دنیا کو حقوق کا شعور کس نے عطا کیا؟
آج کی نشست میں، جو اس موضوع پر اس سلسلہ کی آخری نشست ہے، اسلامی تعلیمات اور سنت نبویؐ میں انسانی حقوق کی پاسداری کے حوالہ سے کچھ واقعات عرض کرنا چاہوں گا تاکہ مغرب کے اس پروپیگنڈا اور دعوے کی حقیقت واضح ہو سکے کہ دنیا کو اس نے حقوق کا شعور عطا کیا ہے اور انسانی حقوق کی پاسداری کا دور مغرب کے تہذیبی انقلاب سے شروع ہوا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
فہم قرآن کے دو صحیح راستے
فہم قرآن کے حوالہ سے بیسیوں پہلو ہیں جن کے بارے میں عرض کیا جا سکتا ہے اور ان کی ضرورت بھی ہے لیکن آج میں صرف اس ایک پہلو پر گزارش کروں گا کہ قرآن کریم کا ترجمہ پڑھتے ہوئے کسی تفسیر کا مطالعہ کرتے ہوئے یا درس سنتے ہوئے قرآن کریم کی کسی آیت کے مفہوم کے بارے میں ذہن الجھ جائے، مغالطہ لگ جائے، غلط فہمی پیدا ہو جائے، کنفیوژن ہو جائے، کوئی اشکال سامنے آجائے تو ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حدیث نبوی ؐ کی تین نمایاں حیثیتیں
آج مجھے حدیث نبویؐ کے بارے میں کچھ گزارشات پیش کرنی ہیں۔ حدیث لغوی طور پر گفتگو اور بات چیت کو کہتے ہیں مگر شریعت میں اسے جناب نبی اکرمؐ کے حوالہ سے گفتگو کے لیے مخصوص کر دیا گیا ہے، اور حدیث نبویؐ میں جناب نبی اکرمؐ کے ارشادات اور افعال و اعمال کے علاوہ صحابہ کرامؓ کے ایسے اقوال و اعمال کو بھی شمار کیا جاتا ہے جو نبی اکرمؐ کے علم و مشاہدہ میں آئے اور آپؐ نے ان پر خاموشی اختیار کر کے ان کی تصویب و توثیق فرما دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ماں اور بچے کی صحت
ماں اور بچے کی صحت کے حوالہ سے اس سیمینار میں باخبر حضرات کی طرف سے جو اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں اور صورتحال کا جو نقشہ کھینچا گیا ہے وہ انتہائی تشویشناک ہے، حاملہ خواتین کو بروقت طبی امداد مہیا نہ ہونے کے باعث ہزاروں خواتین کی زچگی کی حالت میں موت، اور نوزائیدہ بچوں کو ضروری طبی سہولتیں میسر نہ آنے کی وجہ سینکڑوں بچوں کی اموات کے بارے میں یہ اعداد و شمار چونکا دینے والے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مسئلہ سود پر دو اہم باتیں
مختلف مکاتب فکر کے ارباب علم و دانش سود اور سودی نظام کے حوالہ سے موجودہ معروضی صورتحال اور اس سلسلہ میں مشکلات و مسائل کے حل کے موضوع پر اظہار خیال کر رہے ہیں۔ میں اس مرحلہ میں اس موضوع پر کوئی تفصیلی بات نہیں کرنا چاہتا اور مختلف الخیال ارباب دانش کے خیالات سننے کی نیت سے حاضر ہوا ہوں، مگر مجھ سے پہلے ایک فاضل دوست نے اپنے خطاب میں کچھ اہم نکات کی طرف توجہ دلائی ہے جن میں سے دو نکات پر مختصرًا کچھ عرض کرنا مناسب سمجھتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
علماء اور جدید دور کے تقاضے
آپ حضرات دعوت و ارشاد کے حوالہ سے تخصص کا دو سالہ کورس مکمل کر کے چند دنوں میں فارغ التحصیل ہونے والے ہیں جبکہ آپ میں سے بیشتر حضرات اپنا تعلیمی دورانیہ مکمل کر کے عملی زندگی کا آغاز کر رہے ہیں، اس لیے آپ کے استاذ محترم حضرت مولانا ڈاکٹر ساجد الرحمن صدیقی صاحب کا ارشاد ہے کہ میں آپ حضرات کے سامنے اس موضوع پر گفتگو کروں کہ رسمی تعلیم کے دور سے فارغ ہونے کے بعد عملی زندگی میں داخل ہونے پر آپ حضرات کو کس قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا ہو گا اور ان سے نمٹنے کے لیے آپ کیا تدابیر اختیار کریں گے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تحقیق کی اسلامی روایت اور اسلاف کا طرز عمل
تحقیق، روایت اور ہمارے اسلاف کا طرز عمل، اگر میں اس موضوع کو تھوڑا سا تقسیم کروں تو یہ تین بنیادی نکتے ہیں: (۱) تحقیق کیا ہے؟ (۲) ہماری روایت کیا ہے؟ (۳) اور آج کے دور میں اس کے تقاضے کیا ہیں؟ اس عنوان سے مزید شاخیں بھی نکلتی ہیں اور نئے عنوان بنتے ہیں لیکن میں انہی دو تین نکات کے گرد اپنی گفتگو مکمل کرنے کی کوشش کروں گا۔ تحقیق حق سے ہے، حق معلوم کرنا، حق تک رسائی حاصل کرنا، حق کو سمجھنا، حق کی وضاحت کرنا، حق کو پیش کرنا، حق کو ثابت کرنا، حق کی حجت قائم کرنا، یہ سارے تحقیق کے مراحل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
زندگی کی حقیقت اور اس کیلئے فائدہ مند کام
زندگی میں پہلی بار ہانگ کانگ میں حاضری کا موقع ملا ہے، ہانگ کانگ کی مساجد کے بورڈ آف ٹرسٹیز کا شکرگزار ہوں جس کی دعوت پر یہ حاضری ہوئی ہے، اور مولانا قاری محمد طیب کا شکرگزار ہوں جنہوں نے اپنے اس مرکز میں آپ حضرات کے ساتھ ملاقات اور گفتگو کا اعزاز بخشا ہے اللہ تعالیٰ سب کو جزائے خیر سے نوازیں، ہمارا مل بیٹھنا قبول فرمائیں، کچھ مقصد کی باتیں کہنے سننے کی توفیق دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قرآن کریم اور حضرت عمرؓ کا ذوق
مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میری مادر علمی ہے اور تعلیمی و تدریسی سرگرمیوں کی جولانگاہ بھی ہے۔ اس کا قیام ۱۹۵۲ء میں عمِ مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی دامت برکاتہم اور ان کے رفقاء کی مساعی سے عمل میں آیا تھا، اور اپنے برادر گرامی مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے ساتھ مل کر انہوں نے کم و بیش نصف صدی تک اس گلشن علم کی آبیاری کی ہے۔ گزشتہ پانچ چھ برس سے دونوں بھائی معذور اور صاحب فراش ہیں اور ان کے حکم اور ہدایت پر ان کی جگہ یہ خدمت سرانجام دینے کی ہم ناکارہ لوگ کوشش کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
آسمانی مذاہب میں قربانی کا تصور
آج عید کا دن ہے، قربانی کی عید جس میں دنیا بھر کے مسلمان اللہ تعالی کی بارگاہ میں نذرانہ پیش کرنے کے لیے جانور ذبح کرتے ہیں اور اللہ تعالی کی رضا کے لیے اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔ یہ قربانی نسلِ انسانی کے آغاز سے چلی آرہی ہے، قرآن کریم نے سب سے پہلی قربانی کا حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل کے حوالہ سے ذکر کیا ہے۔ ان کا رشتے پر جھگڑا ہو گیا تھا، فیصلے کے لیے انہیں قربانی پیش کرنے کو کہا گیا، دونوں نے قربانی پیش کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی ؒ
حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ ہمارے دور کے اکابر علماء میں سے تھے جن کی امارت و سیادت کو ملک بھر کے علماء تسلیم کرتے تھے۔ بزرگ تھے، بڑے تھے، وہ ہم سب کے رہنما اور سربراہ تھے۔ سیاسی میدان میں بھی، روحانی دائرے میں بھی اور علمی ماحول میں بھی۔ ضلع رحیم یار خان میں خانپور کٹورہ کے ساتھ ایک بستی ہے دینپور شریف، جو ہمارے بڑے علمی اور روحانی مراکز میں سے ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اہلِ سنت کے تمام مکاتب فکر کی مشترکہ جدوجہد
جامع مسجد خلفاء راشدینؓ کھیالی دروازہ گوجرانوالہ کے منتظمین کا گزشتہ چار عشروں سے معمول چلا آ رہا ہے کہ وہ محرم الحرام کے آخری عشرہ کے دوران تحفظ ناموس صحابہ کرام و اہل بیت عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عنوان سے دو روزہ کانفرنس منعقد کرتے ہیں جس میں اہل سنت کے تینوں مکاتب فکر دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث کے سرکردہ علماء کرام کا خطاب ہوتا ہے اور ہزاروں عوام اس میں شریک ہوتے ہیں۔ بحمد اللہ تعالٰی میں اس کانفرنس کے بانیوں میں سے ہوں اور مسلسل شریک ہو رہا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حدیثِ نبویؐ کی ضرورت و اہمیت
’’حدیث‘‘ عربی زبان میں بات چیت اور گفتگو کو کہتے ہیں، لیکن جب ہم مذہبی حوالہ سے حدیث کا لفظ بولتے ہیں تو اس سے مراد ہر وہ بات ہوتی ہے جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول و منسوب ہو، یا ان کے بارے میں کسی روایت میں مذکور ہو۔ گویا کسی قول، عمل یا واقعہ میں جناب نبی اکرمؐ کا ذکر آجائے تو وہ حدیث بن جاتا ہے اور حضرت امام ولی اللہ دہلویؒ کے بقول حدیثِ نبویؐ تمام دینی علوم کا سر چشمہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
علومِ حدیث: امام بخاریؒ، امام طحاویؒ اور شاہ ولی اللہؒ کا اسلوب
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ہم اس وقت سب حدیث نبویؐ کے طلبہ بیٹھے ہیں اور حدیث نبویؐ کے حوالہ سے گفتگو کر رہے ہیں، حدیث نبویؐ اپنے عمومی مفہوم میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و اعمال اور احوال و واقعات پر مشتمل ہے اور تمام علوم دینیہ کا سر چشمہ اور ماخذ ہے۔ ہمیں قرآن کریم حدیث نبویؐ کی وساطت سے ملا ہے، سنت نبویؐ کے حصول کا ذریعہ بھی یہی ہے، اور فقہ کا استنباط بھی اسی سے ہوتا ہے۔ اسی لیے حدیث نبویؐ کو ہمارے نصاب میں سب سے زیادہ مقدار میں اور تفصیل کے ساتھ پڑھایا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نئے مورچے،پرانے ہتھیار ۔ لمحہ فکریہ!
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ المرکز الاسلامی بنوں میں حاضری کی ایک عرصہ سے خواہش تھی مگر ہر کام کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔ حضرت مولانا سید نصیب علی شاہ الہاشمیؒ ہمارے پرانے ساتھیوں میں سے تھے، ہم نے جمعیۃ طلباء اسلام اور پھر جمعیۃ علماء اسلام میں ایک عرصہ تک اکٹھے کام کیا ہے، ان کا یہ کام تو خود میرے ذوق کا کام ہے کہ آج کے جدید مسائل کا علمی حل اجتماعی طور پر تلاش کیا جائے اور علمی مسائل میں باہمی مشاورت اور علمی مذاکرہ کو ذریعہ بنایا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
الطاف حسین اور سلمان تاثیر کے بیانات پر ایک نظر
میں آج آپ حضرات کی وساطت سے جناب الطاف حسین (قائد ایم کیو ایم) اور جناب سلمان تاثیر (گورنر پنجاب) سے کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے گزشتہ دنوں (۱) تحفظ ناموس رسالتؐ کے قانون، (۲) قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے، (۳) اور اسلام کے نام پر انہیں اپنے مذہب کی تبلیغ سے روکنے کے قوانین پر اعتراض کیا ہے اور ان قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بخاری شریف کے چند امتیازات
بخاری شریف علم حدیث کی سب سے مستند کتاب ہے جسے ’’اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کہا جاتا ہے، حدیث نبویؐ کا علم بہت مہتم بالشان علم ہے، جسے حضرت امام ولی اللہ دہلویؒ نے تمام علوم دینیہ کی اصل اور اساس کہا ہے، اس لیے کہ تمام علوم دینیہ کے چشمے اسی سے پھوٹتے ہیں حتٰی کہ قرآن کریم بھی ہمیں حدیث نبویؐ کے ذریعے ملا ہے۔ قرآن کریم کا معنٰی و مفہوم تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائے ہیں مگر ہمیں تو قرآن کریم کے الفاظ بھی آنحضرتؐ کے ارشادات کے ذریعے حاصل ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سیرۃالنبیؐ اور مزدوروں کے حقوق
ہماری آج کی نشست کا عنوان ہے ’’سیرۃ النبیؐ اور مزدوروں کے حقوق‘‘ اس حوالے سے دو تین اصولی باتیں عرض کروں گا۔ پہلی بات یہ کہ مزدور کسے کہتے ہیں۔ شاہ ولی اللہؒ کہتے ہیں کہ ہم آپس میں اشیا اور صلاحیتوں کا تبادلہ کرتے ہیں تو ہمارا نظام چلتا ہے۔ ہر آدمی اپنی ساری ضروریات خود پوری نہیں کر سکتا، کوئی ضرورت کوئی بندہ پوری کرتا ہے، دوسری ضرورت کوئی اور پوری کرتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز
اللہ تعالٰی کا بے حساب شکر ہے کہ اس نے ہم سب کو اپنے گھر میں نماز ادا کرنے کے بعد دین کی کچھ باتیں کہنے سننے کے لیے مل بیٹھنے کی توفیق عطا فرمائی، اللہ رب العزت کچھ با مقصد باتیں عرض کرنے کی توفیق دیں اور ان پر عمل کی توفیق سے بھی نوازیں، آمین یا رب العالمین۔ میرے میزبان دوست جناب سلیمان قاضی نے فرمائش کی ہے کہ ’’ملت اسلامیہ کو درپیش چیلنجز‘‘ کے عنوان پر کچھ معروضات پیش کی جائیں، یہ ایک وسیع اور متنوع موضوع ہے جس کے مختلف پہلوؤں پر ایک مجلس میں بات کرنا مشکل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سیرۃ النبیؐ اور دعوتِ اسلام
سرورِ کائنات، فخرِ موجودات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت ملنے پر اللہ تعالٰی کی طرف سے توحید اور دین کا پیغام پہنچانے کا حکم موصول ہونے کے بعد جب اپنی دعوت اور محنت کا آغاز کیا تو کہاں سے کیا اور کیسے کیا؟ حضورؐ کو حکم ملا ’’فاصدع بما تؤمر‘‘ جو کچھ آپ سے کہا گیا ہے اب اس کا اعلان کیجیے۔ تو آپؐ نے سب سے پہلے صفا پہاڑی سے عمومی دعوت کا آغاز کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سیرۃ النبیؐ اور مہمانوں کے حقوق
آج کا ہمارا موضوع ہے کہ مہمان نوازی کے حوالے سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہدایات فرمائی ہیں اور حضورؐ کی سنت مبارکہ کیا تھی؟ آپؐ کا نبوت کے بعد جو پہلا تعارف ہے وہ مہمان نوازی کے حوالے سے ہے۔ جناب نبی اکرمؐ پر جب غارِ حرا میں پہلی وحی نازل ہوئی تو آپؐ نے یہ واقعہ ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبرٰیؓ سے ذکر کیا اور فرمایا ’’خشیت علٰی نفسی‘‘ مجھے اپنے بارے میں ڈر لگنے لگا ہے۔ آپؐ کو تشویش تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سیرۃ النبیؐ اور غلاموں کے حقوق
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ جناب نبی کریمؐ سے پہلے بھی غلاموں کا سلسلہ جاری تھا، غلام جانوروں کی طرح خریدے اور بیچے جاتے تھے اور ان سے کام لیا جاتا تھا۔ ہمارے ہاں تو یہ سلسلہ اسلام کے آغاز سے کچھ عرصہ بعد ہی کنٹرول ہو گیا تھا لیکن باقی دنیا میں یہ سلسلہ جاری رہا، مثلاً امریکہ میں اب سے ایک صدی پہلے ۱۹۲۴ء، ۱۹۲۵ء تک غلاموں کی منڈیاں لگتی تھیں اور انہیں خریدا اور بیچا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت عمرؓ اور انسانی سوسائٹی کو درپیش چیلنجز
حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ صرف ملت اسلامیہ نہیں بلکہ انسانی تاریخ کی عظیم شخصیات میں شمار ہوتے ہیں اور ان سے ہر دور میں امت مسلمہ اور انسانی سوسائٹی نے استفادہ کیا ہے جو قیامت تک جاری رہے گا۔ حضرت فاروق اعظمؓ کے بیسیوں فضائل و مناقب میں سے ایک یہ ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا کہ اگر نبوت کا سلسلہ منقطع نہ ہو جاتا اور میرے بعد کسی کے نبی کے منصب پر فائز ہونے کی گنجائش ہوتی تو عمرؓ نبی ہوتے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سیرۃ النبیؐ اور معاشی حقوق
معاشی حقوق کیا ہوتے ہیں اور معیشت کیا ہوتی ہے؟ انسان جب زندگی گزارتا ہے تو اسے اخراجات کے لیے اسباب کی ضرورت پڑتی ہے، پیسوں کی اور چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ بچہ پیدا ہوتے ہی اس کی ضروریات شروع ہو جاتی ہیں اور اس کو جتنی بھی زندگی ملے آخر وقت تک یہ ضروریات باقی رہتی ہیں۔ یہ ضروریات اسباب سے ہی پوری ہوتی ہیں، جیب میں پیسے ہوں گے، خرچہ ہو گا تو ضروریات پوری ہوں گی۔ اللہ تبارک و تعالٰی نے اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مختلف دائرے بتائے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سیرۃ النبیؐ اور غیر مسلموں کے حقوق
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج کی گفتگو کا عنوان ہے سیرۃ النبیؐ اور غیر مسلموں کے حقوق۔ نبوت سے پہلے تو مسلم اور غیر مسلم کا کوئی فرق نہیں تھا، البتہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تئیس سالہ نبوی زندگی، یعنی تیرہ سالہ مکی اور دس سالہ مدنی زندگی میں آپؐ کا تین قسم کے کافروں کا سامنا ہوا اور تینوں کے ساتھ آپؐ کا معاملہ الگ الگ تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سیرۃ النبیؐ اور قیدیوں کے حقوق
آج ہماری نشست کا موضوع ہے ’’سیرۃ النبیؐ اور قیدیوں کے حقوق‘‘ کہ حضورؐ قیدیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا کرتے تھے۔ قیدی اس زمانے میں مختلف قسموں کے ہوتے تھے۔ ایک تو جنگی قیدی ہوتے تھے۔ جنگی قیدیوں کے بارے میں قرآن کریم نے مختلف صورتیں بیان فرمائی ہیں اور حضورؐ نے بھی ان کے بارے میں وہ صورتیں اختیار کی تھیں۔ مثلاً قرآن کریم میں جنگی قیدیوں کے بارے میں ارشاد خداوندی ہے ’’امّا منا بعد وامّا فداءً حتٰی تضع الحرب اوزارھا‘‘۔ جنگی قیدیوں کے بارے میں چار پانچ آپشن ہوتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مساجد کمیٹیوں کو رفاہی اور مصالحتی کردار بھی ادا کرنا چاہیے
عاشوراء کے روز دیگر بہت سے معمولات کے ساتھ ایک ایسے کارِ خیر میں شریک ہونے کا موقع مل گیا جس طرح کے کاموں کی مجھے تلاش رہتی ہے۔ واپڈا ٹاؤن گوجرانوالہ کے سامنے کنگ مال کے عقب میں ایک نئی مسجد روڈ پر بنی ہے جس کے سامنے سے کئی بار گزر ہوا اور اب یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ مسلم روڈ کے حاجی محمد طارق بشیر صاحب نے یہ مسجد تعمیر کرائی ہے ، وہ مسجد اقدس کے سابق خطیب مولانا حافظ محمد عارفؒ کے حلقہ احباب میں سے ہیں جو ہمارے مہربان اور بزرگ دوست تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سیرۃ النبیؐ اور معاشرتی حقوق
بعد الحمد والصلٰوۃ۔ انسان دنیا کی جاندار چیزوں میں سے وہ مخلوق ہے جو اکٹھے مل جل کر زندگی گزارتے ہیں۔ تمدن، محلے، بستیاں، مکانات، شہر، ریاستیں، حکومتیں کسی اور مخلوق میں نہیں ہیں۔ یہ سسٹم نہ شیروں میں ہے، نہ ہاتھیوں میں ہے۔ تمدن یعنی مل جل کر رہنا، ایک دوسرے کی ضروریات پوری کرنا، یہ صرف انسانوں میں ہے، اگرچہ دوسرے جاندار بھی یہ کرتے ہیں لیکن محدود دائرے میں۔ تمدن کو معاشرت بھی کہتے ہیں اور یہ انسان کا خاصہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سیرۃ النبیؐ اور مسافروں کے حقوق
مسافروں کے حوالے سے آج میرا جی چاہتا ہے کہ آپ کو جناب نبی کریمؐ کے زمانے کے چند مسافروں کے قصے سناؤں۔ حضرت ابوذر غفاریؓ بنو غفار قبیلے سے تعلق رکھتے تھے، بہت بڑے صحابی ہوئے ہیں۔ ان کا قصہ بخاری شریف میں مذکور ہے، وہ خود بیان کرتے ہیں، قصہ سفر کا بھی ہے اور قبول اسلام کا بھی ہے۔ جاہلیت کے زمانے میں انہیں دیگر بہت سے حضرات کی طرح بت پرستی سے نفرت تھی، موحد تھے، اللہ کی عبادت پسند تھی اور اپنے طور پر عبادت کرتے رہتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سیرۃ النبیؐ اور پڑوسیوں کے حقوق
جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑوسیوں کے جو حقوق بیان فرمائے وہ اس طرح ہیں کہ ان کی خوشی غمی میں شریک ہوا جائے، ان کی بیمار پرسی کی جائے، حال احوال کی خبر رکھی جائے، ان کو نفع پہنچایا جائے، گھر میں کوئی چیز زیادہ پک گئی ہے یا زیادہ پکا لی جائے تو پڑوسیوں کو بھی اس میں شریک کیا جائے وغیرہ۔ جناب نبی اکرمؐ کا ارشاد گرامی ہے ’’لیس المؤمن الذی یبیت شبعان وجارہ جائع فی جنبہ وھو یعلم‘‘ وہ آدمی مومن نہیں ہے جو خود تو پیٹ بھر کر سویا ہے مگر اس کا پڑوسی بھوکا سویا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سیرۃ النبیؐ اور سیاست و حکومت
(۱) اس عنوان سے متعلق پہلی بات تو یہ ہے کہ کیا سیاست کا نبی سے اور نبی کا سیاست سے کوئی تعلق ہوتا ہے؟ قرآن کریم کہتا ہے کہ ہاں ہوتا ہے بلکہ دینی سیاست کی بنیاد ہی نبوت ہوتی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالٰی نے بنی اسرائیل کا ذکر کیا اور فرمایا، ہم نے ان کو نبوت بھی دی تھی، بادشاہت بھی دی تھی اور حکمت بھی دی تھی، چنانچہ انبیائے بنی اسرائیل علیہم السلام حضرت موسٰیؑ کے بعد یوشع بن نونؑ سے لے کر حضرت زکریاؑ تک اکثر انبیاء حاکم اور قاضی بھی تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سیرۃ النبیؐ اور افسروں کے حقوق
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ اس سال کی ہماری نشستوں کا موضوع یہ چلا آ رہا ہے کہ مختلف طبقات کے ساتھ (مسافروں، قیدیوں، غلاموں، مہمانوں، مزدوروں کے ساتھ) حضورؐ کی سنت مبارکہ کیا تھی؟ آج کی نشست کا عنوان ہے کہ افسروں کے ساتھ حضورؐ کا طرزعمل کیا تھا۔ جناب نبی کریمؐ جن لوگوں کو ڈیوٹی پر مقرر فرماتے، وقتی طور پر یا مستقل طور پر، اس زمانے میں عامل اور والی کی اصطلاح استعمال ہوتی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سیرۃ النبیؐ اور انسانی حقوق
بعد الحمد والصلٰوۃ۔ گزشتہ سال کی فکری نشستوں میں وہ نمایاں شخصیات جن کے ساتھ میں نے وقت گزارا ان کا تذکرہ ہوا، اس سال ان فکری نشستوں کا موضوع یہ ہے کہ انسانی معاشرت، سوسائٹی اور سماج کے حوالے سے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ حسنہ کیا ہے؟ حضورؐ کی سیرتِ طیبہ کیا ہے؟ حضورؐ کا معمول کیا رہا ہے؟ اس کے مختلف پہلوؤں پر بات ہو گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تزکیہ و تربیت اور اسوۂ رسولؐ
سیالکوٹ کے تاجر اور صنعتکار حضرات کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے اس کار خیر کے ذریعے اپنے ذخیرۂ آخرت میں ہی اضافہ نہیں بلکہ ملک کے دوسرے شہروں کے تاجروں اور صنعتکاروں کے لیے بھی ایک لائق تقلید نمونہ پیش کیا ہے، خدا کرے کہ دوسرے شہروں کے ایوان ہائے صنعت و تجارت بھی اس طرح کے کار خیر کر کے سیالکوٹ چیمبر کے نقش قدم پر چلیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نیکی اور اس کی حفاظت
میں نے آپ کے سامنے سورۃ الکہف کے آخری رکوع کی ایک آیت کریمہ تلاوت کی ہے جس میں اللہ تعالٰی نے ایک اہم مسئلہ کی طرف ہمیں توجہ دلائی ہے، وہ یہ کہ دنیا میں ہر مسلمان کی خواہش اور کوشش ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمائے اور ثواب والے کام کرے تاکہ یہ ثواب اور نیکیاں آخرت میں اسے کام آئیں، لیکن جس طرح نیکیاں کمانا ضروری ہے اسی طرح ان کی حفاظت بھی ضروری ہے کیونکہ بسا اوقات کمائی ہوئی نیکیاں برباد ہو جاتی ہیں اور کیے ہوئے نیک اعمال غارت ہو جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا محمد عبد اللہؒ درخواستی کی یاد میں
’’حافظ الحدیث نمبر‘‘ کے حوالہ سے ہمارے بزرگ حضرات مولانا مجاہد الحسینی جو تبصرہ کر چکے ہیں میں اس میں کسی اور اضافے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا، البتہ اس حوالہ سے کچھ عرض کرنا چاہوں گا کہ اس خصوصی نمبر کی اشاعت سے جہاں نئی نسل کے علماء اور کارکنوں کو حضرت درخواستیؒ اور ان کی جدوجہد سے روشناس ہونے کا موقع ملے گا وہاں میرے جیسے پرانے کارکنوں کے لیے بھی یہ خصوصی نمبر بہت سی یادوں کو تازہ کرنے کا باعث ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حدیث و سنت کی اہمیت اور امام بخاری کا اسلوبِ استدلال
عزیز طلبہ اور طالبات سے گزارش ہے کہ مدرسہ کے ماحول میں چند سال گزارنے کے بعد اب وہ عملی زندگی میں قدم رکھیں گے تو انہیں ایک نئے ماحول کا سامنا کرنا ہو گا، بہت سی نئی باتیں دیکھنے میں آئیں گی اور تغیرات محسوس ہوں گے۔ وہ مدرسہ کے محدود ماحول سے نکل کر سوسائٹی کے وسیع ماحول میں داخل ہو رہے ہیں جسے میں یوں تعبیر کیا کرتا ہوں کہ وہ جزیرہ سے نکل کر سمندر میں کود رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
علماء کرام کی تین اہم ذمہ داریاں
مجھے یہ کہا گیا ہے کہ آج کے حالات میں علماء کرام کی ذمہ داریوں کے عنوان پر آپ حضرات سے کچھ عرض کروں۔ میرے نزدیک یہ دو الگ الگ موضوع ہیں، آج کے حالات مستقل گفتگو کے متقاضی ہیں اور اپنے اندر اس قدر وسعت اور تنوع رکھتے ہیں کہ اگر ان پر بات شروع ہو گئی تو دوسرے عنوان پر کچھ کہنے کا وقت باقی نہیں رہے گا۔ جبکہ علماء کرام کی ذمہ داریاں ایک الگ موضوع ہے اور اس کا تقاضہ بھی یہ ہے کہ اس پر تفصیل کے ساتھ گفتگو کی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قربانی کے بارے میں چند شبہات کا ازالہ
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ بخاری شریف میں حضرت براء بن عازبؓ سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی کے روز نماز عید کے لیے عید گاہ میں تشریف لائے، نماز پڑھائی، اس کے بعد خطبہ ارشاد فرمایا، اور اس میں یہ فرمایا کہ جس نے نماز کے بعد قربانی کی اس نے ہماری سنت کو پا لیا اور جس نے نماز عید سے قبل قربانی کر لی اس نے عام دنوں کی طرح گوشت کھایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی و عصری تعلیم کے حوالہ سے چند ضروری گزارشات
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ دینی مدارس کے تعلیمی سال کا اس عشرہ میں آغاز ہو رہا ہے اور پورے جنوبی ایشیا میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں دینی مکاتب و مدارس سالِ رواں کے تعلیمی دورانیہ کا سلسلہ شروع کر رہے ہیں، اس لیے میں اس موقع پر دینی مدارس کے حوالہ سے کچھ سوالات کا جائزہ لینا چاہوں گا تاکہ دینی مدارس کے تعلیمی کام کی اہمیت کا آج کے تعلیم یافتہ لوگوں کو تھوڑا بہت اندازہ ہو جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نسل انسانی کا امتیاز و اعزاز اور اس کی شکر گزاری
اللہ تعالٰی نے انسان کو باقی مخلوقات پر جو امتیاز بخشا ہے، قرآن کریم میں اس کا مختلف مقامات پر مختلف حوالوں سے تذکرہ کیا گیا ہے۔ مثلاً ایک جگہ فرمایا کہ ہم نے انسان کو ’’احسن تقویم‘‘ میں پیدا کیا ہے یعنی سب سے اچھے سانچے میں ڈھالا ہے۔ یہ احسن تقویم جسمانی ساخت کے حوالہ سے بھی ہے اور صلاحیتوں اور استعداد کے دائرے میں بھی ہے، جس کا مشاہدہ ہم روزمرہ کرتے رہتے ہیں، لیکن ساتھ ہی فرمایا کہ ہم اسے ’’اسفل سافلین‘‘ کے درجے میں بھی اتار دیتے ہیں، یعنی وہ سب سے نچلے درجے میں چلا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حرمین شریفین کی حاضری ۔ احساسات و تاثرات
بعد الحمد والصلٰوۃ۔ آج کی نشست میں سفرِ حج کے کچھ تاثرات بیان کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ پورے بیان کرنا تو مشکل ہے، ہلکی پھلکی گفتگو ہو گی۔ پہلی گزارش یہ ہے کہ حج اور اللہ تعالٰی کے گھر کی حاضری اللہ تعالٰی کی عنایت سے ہوتی ہے، طلبی ہوتی ہے تبھی حاضری ہوتی ہے۔ اور میں تو اس کا عینی شاہد ہوں کہ طلبی ہو تو اچانک ہو جاتی ہے، نہ ہو تو بندہ جا کے بھی رک جاتا ہے۔ میں دونوں کا شاہد ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
آزادی کا تحفظ اور اہل دین کی ذمہ داریاں
کل ہمارا یوم آزادی ہے، ۱۴ اگست کو ہمیں برطانوی استعمار کی غلامی سے آزادی ملی تھی اور اسی روز پاکستان کے نام سے جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کی خودمختار نظریاتی اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آیا تھا۔ اس لیے یہ دوہری خوشی کا دن ہے اور اس روز پاکستانی عوام ملک بھر میں بلکہ دنیا میں جہاں بھی وہ ہیں، آزادی اور نئے وطن کی خوشی میں تقریبات کا اہتمام کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مانع حمل تدابیر اور اسلام
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ شادی نکاح کی بات ہو رہی تھی اور اس بات کا ذکر ہو رہا تھا کہ مانع حمل تدابیر اختیار کرنا، اس کے بارے میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ مکمل تحریر
مرد و عورت کا میل جول
جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، کسی عورت کے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ وہ تین دن سے زیادہ یعنی شرعی مسافت کا سفر کرے مگر اس کے ساتھ محرم ہو۔ محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔ تین دن سے مراد شرعی مسافت ہے جو آج کل ۴۸ میل یا ۸۰ کلو میٹر کے لگ بھگ بنتی ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی فرماتے ہیں کہ عورت اپنے گھر میں بھی کسی مرد کے ساتھ تنہا نہ ہو جبکہ ساتھ کوئی محرم نہ ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
علماء کرام کی محنت کا دائرہ کار
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم و حوا علیھما السلام کو پیدا فرمایا اور زمین کی طرف بھیجا تو دو باتیں ارشاد فرمائیں۔ ایک یہ کہ یہاں ایک عرصہ تک آپ لوگوں کو رہنا ہے، اس لیے یہاں موجود تمام اشیا آپ کے لیے قابل استفادہ ہیں، دوسری بات یہ کہ میری طرف سے وقتاً فوقتاً آنے والی ہدایات کا انتظار کریں اور ان پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کریں۔ آدم و حوا علیھما السلام کے بعد یہ سلسلہ چل نکلا اور حسب ارشاد مختلف اوقات میں انبیاء کرامؑ تشریف لاتے رہے اور انسانیت کی ہدایت کا سامان ہوتا رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ہم قرآن کس لیے پڑھتے ہیں؟
کراچی سے گزشتہ جمعرات کو گوجرانوالہ واپس پہنچ کر اپنی معمول کی مصروفیات میں محو ہو چکا ہوں مگر دو تین حاضریوں کا تذکرہ باقی ہے۔ سہراب گوٹھ کی جامع مسجد گلشن عمرؓ میں واقع جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کی شاخ کے سامنے سے تو بیسیوں مرتبہ گزر ہوا ہو گا، مگر حاضری پہلی بار ہوئی۔ جامعہ کے اساتذہ کی فرمائش تھی کہ حاضری کی کوئی صورت نکلے اور طلبہ سے کچھ معروضات بھی کی جائیں۔ چنانچہ بدھ کی شب کو مولانا محمد شفیع چترالی کے ہمراہ عشاء کی نماز وہاں ادا کی، عشاء کے بعد طلبہ سے چند گزارشات کیں اور اس کے بعد کھانے پر حضرات اساتذہ کے ساتھ مختلف امور پر تبادلۂ خیالات ہوا۔ مکمل تحریر
جہاد افغانستان اور ہماری ذمہ داریاں
آپ حضرات مختلف علاقوں سے اپنے معمولات، گھر بار، مصروفیات اور مشاغل چھوڑ کر ایک بے آب و گیاہ وادی کی سنگلاخ چٹانوں میں جمع ہیں۔ آپ کے یہاں جمع ہونے کا ایک مقصد ہے، وہ مقصد آپ دلوں میں لیے جوش و جذبہ کے ساتھ اپنے ایمان کو حرارت دے رہے ہیں، اللہ تعالٰی آپ کے اس مقصد میں آپ کو اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو کامیابی عطا فرمائے، آمین۔ وہ مقصد یہ ہے کہ آج کے دور میں جہاد کا فریضہ مسلمانوں کی عملی زندگی سے نکل چکا ہے، وہ فریضہ مسلمانوں کے عملی زندگی میں دوبارہ آ جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نیو ورلڈ آرڈر۔ عالم اسلام کے خلاف سازش
میں صرف اجتماع میں شرکت اور آپ حضرات کے ہم نشینوں میں نام لکھوانے کے لیے حاضر ہوا ہوں، وقت مختصر ہے۔ دیگر حضرات علماء کرام بھی تشریف فرما ہیں اور بالخصوص مفتی صاحب دامت برکاتہم تشریف فرما ہیں، اس لیے کسی تمہید کے بغیر صرف دو مختصر باتیں عروض کروں گا۔ ایک تو اس وقت جہاد افغانستان کس پوزیشن میں ہے اس کا نقشہ تھوڑا سا سامنے ہونا چاہیے۔ ایک وقت وہ تھا جب افغانستان کے علماء نے جہاد کا آغاز کیا تو دنیا کے دانشور یہ کہتے تھے۔ یہ پاگل لوگ ہیں روس جیسی سپر پاور چٹان ہے ان سے سر ٹکرا ٹکرا کر تھک ہار کر بیٹھ جائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ختم نبوت کے فکری و عملی تقاضے اور ہماری ذمہ داریاں
تحریک ختم نبوت کی عملی صورتحال یہ ہے کہ نوے سال کی طویل جدوجہد کے بعد اسلامیانِ پاکستان ۱۹۷۴ء میں ملک کے دستور میں منکرین ختم نبوت کے ایک گروہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے میں کامیاب ہوئے، لیکن اس دستوری ترمیم کے بعد اس کے عملی تقاضوں کی تکمیل کے لیے قانون سازی کا کام نہ ہو سکا۔ اور ۱۹۸۴ء میں مولانا محمد اسلم قریشی کے حوالے سے منظم ہونے والی تحریک ختم نبوت کے نتیجہ میں صدر جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کے جاری کردہ امتناع قادیانیت آرڈیننس کی صورت میں قانون سازی کی طرف پہلی عملی پیشرفت ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر