ایک اور بل

پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں حقوق نسواں کے تحفظ کے حوالے سے ایک اور بل پیش کر دیا ہے، جس میں عورتوں کو وراثت سے محروم رکھنے، ان کی جبری شادی، قرآن کریم کے ساتھ شادی کے نام سے انہیں نکاح کے حق سے محروم کرنے اور ونی جیسی معاشرتی رسموں اور رواجوں کو قابل تعزیر جرم قرار دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ فروری ۲۰۰۷ء

مغرب کا علمی جائزہ لینے کی ضرورت ہے

ورلڈ اسلامک فورم کے سیکریٹری جنرل مولانا مفتی برکت اللہ، جو رمضان المبارک کے دوسرے عشرہ کے آغاز میں پاکستان آئے تھے، گزشتہ روز واپس لندن چلے گئے ہیں۔ مفتی برکت اللہ صاحب کا تعلق بھارت میں ممبئی کے علاقہ بھیونڈی سے ہے، دارالعلوم دیوبند کے فضلاء میں سے ہیں، ایک عرصہ سے لندن میں مقیم ہیں اور مختلف حوالوں سے دینی خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ اکتوبر ۲۰۰۷ء

قبل اسلام اور دورِ جدید کی جاہلیت

آکسفورڈ کی مدینہ مسجد میں مغرب کی روشن خیالی کے حوالے سے ہونے والی گفتگو کا کچھ حصہ ابھی باقی ہے اور برطانیہ سے واپسی ہیتھرو ایئرپورٹ پر برطانوی انٹیلیجنس کے ایک افسر کے ساتھ ٹاکرے کا دلچسپ قصہ بھی قارئین کے گوش گزار کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اس سے پہلے ایک وضاحت ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ جنوری ۲۰۰۷ء

نیویارک میں مصروفیات

جدہ سے نیویارک تک سعودی عرب ایئر لائنز کی تیرہ گھنٹے کی نان سٹاپ فلائٹ ہے، اس پر نیویارک سے جدہ کا سفر میں نے اٹھارہ سال قبل کیا تھا، مگر جدہ سے نیویارک کا سفر کرنے کا اس سال موقع ملا۔ اتنی لمبی نان سٹاپ فلائٹ کا اپنا ہی ایک لطف ہے۔ مسلسل چودہ پندرہ گھنٹے سیٹ پر بیٹھے رہنے سے تھکاوٹ اور اکتاہٹ کی جو کیفیت ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ ستمبر ۲۰۰۷ء

ٹونی بلیئر: فکری و نظریاتی محاذ کا تازہ دم پہلوان

برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر ستائیس جون کو اپنے عہدہ سے سبکدوش ہو رہے ہیں اور ان کی جگہ مسٹر گورڈن براؤن پارٹی کی قیادت اور وزارت عظمیٰ سنبھالنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ حکمران لیبر پارٹی کی قیادت میں یہ تبدیلی برطانوی رائے عامہ کے اس شدید دباؤ کا نتیجہ ہے جو مسٹر ٹونی بلیئر کی حکومت کی طرف سے عراق کی جنگ میں اختیار کی جانے والی پالیسی کے خلاف سامنے آیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ جون ۲۰۰۷ء

دورہ برطانیہ: تاثرات و مشاہدات

اس دفعہ برطانیہ میں ۵ مئی سے ۲۳ مئی تک قیام رہا اور حسب معمول مختلف شہروں میں دینی اجتماعات سے خطاب کے علاوہ احباب سے ملاقاتیں کیں، تعلیمی اداروں کے مشاورتی اجلاسوں میں حاضری ہوئی اور ورلڈ اسلامک فورم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کی، جس میں آئندہ تین سال کے لیے فورم کے نئے عہدہ داروں کا انتخاب عمل میں لایا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم جون ۲۰۰۷ء

یومِ نسواں اور فری سوسائٹی کا منطقی انجام

آٹھ مارچ کو دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا گیا اور عورتوں کے حقوق کے حوالے سے خصوصی ڈراموں کا اہتمام کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ۸ مارچ ۱۸۵۷ء کو نیویارک کی فیکٹریوں میں کام کرنے والی خواتین نے اپنی کم تنخواہوں پر احتجاج کیا تھا اور اس کے بعد ایک لیبر یونین بنا لی تھی، جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ عورتوں کی پہلی لیبر یونین تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ مارچ ۲۰۰۷ء

۲۰۲۳ء کی متفرق رپورٹس

متحدہ علماء کونسل پاکستان نے محکمہ تعلیم کی طرف سے دینی مدارس کی متوازی رجسٹریشن اور اوقاف ایکٹ کے تحت دینی قیادتوں کو اعتماد میں لیے بغیر محکمہ اوقاف کی سرگرمیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، اور محکمہ تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ دینی قیادتوں کو اعتماد میں لے کر کام کو آگے بڑھایا جائے۔ یہ مطالبہ آج ۱۳ فروری ۲۰۲۳ء کو لاہور میں مولانا عبد الرؤف ملک کی زیر صدارت ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۲۳ء

برداشت اور عدمِ برداشت

ڈنمارک کے اخبار ”جیلنڈز پوسٹن“ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پر مسلمانوں کے رد عمل کا دائرہ مسلسل وسیع ہوتا جا رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی مسلم ممالک میں عوام اور ان کی حکومتوں کے درمیان اس حوالے سے فاصلہ بھی بڑھنے لگا ہے۔ مسلم حکومتوں کی خواہش اور کوشش ہے کہ ان خاکوں کے خلاف احتجاج تو ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ فروری ۲۰۰۶ء

ایک نام اور نسبت کی تین علمی شخصیات

سلمان ندوی کے نام سے تین بزرگ ہمارے حلقہ میں معروف ہیں اور میری تینوں سے نیاز مندی ہے۔ ان میں سب سے سینئر ڈاکٹر سید سلمان ندوی ہیں، جو تحریک پاکستان کے ممتاز رہنما حضرت علامہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ کے فرزند گرامی ہیں، قدیم و جدید علوم دونوں پر دسترس رکھتے ہیں، ایک عرصہ تک جنوبی افریقہ کی ڈربن یونیورسٹی میں شعبہ اسلامیات کے سربراہ رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم دسمبر ۲۰۰۶ء غالباً

تحریکِ ختمِ نبوت کی معروضی صورتحال اور ضروری تقاضے

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج مدنی مسجد سمن آباد میں حاضری پر مولانا قاضی عبد الودود نے بتایا کہ ان کے والد گرامی حضرت مولانا حافظ عبد الصبور رحمہ اللہ تعالیٰ کی وفات کو بارہ سال گزر چکے ہیں جس سے ماضی کی بہت سی یادیں ذہن میں تازہ ہو گئیں۔ مولانا حافظ عبد الصمدؒ میرے بزرگ ساتھی اور بڑے بھائی تھے، جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے فاضل تھے، مجھ سے چند سال قبل فراغت حاصل کی مگر تین چار سال ہمارے اکٹھے جامعہ میں گزرے اور کچھ اسباق میں رفاقت بھی رہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ مئی ۲۰۲۴ء

’’دفاعِ سیدنا حضرت عثمان غنیؓ ریلی‘‘

میں اس ریلی کے شرکاء کے ساتھ ان کے جذبات و احساسات میں یکجہتی کے اظہار اور ان کے اس جائز مطالبہ کی حمایت کے لیے آپ کے سامنے کھڑا ہوں کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی کرنے والے بدبخت کو گرفتار کیا جائے اور قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ میں حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی اس سنت کی پیروی کرنے کے لیے آیا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ مئی ۲۰۲۴ء

تخصصات کے کورسز اور جدید مسائل

جامعۃ التخصص فی العلوم الاسلامیہ ملتان کی افتتاحی تقریب کے موقع پر جامعہ کے سربراہ حضرت مولانا امداد اللہ انور صاحب اور ان کے رفقاء کو مبارکباد دیتا ہوں اور تمام شرکاء کی خدمت میں مبارکباد عرض کرتے ہوئے یہ کہنا چاہوں گا کہ بہت ضروری اور مبارک عمل ہے کہ دینی مدارس کے طلبہ اور فضلاء کو ضروری مضامین میں تخصصات کرائے جائیں۔ یہ ہماری پرانی روایت میں ’’تکمیل‘‘ کہلاتی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ اپریل ۲۰۲۴ء

گوجرانوالہ میں ’’بین المسالک ہم آہنگی کھیل میلہ‘‘ کا اہتمام

۲۳ مئی کو نیشنل اسٹیڈیم گوجرانوالہ میں دینی مدارس کے طلبہ کے درمیان ’’بین المسالک ہم آہنگی کھیل میلہ‘‘ کی افتتاحی تقریب میں شرکت میرے لیے بے حد خوشی کا باعث ہوئی۔ اس دو روزہ پروگرام کا اہتمام ضلعی انتظامیہ نے کیا ہے اور کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن، آر پی او، ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ، اور سی پی او سمیت ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام افتتاحی تقریب میں موجود تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ مئی ۲۰۲۴ء

حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ کی حسین یادیں

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی قدس اللہ سرہ العزیز ان بزرگوں میں سے ہیں جن کے ساتھ میری زندگی بھر تحریکی، مسلکی اور دینی رفاقت رہی۔ جن چند بزرگوں کے ساتھ میری رفاقت مسلسل رہی اور ایک دوسرے پر اعتماد بھی الحمد للہ ہمیشہ رہا، ان میں ایک مولانا چنیوٹیؒ ہیں۔ آپؒ چنیوٹ کے رہنے والے تھے، ان کے والد محترم سے میری ملاقاتیں ہوئی ہیں، ان کی زیارت بھی کی ہے، ان کے گھر کئی دفعہ گیا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۶ء / ۲۰۱۷ء

عامر چیمہ کی شہادت

عامر چیمہ کی شہادت نے وہ زخم ایک بار پھر تازہ کر دیے ہیں جو یورپ کے بعض اخبارات میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر مسلمانانِ عالم کے دلوں پر لگ گئے تھے اور مسلمانوں نے احتجاج اور جذبات کے پرجوش اظہار کے ساتھ ان زخموں پر کسی حد تک مرہم رکھ لی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ مئی ۲۰۰۶ء

منافق کون ہیں؟

صدر جنرل پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ جو لوگ ”تحفظ حقوقِ نسواں بل“ کی مخالفت کر رہے ہیں وہ منافق ہیں، حالانکہ اس بل کی، جو اب ایکٹ بن چکا ہے، مخالفت کرنے والے صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ اس میں عورتوں کے ان حقوق کے حوالے سے کوئی بات شامل نہیں جو پاکستانی معاشرے میں عورت کو درپیش ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ دسمبر ۲۰۰۶ء

انسانی معاشرہ اور مسلم سوسائٹی پر ”مولوی“ کے احسانات

میں ان دنوں چند روز کے لیے دوبئی آیا ہوا ہوں اور گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے اپنے ایک پرانے دوست اور ساتھی محمد فاروق شیخ صاحب کے ہاں شارجہ میں قیام پذیر ہوں۔ خیال ہے کہ ۱۳ نومبر کو رات گوجرانوالہ واپس پہنچ جاؤں گا اور ۱۴ نومبر منگل کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ”دینی مدارس کے اساتذہ کے لیے تربیتی نظام کی ضرورت اور تقاضے“ کے عنوان پر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ نومبر ۲۰۰۶ء

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کی سالانہ رپورٹ

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ ۱۹۸۹ء سے اسلام کی دعوت و تبلیغ، اسلام مخالفت لابیوں کی نشان دہی اور ان کی سرگرمیوں کے تعاقب، اسلامی احکام و قوانین پر کیے جانے والے اعتراضات و شبہات کے ازالہ، دینی حلقوں میں باہمی رابطہ و مشاورت کے فروغ اور نوجوان نسل کی فکری و علمی تربیت و راہ نمائی کے لیے مصروف کار ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ اکتوبر ۲۰۰۶ء

تحریک ختم نبوت کی چند یادیں

میری یادداشتوں کے حوالے سے ایک شعبہ تحریک ختم نبوت کا بھی ہے۔ ختم نبوت کی تحریک میں کچھ نہ کچھ حصہ لیتا رہا ہوں۔ تحریک ختم نبوت کے ساتھ میرا تعلق کب ہوا، کن کن مراحل سے گزرا اس کا کچھ خلاصہ عرض کرنا چاہوں گا۔ قادیانیوں کو پاکستان بننے کے بعد غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لیے ایک تحریک ۱۹۵۳ء میں چلی تھی۔ اس وقت میری عمر پانچ سال تھی، مگر اس دور کی چند جھلکیاں ابھی تک ذہن کی اسکرین پر جھلملا رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۶ء، ۲۰۱۷ء

دینی مدارس کے تعلیمی نصاب و نظام کا اصل ہدف

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ماہِ رواں کے دوران پاکستان بلکہ جنوبی ایشیا کے تمام ممالک میں دینی مدارس کے تعلیمی سال کا آغاز ہو رہا ہے جن کی تعداد مجموعی طور پر ایک لاکھ سے زیادہ بیان کی جاتی ہے جبکہ ان میں پڑھنے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ ان مدارس کا ایک بڑا امتیاز یہ ہے کہ یہ دین کی تعلیم اصل مآخذ اور اوریجنل سورسز سے دیتے ہیں جو دنیا کا مسلّمہ تعلیمی اصول ہے کہ کسی بھی علم یا فن کی تعلیم اصل ماخذ سے دی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ مئی ۲۰۲۴ء

جناب بش! ایک نظر ادھر بھی

ریاست ہائے متحدہ امریکا کے صدر جارج بش تین مارچ کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دورہ پر آ رہے ہیں اور پاکستانی قوم ملک گیر ہڑتال کے ساتھ ان کا خیر مقدم کر رہی ہے۔ تین مارچ کی یہ ہڑتال اگرچہ ڈنمارک اور دوسرے مغربی ملکوں سے بعض اخبارات میں سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے اہانت آمیز خاکوں کی اشاعت اور ان کے حوالے سے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم مارچ ۲۰۰۶ء غالباً

تحفظِ حقوقِ نسواں بل کے بارے میں خصوصی علماء کمیٹی کا موقف

حدود آرڈیننس میں مجوزہ ترامیم اور قومی اسمبلی میں زیر بحث تحفظ حقوقِ نسواں بل کے بارے میں (۱) مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، (۲) مولانا حسن جان، (۳) مولانا مفتی منیب الرحمٰن، (۴) مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، (۵) مولانا مفتی غلام الرحمٰن، (۶) مولانا ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی اور (۷) راقم الحروف ابو عمار زاہد الراشدی پر مشتمل جو ”خصوصی علماء کمیٹی“ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ و ۵ اکتوبر ۲۰۰۶ء

باجوڑ مدرسہ پر بمباری اور حدود بل سے متعلق چند معروضات

باجوڑ میں دینی مدرسے پر وحشیانہ بمباری اور اسی سے زائد افراد کی شہادت کے خلاف ملک بھر میں احتجاج جاری ہے اور پاکستان کے عوام کے ساتھ ساتھ بہت سے بین الاقوامی حلقے بھی اس بات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ یہ کارروائی فی الواقع دہشت گردوں کے خلاف کی گئی ہے۔ جو تین افراد اس بمباری میں زخمی ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ نومبر ۲۰۰۶ء

تحفظِ حقوقِ نسواں بل: سسٹم کو درست کیا جائے

حدود آرڈیننس اور تحفظ حقوق نسواں بل کی بحث پھر سے قومی حلقوں میں شدت اختیار کرنے والی ہے، اس لیے کہ ۱۰ نومبر کو قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے، جس کے بارے میں وفاقی وزیر قانون کا کہنا ہے کہ اس میں تحفظ حقوق نسواں بل کو سلیکٹ کمیٹی کی تجویز کردہ صورت میں منظور کر لیا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ نومبر ۲۰۰۶ء

پاکستانی معاشرے میں عورت کی مظلومیت کی معروضی صورتحال

مذاکرات کی تفصیلی کہانی تو آئندہ ایک دو کالموں میں ان شاء اللہ تعالیٰ بیان کروں گا، مگر اس کے پہلے مرحلے کے طور پر علمائے کرام کی ان تجاویز اور سفارشات کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں، جو انہوں نے تحفظ حقوق نسواں بل پر متحدہ مجلس عمل کے تحفظات کے حوالے سے حکمران جماعت اور وزارت قانون کے ذمہ دار افراد کے ساتھ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ ستمبر ۲۰۰۶ء

یومِ آزادی ۱۴ اگست یا رمضان المبارک کی ستائیسویں شب

حکیم محمد سعید شہید رحمہ اللہ کی بات میرے ذہن سے اتر چکی تھی، مگر مولانا عبد المجید لدھیانوی نے پھر یاد دلا دی۔ بیسویں صدی عیسوی کے اختتام پر ہم نے اس حوالے سے کچھ پروگرام بنانا چاہے اور اس عنوان سے کچھ فکری اور نظریاتی پروگراموں کی ترتیب کرنا چاہی تو اس سلسلے میں مشاورت اور رہنمائی کے لیے مختلف ارباب دانش کو خطوط لکھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ اگست ۲۰۰۶ء

یہودی مصنوعات کا بائیکاٹ، جہاد کا ایک اہم شعبہ

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ گوجرانوالہ کا شکر گزار ہوں کہ ایک اہم موضوع پر اس سیمینار کا اہتمام کیا جس میں جمعیۃ کے سیکرٹری جنرل مولانا حافظ گلزار احمد آزاد نے عمرہ اور بحرین کے حالیہ سفر کی کچھ تفصیلات بیان کی ہیں اور وہاں کے دوستوں کے جذبات سے ہمیں آگاہ کیا ہے، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر سے نوازیں، آمین یا رب العالمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ اپریل ۲۰۲۴ء

وفاقی وزیرخزانہ سے ایک اہم گزارش

روزنامہ اسلام ملتان میں ۲۴ اپریل کو وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب صاحب کے دو بیان الگ الگ شائع ہوئے ہیں جن میں انہوں نے ملکی معاشی صورتحال اور حکومت کی پالیسی کے حوالے سے وضاحت کی ہے۔ ایک خبر کے مطابق انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سودی نظام کے خاتمے کا مرحلہ وار سلسلہ جاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۲۴ء

مغرب سے مکالمہ کی ضرورت، ترجیحات اور تقاضے

ماہ رواں کے آغاز میں کراچی حاضری کے موقع پر جامعۃ الرشید میں اساتذہ کرام کی ایک نشست میں ”مغرب سے مکالمہ کی ضرورت، ترجیحات اور تقاضے“ کے عنوان سے تفصیلی گفتگو کا موقع ملا، اس کے علاوہ جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن نارتھ، کراچی میں درجہ تخصص کے طلبہ کے سامنے دو نشستوں میں اس عنوان پر اظہار خیال کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ و ۲۸ مارچ ۲۰۰۶ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter