ’’اسلام کی مقرر کردہ سزائیں اور ان پر شکوک و اعتراضات‘‘ کے حوالے سے گفتگو کروں۔ یہ گفتگو سوالات و جوابات سمیت ایک گھنٹہ سے زیادہ جاری رہی جو براہ راست نشر کی گئی۔ اس کے اہم حصوں کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ اکتوبر ۲۰۰۵ء

انسانی حقوق کے خودساختہ نظام کی ناکامی

۱۰ دسمبر اتوار کو دنیا بھر میں ’’انسانی حقوق کا عالمی دن‘‘ منایا گیا، اس روز ۱۹۴۸ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی حقوق کا وہ عالمی منشور منظور کیا تھا جسے باہمی انسانی حقوق کے لیے معیار سمجھا جاتا ہے، اور تمام ممالک و اقوام سے اس کی پابندی اور اس کے مطابق اپنے ممالک کے قانونی و معاشرتی نظام کو ڈھالنے کا نہ صرف تقاضہ کیا جاتا ہے بلکہ اس پر عملدرآمد کے لیے دباؤ اور بازپرس کے مختلف طریقے اختیار کیے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ دسمبر ۲۰۲۳ء

فہمِ قرآن کے تقاضوں کے حوالے سے ایک بحث

فہمِ قرآن کریم کے تقاضوں کے حوالے سے ان دنوں دو علمی حلقوں میں ایک دلچسپ بحث جاری ہے۔ ایک طرف غلام احمد پرویز صاحب کا ماہنامہ ’’طلوعِ اسلام‘‘ ہے اور دوسری طرف جاوید احمد غامدی صاحب کے شاگرد رشید خورشید احمد ندیم صاحب ہیں۔ طلوعِ اسلام کے ماہِ رواں کے شمارے میں خورشید ندیم صاحب کا ایک مضمون، جس میں انہوں نے پرویز صاحب کی فکر پر تنقید کی ہے، شائع ہوا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ فروری ۲۰۰۵ء

دینی مدارس کے نصاب و نظام میں اصلاحی تدابیر

۳، ۴، ۵ فروری ۲۰۰۷ء کو جامعہ سید احمد شہیدؒ لکھنؤ (انڈیا) میں برصغیر کے دینی نصاب و نظام کے حوالے سے منعقد ہونے والے بین الاقوامی سیمینار کے موقع پر الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ (پاکستان) میں اس سیمینار کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے ایک فکری نشست کا اہتمام کیا گیا۔ یہ نشست ممتاز ماہرِ تعلیم پروفیسر غلام رسول عدیم کی زیر صدارت ۳ فروری ۲۰۰۷ء کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں منعقد ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ فروری ۲۰۰۷ء

’’روشن خیالی‘‘ پر ایک نظر

افضال ریحان صاحب ہمارے محترم اور دانشور کالم نویس ہیں جو وسیع تر مطالعہ کی روشنی میں اپنے تاثرات اور خیالات سے قارئین کو آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ میں بھی ان کے کالموں کا اکثر مطالعہ کرتا ہوں اور بہت سی باتوں سے استفادہ کرتا ہوں، جبکہ بعض امور سے اختلاف بھی ہوتا ہے جو فطری امر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ فروری ۲۰۰۷ء

مسلم معاشروں میں خواتین کے حقوق ۔ مسٹر ڈیوڈ کے سوالات

مسٹر ڈیوڈ نیویارک کے رہنے والے ہیں، امریکہ کے معروف جریدے ’’کرسچین مانیٹر‘‘ سے وابستہ ہیں اور پاکستان میں اس کی نمائندگی کرتے ہیں۔ محترمہ ظل ہما عثمان کے افسوسناک قتل کے حوالے سے مختلف حلقوں کے تاثرات کا جائزہ لینے کے لیے گزشتہ دنوں گوجرانوالہ آئے ہوئے تھے۔ ہمارے محترم دوست راشد بخاری اور عبد الحفیظ طاہر اُن کے ہمراہ تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ مارچ ۲۰۰۷ء

’’پاکستان کے مذہبی اچھوت‘‘

بعض مذہبی رہنماؤں کی طرف سے ’’پاکستان کے مذہبی اچھوت‘‘ نامی ایک کتاب کے مندرجات پر سخت غم و غصہ کا اظہار کیا جا رہا ہے، جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ دو قادیانی مصنفین تنویر احمد میر اور مرتضیٰ علی شاہ کی مشترکہ کاوش ہے، اور اس میں پاکستان میں قادیانیوں پر ہونے والے مبینہ مظالم کا رونا روتے ہوئے یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اصلی اور کھرے مسلمان صرف قادیانی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ جولائی ۲۰۰۳ء

’’مسئلہ فلسطین‘‘

بیت المقدس اور فلسطین کا مسئلہ حماس مجاہدین کی قربانیوں اور ہزاروں فلسطینیوں کی حالیہ شہادتوں کے باعث ایک بار پھر متنازعہ عالمی مسائل میں سرفہرست ہے، جس پر پوری نسلِ انسانی بالخصوص ملتِ اسلامیہ اور عرب دنیا کی ترجیحی بنیادوں پر سنجیدہ اور فوری توجہ ضروری ہے، اور یہ عدل و انصاف کے ساتھ بین الاقوامی قوانین اور مسلّمہ انسانی حقوق کی پاسداری کا بھی تقاضا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ نومبر ۲۰۲۳ء

غیرت کے نام پر قتل اور اسلامی نظریاتی کونسل

وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے غیرت کے نام پر قتل اور الزام تراشی کے حوالے سے قومی اسمبلی میں بل پیش کرنے کا اعلان کیا ہے، اور کہا ہے کہ اس سلسلہ میں جو قانون تجویز کیا جائے گا وہ اسلامی نظریاتی کونسل کو بھی بھجوایا جائے گا۔ غیرت کے نام پر قتل اور ’’کاروکاری‘‘ کا معاملہ ایک عرصہ سے ہمارے قومی حلقوں میں زیر بحث ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ اگست ۲۰۰۴ء

تحفظِ حقوقِ نسواں بل اور خصوصی علماء کمیٹی

احادیث میں یہ روایت موجود ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح رضامندی کے زنا پر حدِ شرعی جاری کی ہے، اسی طرح جبری زنا کے ایک کیس میں بھی مجبور کی جانے والی خاتون کو بری کر کے جبر کرنے والے مرد پر شرعی حد جاری کی تھی۔ اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عملی فیصلے کے بعد اس سلسلہ میں مزید کسی وضاحت کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ ستمبر ۲۰۰۶ء

’’نوجوان کیا سوچ رہے ہیں؟ جدید مسائل اور اجتہاد‘‘

اسلامی نظریاتی کونسل ایک آئینی ادارہ ہے جسے اس غرض سے تشکیل دیا گیا تھا کہ دستورِ پاکستان میں ملک کے تمام مروجہ قوانین کو قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھالنے کی جو ضمانت دی گئی ہے اس کی تکمیل کے لیے حکومتِ پاکستان کی مشاورت کرے۔ اس کی عملی شکل یہ ہے کہ جدید قانون کے ممتاز ماہرین اور جید علماء کرام پر مشتمل ایک کونسل تشکیل دی جاتی ہے جو حکومت کے استفسار پر یا اپنے طور پر ملک میں رائج کسی بھی قانون کا اس حوالے سے جائزہ لیتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ جولائی ۲۰۰۶ء

اسلامی نظریاتی کونسل کی علمی اشاعتیں اور ملی مجلس شرعی کا قیام

جامعہ حفصہ کے سانحہ اور دیگر اہم معاملات کے باعث دو علمی مجالس کا تذکرہ مؤخر ہوتا آ رہا ہے، اب اس کا موقع ملا ہے کہ ان کی کچھ تفصیل قارئین کی خدمت میں پیش کر سکوں۔ ایک مجلس کا اہتمام اسلام آباد میں ۲ اگست کو اسلامی نظریاتی کونسل نے کیا، اسی روز بھوربن مری کے مدرسہ تعلیم القرآن میں پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلسِ عاملہ کا اجلاس تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ اگست ۲۰۰۷ء

آل پاکستان مینارٹیز الائنس کی ریلی اور چارٹر آف ڈیمانڈ

مسیحی، ہندو، سکھ اور دیگر غیر مسلم اقلیتیں پاکستانی سوسائٹی کا حصہ ہیں اور انہیں وہ تمام سیاسی اور شہری حقوق حاصل ہیں جن کی دستورِ پاکستان میں ان کے لیے ضمانت دی گئی ہے۔ اس لیے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرنا، اس کے لیے اجتماع کرنا، اور اپنے مطالبات پیش کرنا ان کا دستوری حق ہے اور اس پر کسی ردعمل یا مخالفانہ تبصرے کا جواز نہیں ہے۔ البتہ چارٹر آف ڈیمانڈ کی بعض باتوں کے بارے میں ہم تحفظات رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ اگست ۲۰۰۷ء

افغان مہاجرین کی وطن واپسی

روس اور امریکہ کے خلاف ۱۹۸۰ء کی دہائی سے جاری افغان مجاہدین کی مسلسل جنگ اور جہاد کے دوران بے شمار افغان کنبے اور عوام نے پاکستان کی طرف ہجرت کی اور گزشتہ کم و بیش چار عشروں سے ملک کے مختلف حصوں میں رہتے چلے آ رہے ہیں۔ افغانستان سے روسی فوجوں کی واپسی کے بعد ان سے تقاضہ کیا گیا کہ وہ حالات بہتر ہونے کے باعث اپنے ملک واپس چلے جائیں، جس پر لاکھوں مہاجرین واپس چلے گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۲۳ء

سات اکتوبر کا معرکہ : تحریکِ آزادئ فلسطین کا ایک فیصلہ کن مرحلہ

فلسطین کے حماس مجاہدین نے ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ء کو اسرائیل کے اہم ٹھکانوں پر اچانک حملہ کیا تو ہر طرف ہاہاکار مچ گئی کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا ہے؟ یہ کہا گیا کہ اپنے سے کئی گنا طاقتور دشمن پر اس طرح حملہ کر کے انہوں نے فلسطینیوں کے لیے مشکلات میں اضافہ کیا ہے اور بعض لوگوں نے اسے ’’خودکش حملہ‘‘ سے بھی تعبیر کیا ہے۔ لیکن ڈیڑھ ماہ کے مسلسل اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد یرغمالیوں کے تبادلہ کے لیے مشروط جنگ بندی ہوئی ہے تو صورتحال لوگوں کو سمجھ آنے لگی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۲۳ء

جاہلیتِ قدیمہ اور جاہلیتِ جدیدہ

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ کچھ عرصہ پہلے آسٹریلیا کے ایک سابق وزیر اعظم مسٹر ٹونی ایبٹ کا ایک بیان شائع ہوا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ثقافتیں اور تہذیبیں ایک جیسی نہیں ہوتیں اور مغرب کو آج کی تہذیبی کشمکش میں اپنی برتری ثابت کرنا ہو گی۔ یہ دو جملے ہیں لیکن ان میں ایک طویل داستان ہے، اس حوالے سے میں آپ کے سامنے مجموعی تناظر میں اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب کے اصولی فرق پر بات کرنا چاہوں گا۔ یہ دونوں تہذیبیں جو اس وقت آمنے سامنے ہیں اور جن کے درمیان انسانی معاشرے میں کشمکش جاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ نومبر ۲۰۲۳ء

پتنگ بازی پر مستقل پابندی کی سفارش

روزنامہ جنگ لاہور ۲۷ فروری ۲۰۰۴ء کی خبر کے مطابق لاہور کی ضلعی حکومت نے صوبہ پنجاب کی حکومت سے سفارش کی ہے کہ لاہور میں پتنگ بازی پر مستقل پابندی لگا دی جائے اور اگر جشن بہاراں یا بسنت کے موقع پر ضروری ہو تو اسے شرائط اور پابندیوں کے ساتھ شہر سے باہر کھلے میدانوں میں محدود کر دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۴ء

الحاج ابراہیم یوسف باوا کی رحلت

اسلام کے عالمی مبلغ اور شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنیؒ کے خلیفہ مجاز الحاج ابراہیم یوسف باوا گزشتہ روز برطانیہ کے شہر گلاسٹر میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق برما کے دارالحکومت رنگون سے تھا اور وہ ایک عرصہ سے گلاسٹر میں مقیم تھے جہاں وہ ایک دینی ادارہ چلا رہے تھے اور ماہنامہ ’’الاسلام‘‘ کے نام سے جریدہ شائع کرتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۴ء

پسند کی شادی پر پابندی کا مطالبہ

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۱۶ ستمبر ۲۰۰۴ء کی رپورٹ کے مطابق معروف قانون دان ایم ڈی طاہر نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک رٹ دائر کی ہے جس میں عدالتِ عالیہ سے درخواست کی گئی ہے کہ پسند کی شادی پر پابندی عائد کی جائے اور گھروں سے بھاگ کر والدین کی مرضی کے خلاف شادی کرنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کے لیے قانون سازی کی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۴ء

انسانی سوسائٹی میں مذہب کا کردار اور مذہبی راہنماؤں کی ذمہ داری

گزشتہ روز اسلام میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے مذہبی راہنماؤں کا عالمی سطح پر اجلاس ہوا جس میں صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف نے بھی شرکت کی۔ اس سیمینار کا اہتمام وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے راہنماؤں نے کیا اور اس میں پاکستان کے علاوہ بعض مغربی ممالک سے بھی مختلف مذاہب کے مذہبی پیشواؤں نے شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۴ء

دینی مدارس میں سرچ آپریشنز کی سرکاری مہم

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۲۲ اگست ۲۰۰۴ء کی رپورٹ کے مطابق تمام مکاتبِ فکر کے دینی مدارس کے وفاقوں پر مشتمل ’’اتحادِ تنظیماتِ مدارسِ دینیہ‘‘ نے دینی مدارس اور مساجد پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے چھاپوں اور سرچ آپریشنز کو مسترد کرتے ہوئے احتجاجی مہم منظم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ملک کے مختلف شہروں میں بھرپور کنونشن منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۴ء

مذہبی یادگار اور امریکی چیف جسٹس

روزنامہ جنگ لاہور ۱۴ نومبر ۲۰۰۳ء کی خبر کے مطابق امریکہ کی ریاست الاباما کے چیف جسٹس کو اس لیے اس کے منصب سے سبکدوش کر دیا گیا ہے کہ اس نے عدالت سے ایک مذہبی یادگار کو ہٹانے سے انکار کر دیا ہے۔ امریکی دستور کے مطابق عدالت یا کسی بھی قومی اور اجتماعی شعبہ کو کسی مذہبی اثر سے آزاد ہونا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۳ء

چینی مسلمانوں کا مسئلہ

روزنامہ جنگ لاہور ۴ نومبر ۲۰۰۳ء کی رپورٹ کے مطابق صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف نے اپنے حالیہ دورۂ چین کے دوران چینی حکمرانوں کو یقین دلایا ہے کہ وہ چین کے شمال مغربی سرحدی صوبہ سنکیانگ میں مسلمانوں کی تحریک کے لیے پاکستان کی سرزمین کو استعمال نہیں ہونے دیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۳ء

اسرائیل اور امریکہ کیلئے نوشتۂ دیوار

روزنامہ اسلام لاہور ۵ نومبر ۲۰۰۳ء میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ایک حالیہ سروے میں یورپی ممالک کے شہریوں نے اسرائیل اور امریکہ کو عالمی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ یہ سروے یورپی یونین کی طرف سے کرایا گیا جس میں یورپی یونین کے ہر ملک کے تقریباً پانچ سو باشندوں سے سوال کیا گیا کہ وہ کن ممالک کو عالمی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۳ء

بغداد پر حملہ: برطانوی پارلیمنٹ کی ایک قرارداد

روزنامہ جنگ لاہور ۲۲ مارچ ۲۰۰۳ء کی ایک خبر کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ میں گزشتہ روز یہ قرارداد پیش کی گئی ہے کہ بغداد پر حملہ کے دوران اس بات کا بطور خاص لحاظ رکھا جائے کہ شہر کے وسط میں موجود چڑیا گھر کو کوئی نقصان نہ پہنچے کیونکہ اس سے بہت سے جانور ہلاک ہو جائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۳ء

دینی مدارس میں انقلابی تبدیلیوں کیلئے سرکاری فنڈ

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۹ فروری ۲۰۰۳ء کی خبر کے مطابق وفاقی وزیر تعلیم زبیدہ جلال نے کہا ہے کہ حکومت جن مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے رقوم فراہم کرے گی ان پر وفاقی وزارت تعلیم کا مکمل کنٹرول ہوگا۔ یہ بات انہوں نے منگل کے روز برطانوی ادارہ ’’ڈیپارٹمنٹ فار انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ‘‘ کے نمائندہ سوماچکربائی کو کہی جنہوں نے ایک وفد کے ہمراہ ان سے ملاقات کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۳ء

ترکی میں طیب اردگان کی جسٹس پارٹی کی جیت

ترکی کے عام انتخابات میں جناب طیب اردگان کی ’’جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی‘‘ نے قومی اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل کر لی ہے، اور ان کے خصوصی نائب جناب عبد اللہ گل کو وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھانے کی دعوت دے دی گئی ہے۔ طیب اردگان ترکی کے سابق وزیر اعظم جناب نجم الدین اربکان کی ’’رفاہ پارٹی‘‘ میں شامل تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۲ء

میر ایمل کانسی مرحوم کی سزائے موت

بلوچستان کے کانسی قبیلے سے تعلق رکھنے والے نوجوان میر ایمل کانسی کو گزشتہ روز امریکہ میں زہریلے انجکشن کے ذریعے سزائے موت دے دی گئی اور ان کی نعش کو پاکستان لا کر کوئٹہ میں ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔ ایمل کانسی پر امریکہ میں سی آئی اے کے بعض اہلکاروں کو قتل کرنے کا الزام تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۲ء

صدر جنرل پرویز مشرف، مسلم لیگ (ق)، متحدہ مجلسِ عمل

عام انتخابات کے انعقاد کے ایک ماہ بعد قومی اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ (ق) نے وزیر اعظم اور اسپیکر کا الیکشن جیت کر حکومت بنا لی ہے، اور ان سطور کی اشاعت تک نئی حکومت کے خدوخال اور عزائم واضح ہو چکے ہوں گے۔ اس سے قبل صدر جنرل پرویز مشرف نے بھی آئین میں کی گئی نئی ترامیم اور چند ماہ قبل کرائے جانے والے صدارتی ریفرنڈم کے تحت آئندہ پانچ سال کے لیے صدر کے عہدہ کا حلف اٹھا لیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۲ء

۲۰۰۲ء کے انتخابات: متحدہ مجلسِ عمل کا قیام اور عوام کی ذمہ داری

۱۰ اکتوبر کی آمد آمد ہے اور ملک بھر میں عام انتخابات کی تیاریاں جاری ہیں۔ اگرچہ بعض حلقوں کی طرف سے الیکشن کے التوا کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے، لیکن صدر جنرل پرویز مشرف اور ان کی ٹیم کے ذمہ دار حضرات بار بار اور دوٹوک اعلان کر رہے ہیں کہ انتخابات ضرور ہوں گے اور مقررہ وقت پر ہی ہوں گے، اس لیے اس سلسلہ میں کسی تذبذب کا بظاہر اب کوئی جواز نظر نہیں آ رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۲ء

کرپشن ختم کرنے کا عہد اور اس کے تقاضے

گزشتہ دنوں ایک جرمن این جی او کی دعوت پر اسلام آباد میں کرپشن کے خلاف کانفرنس کا اہتمام ہوا جس میں ملک کی چند بڑی سیاسی جماعتوں نے بھی شرکت کی۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے کانفرنس سے خطاب کیا اور اس موقع پر ملک میں کرپشن کے خاتمہ کے لیے مشترکہ عزم کرتے ہوئے ایک عہد نامہ پر دستخط کیے گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۲ء

عراق پر امریکی حملے کی تیاری اور برطانوی وزیر

روزنامہ جنگ کراچی ۲۳ ستمبر ۲۰۰۲ء کی خبر کے مطابق برطانیہ کی بین الاقوامی ترقی کی وزیر کلیئرشاٹ نے عراق پر ممکنہ حملے کی سخت مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ہم مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور جنگ نہیں چھیڑ سکتے۔ بی بی سی کے مطابق انہوں نے کہا کہ عراقی عوام پہلے ہی بہت کچھ سہہ چکے ہیں، کوئی نہ کوئی طریقہ نکالنا چاہیے جس سے اقوامِ متحدہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۲ء

فرائضِ شرعیہ اور لاہور ہائی کورٹ

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۱ ستمبر ۲۰۰۲ء کی خبر کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے ممتاز قانون دان ایم ڈی طاہر کی یہ درخواست، کہ تعلیمی اداروں میں جہاد کی تعلیم کو لازمی قرار دیا جائے، یہ کہہ کر نمٹا دی ہے کہ جہاد شرعی فرائض میں سے ہے اس لیے اس کی ترغیب کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ مسٹر ایم ڈی طاہر نے درخواست میں لکھا ہے کہ جہاد دینی فریضہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۲ء

صوبائی وزیر قانون کی طرف سے وفاقی شرعی عدالت ختم کرنے کا مطالبہ

روزنامہ جنگ لاہور ۲۳ اگست ۲۰۰۲ء کی خبر کے مطابق پنجاب کے صوبائی وزیر قانون رانا اعجاز احمد خان نے لاہور میں اقلیتوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے شریعت کورٹ کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تعصب پر مبنی کوئی بھی عدالت نہیں ہونی چاہیے، انصاف کے لیے ہمارے پاس ہائی کورٹ موجود ہے جو آئین کے مطابق ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۲ء

انسانی دنیا کے اعمال اور پوپ جان پال کی فکر انگیز باتیں

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۹ اگست ۲۰۰۲ء میں شائع شدہ خبر کے مطابق کیتھولک مسیحی فرقہ کے سربراہ پوپ جان پال دوم نے اپنے آبائی علاقہ پولینڈ میں ۲۰ لاکھ افراد کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انسانیت کو خدا کے ساتھ دھوکہ کرنے سے باز رکھنے کی تلقین کی ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب کے دوران جینیاتی انجینئرنگ کی مخالفت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۲ء

نائجیرین لڑکی کیلئے قبرص میں سیاسی پناہ

روزنامہ جنگ لاہور ۲۲ اگست ۲۰۰۲ء کی رپورٹ کے مطابق نائجیریا کی ایک حاملہ طالبہ کو قبرص میں عارضی طور پر پناہ دے دی گئی ہے۔ ۲۱ سالہ اتاندا فتیمو کو اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب وہ ۱۷ اگست کو جعلی پاسپورٹ پر آئرلینڈ پہنچ گئی تھی، اسے آئرلینڈ سے واپس قبرص بھیج دیا گیا۔ اس طالبہ نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۲ء

دینی مدرسہ آرڈیننس اور کل جماعتی کانفرنس

دینی مدارس کے بارے میں حکومت کے مجوزہ آرڈیننس کے حوالے سے ’’وفاق المدارس العربیہ پاکستان‘‘ کا موقف اور فیصلہ قارئین کی خدمت میں ’’نصرۃ العلوم‘‘ کے اسی شمارے میں پیش کیا جا رہا ہے۔ دینی مدارس کے دیگر وفاقوں نے بھی ’’اتحادِ تنظیماتِ مدارسِ دینیہ‘‘ کے فورم پر یہی فیصلہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۲ء

پاکستان کو سیکولر معاشرہ بنانے کا مغربی ایجنڈا

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۲۰ جولائی ۲۰۰۲ء کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے وزیر خارجہ جنرل کولن پاول آئندہ ہفتے پاکستان اور بھارت کے دورے پر آ رہے ہیں اور انہوں نے امریکہ کے ایک ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس دورہ میں پاکستان اور بھارت کے حکمرانوں سے صرف جنوبی ایشیا میں کشیدگی کم کرنے کے سوال پر بات نہیں کریں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۲ء

سودی نظام: عدالتِ عظمیٰ کا فیصلہ اور سرکاری موقف

وفاقی شرعی عدالت نے ملک میں سود سے متعلقہ مروجہ مالیاتی قوانین کو قرآن و سنت کے منافی قرار دیتے ہوئے حکومتِ پاکستان کو ان قوانین کو ختم کرنے اور ان کی جگہ اسلامی مالیاتی قوانین نافذ کرنے کا جو حکم دیا تھا، اسے سپریم کورٹ آف پاکستان نے منسوخ کرتے ہوئے وفاقی شرعی عدالت کو اس کیس کی ازسرِنو سماعت کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۲ء

ووٹر فارم میں عقیدۂ ختمِ نبوت کے حلف نامہ کی بحالی

حکومت نے ووٹرز فارم میں عقیدۂ ختمِ نبوت کا حلف نامہ بحال کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، اور اس طرح ایک طویل مدت کے بعد دینی حلقوں کے کسی مطالبہ کو حکومتی حلقوں میں پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ جس سے ایک بات پھر واضح ہو گئی ہے کہ دینی جماعتیں اگر کسی مسئلہ پر متفق ہو کر دوٹوک موقف اختیار کر لیں تو حکومت کے لیے اس کو نظرانداز کرنا آسان نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۲ء

ملٹی نیشنل کمپنیوں کو لیز پر اراضی دینے کا فیصلہ

روزنامہ خبریں لاہور ۲۰ جون ۲۰۰۲ء کی خبر کے مطابق وفاقی کابینہ نے صدر جنرل پرویز مشرف کی زیرصدارت اجلاس میں ملک میں کارپوریٹ فارمنگ کے لیے زرعی زمین غیر ملکی کمپنیوں کو لیز پر دینے کے پروگرام کی منظوری دے دی ہے۔ جس کے بعد غیر ملکی ادارے پاکستان میں کارپوریٹ فارمنگ کے لیے زرعی زمین لیز پر حاصل کر سکیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۲ء

دینی مدارس کیلئے نیا حکومتی نظام

وفاقی کابینہ نے بالآخر دینی مدارس کے بارے میں اپنے فیصلے کا اعلان کر دیا ہے۔ روزنامہ جنگ لاہور ۲۰ جون ۲۰۰۲ء کی رپورٹ کے مطابق صدر جنرل پرویز مشرف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے ایک اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات نثار اے میمن نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کابینہ کے فیصلوں کا اعلان کیا ہے۔ جس کی رو سے تمام دینی مدارس کی رجسٹریشن ہو گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۲ء

حدود آرڈیننس ختم کرنے کی مہم؟

کوہاٹ کی ایک خاتون زعفراں بی بی کو گزشتہ دنوں بدکاری کے جرم میں مقامی عدالت نے سنگساری کی سزا سنائی تو سیکولر حلقوں اور این جی اوز نے ملک بھر میں شور و غوغا کی فضا قائم کر دی۔ اور انسانی حقوق کی وہ تنظیمیں جنہیں افغانستان میں گزشتہ پون برس سے ہزاروں بے گناہ شہریوں کا امریکی بمباری کے ذریعے وحشیانہ قتلِ عام دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۲ء

ووٹر فارم سے عقیدۂ ختمِ نبوت کا حلف نامہ غائب

۱۹۷۴ء میں جب پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی دستوری ترمیم منظور کی تو اس کے ساتھ طے پایا کہ قادیانیوں کا شمار ووٹروں کی فہرستوں میں غیر مسلموں کے خانے میں ہو گا۔ اور اس مقصد کے لیے مسلمان ووٹروں کے لیے ’’عقیدۂ ختم نبوت کا حلف نامہ‘‘ ووٹر فارم میں شامل کیا گیا جسے پُر کرنے کے بعد کسی کا نام مسلمان ووٹروں کی فہرست میں درج ہو سکتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۲ء

جناب! صرف رونے دھونے سے بات نہیں بنے گی

روزنامہ پاکستان لاہور نے ۱۸ مئی ۲۰۰۲ء کی اشاعت میں خبر دی ہے کہ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کے حوالے سے ایک محفل کا انعقاد کیا جس میں تبلیغی جماعت کے ممتاز مبلغ مولانا محمد طارق جمیل نے خطاب کیا۔ اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے حسبِ معمول دعا بھی کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۲ء

توہینِ رسالت کی سزا ختم کرنے کا مغربی مطالبہ

توہینِ رسالتؐ پر موت کی سزا کے قانون کے خلاف مغربی ممالک کی طرف سے دباؤ کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سے قبل امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور دوسرے مغربی ممالک کے علاوہ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی طرف سے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے اور توہینِ رسالتؐ پر موت کی سزا کے قانون کے بارے میں مطالبات موجود ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۲ء

سرحد سکولوں میں قاریوں کی جگہ موسیقاروں کی اسامیاں

روزنامہ اسلام کراچی نے ۱۶ اپریل ۲۰۰۲ء کی اشاعت میں این این آئی کے حوالے سے خبر دی ہے کہ پشاور کی ضلع کونسل کی ایک خاتون رکن نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سکولوں میں قاری حضرات اور اسلامیات کے اساتذہ کی اسامیاں ختم کرنے اور ان کی جگہ میوزیشن اور بیوٹیشن کی اسامیاں پیدا کرنے کے مبینہ فیصلے کی وضاحت کی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۲ء

اسرائیل کا ’’دفاع کا حق‘‘ اور فلسطینیوں کی ’’دہشت گردی‘‘

روزنامہ جنگ کے کالم نگار جناب حسن نثار نے ۲۲ مارچ ۲۰۰۲ء کے کالم میں اردن کے شاہ عبد اللہ کا یہ جملہ نقل کیا ہے کہ ’’میں اس تعصب کو مسترد کرتا ہوں کہ اسرائیلی بچے کا خون کسی فلسطینی بچے کے خون سے زیادہ قیمتی اور مہنگا ہوتا ہے‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۲ء

نائجیریا کے صوبوں میں نفاذِ شریعت پر وفاقی حکومت کا ردعمل

روزنامہ جنگ لاہور ۲۲ مارچ ۲۰۰۲ء کی ایک خبر کے مطابق نائجیریا کی وفاقی حکومت نے شرعی قوانین کو وفاقی آئین کے منافی قرار دے دیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق حکومت کا کہنا ہے کہ ان میں دوسرے شہریوں کے مقابلے میں مسلمانوں کو زیادہ سخت سزائیں دی جاتی ہیں۔ جبکہ پچھلے دو برس کے دوران بارہ شمالی ریاستوں نے شرعی قوانین نافذ کیے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۲ء

Pages