جبر کی حکومتوں کی ملی روایت؟

ایک محفل میں عالمِ اسلام کی موجودہ صورتحال پر گفتگو ہو رہی تھی اور مسلم ممالک پر جبر اور طاقت کے ذریعے مسلط ہونے والی حکومتوں کا ذکر ہو رہا تھا کہ ایک صاحب نے کہا، ہمارے ہاں یہ پرانی روایت چلی آ رہی ہے کہ عوام کی رائے کی پروا کیے بغیر جبر کی حکومتیں قائم ہو جاتی ہیں اور پھر انہیں سندِ جواز بھی فراہم ہو جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ اگست ۲۰۰۴ء

فروری ۲۰۲۴ء کی رپورٹس

مولانا زاہد الراشدی کی قوم سے اپیل: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ کل ۸ فروری ۲۰۲۴ء کو ملک بھر میں قومی اور صوبائی انتخابات ہو رہے ہیں، قوم آئندہ پانچ سال کے لیے قومی اور صوبائی حکومتوں کا، پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کا انتخاب کرے گی۔ یہ بہت نازک مرحلہ ہے۔ اس موقع پر میں گزارش کرنا چاہوں گا کہ تمام حلقوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ فروری ۲۰۲۴ء

انگریز نے ہمیں ’’تہذیب‘‘ کیسے سکھائی؟

انگریز جب ہمارے ہاں آئے تو ان کا دعویٰ تھا کہ ہم مشرقی اقوام کو تہذیب سکھانے آئے ہیں، زندگی کا سلیقہ بتانے آئے ہیں اور متمدن معاشرہ کے آداب سے بہرہ ور کرنے کے لیے آئے ہیں۔ انگریزوں کا خیر مقدم کرنے والے اور ان کی راہ میں آنکھیں بچھانے والے ہمارے دوستوں نے بھی ہمیں یہی بتایا کہ ہماری تہذیب پرانی ہو چکی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ جنوری ۲۰۰۳ء

تبلیغی جماعت کا عالمی اجتماع اور دعوتِ اسلام کے تقاضے

اسلام یہودیت اور ہندومت کی طرح نسلی دین نہیں ہے بلکہ پوری انسانیت کا دین ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور اعلانِ نبوت کے بعد سے قیامت تک کا ہر انسان اسلام کی دعوت اور پیغام کا مخاطب ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے امتیازات اور خصوصیات میں اس بات کا بطور خاص ذکر کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ دسمبر ۲۰۰۳ء

اجتہاد کا شرعی تصور اور چند مغالطے

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ اجتہاد لفظاً کوشش کرنے کا نام ہے۔ شرعاً جو اجتہاد ہے اس کی تعریف اور شرائط اصولِ فقہ کی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہیں۔ لیکن میں اس دائرے سے ہٹ کر آج کے عمومی تناظر اور فہم کے دائرے میں اجتہاد کی بات کرنا چاہوں گا۔ شرعاً اجتہاد کی ضرورت یہ ہے کہ جب تک وحی جاری تھی، زمانے کے حالات بدلتے تھے اور نئی ضروریات پیش آتی تھیں، تو وحی کے ذریعے ہدایت و رہنمائی ہو جاتی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۵ء

ترقی یافتہ دور میں بھی انسانی دماغ حرفِ آخر نہیں

ہم نے گزشتہ شب دنیا کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک امریکا کے دارالحکومت کے ایک علاقہ میں موم بتیوں کی روشنی میں نماز تراویح کا آغاز کیا۔ سپرنگ فیلڈ کے علاقہ میں مغرب سے تھوڑی دیر بعد بجلی منقطع ہوئی اور تراویح اور اس کے بعد بیان وغیرہ سے فارغ ہوئے تو اس کے بعد بجلی کا سلسلہ بحال ہو گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ اکتوبر ۲۰۰۳ء

واشنگٹن کے ایئر پورٹ پر ون مین پی ٹی شو

۲۴ مئی کو واشنگٹن سے واپسی کا پروگرام تھا۔ ڈیلس ایئر پورٹ سے لندن ہیتھرو کے لیے یونائیٹڈ ایئر لائن کی پرواز تھی۔ سفر میں میرا ذاتی سامان دو تین جوڑے کپڑے، کچھ کاغذات اور رسائل ہوتا ہے۔ مگر عزیزوں اور دوستوں کے تحائف اور مختلف حضرات تک پہنچانے کے لیے امانتیں اچھا خاصا مسئلہ پیدا کر دیتی ہیں، جس کا اس سفر میں بھی سامنا کرنا پڑا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۳ء

مکہ مکرمہ کے اخبار ’’العالم الاسلامی‘‘ پر ایک نظر

’’رابطہ عالم اسلامی‘‘ کے زیر اہتمام مکہ مکرمہ سے ’’العالم الاسلامی‘‘ ہفت روزہ اخبار عربی میں شائع ہوتا ہے جو اخباری سائز کے سولہ صفحات پر مشتمل ہوتا ہے اور اس میں دو صفحات انگلش کے بھی ہوتے ہیں۔ اس میں عالم اسلام کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے خبروں اور تبصروں کے علاوہ رابطہ عالم اسلامی کی سرگرمیوں کی رپورٹیں شائع ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۳ء

عراق پر حملہ: عظیم تر اسرائیل کی جانب پیش قدمی

امریکہ نے بالآخر عراق پر حملہ کر دیا اور امریکی افواج نے عراق کے مختلف مراکز کو نشانہ بناتے ہوئے جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ دنیا کے اکثر ممالک نے امریکہ کے اس اقدام کی مخالفت کی، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اکثریت کی حمایت حاصل نہ ہونے کی وجہ سے امریکی گروپ کو اپنی قرارداد واپس لینا پڑی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ مارچ ۲۰۰۳ء

اسلامی تحریکات اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن

’’آن لائن‘‘ کی رپورٹ کے مطابق روس کے صدر جناب ولادی میر پیوٹن نے ایک ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے اسلامی تحریکات پر دہشت گردی کا الزام دہراتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم ممالک کی اسلامی تحریکات دنیا میں خلافت کے نظام کو دوبارہ بحال کرنا چاہتی ہیں۔ روس کا بادشاہت کے دور میں ”خلافت عثمانیہ“ کے ساتھ صدیوں سابقہ رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۲ء

قربانی — شبہات کا ازالہ

ذی الحجہ ہجری سن کا آخری مہینہ ہے جو اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن فریضۂ حج اور اسلامی شریعت کے احکام میں سے ایک حکم قربانی کی ادائیگی کا ہے۔ حج فرض ہے اور قربانی احناف کے نزدیک واجب، جبکہ دیگر فقہاء امت کے ہاں سنت مؤکدہ کا درجہ رکھتی ہے۔ یہ واجب اور سنت مؤکدہ کا فرق بھی محض اصطلاحی اور فنی سا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ فروری ۲۰۰۳ء

ذہنی خلفشار اور قومی سطح پر پایا جانے والا تضاد

صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ تین مسائل کی وجہ سے ہمارے ذہنوں میں خلفشار ہے۔ سب سے پہلے کشمیر کاز، دوسرے بیرونی سطح پر ایسے تنازعات اور تصادم جن میں مسلمان ملوث ہیں، اندرونی طور پر فرقوں اور مسلکوں کے اختلافات۔ خدا جانے ’’ذہنی خلفشار‘‘ سے صدر محترم کی مراد کیا ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جنوری ۲۰۰۲ء

عوامی رائے کے احترام اور محض خانہ پری میں فرق ہے

صدر جنرل پرویز مشرف نے ریفرنڈم کے لیے رابطہ مہم کا لاہور سے آغاز کر دیا ہے اور زندہ دلانِ لاہور نے شکر کیا ہے کہ انہیں طویل عرصہ کے بعد کسی سیاسی جلسہ میں شرکت کا موقع ملا۔ اس سے قبل ۲۳ مارچ کو اے آر ڈی (الائنس فار دی ریسٹوریشن آف ڈیموکریسی) نے موچی دروازہ کے تاریخی گراؤنڈ میں جلسہ کرنا چاہا تو اسے اجازت نہ ملی - - - مکمل تحریر

۱۴ اپریل ۲۰۰۲ء

اب ’’اسلامی سیکولرازم‘‘ کا سبق

ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے گزشتہ روز صدر جنرل پرویز مشرف کے ترجمان کی طرف سے یہ وضاحت جاری کی ہے کہ صدر محترم کے ایک عالمی اخبار کو دیے گئے حالیہ انٹرویو کے حوالہ سے ان کی طرف سے پاکستان کو ’’سیکولر اسلامی ریاست‘‘ بنانے کے جو الفاظ منسوب کیے گئے ہیں وہ درست نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم فروری ۲۰۰۲ء

بکتربند گاڑی ’’طلحہ‘‘ سے پاک فوج کی صلاحیت بڑھے گی

صدر جنرل پرویز مشرف کے چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل حامد جاوید نے گزشتہ روز ایک قومی روزنامہ کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا ہے کہ پاکستان نے اپنی بری افواج کے لیے ملکی ٹیکنالوجی سے انتہائی جدید بکتربند گاڑی ’’طلحہ‘‘ تیار کر لی ہے جس کی چند ہفتوں میں فوج کو ترسیل شروع ہو جائے گی - - - مکمل تحریر

۱۶ اپریل ۲۰۰۲ء

سردار محمد عبد القیوم خان کی خدمت میں چند گزارشات

آزاد جموں و کشمیر کی حکمران جماعت ’’آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس‘‘ کے سربراہ سردار محمد عبد القیوم خان نے ’’اوصاف‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ جہاد کشمیر میں غیر کشمیری گروپوں کی مداخلت نے کشمیر کاز کو نقصان پہنچایا اور پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی کا باعث بنے اور جہاد کے نام پر صرف مال بنایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جنوری ۲۰۰۲ء

اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر اور اسلامی قوانین

گزشتہ ایک مضمون میں اس بات کا مختصر تذکرہ کیا تھا کہ مغربی اداروں، اقوام متحدہ کے مختلف شعبوں اور عالمی لابیوں کی طرف سے معاشرتی جرائم کی اسلامی سزاؤں مثلاً ہاتھ کاٹنے، سنگسار کرنے، کوڑنے مارنے اور سرعام سزا دینے کو جب ’’وحشیانہ سزائیں‘‘ قرار دے کر ان کی مخالفت کی جاتی ہے، اور ان مسلم ممالک سے ان قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ جنوری ۲۰۰۲ء

اسلام میں پردے کے احکام اور غامدی صاحب

ساتویں صدی ہجری کے معروف مفسر قرآن امام ابو عبد اللہ محمد بن احمد انصاریؒ نے ’’تفسیر قرطبی‘‘ میں ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ ترجمان القرآن حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنے علمی حلقے میں تشریف فرما تھے کہ ایک شخص نے آ کر مسئلہ پوچھا کہ اگر کوئی شخص کسی مسلمان کو عمداً قتل کر دے تو کیا اس کے لیے توبہ کی گنجایش ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ اپریل ۲۰۰۲ء

دینی حلقوں کی آزمائش اور ذمہ داری

پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلس مشاورت کے ایک اہم اجلاس کی کارروائی ”نوائے قلم“ کے قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ پاکستان شریعت کونسل نے حکومت اور دینی حلقوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ کوئی خفیہ ہاتھ پاکستان میں فوج اور دینی حلقوں کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کر کے ترکی اور الجزائر جیسے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ مئی ۲۰۰۲ء

شیطانی قوتوں کے ذہنی و فکری حملے

جادو، کالا علم، رمل، جفر اور نجوم آج کل پھر سے عام ہو گئے ہیں جیسے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل عام انسانی سوسائٹی میں عموماً اور عرب معاشرہ میں بالخصوص عام تھے اور جناب نبی اکرمؐ نے بڑی محنت اور تگ و دو سے لوگوں کو ان خرافات سے نجات دلائی تھی۔ جدھر دیکھیں نجومی اور کالے علم کے کسی نہ کسی ماہر کا بورڈ لگا ہوا نظر آتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ فروری ۲۰۰۲ء

اقلیتوں کے حقوق: چند ضروری گزارشات

چرچ کے حوالے سے اس ہفتے تین خبریں سامنے آئیں۔ ایک یہ کہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب نے مسیحی رہنماؤں کو مسجد میں آنے کی دعوت دی اور انہیں مسجد میں اپنے مذہب کے مطابق عبادت کرنے کا موقع فراہم کیا۔ دوسری خبر یہ کہ اسلام آباد کے ایک انٹرنیشنل چرچ میں اتوار کے روز عبادت میں مصروف افراد پر دستی بموں سے حملہ کیا گیا - - - مکمل تحریر

۲۴ مارچ ۲۰۰۲ء

اقوام متحدہ کی طرف سے حدود آرڈیننس پر نظرثانی کا مطالبہ

امریکی ایوانِ نمائندگان کی طرف سے پاکستان میں قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دینے اور توہینِ رسالتؐ پر موت کی سزا کے قوانین کی منسوخی کے مطالبات پر ابھی دینی حلقوں کے ردعمل کا سلسلہ جاری تھا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے ’’حدود آرڈیننس‘‘ پر نظر ثانی کا مطالبہ بھی سامنے آ گیا ہے۔ مکمل تحریر

۲۰ مارچ ۲۰۰۲ء

صحرا میں اذان

’’حدود آرڈیننس’’ ایک بار پھر این جی اوز کی سرگرمیوں کا عنوان بن گیا ہے اور انسانی حقوق کے جن علمبرداروں کو افغانستان میں امریکہ کی وحشیانہ بمباری سے جاں بحق ہونے والے ہزاروں بے گناہ شہریوں کی ہلاکت پر سانپ سونگھ گیا تھا، وہ کوہاٹ کی ایک خاتون کو سنگسار ہونے سے بچانے کے لیے لنگر لنگوٹ کس کر میدان میں اتر آئی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ مئی ۲۰۰۲ء

کیا عالمِ اسلام دنیا کی قیادت سنبھالنے کا اہل ہے؟

حضرت مولانا محمد علی جالندھری رحمۃ اللہ علیہ تحریک آزادی کے سرگرم رہنماؤں میں سے تھے جنہوں نے مجلس احرار اسلام کے پلیٹ فارم سے آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا، اور پاکستان بننے کے بعد سیاسی سرگرمیوں سے کنارہ کش ہو کر عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی تحریک کو منظم کرنے میں مگن ہو گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ اپریل ۲۰۰۲ء

مسلمان ریڈ انڈین نہیں ہیں

امریکہ اور عالم اسلام کے بارے میں ’’گیلپ انٹرنیشنل‘‘ کے ایک حالیہ سروے کی رپورٹ ان دنوں عام طور پر موضوع بحث ہے۔ سی این این کے مطابق اس سروے میں ایک طرف امریکی عوام سے یہ پوچھا گیا ہے کہ عالم اسلام میں امریکہ کے خلاف جذبات کیوں پائے جاتے ہیں؟ اور ان حالات میں مسلمان ممالک کو کیا کرنا چاہیے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ مارچ ۲۰۰۲ء

برطانیہ میں ہفتۂ بیدارئ اسلام اور وزیراعظم ٹونی بلیئر کے خیالات

برطانیہ میں گزشتہ دنوں ’’ہفتہ بیدارئ اسلام‘‘ منایا گیا۔ یہ ہفتہ ہر سال منایا جاتا ہے اور اس موقع پر مختلف تقریبات کے ذریعے اسلامی تعلیمات اور اسلامی تہذیب کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں کے بارے میں مسلمانوں کے طرز عمل اور اسلامی احکام کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس سلسلہ میں ایک تقریب چار نومبر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوئی، جس کے لیے برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے بھی پیغام ارسال کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۔

عراق پر حملے کیلئے برطانوی وزیراعظم کی ’’فردِ جرم‘‘

برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے گزشتہ دنوں عراق کے صدر صدام حسین کے خلاف الزامات کے ثبوت میں مبینہ دستاویزات پر مشتمل پچاس صفحات کی رپورٹ جاری کر دی ہے۔ جس کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ اس سے عراق کے خلاف امریکہ کے متوقع حملوں کی مخالفت میں کمی واقع ہو گی اور ٹونی بلیئر کو اپنی پارٹی اور پارلیمان کے ارکان کی مزید حمایت حاصل ہو سکے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ اکتوبر ۲۰۰۲ء

بل کلنٹن سے چند گزارشات

ایک قومی روزنامہ نے جدہ سے اے ایف پی کے حوالہ سے ۲۱ جنوری ۲۰۰۲ء کو خبر شائع کی ہے کہ امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن نے ’’جدہ اکنامک فورم‘‘ میں اظہار خیال کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ باہمی اختلافات کو برداشت کرنے اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی سیاسی معاشرہ تشکیل دیا جائے، اور امریکہ اس مقصد کے لیے دنیا سے رابطہ کرے۔ انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے تعلیمی نظام میں عقیدے کی تلقین ختم کر دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ جنوری ۲۰۰۲ء

خلافت راشدہ: اہمیت و افادیت

۲۸ مارچ ۲۰۰۲ء کو ہمدرد سنٹر لاہور میں روزنامہ پاکستان/یلغار کے زیر اہتمام ’’خلافتِ راشدہ کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی جس میں مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علمائے کرام اور دانشوروں نے خطاب کیا۔ کانفرنس میں موجودہ دور میں خلافت کی اہمیت و ضرورت کے حوالے سے مقررین نے خیالات کا اظہار کیا اور کانفرنس کے اختتام پر موجودہ معروضی صورتحال میں پاکستان کے دینی حلقوں کے اصولی موقف کے طور پر ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ و ۱۵ اپریل ۲۰۰۲ء

انٹرنیٹ پر گفتگو کا پہلا تجربہ

الحاج عبدالرحمان باوا تحریکِ ختمِ نبوت کے پرانے کارکنوں میں سے ہیں۔ گجرات (انڈیا) کے میمن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی فیملی ایک عرصہ تک رنگون (برما) میں مقیم رہی ہے۔ پھر مشرقی پاکستان آ گئے اور چٹاگانگ میں کئی سال مقیم رہے۔ بنگلہ دیش بنا تو وہ پاکستان آئے اور کراچی میں ڈیرہ لگا لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ اکتوبر ۲۰۰۱ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter