’’متحدہ مجلس عمل: توقعات، کارکردگی اور انجام‘‘

اسلامی جمہوریہ پاکستان کا قیام اسلام کے نام پر اور اسلامی نظام کے نفاذ کے وعدے پر عمل میں آیا تھا اور جنوبی ایشیا کے مسلمانوں نے، جن میں یو پی، مشرقی پنجاب، آسام، بہار اور مغربی بنگال کے مسلمان بطور خاص قابل ذکر ہیں، ایک نظریاتی اسلامی ریاست کی تشکیل کے جذبہ کے ساتھ اس کے لیے بے پناہ قربانیاں دی تھیں، مگر قیام پاکستان کے بعد سے اس مملکت خداداد میں اسلامی نظام کے نفاذ اور قرآن و سنت کے احکام کی عمل داری کا مسئلہ ابھی تک مسلسل سوالیہ نشان بنا ہوا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ دسمبر ۲۰۰۷ء

’’مذہبی جماعتیں اور قومی سیاست‘‘

اسلامی جمہوریہ پاکستان کا قیام اسلام کے نام پر اور اسلامی نظام کے نفاذ کے وعدے پر عمل میں آیا تھا اور جنوبی ایشیا کے مسلمانوں نے ایک نظریاتی اسلامی ریاست کی تشکیل کے جذبہ کے ساتھ اس کے لیے بے پناہ قربانیاں دی تھیں، مگر قیام پاکستان کے بعد سے اس مملکت خداداد میں اسلامی نظام کے نفاذ اور قرآن و سنت کے احکام کی عمل داری کا مسئلہ ابھی تک مسلسل سوالیہ نشان بنا ہوا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ اکتوبر ۲۰۰۷ء

’’آپ نے پوچھا (سوالنامے، انٹرویوز، مراسلے)‘‘

مختلف دینی و ملی مسائل پر اظہارِ خیال تحریری اور تقریری صورت میں گزشتہ چھ عشروں سے میرا معمول چلا آ رہا ہے جو مضامین، تقاریر، سوال و جواب، انٹرویوز اور اخباری بیانات کے ساتھ ساتھ اب ٹویٹس کی صورت میں بھی ہوتا ہے۔ میرے چھوٹے فرزند حافظ ناصر الدین خان عامر نے ۲۰۱۶ء سے zahidrashdi.org کے عنوان سے ویب سائیٹ قائم کر رکھی ہے جس پر وہ اب تک تینتالیس سو سے زائد تحریریں جمع کر چکا ہے اور مزید کا سلسلہ جاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم جولائی ۲۰۲۳ء

"حدود آرڈیننس اور تحفطِ نسواں بل"

قیام پاکستان کے بعد جب اسلام کے نام پر بننے والی اس ریاست کو دستوری طور پر قرارداد مقاصد کے ذریعے سے ایک نظریاتی اسلامی مملکت قرار دے دیا گیا تو اس کا ناگزیر تقاضا تھا کہ ملک کے عدالتی، انتظامی، معاشی اور معاشرتی ڈھانچوں کا ازسرنو جائزہ لے کر ایک اسلامی معاشرے کی تشکیل اور نشوونما کے لیے سماجی محنت کے ساتھ ساتھ ضروری قانون سازی بھی کی جاتی۔ اسی بنیاد پر ۱۹۷۳ء کے دستور میں اسلام کو ملک کا ریاستی دین قرار دیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ فروری ۲۰۰۷ء

’’دینی مدارس کا نصاب و نظام، نقد و نظر کے آئینے میں‘‘

۱۸۵۷ء میں متحدہ ہندوستان کے باشندوں کی مسلح تحریکِ آزادی کی ناکامی اور دہلی پر باضابطہ برطانوی حکومت قائم ہونے کے بعد جب دفتروں اور عدالتوں سے فارسی زبان کی بساط لپیٹ دی گئی، فارسی اور عربی کے ساتھ فقہ اسلامی اور دیگر متعلقہ علوم کی تعلیم دینے والے مدارس کے معاشرتی کردار پر خط تنسیخ کھینچ دیا گیا، اور ہزاروں مدارس اس نوآبادیاتی فیصلے کی نذر ہو گئے، تو حکیم الامت حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی جماعت کے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ جولائی ۲۰۰۷ء

’’خطبہ حجۃ الوداع: اسلامی تعلیمات کا عالمی منشور‘‘

مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کی سالانہ تعطیلات میں امریکہ جانے کا موقع ملتا ہے تو دارالہدیٰ، سپرنگ فیلڈ، ورجینیا (واشنگٹن) میں حاضری ہوجاتی ہے اور میرا زیادہ تر قیام وہیں رہتا ہے۔ دارالہدیٰ کے سربراہ مولانا عبد الحمید اصغر حضرت مولانا حافظ غلام حبیب نقشبندی رحمہ اللہ تعالیٰ کے خلفاء میں سے ہیں اور باذوق بزرگ ہیں۔ میری حاضری پر حدیثِ نبویؐ کے کسی موضوع پر مسلسل لیکچرز کا پروگرام بنا لیتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ اکتوبر ۲۰۰۷ء

’’امام اعظم ابو حنیفہؒ: فقہی و سیاسی کردار‘‘

حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کی ان عظیم علمی شخصیات میں سے ہیں جن سے امت نے ہر دور میں استفادہ کیا ہے اور ان کے علوم و فیوض رہتی دنیا تک اہل علم و دانش کی راہنمائی کا ذریعہ بنتے رہیں گے۔ مجھے بھی ایک طالب علم کے طور پر امام صاحبؒ سے استفادہ اور ان کے بارے میں مختلف حوالوں سے گفتگو کا موقع ملتا رہتا ہے جو میرے لیے فیض و برکت کے ساتھ ساتھ اعزاز کی بات بھی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ جون ۲۰۲۳ء

’’سیرۃ النبیؐ اور انسانی حقوق‘‘

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں مختلف موضوعات پر فکری نشستوں کا سلسلہ شروع سے چلتا آ رہا ہے اور متعدد عنوانات پر ان نشستوں میں گفتگو ہو چکی ہے۔ ۲۰۱۸ء کے دوران ان نشستوں کا عنوان ’’سیرت نبویؐ اور انسانی حقوق‘‘ تھا جس کے مختلف پہلوؤں پر گزارشات پیش کی گئیں۔ الشریعہ اکادمی کے لائبریرین مولانا حافظ کامران حیدر نے انہیں صفحۂ قرطاس پر منتقل کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ ستمبر ۲۰۲۰ء

’’علامہ محمد اقبالؒ کا تصورِ دین و ملت‘‘

مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ تعالیٰ ہماری ملی تاریخ کی ایک نامور شخصیت ہیں جنہوں نے جنوبی ایشیا میں امت مسلمہ کی علمی، دینی، فکری، تہذیبی اور سیاسی دائروں میں قائدانہ راہنمائی کی اور مسلمانوں میں دینی حمیت اور ملی غیرت بالخصوص جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے ساتھ والہانہ عقیدت و محبت کے جذبہ کو مسلمانوں کے دلوں میں اجاگر کیا۔ ان کے کسی علمی و فکری موقف سے اختلاف کی گنجائش ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ جون ۲۰۲۳ء

’’چند معاصر مذاہب کا تعارفی مطالعہ‘‘

ہمارے ہاں ’’تقابلِ ادیان‘‘ کے عنوان سے مختلف اداروں میں کورسز منعقد ہوتے رہتے ہیں جن میں عام طور پر ادیان و مذاہب کے ساتھ ہمارے اعتقادی مباحث علماء کرام اور طلبہ کو پڑھائے جاتے ہیں اور ہر سال ہزاروں حضرات اس سے مستفید ہوتے ہیں۔ مجھے بھی کافی عرصہ سے ان کورسز میں شرکت اور گزارشات پیش کرنے کا موقع مل رہا ہے، جو انتہائی ضروری اور مفید ہیں، مگر اس سلسلہ میں میری گزارش یہ ہوتی ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ جون ۲۰۲۳ء

’’جامعہ حفصہ کا سانحہ: حالات و واقعات اور دینی قیادت کا لائحہ عمل‘‘

جامعہ حفصہ اور لال مسجد اسلام آباد کے تنازع کا جب آغاز ہوا تو راقم الحروف نے اس کے مختلف پہلوؤں پر اسی وقت سے اپنے تاثرات و احساسات کو قلم بند کرنا شروع کر دیا تھا جو مختلف کالموں اور مضامین کی صورت میں ماہنامہ الشریعہ، روزنامہ اسلام اور روزنامہ پاکستان میں شائع ہوتے رہے اور ان کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ میری ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ اپنے مضامین اور کالموں میں متعلقہ مسئلہ کی معروضی صورت حال کی وضاحت کے ساتھ ساتھ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ اگست ۲۰۰۷ء

’’بھارت‘‘

بھارت ہمارا پڑوسی ملک ہے، ہم مدتوں اکٹھے رہ کر پون صدی قبل الگ ہوئے تھے۔ بھارت کے ساتھ ہمارے بہت سے تاریخی، سماجی، جغرافیائی اور مذہبی معاملات چلتے رہتے ہیں جو انسانی سماج کا لازمی حصہ ہوتے ہیں۔ ایسے مسائل پر باہمی محاذ آرائی بھی ہو جاتی ہے اور مکالمات و روابط کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ ایک سیاسی کارکن اور صحافی کے طور پر یہ مسائل ہمیشہ میرا موضوع رہے ہیں، ان پر بہت کچھ بیان کیا ہے اور بہت کچھ لکھا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ جولائی ۲۰۲۳ء

پاکستان شریعت کونسل کا موقف اور پروگرام

۲۳، ۲۴ جولائی ۲۰۰۳ء کو مدرسہ تعلیم القرآن لنگرکسی مری میں پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلس مشاورت کا دو روزہ سالانہ اجلاس امیر مرکزیہ حضرت مولانا فداء الرحمٰن درخواستی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے سرکردہ علماء کرام نے شرکت کی۔ اجلاس میں پاکستان شریعت کونسل کو ہر سطح پر ازسرنو متحرک کرنے کا فیصلہ ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ جولائی ۲۰۰۳ء

’’خیمہ داؤد‘‘ کے دو اہم فیصلے

خیمہ داؤد (کیمپ ڈیوڈ) کے پروٹوکول اور مذاکرات کے بعد ہمارے صدر محترم کے لہجے میں مزید نکھار آ گیا ہے اور وہ پہلے سے زیادہ واضح اور دو ٹوک لہجے میں کچھ باتیں کہنے لگے ہیں۔ مثلاً انہوں نے وطن واپسی سے قبل امریکا میں بھی یہ بات کھلے لہجے میں کہہ دی ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس بات کا فیصلہ کریں کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ جولائی ۲۰۰۳ء

یومِ آزادی اور اس کا پیغام

۱۴ اگست کو پوری قوم نے یوم آزادی منایا۔ چھپن برس قبل ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو برصغیر پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش نے برٹش استعمار کی غلامی سے آزادی حاصل کی تھی اور اسی روز دنیا کے نقشے پر ’’پاکستان‘‘ کے نام سے ایک نئی اسلامی ریاست نمودار ہوئی تھی۔ اس خوشی میں اس دن ہر سال یوم آزادی منایا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ اگست ۲۰۰۳ء

’’صہیونیت اور اسرائیل کا تاریخی پس منظر‘‘

۱۹۶۷ء کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران میں مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں زیرِ تعلیم تھا اور حضرت مولانا مفتی عبد الواحد نور اللہ مرقدہ کی راہ نمائی میں جمعیۃ علماء اسلام کا ایک متحرک کارکن بھی تھا، اس جنگ کے مناظر اور دینی حلقوں کے اضطراب و بے چینی اب تک ذہن میں نقش ہیں۔ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان نے مصر، شام اور اردن کے حق میں اور بیت المقدس پر اسرائیل کے تسلط کے خلاف ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ دسمبر ۲۰۲۳ء

حلال و حرام کا تصور اور حلال فوڈز اتھارٹی

حلال و حرام کی حتمی اتھارٹی اللہ تبارک و تعالیٰ اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اس فرق کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ خود اتھارٹی ہیں لیکن جناب نبی کریمؐ اتھارٹی کے نمائندے ہیں۔ اللہ تعالیٰ حلال و حرام کے معاملے میں حضور نبی کریمؐ سے یہ فرماتے ہیں ’’یایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک‘‘ کہ اللہ نے حلال کیا ہے تو آپ کیسے حرام کر رہے ہیں؟ چنانچہ حلال و حرام کی واحد اتھارٹی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ دسمبر ۲۰۱۵ء

حدود آرڈیننس اور خواتین کے حقوق

قومی اسمبلی میں ایم ایم اے کی خواتین ارکان اسمبلی نے ویمن کمیشن کی سربراہ جسٹس ماجدہ کی طرف سے حدود آرڈیننس کو ختم کرنے کے مطالبہ پر احتجاج کیا ہے اور کہا ہے کہ شرعی قوانین کی منسوخی کا کوئی قدم برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق ویمن کمیشن نے حکومت سے سفارش کی ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ ستمبر ۲۰۰۳ء

حدود آرڈیننس کے خلاف مظاہرہ ۔ لمحہ فکریہ

گزشتہ روز اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے تیس کے لگ بھگ این جی اوز سے تعلق رکھنے والی خواتین نے حدود آرڈیننس کے خلاف مظاہرہ کیا۔ اخباری رپورٹ کے مطابق مظاہرہ کی قیادت کرنے والیوں میں دیگر سرکردہ خواتین کے علاوہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی محترمہ حنا جیلانی بھی شامل تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ ستمبر ۲۰۰۳ء

جرمن حکومت کی طرف سے صوبہ سرحد میں شیلٹر ہومز کی تعمیر

اخباری اطلاعات کے مطابق صوبہ سرحد کے گورنر سید افتخار حسین شاہ نے صوبائی اسمبلی کے منظور کردہ ’’شریعت ایکٹ‘‘ پر ابھی تک دستخط نہیں کیے۔ حالانکہ یہ ایکٹ صوبہ سرحد کی اسمبلی نے ۷ جون کو متفقہ طور پر منظور کیا تھا اور اس کے بعد صوبائی وزارت قانون کی طرف سے توثیق کے لیے گورنر سرحد کو بھجوا دیا گیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ جولائی ۲۰۰۳ء

مغرب اور اسلام میں تہذیبی بالادستی کی جنگ

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کے دوران صدر جنرل پرویز مشرف نے جہاں اپنی پالیسیوں کی وضاحت کی ہے، وہاں عالمِ اسلام اور مغرب کے درمیان کشمکش پر بھی تبصرہ کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ اس کشمکش کو روکنے کے لیے دونوں فریقوں کو سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ ستمبر ۲۰۰۳ء

قادیانیت کے بارے میں اقبالؒ کے ارشادات

۲۶ مئی قادیانی مذہب کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کا یومِ وفات ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو لاہور میں وفات پائی تھی جسے ایک صدی مکمل ہو گئی ہے۔ اور اپنے مذہب کے ایک سو سال مکمل ہو جانے پر مرزا قادیانی کے پیروکار دنیا بھر میں یہ پورا سال ’’صد سالہ تقریبات‘‘ کے عنوان سے منا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ مئی ۲۰۰۸ء

اسلام کا تصورِ جہاد

جہاد کے حوالے سے ایک اور مسئلہ بھی مختلف حضرات کے لیے ذہنی الجھن کا باعث بنا ہوا ہے کہ یہ مذہب اور عقیدہ کے لیے طاقت کا استعمال ہے، جبکہ عقیدہ کے لیے طاقت کا استعمال اب دنیا میں متروک ہو چکا ہے۔ آج کی دنیا میں رائے، عقیدہ اور مذہب کی آزادی کو جو مقام حاصل ہے اس کی رو سے عقیدہ اور مذہب کے لیے طاقت کا استعمال ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ مارچ ۲۰۰۴ء

قائد کا تصورِ پاکستان: قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق اور جمہوریت

قائد اعظم محمد علی جناحؒ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے وہ عظیم سیاسی رہنما ہیں جن کی کوششوں سے پاکستان کے نام پر اس وقت ایک ایسی اسلامی سلطنت وجود میں آئی، جب دنیا بھر میں ریاست کے ساتھ مذہب کا تعلق ختم کرنے کا سلسلہ عروج پر تھا، حتیٰ کہ اسلامی خلافت کی نمائندگی کرنے والی سلطنتِ عثمانیہ بھی اپنا وجود کھو چکی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ جولائی ۲۰۰۶ء

احکام القرآن، عصری تناظر میں

الحمد للہ ۵ مارچ کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں دورہ تفسیر قرآن کریم کی سالانہ کلاس تکمیل پذیر ہوئی۔ یہ سلسلہ گزشتہ ڈیڑھ عشرہ سے جاری ہے اور کرونا کے دور میں کچھ وقفہ کے ساتھ یہ بارہویں کلاس تھی۔ ۱۰ فروری سے اس کا آغاز ہوا اور ملک کے مختلف حصوں سے فضلاء اور طلبہ نے اس میں شرکت کی۔ ہمارے ہاں ترجمہ و تشریح کے ساتھ قرآن کریم سے متعلقہ دیگر ضروری معلومات بھی کورس کا حصہ ہوتی ہیں اور مختلف اساتذہ ان کی تدریس کے فرائض سرانجام دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ مارچ ۲۰۲۴ء

گوجرانوالہ شہر کی فریاد

گزشتہ دنوں گوجرانوالہ کے سرکٹ ہاؤس میں ضلعی امن کمیٹی کا اجلاس تھا اور محرم الحرام کے سلسلہ میں انتظامات زیربحث تھے۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اور ڈی سی او صاحب کے علاوہ مختلف مکاتبِ فکر کے علماء کرام بھی شریک تھے۔ محرم الحرام سے قبل اس قسم کا اجلاس ضروری سمجھا جاتا ہے تاکہ عشرۂ محرم الحرام کے دوران اہلِ تشیع کے جو جلوس وغیرہ ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ جنوری ۲۰۰۷ء

پانی ہمیشہ نچلی جانب ہی بہتا ہے!

پنجاب کے دو اعلیٰ ترین افسروں کی کھلی کچہریوں کی اخباری رپورٹ اس وقت میرے سامنے ہے۔ چیف سیکرٹری جناب سلمان صدیق اور آئی جی پولیس چودھری احمد نسیم نے کھلی کچہریاں لگا کر عوام کی شکایات سنی ہیں اور بہت سے لوگوں کی داد رسی کے لیے موقع پر احکامات جاری کیے ہیں۔ ہماری دونوں سے پرانی یاد اللہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم فروری ۲۰۰۷ء

اسلامی احکامات اور حکومت کی ذمہ داری

محترم افضال ریحان صاحب نے ایک حالیہ کالم میں ’’مسلم ریاست کیسی ہونی چاہیے؟‘‘ کی تمہید کے ساتھ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان (۱) کلمہ طیبہ (۲) نماز (۳) زکوٰۃ (۴) روزہ اور (۵) حج کا ذکر کیا ہے، اور فرمایا ہے کہ اسلام ان ہی پانچ ارکان کا نام ہے اور ان کے علاوہ باقی تمام امور ضمنی اور ثانوی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ اکتوبر ۲۰۰۷ء

’’ورلڈ کونسل آف ریلیجئنز فار جسٹس اینڈ پیس‘‘

دینی مدارس کے وفاقوں کی مشترکہ قیادت نے صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کر کے انہیں متعلقہ مسائل پر اپنے موقف سے تفصیل کے ساتھ آگاہ کیا۔ اور صدر پرویز مشرف نے انہیں ایک بار پھر یقین دلایا کہ دینی مدارس کے نظام میں مداخلت نہیں کی جائے گی اور ان پر اچانک چھاپے نہیں مارے جائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ ستمبر ۲۰۰۴ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter