مطالعہ مذاہب: مسلم سکھ تعلقات کا ایک جائزہ

۱۲، ۱۳، ۱۴ فروری ۲۰۰۶ء کو جامعہ اسلامیہ کامونکی میں مطالعہ مذاہب کے سلسلے میں بدھ مت اور سکھ مذہب کے بارے میں سیمینار تھا، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ دعوۃ اکیڈمی کے تعاون سے جامعہ اسلامیہ کامونکی نے یہ روایت رکھی ہوئی ہے کہ تین چار ماہ کے وقفہ سے کسی مذہب کے حوالے سے ایک مطالعاتی اور معلوماتی سیمینار کا اہتمام ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ فروری ۲۰۰۶ء

تحفظ حقوق نسواں بل: قرآن و سنت سے متصادم دفعات عوام کو منظور نہیں

قومی اسمبلی نے ”تحفظ حقوقِ نسواں بل“ منظور کر لیا ہے، جس کے بارے میں وفاقی وزیر قانون جناب وصی ظفر کا کہنا ہے کہ یہ سلیکٹ کمیٹی کا منظور کردہ نہیں ہے، جبکہ قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمٰن کا ابتدائی تبصرہ یہ ہے کہ یہ بل نہ سلیکٹ کمیٹی والا ہے اور نہ ہی علماء کی سفارشات والا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ نومبر ۲۰۰۶ء

اپریل ۲۰۲۴ء کی رپورٹس

حفظِ قرآن کی سعادت حاصل ہونا بہت بڑی خوش نصیبی ہے۔ گکھڑ منڈی (محمد گلشاد سلیمی) حفظِ قرآن کی سعادت حاصل ہونا بہت بڑی خوش نصیبی ہے۔ حافظ قرآن ہونا ایسا اعزاز ہے جو دنیا و آخرت میں ہمیشہ رہنے والا ہے۔ قرآن کتابِ ہدایت بھی ہے، کتابِ شفا بھی، اور کتابِ انقلاب بھی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ان سب پر خوشی منانے کا کہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ اپریل ۲۰۲۴ء

شرعی سزائیں اور موجودہ بائبل

حدود آرڈیننس کے حوالے سے گزشتہ کالم میں ہم نے گزارش کی تھی کہ (۱) موت کی سزا (۲) سنگسار کرنا (۳) کوڑوں کی سزا (۴) جسمانی اعضا کاٹنے کی سزا اور (۵) کھلے بندوں سزا دینے کا طریقہ، آج کے دور میں ان سزاؤں کو تشدد، اذیت اور تذلیل کی سزائیں قرار دے کر انسانی حقوق کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔ دراصل یہ صرف قرآن کریم کی طے کردہ سزائیں نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ اکتوبر ۲۰۰۶ء

شراب نوشی کے خلاف عدالتِ عظمیٰ کا مستحسن اقدام، لیکن۔۔۔

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۶ جنوری ۲۰۰۶ء میں شائع شدہ ایک خبر کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے شراب پینے کی بنیاد پر برطرف ہونے والے پولیس کانسٹیبل کی اپیل نمٹاتے ہوئے اس کی برطرفی کے حکم کو اس کی جبری ریٹائرمنٹ میں تبدیل کر دیا ہے۔ فاضل جج نے قرار دیا ہے کہ کسی شرابی کو محکمہ پولیس میں رہنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ فروری ۲۰۰۶ء

حدود آرڈیننس: تاثرات و خیالات

حدود آرڈیننس کے بارے میں آزاد کشمیر کی عدلیہ اور رفقاء سے تعلق رکھنے والے تین حضرات کے تاثرات اور تحفظ حقوق نسواں بل کے حوالے سے ان کے خیالات گزشتہ کالم میں پیش کر چکا ہوں۔ اب پنجاب کے ایک ضلع میں عدالتی خدمات سرانجام دینے والے حاضر سروس ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے تاثرات انہی کے قلم سے پیش کیے جا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ نومبر ۲۰۰۶ء

حدود آرڈیننس اور ہمارا سیکولر طبقہ

پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن کے سیکرٹری جنرل سید اقبال حیدر نے بائیس جون کو معاصر قومی اخبار ”ایکسپریس“ کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ”مذہب کو چھوڑ کر پاکستان میں سیکولر ازم نافذ کیا جائے۔“ انہوں نے اس گفتگو میں یہ بھی کہا ہے کہ ”مسلمانوں کا سب سے بڑا مجرم مُلا ہے۔“ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ جون ۲۰۰۶ء

حدود آرڈیننس پر اعتراضات اور ان کا پس منظر

گزشتہ دنوں مختلف محافل میں حدود آرڈیننس اور ان کے حوالہ سے اٹھائے جانے والے سوالات پر کچھ عرض کرنے کا موقع ملا۔ ان گزارشات کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ”حدود“ کا لفظ قرآن کریم میں طلاق، وراثت اور دیگر بہت سے حوالوں سے استعمال ہوا ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ یہ قرآنی ضابطے اور قوانین حدود اللہ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اکتوبر ۲۰۰۶ء

حدود آرڈیننس اور الطاف حسین کا بیان

حدود آرڈیننس پر بحث و تمحیص کا سلسلہ آگے بڑھ رہا ہے۔ وفاقی وزیر جناب شیر افگن کا یہ بیان سامنے آیا ہے کہ کچھ بھی ہو جائے، پیر کو حقوق نسواں کے تحفظ کا بل جو دراصل حدود آرڈیننس میں ترمیمات کا بل ہے، بہرصورت منظور کر لیا جائے گا۔ اس سلسلے میں حکومت اور متحدہ مجلس عمل نے باہمی اتفاق سے عملی سیاست سے تعلق نہ رکھنے والے چند علمائے کرام کو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ ستمبر ۲۰۰۶ء

مغرب کو اپنا گستاخانہ و معاندانہ طرز عمل ترک کرنا ہو گا

سابق وزیر خارجہ جناب آغا شاہی نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں بتایا ہے کہ ڈنمارک کے جس اخبار نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکے اور کارٹون شائع کر کے دنیائے اسلام کے غیظ و غضب کو دعوت دی ہے، اس اخبار کے مالکان نے مسلمانوں کے اس غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اپنے طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ فروری ۲۰۰۶ء

نظامِ عدل، سیرت طیبہ کی روشنی میں

وزیر آباد بار ایسوسی ایشن نے سترہ مئی کو سیرت النبیؐ کے حوالے سے ایک تقریب کا اہتمام کیا جو بار کے صدر چودھری اعجاز احمد چیمہ ایڈووکیٹ کی زیر صدارت منعقد ہوئی اور ایڈیشنل سیشن جج میاں فرید حسین نے بھی خطاب کیا۔ تقریب میں مجھے ”نظامِ عدل سیرت طیبہ کی روشنی میں“ کے موضوع پر خطاب کی دعوت دی گئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ مئی ۲۰۰۶ء

قرآن کریم سے وفاداری: مسلم حکمرانوں کے لیے اسوۂ فاروقیؓ

یکم فروری ۲۰۰۶ء کو پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج کے محمود شیرانی ہال میں محکمہ اوقاف پنجاب اور اورینٹل کالج کے اشتراک سے سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی یاد میں ایک سیمینار کا انعقاد ہوا، جس کی صدارت پنجاب یونیورسٹی کے سینئر استاذ پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم چودھری نے کی، جبکہ صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف صاحبزادہ سید سعید الحسن مہمان خصوصی تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ فروری ۲۰۰۶ء

حسبہ ایکٹ اسلامی تاریخ کے تناظر میں

صوبہ سرحد میں ایم ایم اے کی حکومت نے بالآخر ”حسبہ ایکٹ“ صوبائی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے اور جس انداز سے اپوزیشن پارٹیوں نے ہنگامہ آرائی کے ساتھ اس بل پر احتجاج کیا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ بل نہ صرف صوبائی بلکہ قومی سیاست میں بھی خاصی ہلچل کا باعث بنے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ جولائی ۲۰۰۵ء

گوجرانوالہ میراتھن ریس: کھلی عدالتی تحقیقات ضروری ہے

گوجرانوالہ میں تین اپریل کو میراتھن ریس کے موقع پر پولیس اور مجلس عمل کے مظاہرین کے درمیان جو تصادم ہوا، اس پر ملک بھر میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کے مختلف پہلوؤں پر بہت کچھ لکھا اور کہا جا رہا ہے۔ جہاں تک واقعہ کا تعلق ہے، اس پر سب متفق ہیں کہ یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ اپریل ۲۰۰۵ء

مولانا محمد احمد لدھیانوی کے نام مکتوب

کل خصوصی ڈاک کے ذریعے آنجناب کا گرامی نامہ موصول ہوا، یاد فرمائی کا بے حد شکریہ! آپ نے بلاشبہ ایک اہم دینی و ملی مسئلہ کی طرف توجہ دلائی ہے اور میں بھی یہ سمجھتا ہوں کہ (۱) نفاذ شریعت (۲) تحفظ ختم نبوت اور (۳) تحفظ ناموس رسالتؐ کی طرح (۴) عقائد اہل سنت اور ناموس صحابہ کرام و اہل بیت عظامؓ کے تحفظ کی جدوجہد بھی ہمارے ایمان و عقیدہ کا تقاضہ اور اہم دینی و ملی ضرورت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ مئی ۲۰۲۰ء

معارف اسلامیہ اکادمی کا افتتاح: چند گزارشات

گکھڑ میرا آبائی شہر ہے۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم دارالعلوم دیوبند میں دورہ حدیث مکمل کرنے کے بعد ۱۹۴۳ء میں گکھڑ آ گئے تھے۔ میری ولادت ۲۸ اکتوبر ۱۹۴۸ء کو وہیں ہوئی۔ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کا قیام ۱۹۵۲ء کے دوران عمل میں لایا گیا، اس سے قبل حضرت والد صاحب گکھڑ کی مرکزی جامع مسجد میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ مارچ ۲۰۰۵ء

”گوجرانوالہ بناؤ تحریک“ ایک خوش آئند اور ضروری اقدام

گوجرانوالہ میرا شہر ہے۔ میرا بچپن، جوانی اور اب بڑھاپا اسی شہر کے در و دیوار سے شناسا چلے آ رہے ہیں۔ میری پیدائش گکھڑ کی ہے، مگر ننھیال گوجرانوالہ شہر میں ہونے کی وجہ سے بچپن کا ایک بڑا حصہ اس شہر کی گلیوں سے مانوس رہا ہے۔ میرے نانا مولوی محمد اکبر مرحوم ریلوے سٹیشن کے قریب رام بستی کی ایک مسجد کے امام تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ مارچ ۲۰۰۵ء

دینی جدوجہد کے دائرے اور تقاضے: علماء کرام سے چند گزارشات

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ میں متحدہ علماء کونسل کھاوڑہ آزادکشمیر کی قیادت اور رفقاء کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اس اجتماعی محفل میں علماء کرام کی زیارت، ملاقات اور گفتگو کی دعوت دی۔ یہ حاضری میرے لیے سعادت کی بات ہے۔ ایک عالم کی زیارت بھی ثواب کا باعث ہوتی ہے، یہاں آ کر بہت سے علماء کرام کی زیارت و ملاقات سے فیضیاب ہوا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ اپریل ۲۰۲۴ء

امدادی سامان کی تقسیم: رابطے اور نظم کی ضرورت

زلزلہ زدہ علاقوں کے چار روزہ دورے کے حوالے سے مختصر رپورٹ کچھ تاثرات کے ساتھ اس کالم میں اس سے قبل پیش کر چکا ہوں، اسی سلسلے میں کچھ مزید گزارشات پیش خدمت ہیں۔ عام لوگوں کی یہ شکایت اس سے قبل بار بار ریکارڈ پر آ چکی ہے کہ ان تک حکومتی اداروں کی رسائی بہت دیر سے ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ نومبر ۲۰۰۵ء

زلزلہ کے آثار

میں دس رمضان المبارک کو بیرون ملک سفر سے واپس پہنچا تو پہلے سے طے شدہ مصروفیات نے کسی اور طرف توجہ دینے کا موقع ہی نہیں دیا۔ گکھڑ میں معارف اسلامیہ اکادمی نے چند سالوں سے شعبان المعظم اور رمضان المبارک کی تعطیلات میں دورہ تفسیر قرآن کریم کا اہتمام کر رکھا ہے۔ ہمارے فاضل ساتھی مولانا داؤد احمد، جو مدرسہ مظاہر العلوم گوجرانوالہ کے استاذ حدیث ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ نومبر ۲۰۰۵ء

بڑی آزمائش: علماء کرام سے چند گزارشات

میں اس وقت آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں ہوں۔ گزشتہ روز پاکستان شریعت کونسل کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا قاری جمیل الرحمٰن اور آل جموں و کشمیر جمعیت علماء اسلام کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الحی کے ہمراہ یہاں پہنچا ہوں۔ ہم نے حکومت آزاد کشمیر کے ڈائریکٹر امور دینیہ مولانا مفتی محمد ابراہیم اور باغ کے ضلع مفتی مولانا مفتی عبد الشکور ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ نومبر ۲۰۰۵ء

دینی مدارس کی مخالفت کرنے والوں کا شکریہ

گزشتہ بدھ اور جمعرات دو دن خاصے مصروف گزرے۔ ان دنوں دارالعلوم تعلیم القرآن باغ آزاد کشمیر سے ملحق جامعہ عائشہ للبنات میں ختم بخاری شریف کی تقریب تھی اور اسی روز وہیں جمعیت طلبہ اسلام آزاد کشمیر کے دو روزہ تربیتی کنونشن کا آغاز تھا۔ میں نے حسب معمول آتے جاتے تین چار پروگرام اور بھی ساتھ شامل کر لیے اور آزاد کشمیر کا سن کر میرے دو نواسے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ اگست ۲۰۰۵ء

معاصر ادیان و مذاہب کا مطالعہ اور دینی مدارس

میں ایک عرصہ سے دینی مدارس کے ارباب حل و عقد پر زور دے رہا ہوں کہ علماء کرام اور طلبہ کو دیگر معاصر مذاہب و ادیان کی موجودہ صورت حال اور مسلمانوں کے ساتھ ان کے معاملات سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ وہ آج کے عالمی ماحول میں اپنے اردگرد تمام معاملات و ضروریات پر نظر رکھتے ہوئے اسلام کی زیادہ بہتر طور پر ترجمانی کر سکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ مئی ۲۰۰۵ء

’’سفر نامہ دارالعلوم دیوبند‘‘

دارالعلوم دیوبند کے تاریخی صد سالہ اجتماع میں شیخین کریمین والدِ گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر اور عم مکرم حضرت مولانا عبد الحمید خان سواتی رحمہما اللہ تعالیٰ کی سرپرستی اور امامت میں مجھے بھی شرکت کی سعادت حاصل ہوئی تھی اور چند روز ان بزرگوں کے ساتھ اس مادرِ علمی میں بسر ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ اپریل ۲۰۲۴ء

قدیم جاہلانہ اقدار اور تہذیبِ نو: ایک ہی سکے کے دو رخ

قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں سب سے بڑا معجزہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے باقی معجزات پر بھی ہمارا ایمان ہے، البتہ ہم نے ان کا مشاہدہ نہیں کیا اور دیکھے بغیر خبرِ صحیح کی بنیاد پر ان پر ایمان رکھتے ہیں، مگر قرآن کریم وہ معجزہ ہے جس پر ہمارا ایمان بھی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ نومبر ۲۰۰۵ء

زلزلے کی تباہ کاریاں: آئندہ کی ترجیحات

عید الفطر کے بعد آزاد کشمیر اور صوبہ سرحد کے بعض زلزلہ زدہ علاقوں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ لاہور سے پاکستان شریعت کونسل کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا قاری جمیل الرحمٰن اختر شریک سفر تھے، بلکہ سارا سفر انہی کی گاڑی پر ہوا۔ گوجرانوالہ سے ڈاکٹر محمد رفیق میر ساتھ ہو گئے۔ کچھ ساتھی قاری صاحب کے ہمراہ بھی تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ نومبر ۲۰۰۵ء

’’احکام شریعت میں حالات و زمانہ کی رعایت‘‘

اسلام ادیانِ سماویہ میں آخری دین ہے جس نے قیامت تک نسلِ انسانی کی راہنمائی کرنی ہے اور اس کے احکام و قوانین رہتی دنیا تک انسانی معاشرہ کے لیے فطری قوانین و نظام کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وحی و نبوت کا دروازہ بند ہوگیا تھا جس کی وجہ سے اس دوران نئی آسمانی تعلیمات کا کوئی امکان نہیں رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ دسمبر ۲۰۱۶ء

دنیا پر ’’جبری آزادی‘‘ مسلط کرنے کا امریکی اعلان

صدر جارج ڈبلیو بش نے دوسری مدت صدارت کے لیے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ اس موقع پر روایتی تقریب کا اہتمام کیا گیا اور ہزاروں محافظوں کے جلو میں امریکہ کے صدر نے اپنی دوسری مدت صدارت کا آغاز کیا۔ انہوں نے اس موقع پر جن خیالات اور جذبات کا اظہار کیا، اس کی صدائے باز گشت پوری دنیا میں سنی گئی اور ان کے عزائم پر مختلف اطراف سے رد عمل کا اظہار کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ جنوری ۲۰۰۵ء

’’انقلابِ شام‘‘

عباسی خلافت کے خاتمہ کے ساتھ جس طرح فاطمی حکومت وجود میں آئی اور اس میں ابن علقمی کے کردار نے اپنے اثرات دکھانا شروع کیے وہ اسلامی تاریخ کا ایک افسوسناک باب ہے۔ یہی وجہ تھی کہ صلیبی جنگوں کے دوران سلطان نور الدین زنگیؒ اور سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے صلیبیوں کے خلاف صف آراء ہونے سے پہلے ان منحوس اثرات سے نمٹنا ضروری سمجھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ نومبر ۲۰۱۶ء

اقوام متحدہ، انسانی حقوق کا چارٹر اور عالمِ اسلام

پہلی جنگ عظیم کے بعد ”انجمن اقوام“ کے نام سے ایک عالمی تنظیم کا قیام عمل میں لایا گیا تھا، جس کا مقصد اقوام و ممالک کے درمیان جنگ کو روکنا اور متحارب اقوام و ممالک کو اس بات پر آمادہ کرنا تھا کہ وہ باہمی تنازعات کو جنگ کی بجائے بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد خلافت عثمانیہ ختم ہو گئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ ستمبر ۲۰۰۵ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter