افتاء اور تحقیق کا ایک قابل توجہ پہلو
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج یہاں ایک نکاح کے سلسلہ میں حاضری ہوئی ہے، واہنڈو ضلع گوجرانوالہ کے حافظ محمد شفیق ہمارے عزیز شاگرد ہیں، جامعہ نصرۃ العلوم کے فاضل ہیں اور الشریعہ اکادمی میں ہمارے ساتھ شریک کار رہے ہیں، ان کے نکاح کے لیے ساہیوال آنا ہوا تو جامعہ حقانیہ میں حاضری ضروری تھی۔ یہ ہمارے بزرگوں کی جگہ ہے، حضرت مولانا مفتی سید عبد الشکور ترمذیؒ کے ساتھ میری نیازمندی رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قرآن کریم کے حوالہ سے تخصصات کی ضرورت
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ قرآن کریم کا بنیادی موضوع ہدایت ہے کہ وہ نسل انسانی کی راہنمائی کے لیے نازل کیا گیا ہے اور اس میں قیامت تک کے انسانوں کی راہنمائی اور ہدایت کا سامان موجود ہے۔ یہ قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ بدلتے ہوئے حالات اور مسلسل تغیر پذیر انسانی سوسائٹی کے ہر دور میں انسانی سوسائٹی کو قرآن کریم میں راہنمائی میسر آتی ہے اور قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دارالعلوم دیوبند کے قیام کا مقصد
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ بزم شیخ الہند گوجرانوالہ اور اپنے عزیز ساتھی حافظ خرم شہزاد کا شکر گزار ہوں کہ یہاں کسی نہ کسی عنوان سے ماہانہ فکری محفل ہوتی ہے ۔ آج کی نشست کو دارالعلوم دیوبند کے تذکرے سے مخصوص کیا ہے۔ دارالعلوم دیوبند ۳۰ مئی ۱۸۶۶ء کو وجود میں آیا تھا۔ اس مناسبت سے یہ نشست رکھی گئی ہے کہ دارالعلوم دیوبند کا تذکرہ ہو جائے۔ دارالعلوم دیوبند کے تذکرے کے بیسیوں پہلو ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
وطن اور دین کا دفاع
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ جامعہ اشرفیہ لاہور اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت دونوں آج کی اس عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کے انعقاد پر شکریہ اور تبریک کے مستحق ہیں اللہ تعالیٰ ہمارے ان دینی و علمی مراکز کی قیادتوں کو جزائے خیر سے نوازیں اور ہم سب کے مل بیٹھنے کو قبول فرماتے ہوئے اسے دنیا و آخرت میں ہمارے لیے سعادتوں اور برکتوں کا ذریعہ بنائیں، آمین یا رب العالمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نسبت کے تقاضے اور تزکیہ و طہارت کا نظام العمل
بعد الحمد و الصلوٰۃ۔ مولانا میاں عبد الوحید اشرفی صاحب کی مہربانی ہے کہ اپنے روحانی سلسلہ کے ان اجتماعات میں وقتاً فوقتاً یاد کرتے ہیں، کچھ بزرگوں کی زیارت ہوتی ہے، دوستوں سے ملاقات ہو جاتی ہے اور چند گزارشات پیش کرنے کا موقع مل جاتا ہے، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر سے نوازیں، آمین یارب العالمین۔ آج کا یہ اجتماع ’’سالکین‘‘ کے عنوان سے ہے۔ سلوک، احسان اور تزکیہ تصوف کی اصطلاحات میں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دراساتِ دینیہ کا نصاب سب کو پڑھنا چاہیے
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ہم آج یہاں ’’دراساتِ دینیہ‘‘ کی کلاس کے افتتاح کے سلسلہ میں جمع ہیں جو دینی تعلیم کا دو سالہ کورس وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی طرف سے جاری کیا گیا ہے، اس موقع پر کورس کے اساتذہ ، طلبہ اور منتظمین کو اس کارخیر کے آغاز پر مبارک باد دیتے ہوئے حاضری اور شرکت کے لیے کچھ گزارشات پیش کرنا چاہوں گا۔ دین کی تعلیم ہر مسلمان کی بنیادی ضرورت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دنیا میں دعوت اسلام کی معروضی صورتحال
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ مولانا مفتی محمد نعمان احمد کا شکر گزار ہوں کہ ’’تخصص فی الدعوۃ والارشاد‘‘ کی اس نشست میں آپ حضرات کے ساتھ گفتگو کا موقع فراہم کیا۔ دعوت اور ارشاد اس کورس کا موضوع ہیں۔ دعوت کا مطلب کسی کو کسی بات یا کام کی دعوت دینا، اور ارشاد کا مفہوم یہ ہے کہ صحیح راستہ کی طرف راہنمائی کرنا۔ انہیں امت مسلمہ کے مجموعی دائرہ میں دیکھا جائے تو یہ ہماری ملی ذمہ داریوں کے دو دائرے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اَن دیکھا جہان اور اَن دیکھا دشمن
رمضان المبارک کے دوران تراویح میں ختم قرآن کریم کی بیسیوں تقریبات میں شرکت کا سالہا سال سے معمول ہے، جو اس سال کرونا بحران کی وجہ سے تعطل کا شکار رہا، البتہ مسجد نور جامعہ نصرۃ العلوم ، مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ اور الشریعہ اکادمی کے علاوہ قریب کی کچھ گھریلو تقریبات میں حاضری اور گزارشات پیش کرنے کا موقع ملا، جن کا خلاصہ نذرِ قارئین ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حدیث و فقہ اور سلوک و احسان
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ بحمد اللہ تعالیٰ اس سال بھی اس مسجد میں ہماری ماہانہ فکری نشست کا تسلسل جاری رہا اور ہم نے مختلف مجالس میں تصوف و سلوک کے متعدد پہلوؤں پر گفتگو کی، اگرچہ ترتیب اور جامعیت کے ساتھ یہ بات چیت حسب منشاء نہیں ہو سکی مگر چند اہم امور پر کچھ نہ کچھ بات ہو گئی، فالحمد للہ علیٰ ذٰلک۔ آج اس سال کی آخری نشست ہے اور میں اس موقع پر تصوف و سلوک کے اس پہلو پر کچھ گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عاشورۂ محرم الحرام اور اس کے تقاضے
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ نئے ہجری سال کا آغاز ہو گیا ہے اور محرم الحرام کے پہلے عشرہ کی سرگرمیاں شروع ہو چکی ہیں۔ اس عشرہ کے حوالہ سے ایک روایت تو دورِ اسلام سے قبل کی چلی آ رہی ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو دیکھا کہ وہاں کے یہودی دس محرم الحرام کو روزہ رکھتے ہیں۔ وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ اس روز بنی اسرائیل کو فرعون کی آزادی سے نجات ملی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قرآن کریم، انسانی سماج کی ناگزیر ضرورت
اقرأ روضۃ الاطفال ٹرسٹ پسرور کے اس پروگرام میں حاضری میرے لیے کئی حوالوں سے باعث سعادت ہے اس لیے بھی کہ اس ادارہ سے گزشتہ تین سال کے دوران ۱۳۵ طلبہ و طالبات نے حفظ قرآن کریم مکمل کیا ہے، اور آج ان کی اجتماعی دعا اور انہیں ’’نشان اقرأ‘‘ دینے کے لیے اس تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں شرکت ہم سب کے لیے خیر و برکت کا ذریعہ ہے۔ اس لیے کہ اقرأ روضۃ الاطفال ٹرسٹ ہمارے بزرگوں کی یادگار ادارہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
منافقین مدینہ کے خلاف رسول اکرمؐ کی حکمت عملی
بعد الحمد والصلوٰۃ! قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دو جگہ ارشاد فرمایا ہے کہ ’’یا ایھا النبی جاھد الکفار والمنافقین واغلظ علیھم‘‘ اے نبی! کافروں اور منافقوں کے ساتھ جہاد کریں اور ان پر سختی کریں۔ یہاں تاریخی طور پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دس سالہ مدنی دور میں کافروں کے ساتھ جو جہاد کیے ہیں ان میں سے غزوات کی تعداد محدثین ستائیس تک بتاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی تعلیمات پر اعتراضات اور ہماری ذمہ داری
الحمد للہ عید الاضحیٰ کی تعطیلات کے بعد مدارس میں تعلیم کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، اکثر پورے ملک میں طلباء و اساتذہ گھروں سے واپس آگئے ہیں اور تعلیم کا نظام جاری ہو گیا ہے۔ طلباء کے لیے ایک بات عرض کرنا چاہوں گا کہ آج کل عام طور پر آپ سوشل میڈیا پہ جاتے ہیں، بلکہ جانے کی ضرورت نہیں ہے سوشل میڈیا ہر وقت جیب میں پڑا رہتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
محاضراتِ تصوف
تصوف اور سلوک کیا ہے، اس کی اہمیت کیا ہے اور اس کا دائرہ کیا ہے؟ یہ اس سلسلہ گفتگو کے عنوانات ہیں۔ آج اس حوالے سے کچھ تمہیدی گفتگو کروں گا کہ تصوف کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس حوالے سے با ضابطہ بات ان شاء اللہ اگلی نشست میں کریں گے۔ اس گفتگو کا پس منظر یہ ہے کہ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر قدس اللہ سرہ العزیز کا روحانی تعلق نقشبندی سلسلے سے تھا - - - مکمل تحریر
ہیومن مِلک بینک اور شرعی رشتے
آج کل ایک خبر چل رہی ہے تصویر کے ساتھ کہ کراچی میں عورتوں کے دودھ کا بینک قائم ہوا ہے، مدر مِلک بینک کا افتتاح ہوا ہے اور اس کا مقصد یہ بیان کیا گیا ہے کہ عورتیں اپنا دودھ وہاں جمع کرائیں گی اور وہ ہسپتالوں میں بچوں کو پلایا جائے گا۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ بچے کے لیے عورت کا دودھ ہی سب سے بہترین غذا ہوتی ہے، اپنی ماں کا سب سے بہتر ہے، اور اگر کسی اور کا ہو تب بھی درست ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
فلسطین کی صورتحال اور ہماری ذمہ داری
اس وقت عالم اسلام کے بہت سے مسائل میں سب سے اہم فلسطین، بیت المقدس اور فلسطینیوں کا مسئلہ ہے۔ یہ مسئلہ اس وقت پوری دنیا میں زیر بحث بھی ہے اور تمام لوگ اپنے اپنے دائرے میں اس کے بارے میں کچھ نہ کچھ فکر مند بھی ہیں۔ فلسطین کی موجودہ لڑائی تقریباً ایک سو سال قبل شروع ہوئی تھی۔ جب پہلی جنگ عظیم کے بعد برطانیہ نے فلسطین کو اپنی تحویل میں لیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
۲۰۲۳ء کی متفرق رپورٹس
متحدہ علماء کونسل پاکستان نے محکمہ تعلیم کی طرف سے دینی مدارس کی متوازی رجسٹریشن اور اوقاف ایکٹ کے تحت دینی قیادتوں کو اعتماد میں لیے بغیر محکمہ اوقاف کی سرگرمیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، اور محکمہ تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ دینی قیادتوں کو اعتماد میں لے کر کام کو آگے بڑھایا جائے۔ یہ مطالبہ آج ۱۳ فروری ۲۰۲۳ء کو لاہور میں مولانا عبد الرؤف ملک کی زیر صدارت ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تحریکِ ختمِ نبوت کی معروضی صورتحال اور ضروری تقاضے
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج مدنی مسجد سمن آباد میں حاضری پر مولانا قاضی عبد الودود نے بتایا کہ ان کے والد گرامی حضرت مولانا حافظ عبد الصبور رحمہ اللہ تعالیٰ کی وفات کو بارہ سال گزر چکے ہیں جس سے ماضی کی بہت سی یادیں ذہن میں تازہ ہو گئیں۔ مولانا حافظ عبد الصمدؒ میرے بزرگ ساتھی اور بڑے بھائی تھے، جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے فاضل تھے، مجھ سے چند سال قبل فراغت حاصل کی مگر تین چار سال ہمارے اکٹھے جامعہ میں گزرے اور کچھ اسباق میں رفاقت بھی رہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’دفاعِ سیدنا حضرت عثمان غنیؓ ریلی‘‘
میں اس ریلی کے شرکاء کے ساتھ ان کے جذبات و احساسات میں یکجہتی کے اظہار اور ان کے اس جائز مطالبہ کی حمایت کے لیے آپ کے سامنے کھڑا ہوں کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی کرنے والے بدبخت کو گرفتار کیا جائے اور قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ میں حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی اس سنت کی پیروی کرنے کے لیے آیا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تخصصات کے کورسز اور جدید مسائل
جامعۃ التخصص فی العلوم الاسلامیہ ملتان کی افتتاحی تقریب کے موقع پر جامعہ کے سربراہ حضرت مولانا امداد اللہ انور صاحب اور ان کے رفقاء کو مبارکباد دیتا ہوں اور تمام شرکاء کی خدمت میں مبارکباد عرض کرتے ہوئے یہ کہنا چاہوں گا کہ بہت ضروری اور مبارک عمل ہے کہ دینی مدارس کے طلبہ اور فضلاء کو ضروری مضامین میں تخصصات کرائے جائیں۔ یہ ہماری پرانی روایت میں ’’تکمیل‘‘ کہلاتی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بالاکوٹ میں پیامِ شہداء کانفرنس
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ پچھلے سال جب حاضر ہوا توہمارے محترم بزرگ ، بھائی اور قائد حضرت مولانا قاضی خلیل احمد صاحب رحمہ اللہ موجود تھے، ان کے وصال کے بعد میں حاضر نہیں ہو سکا تھا، مفتی اخلاق احمد صاحب اور ان کی ٹیم کا شکر گزار ہوں کہ اس پروگرام کے حوالے سے مجھے حاضری کا موقع فراہم کیا۔ سب سے پہلے آپ سب دوستوں سے تعزیت کرتا ہوں، بلکہ میں خود تعزیت کا مستحق ہوں۔ حضرت مولانا قاضی خلیل احمد صاحبؒ مجاہد ِاسلام اور خطیبِ ہزارہ تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ کی حسین یادیں
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی قدس اللہ سرہ العزیز ان بزرگوں میں سے ہیں جن کے ساتھ میری زندگی بھر تحریکی، مسلکی اور دینی رفاقت رہی۔ جن چند بزرگوں کے ساتھ میری رفاقت مسلسل رہی اور ایک دوسرے پر اعتماد بھی الحمد للہ ہمیشہ رہا، ان میں ایک مولانا چنیوٹیؒ ہیں۔ آپؒ چنیوٹ کے رہنے والے تھے، ان کے والد محترم سے میری ملاقاتیں ہوئی ہیں، ان کی زیارت بھی کی ہے، ان کے گھر کئی دفعہ گیا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تحریک ختم نبوت کی چند یادیں
میری یادداشتوں کے حوالے سے ایک شعبہ تحریک ختم نبوت کا بھی ہے۔ ختم نبوت کی تحریک میں کچھ نہ کچھ حصہ لیتا رہا ہوں۔ تحریک ختم نبوت کے ساتھ میرا تعلق کب ہوا، کن کن مراحل سے گزرا اس کا کچھ خلاصہ عرض کرنا چاہوں گا۔ قادیانیوں کو پاکستان بننے کے بعد غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لیے ایک تحریک ۱۹۵۳ء میں چلی تھی۔ اس وقت میری عمر پانچ سال تھی، مگر اس دور کی چند جھلکیاں ابھی تک ذہن کی اسکرین پر جھلملا رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس کے تعلیمی نصاب و نظام کا اصل ہدف
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ماہِ رواں کے دوران پاکستان بلکہ جنوبی ایشیا کے تمام ممالک میں دینی مدارس کے تعلیمی سال کا آغاز ہو رہا ہے جن کی تعداد مجموعی طور پر ایک لاکھ سے زیادہ بیان کی جاتی ہے جبکہ ان میں پڑھنے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ ان مدارس کا ایک بڑا امتیاز یہ ہے کہ یہ دین کی تعلیم اصل مآخذ اور اوریجنل سورسز سے دیتے ہیں جو دنیا کا مسلّمہ تعلیمی اصول ہے کہ کسی بھی علم یا فن کی تعلیم اصل ماخذ سے دی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
یہودی مصنوعات کا بائیکاٹ، جہاد کا ایک اہم شعبہ
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ گوجرانوالہ کا شکر گزار ہوں کہ ایک اہم موضوع پر اس سیمینار کا اہتمام کیا جس میں جمعیۃ کے سیکرٹری جنرل مولانا حافظ گلزار احمد آزاد نے عمرہ اور بحرین کے حالیہ سفر کی کچھ تفصیلات بیان کی ہیں اور وہاں کے دوستوں کے جذبات سے ہمیں آگاہ کیا ہے، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر سے نوازیں، آمین یا رب العالمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اپریل ۲۰۲۴ء کی رپورٹس
حفظِ قرآن کی سعادت حاصل ہونا بہت بڑی خوش نصیبی ہے۔ گکھڑ منڈی (محمد گلشاد سلیمی) حفظِ قرآن کی سعادت حاصل ہونا بہت بڑی خوش نصیبی ہے۔ حافظ قرآن ہونا ایسا اعزاز ہے جو دنیا و آخرت میں ہمیشہ رہنے والا ہے۔ قرآن کتابِ ہدایت بھی ہے، کتابِ شفا بھی، اور کتابِ انقلاب بھی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ان سب پر خوشی منانے کا کہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی جدوجہد کے دائرے اور تقاضے: علماء کرام سے چند گزارشات
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ میں متحدہ علماء کونسل کھاوڑہ آزادکشمیر کی قیادت اور رفقاء کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اس اجتماعی محفل میں علماء کرام کی زیارت، ملاقات اور گفتگو کی دعوت دی۔ یہ حاضری میرے لیے سعادت کی بات ہے۔ ایک عالم کی زیارت بھی ثواب کا باعث ہوتی ہے، یہاں آ کر بہت سے علماء کرام کی زیارت و ملاقات سے فیضیاب ہوا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عصرِ حاضر میں بخاری شریف کا پیغام
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ مولانا محمد یعقوب طارق کا شکر گزار ہوں کہ یاد فرمایا، حضرات علماء کرام کی زیارت ہوئی، آپ سے ملاقات ہوئی، اور ایک اچھی مجلس میں جہاں جامعہ فریدیہ کے فضلاء نے بخاری شریف کا آخری سبق پڑھا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہماری حاضری قبول فرمائیں۔ چند باتیں عرض کروں گا مگر ابتدا ایک لطیفے سے کروں گا۔ ہمارے نقیب حضرات کو بہت شوق ہوتا ہے کہ انہوں نے خطیب کو دعوت دینے کے لیے پانچ سات لقب بولنے ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بخاری شریف صرف حدیث کی کتاب نہیں
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ حضرت مولانا محمد عمر قریشی دامت برکاتہم ہمارے بزرگ اور بڑے بھائی ہیں، شفقت فرماتے ہیں تو حاضری ہو جاتی ہے اور اس مبارک محفل میں حاضری لگ جاتی ہے ۔ اس سے بڑا احسان یہ فرماتے ہیں کہ ان بزرگوں کی زیارت کروا دیتے ہیں جو شاید ہم زندگی بھر نہ کر پاتے۔ حضرت کی مہربانی سے اللہ والوں کی زیارت نصیب ہوئی ہے اور ان کی مجلس میں بیٹھنے کا شرف حاصل ہوا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مارچ ۲۰۲۴ء کی رپورٹس
دینی و عصری طبقات کے امتزاج کا خواب: الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام تین سالہ آن لائن درسِ نظامی اور ایک سالہ التخصص فی الدعوۃ والارشاد کورسز کے اختتام پر منعقدہ تقریبِ اعزاز سے خطاب کرتے ہوئے مولانا زاہد الراشدی صاحب نے سب سے پہلے درسِ نظامی اور تخصص مکمل کرنے والے شرکاء اور اساتذہ کرام کو مبارکباد پیش کی اور آنے والے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ اس کے بعد فرمایا کہ پچپن سال سے میرے ذہن میں ایک خواب اٹکا ہوا تھا جسے اب مکمل ہوتا دیکھ رہا ہوں۔ جس طرح شیخ الہند رحمہ اللہ نے دارالعلوم دیوبند اور علی گڑھ کو جوڑنے کی کوشش کی اور یہ فرمایا تھا کہ یہ دونوں ملیں گے تو کام بنے گا۔ امت کا کام، ملت کا کام، دین کا کام ان دون مکمل تحریر
نفاذِ اسلام کی جدوجہد
پاکستان میں نفاذِ شریعت کی جدوجہد کن معاملات اور کن مراحل سے گزری۔ اس میں پہلی بات تو یہ ہے کہ جب پاکستان بنا تو اس میں شامل بہت سی ریاستوں میں عدالتی دائرے میں قوانین نافذ تھے۔ پاکستان میں ریاست سوات، دیر، چترال، ریاست امبھ، خیرپور، بہاولپور، قلات یہ بہت بڑا علاقہ تھا جو ریاستوں پر مشتمل تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قومی مصائب کے اسباب اور نجات کا راستہ
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ اللہ رب العزت نے انسانی سوسائٹی اور ماحول میں جو مصیبتیں اور آزمائشیں آتی ہیں ان کے حوالے سے اپنا ایک ضابطہ بیان فرمایا ہے۔ مصیبتیں آتی رہتی ہیں، شخصی طور پر بھی، اجتماعی، علاقائی اور قومی طور پر بھی۔ اور دنیا بھر کے حوالے سے بھی وقتاً فوقتاً مصیبتیں آتی ہیں جو انسانوں کو بھگتنا پڑتی ہیں۔ کائنات کا کنٹرول اللہ رب العزت کے ہاتھ میں ہے۔ جو کچھ ہوتا ہے اللہ رب العزت کی مرضی سے ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نفاذِ اسلام اور عدلیہ
’’قراردادِ مقاصد‘‘ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں حاکمیتِ اعلیٰ اللہ تعالی کی ہے، حکومت کا حق عوام کے منتخب نمائندوں کو ہے، اور پارلیمنٹ اور حکومت قرآن و سنت کی پابند ہیں۔ قراردادِ مقاصد دستور میں چلی آ رہی تھیں لیکن اس کے دیباچے کے طور پر۔ جنرل ضیاء الحق مرحوم نے اپنے اختیارات استعمال کیے اور جو دو چار اچھے کام کیے ان میں ایک یہ بھی تھا کہ اس کو دیباچے سے نکال کر اصل دستور میں شامل کر دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نفاذِ اسلام اور پارلیمنٹ
اس کے بعد پاکستان میں جب شریعت کے عملی نفاذ کا مطالبہ شروع ہوا تو یہ مسئلہ کھڑا ہو گیا کہ اگر شریعت نافذ کرنی ہے تو کسی چیز کے شریعت ہونے یا نہ ہونے میں فیصلے کی اتھارٹی کون ہو گی؟ یہ بنیادی جھگڑا چلتا رہا ہے۔ بات اصولی طور پر ٹھیک ہے کہ پاکستان میں شریعت کا نفاذ ہونا چاہیے اور پاکستان میں شریعت کے خلاف کوئی قانون نافذ نہیں ہونا چاہیے۔ یہ اصول میں لکھا ہوا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
۱۹۵۶ء اور ۱۹۶۲ء کے دساتیر
اس کے بعد ایک نئی کشمکش شروع ہو گئی۔ جب قراردادِ مقاصد منظور ہوئی تو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے صدر مولوی تمیز الدین خان مرحوم تھے جو مشرقی پاکستان سے دستور ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہو کر آئے تھے اور فرید پور کے ضلع سے تھے۔ مجلس کے صدر تھے اور بہت سنجیدہ، فاضل اور دانشور آدمی تھے۔ قرارداد مقاصد کو منظور کروانے میں ان کا بہت کردار تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قادیانی مسئلہ
اس کے بعد ایک تیسرا مرحلہ درپیش آگیا۔ دیکھیں آج کے دور میں اسلام نافذ کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ بڑے مراحل طے کرنا پڑتے ہیں اور بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان بننے کے بعد تیسرا مسئلہ قادیانیوں کے حوالے سے پیش آگیا جو بڑا زبردست مسئلہ تھا۔ قادیانی ختمِ نبوت کے واضح منکر تھے اور اب بھی منکر ہیں اور مرزا غلام احمد کی نبوت کے قائل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مذہب اور ریاست کا باہمی تعلق
آج کی دنیا میں تین ملک ہیں جہاں اپنے اپنے طور پر مذہب کو حکومت کی اساس قرار دیا گیا ہے۔ پہلا ملک سعودی عرب ہے جس کا آئین یہ ہے کہ قرآن و سنت کے مطابق نظام چلے گا ،لیکن فیصلے کی فائنل اتھارٹی بادشاہ ہے۔ سعودیہ میں آخری اتھارٹی امرِ مَلکی ہے، نہ کسی کو اسے چیلنج کرنے کا اختیار ہے اور نہ اختلاف کا حق حاصل ہے۔ سعودی عرب میں قرآن و سنت کے مطابق نظام چلتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قیامِ پاکستان اور دستور سازی
پہلی بات یہ ہے کہ پاکستان ہندوستان کو تقسیم کر کے بنا ہے۔ جب انگریز برصغیر میں آئے تھے تو متحدہ ہندوستان اورنگزیب کے زمانے سے ایک ملک چلا آ رہا تھا جو اَب چار ملکوں میں تقسیم ہو گیا ہے یعنی بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش اور برما۔ جب انگریزوں نے یہاں قبضہ کیا تو پہلے انہوں نے برما کو الگ کیا۔ اس کے بعد ہندوستان کی آزادی کے وقت یہاں کی سیاسی پارٹیوں میں دو نقطۂ نظر سامنے آ گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خلافت کے ادوار
خلافت کا تاریخی پس منظر، نظریہ امامت و خلافت، خلافت کے مختلف معیارات، خلافت کے نظام کا ابتدائی تعارف، اور اسلام کے رفاہی ریاست کا تصور ذکر کرنے کے بعد خلافت کے جو مختلف ادوار گزرے ہیں ان کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ خلافتِ راشدہ کے بعد جو تاریخی طور پر خلافت کا دور گنا جاتا ہے وہ خلافتِ بنو امیہ کا دور ہے۔ مؤرخین خلافتِ بنو امیہ کا آغاز سیدنا حضرت امیر معاویہؓ سے کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خلافت کا رِفاہی تصور اور نظم
ریاست اور رفاہی ریاست میں کیا فرق ہوتا ہے؟ کسی بھی ملک کی حکومت اور ریاست کے چار پانچ بنیادی کام سمجھے جاتے ہیں: سرحدوں کی حفاظت، ملک میں امن قائم کرنا، لوگوں کو ایک دوسرے پر ظلم کرنے سے روکنا، انصاف فراہم کرنا ، اور لوگوں کو زندگی کی سہولتیں زیادہ سے زیادہ فراہم کرنا۔ یعنی کسی ریاست کی بنیادی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ سرحدوں کی حفاظت کرے تاکہ کوئی باہر سے حملہ نہ کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خلافت کے معیارات
خلافت کا تاریخی تناظر کہ کیسے خلافت کا آغاز ہوا، خلافت کن کن ادوار سے گزری، اور خلافت کے مختلف معیارات جو تاریخ میں تقریبا بارہ تیرہ سو سال چلتے رہے، وہ کیا تھے؟ اس حوالے سے یہ کہنا چاہوں گا کہ خلافت کے ادوار جو تاریخی اعتبار سے کہلاتے ہیں، ان میں خلافتِ راشدہ، خلافتِ امویہ، خلافتِ عباسیہ اور خلافتِ عثمانیہ کے ادوار ہیں۔ اہلِ سنت والجماعت کے ہاں خلافتِ راشدہ کا دور اصطلاحاً تیس سال کا دور کہلاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خلافت کا سیاسی نظام
فقہاء کرام لکھتے ہیں کہ خلیفہ کا انتخاب اور خلافت کا قیام امت کے اجتماعی فرائض میں سے ہے ۔ خلافت کے قیام کے فرض ہونے کے دلائل میں دو بڑی دلیلیں حضرت شاہ ولی اللہؒ نے بیان فرمائی ہیں: ایک دلیل یہ دی ہے کہ قرآن کریم کے بہت سے احکامات حکومت کی موجودگی پر موقوف ہیں۔ مثلاً حدود کا نفاذ، جہاد، بیت المال کا قیام، عدالتوں کا قیام اور انصاف کی فراہمی وغیرہ، یہ سارے معاملات حکومت کا وجود چاہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خلافت اور پاپائیت
یہ بات ایک اور تناظر میں سمجھنے کی کوشش کریں جو آج کی فکری اور سماجی دنیا کا بہت بڑا مسئلہ اور بہت بڑا مغالطہ ہے۔ مغرب کے پروٹسٹنٹ عیسائیوں نے مارٹن لوتھر کی تحریک کے نتیجے میں پاپائیت کو مسترد کر دیا تھا۔ جبکہ رومن کیتھولک آج بھی پاپائے روم کے تابع ہیں۔ لیکن ایک زمانہ گزرا ہے جب رومن کیتھولک پاپائے روم حکمرانوں کے سرپرست ہوتے تھے، ان کا فیصلہ آخری ہوتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خلافت اور امامت
سیاسی نظام پر اہلِ سنت اور اہلِ تشیع کا بنیادی اختلاف ہے۔ اہلِ تشیع امامت کی اصطلاح کے ساتھ بات کرتے ہیں اور اہلِ سنت خلافت کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ امامت اور خلافت ، یا امام اور خلیفہ میں کیا فرق ہے؟ اہلِ تشیع امام کو خدا کا نمائندہ اور معصوم عن الخطا کہتے ہیں، اور پیغمبر کی طرح اتھارٹی اور اختلاف سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ امامت میں اللہ کی نیابت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خلافت کا تصور اور تاریخی پس منظر
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ میں ایک اہم موضوع پر بات کرنا چاہوں گا کہ خلافتِ اسلامیہ کیا ہے؟ خلافت کا شرعی تصور کیا ہے؟ اس کی علمی اور فکری بنیادیں کیا ہیں؟ تاریخ کا تناظر کیا ہے؟ اور خلافت کے مسئلہ پر ہمارا دنیا کے ساتھ جو تنازع ہے، اس میں ہمارا موقف کیا ہے اور دنیا کا موقف کیا ہے؟ ہماری کشمکش کس میدان میں ہے اور کیسے آگے بڑھ رہی ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حلال و حرام کا تصور اور حلال فوڈز اتھارٹی
حلال و حرام کی حتمی اتھارٹی اللہ تبارک و تعالیٰ اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اس فرق کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ خود اتھارٹی ہیں لیکن جناب نبی کریمؐ اتھارٹی کے نمائندے ہیں۔ اللہ تعالیٰ حلال و حرام کے معاملے میں حضور نبی کریمؐ سے یہ فرماتے ہیں ’’یایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک‘‘ کہ اللہ نے حلال کیا ہے تو آپ کیسے حرام کر رہے ہیں؟ چنانچہ حلال و حرام کی واحد اتھارٹی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
موجودہ قومی صورتحال میں پاکستان شریعت کونسل کی جدوجہد
۱۰ مارچ ۲۰۲۴ء کو مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں پاکستان شریعت کونسل کی صوبائی مجلس عاملہ کے اجلاس سے خطاب کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ مکمل تحریر
فروری ۲۰۲۴ء کی رپورٹس
مولانا زاہد الراشدی کی قوم سے اپیل: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ کل ۸ فروری ۲۰۲۴ء کو ملک بھر میں قومی اور صوبائی انتخابات ہو رہے ہیں، قوم آئندہ پانچ سال کے لیے قومی اور صوبائی حکومتوں کا، پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کا انتخاب کرے گی۔ یہ بہت نازک مرحلہ ہے۔ اس موقع پر میں گزارش کرنا چاہوں گا کہ تمام حلقوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اجتہاد کا شرعی تصور اور چند مغالطے
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ اجتہاد لفظاً کوشش کرنے کا نام ہے۔ شرعاً جو اجتہاد ہے اس کی تعریف اور شرائط اصولِ فقہ کی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہیں۔ لیکن میں اس دائرے سے ہٹ کر آج کے عمومی تناظر اور فہم کے دائرے میں اجتہاد کی بات کرنا چاہوں گا۔ شرعاً اجتہاد کی ضرورت یہ ہے کہ جب تک وحی جاری تھی، زمانے کے حالات بدلتے تھے اور نئی ضروریات پیش آتی تھیں، تو وحی کے ذریعے ہدایت و رہنمائی ہو جاتی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جنوری ۲۰۲۴ء کی رپورٹس
ملک و ملت اور دین سے وفاداری کا عہد کرنے والے امیدواروں کو ووٹ دیں: ۳۱ جنوری ۲۰۲۴ء بروز بدھ بعد نماز ظہر جامع مسجد مکی کوکاکولا سٹاپ ملتان روڈ لاہور میں پاکستان شریعت کونسل لاہور کے زیرِ اہتمام ایک اہم نشست کا انعقاد کیا گیا جس کا عنوان ’’مسئلہ فلسطین / قومی و صوبائی اسمبلی کے انتخابات/ ملکی و بین الاقوامی صورتحال تھا‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر