بیانات و محاضرات

ڈسکہ میں مولانا سمیع الحق شہیدؒ سمینار

مولانا سمیع الحق شہیدؒ ہماری ملی و دینی جدوجہد کی تاریخ کے ایک مستقل باب کا عنوان ہیں اور ان کی خدمات کا اس مختصر گفتگو میں تفصیلی تذکرہ ممکن نہیں ہے، البتہ چند باتیں عرض کر دیتا ہوں کہ مولانا سمیع الحق شہیدؒ کی حیات و خدمات کے مختلف پہلو ہیں جن میں سے ہر ایک پر کام کی ضرورت ہے اور ان کے تلامذہ و رفقاء کو اس کی کوئی صورت نکالنی چاہیے۔ مثلاً ایک پہلو یہ ہے کہ وہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الحق رحمہ اللہ تعالٰی کے فرزند و جانشین ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی علمی، سیاسی و تحریکی جدوجہد کے رفیق کار بھی رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ نومبر ۲۰۱۹ء

الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام علمی و تحقیقی سرگرمیاں

میرے بڑے بیٹے اور الشریعہ اکادمی کے ڈپٹی ڈائریکٹر حافظ محمد عمار خان ناصر نے ڈاکٹریٹ کی ہے اور پنجاب یونیورسٹی نے ان کو پی ایچ ڈی کی ڈگری ایوارڈ کر دی ہے۔ یہ خوشی کا موقع ہے اور اس خوشی میں ہم نے آپ کو دعوت دی ہے اور چائے کا انتظام کیا ہے۔ میں اس موقع پر تین حوالوں سے اپنی خوشی کا اظہار کرنا چاہوں گا تاکہ یہ ریکارڈ میں آ جائے۔. سب سے پہلے ایک باپ کی حیثیت سے کہ ایسے موقع پر باپ سے زیادہ خوشی کس کو ہوگی۔ عمارخان عالم دین ہے، مدرس بھی ہے، پی ایچ ڈی بھی ہوگیا ہے اور کام بھی کر رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ اکتوبر ۲۰۱۹ء

وکلاء حضرات سے چند ضروری گزارشات

ہماری بنیادی دعوت تو وہی ہے جو دنیا بھر میں سب مسلمانوں کے لیے ہے کہ ہم سب کو دین کے اعمال اور ماحول کی طرف واپس آجانا چاہیے کیونکہ دین کے اعمال اور ماحول سے ہٹ کر ہم نے بہت خسارہ اٹھایا ہے۔ اور اس وقت دنیا بھر میں مسلمانوں کی زبوں حالی اور پریشانیوں کا سب سے بڑا سبب یہی ہے کہ ہم دین کے اعمال، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے طرز زندگی پر قائم نہیں رہے، جس کی بے برکتی نے ہمیں ہر طرف سے گھیر رکھا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ اکتوبر ۲۰۱۹ء

فہم قرآن کی اہمیت اور اس کے تقاضے

برطانیہ کے حالیہ سفر کے دوران یکم اکتوبر ۲۰۰۴ء کو آکسفورڈ کی مدینہ مسجد میں جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب کے موقع پر فہم قرآن کی اہمیت اور اس کے چند ضروری تقاضوں پر کچھ معروضات پیش کرنے کا موقع ملا۔ ان کا خلاصہ قارئین کی دلچسپی کے لیے درج ذیل ہے۔ بعد الحمد والصلوٰۃ! محترم بزرگو اور دوستو! میں نے آپ کے سامنے قرآن کریم کی سورۃ القمر کی ایک آیت تلاوت کی ہے، اس کی روشنی میں کچھ ضروری گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ دو باتیں فرمائی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اکتوبر ۲۰۰۴ء

آزاد کشمیر کی حکومت اور علماء کرام سے چند گزارشات

خطۂ کشمیر کی موجودہ صورتحال آپ کے سامنے ہے، کسی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے کہ گزشتہ سات عشروں سے کشمیری عوام کو ان کے مسلمہ حق خودارادیت سے مسلسل محروم رکھا جا رہا ہے اور حالیہ صورتحال یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام دو ماہ سے زیادہ عرصہ سے کرفیو کے ماحول میں ہیں، آزادانہ نقل و حرکت کے حق سے محروم ہیں اور اشیائے خورد و نوش کی قلت کا شکار ہیں، جبکہ ان کی بے بسی اور مظلومیت پر ارباب فہم و شعور کا اضطراب بڑھتا جا رہا ہے مگر عملاً کوئی بھی کچھ کرنے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دے رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ اکتوبر ۲۰۱۹ء

بین الاقوامی معاہدات اور اصحاب فکر و دانش کی ذمہ داری

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ نہ صرف ہم بلکہ کم و بیش ساری دنیا بین الاقوامی معاہدات کے حصار ہیں، اور جنگ و امن کے ساتھ ساتھ حقوق انسانی اور سولائزیشن کے حوالہ سے بھی بیسیوں معاہدات نے پوری دنیا پر حکمرانی کا سکہ جما رکھا ہے۔ میں یہ عرض کیا کرتا ہوں کہ اس وقت دنیا بھر میں حکومتوں کی حکمرانی کم اور معاہدات کی حکمرانی زیادہ ہے، صرف اس فرق کے ساتھ کہ طاقتور اور امیر ممالک اپنے لیے کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیتے ہیں جبکہ غریب اور کمزور اقوام و ممالک کو ان معاہدات کی بہرحال پابندی کرنا پڑتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ اکتوبر ۲۰۱۹ء

’’حدود آرڈیننس‘‘ میں ترامیم کا پس منظر

پاکستان میں حدود قوانین کی مخالفت کا سلسلہ ان کے نفاذ کے بعد سے ہی جاری ہے اور ملک کے سیکولر حلقوں کے ساتھ سینکڑوں این جی اوز اور انسانی حقوق کے حوالہ سے کام کرنے والی بیسیوں تنظیمیں اس مقصد کے لیے ربع صدی سے متحرک ہیں۔ ان کی اس مہم کا اصل مقصد تو وہی ہے جو بین الاقوامی حلقوں کا ہے جبکہ ملک کے اندرونی سیکولر حلقوں کی جدوجہد کے اہداف مذکورہ بالا بین الاقوامی اہداف سے مختلف نہیں ہیں، لیکن ان کے اعتراضات میں کچھ داخلی امور بھی ہیں جن میں سے ایک دو کا تذکرہ ضروری معلوم ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ دسمبر ۲۰۰۶ء

پاکستان میں اجتماعی اجتہاد کی کوششوں پر ایک نظر

۱۹، ۲۰، ۲۱ مارچ کو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں ادارہ تحقیقات اسلامی کے زیراہتمام ’’اجتماعی اجتہاد: تصور، ارتقا اور عملی صورتیں‘‘ کے عنوان پر تین روزہ سیمینار کا انعقاد ہوا جس میں پاکستان کے مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام اور اہل دانش کے علاوہ متحدہ عرب امارات سے عرب دنیا کے ممتاز عالم و فقیہہ الاستاذ الدکتور وہبہ الزحیلی اور بھارت سے مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مولانا سید جلال الدین العمری، مولانا سعود عالم قاسمی اور جناب فہیم اختر ندوی نے شرکت کی۔ مجھے بھی شرکت اور گفتگو کی دعوت دی گئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ مارچ ۲۰۰۵ء

فرقہ وارانہ کشمکش اور اصول انسانیت

میری گفتگو کا عنوان ’’فرقہ وارانہ کشیدگی اور اصول انسانیت‘‘ ہے اور مجھے انسانی معاشرہ کی مختلف حوالوں سے تفریق کے متنوع دائروں میں انسانی اصول و اخلاق کی پاسداری کے تقاضوں پر کچھ گزارشات پیش کرنی ہیں۔ انسانی سماج میں تفریق کئی حوالوں سے ہمیشہ سے موجود چلی آرہی ہے۔ یہ نسل کے عنوان سے بھی ہے، رنگ اور زبان کے حوالہ سے بھی ہے، مذہب بھی اس کا ایک دائرہ ہے اور وطن، قومیت، علاقہ اور دیگر بہت سے امور اس کے اسباب میں شامل ہیں۔ مگر میں ان میں سے مذہب کے حوالہ سے پائی جانے والی تفریق کی بات کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ اگست ۲۰۱۹ء

دستور پاکستان کی اسلامی دفعات کے بارے میں مبینہ خدشات

پہلی بات یہ ہے کہ یہ خدشات و خطرات کیسے سامنے آئے ہیں اور کیوں محسوس کیے جا رہے ہیں؟ قادیانی امت کے سربراہ مرزا مسرور احمد کا ایک ویڈیو کلپ ان دنوں سوشل میڈیا پر مسلسل گردش کر رہا ہے جس میں ان سے پوچھا گیا ہے کہ پاکستان میں حالات کی مبینہ تبدیلی کے تناظر میں کیا یہ توقع ہے کہ قادیانیوں کا مرکز پاکستان میں واپس چلا جائے گا؟ اس کے جواب میں انہوں نے دو باتیں کہی ہیں۔ ایک یہ کہ ہمارا اصل مرکز تو قادیان ہے اور دوسری یہ کہ پاکستان میں ہمارا مرکز واپس جائے یا نہ جائے مگر پاکستان کا دستور ضرور تبدیل ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ اگست ۲۰۱۹ء

یو ایم ٹی لاہور میں جمہوریت پر سیمینار

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ مجھ سے پہلے فاضل مقررین نے پاکستان میں جمہوریت کو درپیش مختلف مسائل کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے جن میں جمہوری نظام میں بیوروکریٹس اور جرنیلوں کی بار بار دخل اندازی، عدلیہ کا کردار، الیکشن کے نظام کی کمزوریاں، عوام میں سیاسی شعور کی کمی، برادری ازم، دھڑے بندی، سیاستدانوں کی مخصوص نفسیات اور دیگر اہم امور کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ میں اس مسئلہ کے صرف ایک پہلو کے بارے میں مختصرًا کچھ عرض کرنا چاہوں گا کہ ہم نے قیام پاکستان کے بعد جمہوریت کے جس منفرد ماڈل کو متعارف کرایا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ اگست ۲۰۱۹ء

ایبٹ آباد میں حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ سیمینار

۱۸ اگست ۲۰۱۹ء کو پریس کلب ایبٹ آباد میں مفکر انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی حیات و خدمات کے تذکرہ کے لیے ایک سیمینار کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت شہر کی مرکزی جامع مسجد کے خطیب مولانا مفتی عبد الواجد نے کی جبکہ میزبان مسجد بیت الحکمت کے خطیب مولانا شکیل اختر تھے۔ سیمینار سے خطاب کرنے والوں میں مولانا شیخ نذیر احمد احمدزئی، پروفیسر حافظ وقار احمد، مولانا اورنگزیب اعوان، جناب ابوبکر شیخ، جناب عنایت خان سواتی اور جناب فاروق کشمیری شامل ہیں۔ اس موقع پر مجھے جو گزارشات پیش کرنے کا موقع ملا، ان کا خلاصہ درج ذیل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ اگست ۲۰۱۹ء

تقویٰ کا مفہوم اور اس کے تقاضے

مجھے گوجرانوالہ میڈیکل کالج آ کر خوشی ہوتی ہے، ایک تو اس حوالہ سے کہ یہ میرے شہر کا میڈیکل کالج ہے جہاں اساتذہ کے ساتھ ساتھ بچوں اور بچیوں سے اجتماعی ملاقات ہو جاتی ہے اور کالج کی ترقی اور پیشرفت دیکھ کر اطمینان ہوتا ہے جو یقیناً پرنسپل محترم ڈاکٹر پروفیسر سمیع ممتاز اور ان کے رفقاء کی مسلسل محنت کا نتیجہ ہے۔ اور دوسرا اس حوالہ سے کہ یہاں کا ماحول اور اور سرگرمیاں بھی مسرت کا باعث بنتی ہیں جو فنی، اخلاقی اور دینی تینوں دائروں میں نمایاں دکھائی دیتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ مئی ۲۰۱۹ء

اسلام کے سیاسی نظام کا تاریخی پس منظر

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ ’’اسلام کا سیاسی نظام‘‘ کے موضوع پر گفتگو کے آغاز میں اس کے اس تاریخی پس منظر کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہوں گا جو خود جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا ، جیسا کہ بخاری و مسلم کی روایت میں ہے کہ جناب نبی اکرمؐ نے فرمایا ’’کانت بنو اسرائیل تسوسہم الانبیاء‘‘ کہ بنی اسرائیل میں سیاسی قیادت کا منصب حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے پاس ہوا کرتا تھا۔ نبیوں کی بعثت کا سلسلہ جاری تھا، ایک پیغمبر دنیا سے رخصت ہوتے تو دوسرے نبی آجاتے اور یہ تسلسل جاری رہتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جولائی ۲۰۱۹ء

مختلف شعبوں میں علماء اور وکلاء کی مشترکہ جدوجہد کی ضرورت

پاکستان شریعت کونسل پنجاب کے نائب امیر مولانا قاری عبید اللہ عامر کے ہمراہ ۱۰ جون سے ۱۶ جون تک لکی مروت، ملانہ، ڈیرہ اسماعیل خان، موسٰی زئی شریف، بَن حافظ جی میانوالی، چودھواں، اسلام آباد، دھیر کوٹ، باغ، ہاڑی گیل، بیس بگلہ، ملوٹ، مانگا، مری، چکوال اور دیگر مقامات میں مختلف دینی اجتماعات میں حاضری کا موقع ملا۔ اس دوران ۱۳ جون کو ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن باغ آزاد کشمیر کی ایک نشست میں بھی حاضری ہوئی، اس موقع پر کی جانے والی گزارشات کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ جون ۲۰۱۹ء

قرآن کریم پڑھنے کے سات مقاصد

قرآن کریم ہم پڑھتے بھی ہیں سنتے بھی ہیں اور کچھ نہ کچھ یاد بھی کرتے ہیں، سوال یہ ہے کہ ہم قرآن کریم کو کس غرض اور مقصد کے لیے پڑھتے ہیں اور اسے اصل میں کس مقصد کے لیے پڑھنا چاہیے؟ اس کا اپنا مقصد اور ایجنڈا کیا ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ کے اس پاک کلام کو پڑھنے اور سننے کی ضرورت ہے۔ ہم عام طور پر قرآن کریم کو چند مقاصد کے لیے پڑھتے ہیں جن کا تذکرہ اس وقت مناسب سمجھتا ہوں، مثلاً ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ جولائی ۲۰۱۰ء

دینی و عصری تعلیم کی تقسیم کا ذمہ دار کون؟

جامعہ خیر المدارس ملتان میں حاضری میرے لیے سعادت کی بات ہے، یہ ہمارے بزرگوں کی جگہ ہے، رائیس الاخیار حضرت مولانا خیر محمد جالندھری رحمہ اللہ تعالیٰ کے فیوض و برکات کا مرکز ہے، آج یہاں ملک بھر کے أخیار کا اجتماع ہے اور اس میں حاضری و شرکت کا موقع فراہم کرنے پر حضرت مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کا شکرگزار ہوں، مجھے کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں علماء کرام کی ذمہ داریوں اور ان کو درپیش چیلنجز کے حوالہ سے کچھ عرض کروں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ مارچ ۲۰۱۹ء

کشمیری عوام کی جد و جہد اور ہماری ذمہ داریاں

مسئلہ کشمیر کا مختصر پس منظر یہ ہے کہ ہندوستان کی تقسیم اور پاکستان کے قیام کے وقت تقسیم کے فارمولا میں ریاستوں کو یہ حق دیا گیا تھا کہ وہ دونوں ملکوں میں سے جس کے ساتھ چاہیں الحاق کر لیں۔ اس موقع پر جموں و کشمیر کے ہندو راجہ نے ریاست کی غالب مسلم اکثریت کے جذبات کی پروا نہ کرتے ہوئے ہندوستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا جسے کشمیری عوام نے مسترد کرتے ہوئے مزاحمت کی جدوجہد شروع کر دی اور جہاد کے ذریعے مظفر آباد، باغ اور دیگر علاقوں کو آزاد کراتے ہوئے جب وہ سری نگر تک پہنچ گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ فروری ۲۰۱۹ء

اکابر کا تذکرہ اور ان سے راہنمائی کا حصول

گزشتہ روز (۲۳ ستمبر) مجھے دھیرکوٹ آزاد کشمیر کے جامعہ انوار العلوم میں منعقدہ ایک سیمینار میں شرکت اور گفتگو کا موقع ملا جو شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یوسف خانؒ کی وفات پر تعزیتی نشست کے طور پر منعقد ہوا تھا، اس میں آزاد کشمیر کے بہت سے علماء کرام اور دیگر طبقات کے راہنماؤں نے خطاب کیا۔ راقم الحروف نے اس سیمینار میں جو گفتگو کی اس کا صرف ایک حصہ قارئین کی نذر کر رہا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ ستمبر ۲۰۱۰ء

سنکیانگ کے مسلمانوں کا مسئلہ

ایک اہم مسئلہ کی طرف احباب کو توجہ دلانا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ چین کا مغربی صوبہ سنکیانگ جس کی سرحد ہمارے ملک کے ساتھ لگتی ہے اور جو کسی زمانے میں کاشغر کہلاتا تھا، ہمارے پرانے مسلم لٹریچر میں اس کا ایک اسلامی خطہ کے طور پر کاشغر کے نام سے ذکر موجود ہے لیکن بعد میں اسے سنکیانگ کا نام دیا گیا ہے، میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق وہاں مسلمانوں کے ساتھ معاملات بہت پریشان کن اور اضطراب انگیز ہیں کہ وہ ریاستی جبر کا شکار ہیں، انہیں مذہبی آزادی بلکہ شہری آزادیاں بھی حاصل نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۹ء

اربعین ولی اللّٰہی کا درس

دارالہدٰی (اسپرنگ فیلڈ، ورجینیا، امریکہ) میں ہر سال حدیث نبویؐ کے کسی نہ کسی موضوع پر درس ہوتا ہے اور اصحابِ ذوق اس میں اہتمام کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔اس سال جولائی کے آخری ہفتہ کے دوران کئی روز تک حضرت امام ولی اللہ دہلوی کی روایت کردہ درج ذیل اربعین کے درس کی سعادت حاصل ہوئی، فالحمد للہ علی ذٰلک ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۹ء

حضرت علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کا مشن

حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود ان دنوں پاکستان تشریف لائے ہوئے ہیں اور جامعہ اشرفیہ لاہور میں دورۂ حدیث شریف کے طلبہ کو بخاری شریف کے اسباق پڑھانے کے علاوہ مختلف علماء کرام سے ملاقاتوں اور دینی و قومی معاملات میں گفتگو اور راہنمائی کے کاموں میں مصروف ہیں۔ گزشتہ شب مولانا عبد الرؤف فاروقی، قاری محمد عثمان رمضان اور اپنے دو پوتوں ہلال خان اور ابدال خان کے ہمراہ جامعہ اشرفیہ حاضر ہوا تو بہت خوشی کا اظہار کیا اور دعاؤں سے نوازا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ فروری ۲۰۱۹ء

معراج النبیؐ: ایک سبق، ایک پیغام

معراج اور اسراء جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں سے ہیں۔ اسراء اس سفر کو کہتے ہیں جو نبی اکرمؐ نے مسجد حرام سے مسجد اقصٰی تک کیا، اور معراج وہ سفر ہے جو زمین سے ساتوں آسمانوں اور اس سے آگے سدرۃ المنتہیٰ تک ہوا، اور اس میں رسالتمآبؐ نے سات آسمانوں، عرش و کرسی اور جنت و دوزخ کے بہت سے مناظر دیکھے جن کا تذکرہ قرآن کریم میں بھی ہے اور سینکڑوں احادیث میں ان کی تفصیلات مذکور ہیں۔ عام طور پر روایات میں آتا ہے کہ یہ دونوں سفر ایک ہی رات میں ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جولائی ۲۰۰۹ء

کیا پاکستان کو اسرائیلی ریاست تسلیم کر لینی چاہیے؟

مجھے اس سوال پر گفتگو کرنی ہے کہ آج کل اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی جو بات ہو رہی ہے اس کے بارے میں پاکستان کا اصولی موقف کیا ہے؟ کیا موقف ہونا چاہیے؟ اور معروضی حالات میں پاکستان کا مفاد کیا ہے؟ لیکن اس سے پہلے مسئلہ کی نوعیت سمجھنے کے لیے اسرائیل کے قیام کے پس منظر پر کچھ گفتگو کرنا ہوگی، اس کے بعد موجودہ معروضی صورتحال صحیح طور پر سامنے آئے گی اور پھر میں اپنی رائے کا اظہار کروں گا۔ آج سے ایک صدی پہلے اسرائیل کا کوئی وجود نہیں تھا اور فلسطین کا سارا علاقہ خلافت عثمانیہ کا صوبہ تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۹ء

ڈسٹرکٹ بار گوجرانوالہ کا تحفظ ناموس رسالتؐ سیمینار

میں سب سے پہلے گوجرانوالہ کے وکلاء اور ڈسٹرکٹ بار کو اس حالیہ کامیابی پر مبارکباد پیش کروں گا جو گوجرانوالہ میں لاہور ہائیکورٹ کا بینچ قائم کرنے کے سلسلہ میں انہوں نے حاصل کی ہے۔ یہ گوجرانوالہ ڈویژن کے عوام کا حق اور وکلاء کا جائز مطالبہ تھا جسے پورا کرنے پر حکومت بھی تحسین کی مستحق ہے۔ تحفظ ناموس رسالتؐ کے عنوان پر وکلاء کا یہ سیمینار آپ حضرات کے ایمانی ذوق اور محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی علامت ہے۔ گوجرانوالہ کے وکلاء نے ختم نبوت اور ناموس رسالت کے تحفظ کی جدوجہد میں ہمیشہ بھرپور کردار ادا کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ جنوری ۲۰۱۹ء

خیر و برکت کے اصول

قرآن کریم میں شرک اور جاہلانہ رسوم کی مذمت و مخالفت کے ساتھ ساتھ حلال و حرام کے ان ضابطوں کو بھی موضوع بحث بنایا گیا ہے جو دور جاہلیت میں مختلف قبائل اور علاقوں کے لوگوں نے از خود طے کر لیے تھے اور جن پر وہ صدیوں سے عمل پیرا تھے۔ مطلق اباحیت اور فری اکانومی کا یہ تصور قدیم سے موجود چلا آرہا ہے کہ ہم اپنے اموال میں تصرف کے حوالہ سے خودمختار ہیں اور کسی کو اس میں مداخلت کا حق حاصل نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۶ء

سوسائٹی اور دینی مدارس کے درمیان ربط کی ضرورت

دینی مدارس اس وقت جس جدوجہد میں مصروف ہیں اور ان کو جس طرح کی مخالفتوں، رکاوٹوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس کے بنیادی اسباب و عوامل کو سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔ دینی مدارس کے اس نظام نے اب سے ڈیڑھ سو برس قبل ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد پیدا ہونے والے اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کی تھی جو مغل حکومت کے خاتمہ اور برطانوی حکومت کے استعماری تسلط کے نتیجے میں ہمارے معاشرتی و تعلیمی ماحول میں پیدا ہوگیا تھا۔ درس نظامی کا پرانا نظام مکمل طور پر ختم ہوگیا تھا، دینی مدارس بند ہو گئے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ مارچ ۲۰۱۶ء

آسمانی مذاہب کے درمیان مکالمہ کے لیے قرآنی اصول

مجھے توحید کی اہمیت اور اس پر ہمارے ایمان و عقیدہ کی بنیاد کے حوالہ سے کچھ عرض کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور میری اس کمزوری اور مجبوری سے آپ حضرات واقف ہیں کہ کسی بھی موضوع پر بات کرنے سے پہلے معروضی حالات اور عالمی تناظر کو ضرور دیکھتا ہوں اور اسے سامنے رکھتے ہوئے گفتگو کی کوشش کرتا ہوں۔ آج کی دنیا میں مذاہب و ادیان کے درمیان مکالمہ اور ڈائیلاگ کی بات چل رہی ہے اور مختلف مذاہب کے دینی راہنماؤں کی مشترکہ کانفرنسیں ہو رہی ہیں، ابھی اسلام آباد میں ایک کانفرنس ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ اکتوبر ۲۰۰۴ء

سیرت کانفرنس میں وزیراعظم صاحب کی تقریر

وزیر اعظم جناب عمران خان صاحب نے جو گفتگو کی ہے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کے حوالے سے، ریاستِ مدینہ کے حوالے سے، فلاحی ریاست کے حوالے سے، اور اس حوالے سے کہ ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر قانون سازی کی ضرورت ہے، اور یہ بات کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین اور مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنا یہ دونوں آزادی رائے کے اظہار کے دائرے میں نہیں آتے، اور اس پر پاکستان کی حکومت کا یہ اعلان کہ ہم دنیا بھر میں کمپین کریں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ نومبر ۲۰۱۸ء

متحدہ مجلس عمل کا ملین مارچ اور مولانا سمیع الحق شہیدؒ

حضرت مولانا سمیع الحق شہیدؒ اہل حق کے جری نمائندہ اور اکابر کی روایات کے امین تھے جن کی المناک شہادت سے ہر باشعور مسلمان دکھی اور غمزدہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ نئی نسل کے لیے مولانا سمیع الحقؒ کی جدوجہد اور خدمات کے مختلف پہلوؤں کو سامنے لانے کی ضرورت ہے تاکہ نوجوان علماء کرام اور دینی کارکن ان سے راہنمائی حاصل کر سکیں۔ اس محفل میں چند پہلوؤں کی طرف مختصرًا اشارہ کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ نومبر ۲۰۱۸ء

انبیاء کرامؑ کی دعوت کے مختلف مناہج

اللہ تعالیٰ کے پیغمبر، نبی اور رسول کا بنیادی منصب داعی کا ہے کہ وہ نسل انسانی کے کس حصہ کو اللہ تعالیٰ کی بندگی اور توحید کی طرف دعوت دیتے تھے، اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اس بندگی کو شرک سے محفوظ رکھنا سب سے پہلی دعوت ہے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے رسول کی حیثیت سے اس کے نبی اور رسول کی اطاعت اس دعوت کا دوسرا حصہ ہے جبکہ اس دنیا کو عارضی زندگی سمجھتے ہوئے آخرت کی اصل اور ابدی زندگی کی تیاری کرنا جو انسان کی اصل ذمہ داری ہے اس کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنا دعوت کا تیسرا حصہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ اکتوبر ۲۰۱۸ء

تمام علوم دینیہ کا سرچشمہ حدیث نبویؐ ہے

دینی مدارس کے نصاب تعلیم میں قرآن کریم، حدیث و سنت اور فقہ اسلامی علوم مقصودہ ہیں جنہیں ’’علوم عالیہ‘‘ کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے۔ جبکہ باقی علوم و فنون مثلاً صرف و نحو، لغت، ادب، معانی اور منطق وغیرہ ان علوم تک رسائی کا ذریعہ ہیں اور ان کے ذریعے علوم عالیہ کو سمجھنے کی صلاحیت و استعداد پیدا کی جاتی ہے، اس لیے یہ ’’علوم آلیہ‘‘ کہلاتے ہیں۔ علومِ عالیہ تو وحی اور اس سے استنباط کی بنیاد پر ہر دور میں یکساں رہے ہیں اور ہمیشہ وہی رہیں گے، لیکن علومِ آلیہ میں وقت گزرنے کے ساتھ زمانے اور حالات کے مطابق ردوبدل ہوتا آرہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ اگست ۲۰۱۲ء

پاک چین دوستی اور سی پیک کے معاملات

مجلس ارشاد المسلمین لاہور کے امیر مولانا حافظ عبد الوحید اشرفی کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے ایک اہم قومی مسئلہ پر اس سیمینار کا اہتمام کیا اور مجھے بھی اظہار خیال کی دعوت دی۔ اس قسم کے قومی و ملی مسائل پر اظہار خیال، مذاکرہ اور مباحثہ ہمارے ہاں جس قدر ضروری ہے اسی اعتبار سے اس کی طرف توجہ کم ہوتی ہے، اس لیے اس نشست کے انعقاد پر مجھے خوشی ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی جمعیۃ علماء اسلام لاہور کے راہنما حافظ ابوبکر شیخ کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے سی پیک کے تاریخی اور معروضی پس منظر کے بارے میں ایک معلوماتی رپورٹ پیش کی جو انتہائی ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ اکتوبر ۲۰۱۸ء

قادیانیت کے حوالے سے کام کے مختلف دائرے

۲۷ مارچ کو مجھے عصر کے بعد جوہر ٹاؤن لاہور میں ملی مجلس شرعی کے ایک اہم اجلاس میں شریک ہونا تھا، مولانا قاری جمیل الرحمان اختر سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ ظہر کے بعد انارکلی میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی ۲۱ اپریل کو شالامار چوک لاہور میں منعقد ہونے والی ختم نبوت کانفرنس کی تیاریوں کے سلسلہ میں ایک اجلاس ہو رہا ہے، وہیں آجائیں وہاں سے اکٹھے چلے جائیں گے۔ اس طرح میں نے ظہر کے بعد انارکلی میں حضرت مولانا محمد ابراہیم مرحوم کی مسجد میں منعقدہ مذکورہ اجلاس میں شرکت کی سعادت حاصل کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ مارچ ۲۰۱۲ء

امن ضروری ہے اور امن کے لیے انصاف ضروری ہے

ظہیر الدین بابر ایڈووکیٹ ہمارے پرانے ساتھیوں میں سے ہیں، گوجرانوالہ سے تعلق ہے، جمعیۃ طلباء اسلام میں سالہاسال تک متحرک رہے ہیں، اب جمعیۃ علماء اسلام (س) میں مولانا سمیع الحق کے ہراول دستہ کے سرخیل ہیں، جبکہ جمعیۃ طلباء اسلام (س) کا محاذ ان کے فرزند حافظ غازی الدین بابر نے سنبھال رکھا ہے۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے قریبی ساتھی ماسٹر اللہ دین کی نواسی ان کی اہلیہ محترمہ ہیں اور اس خاندان کے ساتھ ہمارے خاندانی مراسم کی تاریخ بحمد اللہ تعالٰی تین نسلوں سے چلی آرہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اپریل ۲۰۱۲ء

تہذیبی چیلنج اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داریاں

گوجرانوالہ کے بہت سے علماء کرام کا یہ معمول سالہا سال سے چلا آرہا ہے کہ وہ سال میں تبلیغی جماعت کے ساتھ ایک اجتماعی سہ روزہ لگاتے ہیں اور دو تین روز دعوت و تبلیغ کے ماحول میں گزارتے ہیں، اس سہ روزہ میں مجھے بھی ان کے ساتھ شامل ہونے کا موقع مل جاتا ہے۔ اس سال تیس کے لگ بھگ علماء کرام کے اس سہ روزہ کی تشکیل دارالعلوم الشہابیہ سیالکوٹ میں ہوئی اور تین دن ہم تبلیغی جماعت کے ساتھ اعمال میں شریک رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۸ء

نسلِ انسانی کی ضروریات اور امام ابوحنیفہؒ کے افکار

اتحاد اہل سنت کے اسلام آباد کے سیمینار میں حضرت امام اعظمؒ کی سیاسی جدوجہد کے حوالے سے کچھ معروضات پیش کی تھیں، لاہور کے سیمینار میں امام صاحبؒ کی فقہی خدمات اور قانون سازی کے بارے میں عظیم جدوجہد پر کچھ عرض کیا تھا، جبکہ آج کے سیمینار میں ’’عقائد اہل سنت کی تعبیر اور وضاحت‘‘ کے بارے میں چند گزارشات کرنا چاہ رہا ہوں۔ حضرت امام ابوحنیفہؒ جس طرح فقہ و احکام میں ہمارے امام ہیں اسی طرح عقائد اور ان کی تعبیرات میں بھی انہیں امام کا درجہ حاصل ہے۔ انہوں نے اپنی علمی زندگی کا آغاز عقائد اہل سنت کی وضاحت اور مناظروں سے کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ جنوری ۲۰۱۲ء

امام اعظم کی تعلیمات اور عصرِ حاضر

دسمبر اتوار کو لوئر مال لاہور کے عامر ہوٹل میں ’’اتحاد اہل سنت‘‘ کے زیر انتظام ’’امام اعظم ابوحنیفہؒ سیمینار‘‘ منعقد ہوا جس کا اہتمام حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ آف کندیاں شریف کی یاد میں کیا گیا تھا۔ مولانا محمد الیاس گھمن سیمینار کے داعی و منتظم اور مولانا عبد الشکور حقانی اسٹیج سیکرٹری تھے۔ لاہور کے علماء کرام اور دینی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی جبکہ خطاب کرنے والوں میں حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود، مولانا حافظ فضل الرحیم، مولانا محب اللہ آف لورائی، مولانا محمد الیاس گھمن، الحاج سید سلیمان گیلانی اور دیگر سرکردہ حضرات شامل تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ دسمبر ۲۰۱۱ء

فکری مرعوبیت اور اس کا سدّباب

عام طور پر علم و فکر کی بات کی جاتی ہے، علم کا دائرہ اپنا ہے اور فکر کا دائرہ اس سے قدرے مختلف ہے۔ فکر کا ایک اہم دائرہ جو میں سمجھا ہوں، صحابیؓ رسول حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کا یہ ذوق ہے جس کا وہ خود ان الفاظ میں ذکر فرماتے ہیں کہ ’’کانوا یساَلونہ عن الخیر وکنت اَساَلہ عن الشر‘‘ اصحابِ رسول عام طور پر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کی بات پوچھا کرتے تھے جبکہ میں شر کے بارے میں دریافت کرتا رہتا تھا۔ خیر کے بارے میں علم اور معلومات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ شر کے بارے میں علم اور معلومات حاصل کرنا بھی ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم جنوری ۲۰۱۲ء

دعوتِ دین اور اس کے تقاضے

ایک عرصہ سے عید الاضحٰی کی تعطیلات میں تبلیغی جماعت کے ساتھ سہ روزہ لگانے کا معمول ہے، اس سال گوجرانوالہ کے تبلیغی مرکز کی طرف سے مسجد ابراہیم سول لائن شیخوپورہ میں تشکیل ہوگئی اور گوجرانوالہ کے ۲۵ کے لگ بھگ علماء کرام اور چار پانچ دیگر احباب کے ساتھ عید سے پہلا جمعہ، ہفتہ اور اتوار تبلیغی جماعت کے ساتھ گزارا۔ دیگر معمول کی سرگرمیوں کے علاوہ اتوار کو ضلع کے علماء کرام کا جوڑ رکھا گیا تھا جس میں کچھ معروضات پیش کرنے کا موقع ملا، ان گزارشات کا خلاصہ نذرِ قارئین ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۱ء

علماء کرام کی جدوجہد کا تسلسل

ان دنوں ملک بھر میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی رکن سازی کا سلسلہ جاری ہے اور آئندہ پانچ سالہ مدت کے لیے رکن سازی اور تنظیم نو کے عمل میں احباب ہر سطح پر سرگرم عمل ہیں۔ رکن سازی کے بعد مرحلہ وار جماعتی انتخابات ہوں گے اور پھر مرکزی انتخابات کے بعد نومنتخب مجلس عاملہ اگلے پانچ سال کے لیے جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کا نظم و نسق سنبھال لے گی ۔سندھ کے شہید راہنما ڈاکٹر خالد محمود سومروؒ کے فرزند مولانا راشد محمود سومرو مرکزی ناظم انتخابات کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ اکتوبر ۲۰۱۸ء

مدارس کے طلبہ سے چند گزارشات

۱۰ جون کو عشاء کے بعد میں نے جامعہ عثمانیہ شورکوٹ کے سالانہ جلسے میں حاضری دی جو ہمارے پرانے دوست، جماعتی ساتھی اور تحریکی رفیق کار حضرت مولانا بشیر احمد خاکیؒ کی یادگار اور صدقہ جاریہ ہے۔ جبکہ ۱۱ جون کو عشاء کے بعد بیرون بوہڑ گیٹ ملتان میں حضرت مولانا غلام فرید صاحبؒ کے قائم کردہ مدرسہ مدینۃ العلم میں معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر منعقد ہونے والے جلسے میں مجھے شریک ہونا تھا۔ درمیان کا دن میں نے خانیوال اور کبیر والا میں احباب سے ملاقاتوں اور آرام کے لیے رکھا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ جون ۲۰۱۱ء

مشرقِ وسطٰی کی معروضی صورتحال اور چند تجاویز

تعطیلات کی وجہ سے گزشتہ تین دن سے کراچی میں ہوں اور حسب سابق جامعہ اسلامیہ کلفٹن اور جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن میں تخصص کی کلاسوں میں انسانی حقوق اور اسلامی تعلیمات کے مختلف پہلوؤں پر گزارشات پیش کر رہا ہوں۔ اس دفعہ کراچی میں ایک نئی صورتحال سامنے آئی ہے کہ عرب ممالک کے موجودہ حالات بالخصوص بحرین کی شورش میں سعودی عرب کی مداخلت کے حوالے سے کراچی کی سڑکوں پر سعودی حکمرانوں کے خلاف بینرز آویزاں دیکھے جا رہے ہیں جن میں بحرین میں مداخلت پر سعودی عرب کے حکمران خاندان کے خلاف نعرہ بازی کی گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۱ء

گلوبل ہیومن سوسائٹی کا مستقبل اور قرآن کریم

میں نے آپ حضرات کے سامنے قرآن کریم کی دو آیات پڑھی ہیں جو بیسویں پارے کی آخری آیات ہیں اور ان میں اللہ رب العزت نے قرآن کریم ہی کے بارے میں ایک بات ارشاد فرمائی ہے۔ مشرکین مکہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسلسل نشانیوں اور معجزات کا مطالبہ کرتے رہتے تھے، حالانکہ بیسیوں کھلے معجزات کا انہوں نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر رکھا تھا مگر اس کے باوجود ان کا معجزات اور نشانیوں کے لیے مطالبہ جاری رہتا تھا اور وہ اپنی طرف سے طے کر کے کہا کرتے تھے کہ جو نشانیاں ہم مانگتے ہیں وہ دکھائی جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ اگست ۲۰۱۰ء

شہدائے بالاکوٹ اور تحریکِ آزادی میں ان کا کردار

ہم جب برصغیر کی تحریک آزادی کے عنوان سے بات کرتے ہیں تو اس سے مراد برصغیر پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور برما وغیرہ پر برطانوی استعمار کے تسلط کے بعد وطن کی آزادی کے لیے بپا کی جانے والی تحریکات ہوتی ہیں۔ ان میں ایک دور مسلح تحریکات کا ہے اور دوسرا دور پر اَمن سیاسی تحریکات کا ہے، ان دونوں قسم کی تحریکات میں اپنے اپنے وقت میں ہمارے اکابر نے خدمات سرانجام دی ہیں اور جدوجہد کی ہے۔ شہدائے بالاکوٹ کی جدوجہد بھی اسی کا ایک باب ہے لیکن اس کے تذکرہ سے پہلے تحریک آزادی کا مختصر پس منظر پیش کرنا چاہتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ مئی ۲۰۱۰ء

دستوری ترامیم: دینی حلقوں کی کامیاب جدوجہد

ہم پاکستان میں نفاذِ اسلام، عقیدۂ ختم نبوت، ناموس رسالتؐ اور دیگر حوالوں سے شروع سے ہی بین الاقوامی سازشوں اور دباؤ کا شکار ہیں اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہتا نظر آتا ہے لیکن اس عالمی دباؤ کی ایک لہر سے ہم ابھی سرخرو نکلے ہیں اور میں اس پر سب حضرات کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔ گزشتہ دو سال سے دستور پاکستان میں ضروری ترامیم کے حوالہ سے پارلیمنٹ کی کمیٹی کام کر رہی ہے اور اس کے سامنے ملکی اور بین الاقوامی حلقوں کی طرف سے بہت سے ایسے مطالبات پیش کیے جاتے رہے ہیں جن پر ہمیں تشویش تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اپریل ۲۰۱۰ء

دینی مدارس سرکاری مداخلت کیوں نہیں قبول کرتے؟

پہلا سبب یہ ہے کہ دینی مدارس کے موجودہ نظام کے آغاز ہی پر سب سے پہلے قائم ہونے والے دینی مدرسہ دارالعلوم دیوبند کے بنیادی اصول میں بانیٔ دارالعلوم حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے اس بات کی ہدایت کر دی تھی کہ مدرسہ کا نظام عام لوگوں کے چندے اور تعاون کے ذریعے چلایا جائے اور کسی حکومت یا ریاست کی طرف سے مستقل امداد قبول نہ کی جائے۔ یہ بات دارالعلوم دیوبند کے اصول ہشت گانہ میں درج ہے اور ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد قائم ہونے والے دینی مدارس کے آزادانہ نظام کے لیے راہنما اصول کا درجہ رکھتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ جون ۲۰۱۰ء

حضرت سلمان فارسیؓ کی نصیحت

جناب سرور کائناتؐ کی سیرت طیبہ قیامت تک نسل انسانی کے لیے مشعلِ راہ ہے اور اس کے مختلف پہلوؤں سے ہر دور میں انسانی سوسائٹی نے استفادہ کیا ہے جو قیامت تک جاری رہے گا۔ مگر میں آج سیرت طیبہ کے ایک پہلو کے حوالے سے کچھ معروضات پیش کرنا چاہوں گا کہ جناب رسول اللہ نے نسل انسانی کو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے اور اس کی عبادت میں کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ کرنے پر زور دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ جو لوگ اللہ کو بھول جاتے ہیں اللہ انہیں اپنے آپ سے غافل کر دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ فروری ۲۰۱۰ء

امریکہ میں مقیم مسلمانوں سے چند ضروری گزارشات

میں مسجد الہدٰی واشنگٹن ڈی سی کی انتظامیہ اور جمعیۃ المسلمین کے ذمہ دار حضرات کا شکر گزار ہوں جنہوں نے آج یہاں اس محفل کا انعقاد کر کے ہمیں اپنی دینی ذمہ داریوں کے بارے میں کچھ کہنے سننے کا موقع فراہم کیا، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دیں۔ تفصیلی خطاب تو حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی کا ہوگا جو قادیانیت کی فتنہ خیزیوں کے بارے میں آپ سے کھل کر بات کریں گے، مجھے مختصر وقت میں آپ دوستوں سے یہاں امریکہ میں مقیم مسلمانوں بالخصوص پاکستانی دوستوں کی ذمہ داریوں کے حوالے سے کچھ گزارشات پیش کرنی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ اکتوبر ۱۹۸۹ء

کیا افغان مجاہدین کی جنگ مسلمان اور مسلمان کی جنگ ہے؟

جہاد افغانستان کے بارے میں اس وقت جن دو سوالوں پر سب سے زیادہ زور دیا جا رہا ہے ان میں ایک یہ ہے کہ جب روسی افواج افغانستان سے چلی گئی ہیں تو اب جہاد جاری رکھنے کا شرعی جواز کیا باقی رہ گیا ہے اور کیا افغانستان میں ہونے والی موجودہ جنگ مسلمان کی مسلمان کے ساتھ جنگ نہیں ہے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ افغان مجاہدین نے اب تک جو جنگ لڑی ہے اس میں انہیں امریکہ، پاکستان اور دوسرے ممالک کی پشت پناہی حاصل تھی مگر اب ان ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلی نظر آرہی ہے اور پشت پناہی اور امداد کی پہلی کیفیت باقی نہیں رہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ نومبر ۱۹۸۹ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter