خلافت کے ادوار
خلافت کا تاریخی پس منظر، نظریہ امامت و خلافت، خلافت کے مختلف معیارات، خلافت کے نظام کا ابتدائی تعارف، اور اسلام کے رفاہی ریاست کا تصور ذکر کرنے کے بعد خلافت کے جو مختلف ادوار گزرے ہیں ان کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ خلافتِ راشدہ کے بعد جو تاریخی طور پر خلافت کا دور گنا جاتا ہے وہ خلافتِ بنو امیہ کا دور ہے۔ مؤرخین خلافتِ بنو امیہ کا آغاز سیدنا حضرت امیر معاویہؓ سے کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خلافت کا رِفاہی تصور اور نظم
ریاست اور رفاہی ریاست میں کیا فرق ہوتا ہے؟ کسی بھی ملک کی حکومت اور ریاست کے چار پانچ بنیادی کام سمجھے جاتے ہیں: سرحدوں کی حفاظت، ملک میں امن قائم کرنا، لوگوں کو ایک دوسرے پر ظلم کرنے سے روکنا، انصاف فراہم کرنا ، اور لوگوں کو زندگی کی سہولتیں زیادہ سے زیادہ فراہم کرنا۔ یعنی کسی ریاست کی بنیادی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ سرحدوں کی حفاظت کرے تاکہ کوئی باہر سے حملہ نہ کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خلافت کے معیارات
خلافت کا تاریخی تناظر کہ کیسے خلافت کا آغاز ہوا، خلافت کن کن ادوار سے گزری، اور خلافت کے مختلف معیارات جو تاریخ میں تقریبا بارہ تیرہ سو سال چلتے رہے، وہ کیا تھے؟ اس حوالے سے یہ کہنا چاہوں گا کہ خلافت کے ادوار جو تاریخی اعتبار سے کہلاتے ہیں، ان میں خلافتِ راشدہ، خلافتِ امویہ، خلافتِ عباسیہ اور خلافتِ عثمانیہ کے ادوار ہیں۔ اہلِ سنت والجماعت کے ہاں خلافتِ راشدہ کا دور اصطلاحاً تیس سال کا دور کہلاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خلافت کا سیاسی نظام
فقہاء کرام لکھتے ہیں کہ خلیفہ کا انتخاب اور خلافت کا قیام امت کے اجتماعی فرائض میں سے ہے ۔ خلافت کے قیام کے فرض ہونے کے دلائل میں دو بڑی دلیلیں حضرت شاہ ولی اللہؒ نے بیان فرمائی ہیں: ایک دلیل یہ دی ہے کہ قرآن کریم کے بہت سے احکامات حکومت کی موجودگی پر موقوف ہیں۔ مثلاً حدود کا نفاذ، جہاد، بیت المال کا قیام، عدالتوں کا قیام اور انصاف کی فراہمی وغیرہ، یہ سارے معاملات حکومت کا وجود چاہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خلافت اور پاپائیت
یہ بات ایک اور تناظر میں سمجھنے کی کوشش کریں جو آج کی فکری اور سماجی دنیا کا بہت بڑا مسئلہ اور بہت بڑا مغالطہ ہے۔ مغرب کے پروٹسٹنٹ عیسائیوں نے مارٹن لوتھر کی تحریک کے نتیجے میں پاپائیت کو مسترد کر دیا تھا۔ جبکہ رومن کیتھولک آج بھی پاپائے روم کے تابع ہیں۔ لیکن ایک زمانہ گزرا ہے جب رومن کیتھولک پاپائے روم حکمرانوں کے سرپرست ہوتے تھے، ان کا فیصلہ آخری ہوتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خلافت اور امامت
سیاسی نظام پر اہلِ سنت اور اہلِ تشیع کا بنیادی اختلاف ہے۔ اہلِ تشیع امامت کی اصطلاح کے ساتھ بات کرتے ہیں اور اہلِ سنت خلافت کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ امامت اور خلافت ، یا امام اور خلیفہ میں کیا فرق ہے؟ اہلِ تشیع امام کو خدا کا نمائندہ اور معصوم عن الخطا کہتے ہیں، اور پیغمبر کی طرح اتھارٹی اور اختلاف سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ امامت میں اللہ کی نیابت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خلافت کا تصور اور تاریخی پس منظر
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ میں ایک اہم موضوع پر بات کرنا چاہوں گا کہ خلافتِ اسلامیہ کیا ہے؟ خلافت کا شرعی تصور کیا ہے؟ اس کی علمی اور فکری بنیادیں کیا ہیں؟ تاریخ کا تناظر کیا ہے؟ اور خلافت کے مسئلہ پر ہمارا دنیا کے ساتھ جو تنازع ہے، اس میں ہمارا موقف کیا ہے اور دنیا کا موقف کیا ہے؟ ہماری کشمکش کس میدان میں ہے اور کیسے آگے بڑھ رہی ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’بزم شیخ الہندؒ کی فکری نشستیں‘‘
حافظ خرم شہزاد صاحب ہمارے عزیز اور باذوق ساتھی ہیں، علمی و فکری کاموں میں مسلسل مصروف رہتے ہیں اور اپنے اساتذہ اور بزرگوں کے علوم و افکار اور تعلیمات و خدمات کا فروغ بطور خاص ان کا دائرۂ کار ہے۔ بزم شیخ الہندؒ گوجرانوالہ کے عنوان سے ان کی محنت کا تسلسل جاری ہے اور اصحابِ فکر و دانش کی تشنگی دور کرنے کا سامان اس سے فراہم ہوتا رہتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تمیزِ آقا و بندہ کا اصل سبب استحصالی نظام ہے
مزدوروں کا عالمی دن اس سال بھی آیا اور روایتی سرگرمیوں کے ساتھ گزر گیا۔ یہ دن ہر سال یکم مئی کو منایا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ اس دن شکاگو کے مظلوم مزدور استحصال پسندوں کے سامنے ڈٹ گئے تھے اور انہوں نے محنت کشوں کے حقوق کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر دیا تھا۔ انہی کی یاد میں اس دن کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جہاد ۔ چند غلط فہمیوں کا ازالہ
جہاد کے حوالے سے اس پہلو پر کچھ گزارشات گزشتہ کالم میں پیش کی جا چکی ہیں کہ اگر مسلمانوں کی آبادی پر کافروں کا تسلط ہو جائے اور مسلمان اقتدار اعلیٰ سے محروم ہو جائیں تو اس تسلط سے نجات کے لیے کی جانے والی جدوجہد یا جہاد کسی حکومت کی اجازت کا محتاج نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
طبقاتی تقسیم
اسلامی نظریاتی کونسل کی ایک سفارش گزشتہ دنوں بعض قومی اخبارات میں نظر سے گزری ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ مکانات کی تعمیر میں درجہ بندی کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے اور حکومت کو مختلف درجات کے لیے ضرورت کی حد بندی کر کے زائد از ضرورت بلڈنگ کی تعمیر پر پابندی لگا دینی چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اٹھارہویں عالمی ختم نبوت کانفرنس
برمنگھم (برطانیہ) کی مرکزی جامع مسجد میں منعقد ہونے والی اٹھارہویں سالانہ عالمی ختم نبوت کانفرنس کی رپورٹ مجھے گزشتہ روز کی ڈاک میں موصول ہوئی۔ یہ کانفرنس تین اگست اتوار کو صبح دس بجے تا شام چھ بجے منعقد ہوئی، جس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر حضرت مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف نے کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عوام کی حالت زار پر بھی توجہ دیں!
گزشتہ دن کے ایک اخبار میں دو خبروں نے توجہ کو اپنی طرف ایسا مبذول کیا کہ انہیں کئی بار پڑھنا پڑا۔ ایک صفحہ اول پر ہے اور دوسری آخری صفحہ پر۔ پہلے صفحہ کی خبر یہ ہے کہ وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی نے ارکان قومی اسمبلی کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کی منظوری دے دی ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن کیبنٹ ڈویژن جاری کرے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’بڑھتا ہے ذوقِ جرم میرا ہر سزا کے بعد‘‘
پیر صاحب آف پگاڑا شریف بڑے مزے کے بزرگ ہیں۔ ہلکے پھلکے انداز میں بات کرتے ہیں اور ہنسی دل لگی میں پتے کی بات کہہ جاتے ہیں۔ راشدی خاندان کے چشم و چراغ ہیں، میرا تو یہ پیرخانہ ہے اور اسی نسبت سے میں بھی راشدی کہلاتا ہوں۔ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ تعالیٰ کے روحانی سلسلہ کے بزرگ شاہ محمد راشدؒ نے سندھ میں روحانی مرکز آباد کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلامی دنیا کا مرد قلندر
ملائیشیا کے وزیر اعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد عالم اسلام کے موجودہ حکمرانوں میں ایک ایسے لیڈر کے طور پر سامنے آئے ہیں جو عراق پر ممکنہ امریکی حملے کے خلاف بلند آہنگی کے ساتھ آواز بلند کر رہے ہیں، اور انہوں نے اپنے دارالحکومت کوالالمپور میں غیر وابستہ تحریک کی سربراہ کانفرنس اور اس کے بعد اسلامی سربراہ کانفرنس کا غیر رسمی ہنگامی اجلاس طلب کر کے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دو دن امریکی دانشور نوم چومسکی کے ساتھ
میں نے عید الفطر کے دو دن امریکہ کے نامور یہودی دانشور نوم چومسکی کے ساتھ گزارے۔ عید کی تعطیلات میں معمول کا کوئی کام نہیں ہو پاتا، مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کا بیشتر عملہ چھٹی پر ہوتا ہے اور نمازیں پڑھانے کے لیے مجھے موجود رہنا پڑتا ہے۔ جبکہ بچے بھی عید کی اپنی اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خواتین کی وراثت کیلئے قانون سازی کا تاریخی پس منظر
ایک اخباری خبر کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے حلف اٹھاتے ہی صوبہ میں خواتین کو وراثت کا شرعی حق دلوانے کے لیے قوانین میں ترامیم کے لیے متعلقہ حکام سے بات کی ہے۔ خواتین کو وراثت میں ان کا حصہ دلانے اور دیگر معاشرتی حقوق سے بہرہ ور کرنے کا معاملہ قانونی اور معاشرتی دائروں میں عرصہ دراز سے زیربحث ہے۔ بالخصوص صوبہ خیبر پختونخوا میں تو اس پر قانون سازی کی تاریخ کم و بیش ایک صدی کا احاطہ کیے ہوئے ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عورتوں کی وراثت پر ایک صدی قبل کی قانون سازی
گزشتہ کالم میں نوے برس قبل صوبہ سرحد اسمبلی میں قانون سازی کا ذکر کیا تھا۔ جمعیت علماء ہند کے صدر حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ تعالیٰ نے ’’کفایت المفتی‘‘ میں اس کا تفصیل کے ساتھ تذکرہ فرمایا ہے جس کا آج کے علمی و قانونی ماحول میں دوبارہ سامنے آنے کو بوجوہ ضروری سمجھتے ہوئے اس کالم میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’نوائے راشدی‘‘
مختلف دینی اور قومی مسائل پر اخبارات و جرائد اور مجالس و محافل کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی اظہارِ خیال کا موقع ملتا رہتا ہے جو بحمد اللہ تعالیٰ سنجیدہ احباب اور اصحابِ فکر و دانش سے دعاؤں کے حصول کا ذریعہ بنتا ہے اور میرے لیے اطمینان کا باعث ہوتا ہے۔ عزیزم ناصر الدین خان عامر نے ایسی بہت سی گزارشات کو محفوظ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جن میں سے ایک انتخاب زیر نظر مجموعہ میں آڈیو لنک کے ساتھ تحریری صورت میں بھی پیش کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’مسئلہ رؤیتِ ہلال‘‘
ہماری عبادات کے نظام کا ایک بڑا حصہ چاند کی گردش کے ساتھ متعلق ہے اور چاند کا مہینہ چاند کی رؤیت پر طے پاتا ہے۔ اگر انتیس دن کے بعد چاند نظر آجائے تو اگلا مہینہ شروع ہو جاتا ہے ورنہ گزشتہ ماہ کے تیس دن پورے کیے جاتے ہیں۔ پہلی رات کا چاند اس قدر باریک ہوتا ہے کہ اسے دیکھنے کا باقاعدہ اہتمام کیا جاتا ہے اور اس کے ثبوت کے لیے فقہاء اسلام نے ضابطے طے کیے ہیں جن میں فقہی اختلاف فطری امر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’خلافتِ اسلامیہ اور پاکستان میں نفاذِ شریعت کی جدوجہد‘‘
امتِ مسلمہ کی خودمختاری اور آزادانہ حیثیت کے ساتھ وحدت و ہم آہنگی اور مسلم معاشروں میں قرآن و سنت کے احکام کی عملداری اس وقت ملتِ اسلامیہ کی سب سے بڑی ضرورت ہے، جس کے لیے عالمِ اسلام کے مختلف حلقوں میں بیسیوں بلکہ سینکڑوں گروہ اپنے اپنے انداز میں جدوجہد کر رہے ہیں، اور ان کے اہداف میں خلافت کی بحالی کے علاوہ معاشی استحکام و آزادی، نفاذِ شریعت اور مسلم تہذیب و ثقافت کا تحفظ شامل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’اسوۂ رہبر عالم ﷺ‘‘
گزشتہ نصف صدی کے دوران بحمد اللہ تعالیٰ سینکڑوں اجتماعات میں جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ اور اسوۂ حسنہ کے مختلف پہلوؤں پر اظہارِ خیال کی سعادت حاصل ہوئی ہے جن میں سے کچھ صفحۂ قرطاس پر منتقل ہو کر اخبارات و جرائد میں شائع ہوئے ہیں۔ عزیزم حافظ ناصر الدین خان عامر نے ان میں سے چند مطبوعہ مضامین کو زیر نظر کتاب کی صورت میں مرتب کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’قرآن کریم اور رمضان کریم‘‘
رمضان المبارک قرآن کریم کا مہینہ ہے، اس میں اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب کا نزول ہوا ہے اور اسی میں وہ سب سے زیادہ پڑھی جاتی ہے۔ دنیا بھر میں تراویح، تہجد اور نوافل کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کی اپنے طور پر تلاوت بھی اس ماہِ مبارک میں کثرت سے ہوتی ہے جو قرآن کریم اور رمضان المبارک کے ساتھ مسلمانوں کی عقیدت و محبت اور قلبی لگاؤ کا زندہ اظہار ہے۔ قرآن کریم نسلِ انسانی کی قیامت تک راہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ کا جامع اور آخری پیغام ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’تبلیغی جماعت‘‘
دورِ حاضر میں سادہ اور عام فہم انداز میں مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات سے آگاہ کرنے اور دینی ماحول میں واپس لانے کی کوشش اور اس کے لیے دعوت و تربیت کا سب سے بڑا دائرہ تبلیغی جماعت کا ہے جو بلاشبہ حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی قدس اللہ سرہ العزیز کی مخلصانہ مساعی اور جہدِ مسلسل کا ثمرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس عمل و محنت نے پوری دنیا میں وسعت و پذیرائی حاصل کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’معیشت کے چند اہم پہلو، اسلامی نقطۂ نظر سے‘‘
معیشت انسانی معاشرہ کا ایک اہم شعبہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ’’جعل اللہ لکم قیاماً‘‘ بتایا ہے کہ اموال و دولت کو خالقِ کائنات نے انسانوں کے لیے زندگی گزارنے کا اہم ذریعہ قرار دیا ہے اور اس کے مختلف پہلوؤں اور تقاضوں پر کلام پاک میں تفصیلی بات کی گئی ہے۔ جبکہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام خصوصاً نبئ آخر الزماں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اصول و ضوابط اور احکام و قوانین ہر پہلو سے واضح کیے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’بھٹو خاندان اور قومی سیاست‘‘
سر شاہنواز بھٹو مرحوم کا خاندان سندھ کی سیاست میں ایک متحرک خاندان کے طور پر متعارف چلا آرہا ہے، ان کا دور تو میں نے نہیں دیکھا البتہ ان کے فرزند ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے خاندان کے سیاسی کردار سے ملک کے دیگر شہریوں کی طرح میرا واسطہ بھی چلا آ رہا ہے، مجھے جب سیاست و صحافت کے کوچہ سے آشنائی ہوئی تو وہ صدر محمد ایوب خان مرحوم کی حکومت میں وزیرخارجہ تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’سنی شیعہ کشمکش‘‘
سُنی شیعہ اختلافات اور مختلف دائروں میں باہمی کشمکش کی تاریخ صدیوں کو محیط ہے اور برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش بھی ایک ہزار سال سے زائد عرصہ سے اس کی آماجگاہ چلے آ رہے ہیں۔ یہ اختلافات عقیدہ و فکر میں بھی ہیں، سیاست و معاشرت میں بھی ہیں، اور اسلام کی تعبیر و تشریح کے بنیادی معاملات میں بھی ہیں، اور ان میں کمی کی بجائے دن بدن وسعت اور شدت مسلسل اضافہ پذیر ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’تذکارِ رفتگاں‘‘
بحمد اللہ تعالیٰ مجھے دینی و ملی مسائل پر اخبارات و جرائد میں لکھتے ہوئے نصف صدی سے زیادہ عرصہ بیت چکا ہے اور اس سلسلہ میں کم و بیش ہر شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے اصحابِ علم و دانش نے حوصلہ افزائی فرمائی ہے جو یقیناً میرے لیے ایک قیمتی سرمایہ اور اعزاز کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس دوران دینی و قومی حوالے سے بہت سی سرکردہ شخصیات کے بارے میں لکھنے کا موقع ملا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
امریکہ کی آمش قوم
آمشوں کے بارے میں پڑھ سن تو رکھا تھا کہ امریکہ میں کچھ لوگ ایسے بھی آباد ہیں جو بجلی استعمال نہیں کرتے، خچروں کے ذریعے کھیتی باڑی کرتے ہیں، گھوڑا گاڑیوں کے ذریعے سفر کرتے ہیں، اور باقی دنیا سے الگ تھلگ زندگی گزارتے ہیں، مگر دیکھنے کا اتفاق ۲۱ اکتوبر ۲۰۰۳ء کو ہوا۔ میرا خیال تھا کہ ایسے لوگ اگر ہیں بھی تو کسی جزیرے میں ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’اسلام، جمہوریت اور پاکستان‘‘
۱۹۶۲ء کی بات ہے جب صدر محمد ایوب خان مرحوم نے مارشل لاء ختم کرتے وقت نئے دستور کی تشکیل و ترتیب کے کام کا آغاز کیا تھا اور پاکستان کے نام سے ’’اسلامی‘‘ کا لفظ حذف کر کے اسے صرف ’’جمہوریہ پاکستان‘‘ قرار دینے کی تجویز سامنے آئی تھی، تو دینی و عوامی حلقوں نے اس پر شدید احتجاج کرتے ہوئے حکومت کو یہ تجویز واپس لینے پر مجبور کر دیا تھا۔ میری عمر اس وقت چودہ برس تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 25
- 26
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »