امپورٹڈ قوانین اور سیاسی خلفشار
”پاکستان شریعت کونسل“ کے ایک مشاورتی اجلاس کے بارے میں صوبائی سیکرٹری جنرل قاری محمد عثمان رمضان کی جاری کردہ رپورٹ قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔ ”پاکستان شریعت کونسل نے امارتِ اسلامیہ افغانستان کو فوری طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ دہرایا ہے اور کہا ہے کہ اس میں تاخیر افغان قوم کے ساتھ زیادتی کے علاوہ خطے میں امن کے قیام میں بھی رکاوٹ ثابت ہو سکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
فہمِ قرآن کے بنیادی تقاضے
مدرسہ انوار العلوم مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں دورۂ تفسیر کے افتتاح کے موقع پر فہمِ قرآن کے بنیادی تقاضوں سے متعلق گفتگو کی تھی، جسے برخوردار حافظ فضل اللہ راشدی نے محفوظ اور مرتب کیا ہے۔ ان کے شکریے کے ساتھ یہ تحریر نذر قارئین کی جا رہی ہے۔ حمد و صلاۃ کے بعد، سب سے پہلے تو میں دورۂ تفسیر القرآن الکریم کے لیے آنے والے طلباء کو خوش آمدید کہتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ایسٹ انڈیا کمپنی نے اقتدار پر کیسے قبضہ کیا تھا؟
تجارت اور صنعتوں پر کمپنی کی اجارہ داری قائم ہو جانے کی وجہ سے کمپنی اپنی من مانی شرائط پر کاریگروں اور دستکاروں سے مال تیار کرواتی تھی۔ کمپنی کے ایجنٹ منڈی کے مقابلے میں نہایت کم معاوضے اور بہت کم وقت میں مصنوعات تیار کرنے کا کہتے تھے۔ کاریگر اس صورتحال میں سخت نالاں تھے، مگر کمپنی کے سامنے اُف تک نہ کر سکتے تھے۔ اگر کوئی کاریگر احتجاج کرتا تو اسے سخت سزائیں دی جاتی تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سود سے متعلق قائد اعظم کے فرمان پر کب عمل ہو گا؟
تازہ صورت حال یہ ہے وفاقی شرعی عدالت نے ایک بار حکومت سے کہا ہے کہ وہ سود کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے اور اس سلسلے میں درپیش رکاوٹیں دور کرے۔ سودی مالیاتی نظام سے متعلق وفاقی شرعی عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت نور محمد مسکانزئی نے حکومت کو غیر سودی نظام لانے کے لیے اتفاق رائے پیدا کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نظریۂ پاکستان کیا ہے؟
۱۹۴۷ء میں اسلامی نظریہ اور مسلم تہذیب و ثقافت کے تحفظ و فروغ کے عنوان سے جنوبی ایشیا میں ”پاکستان“ کے نام سے ایک نئی مملکت وجود میں آئی تو یہ تاریخی اعتبار سے ایک اعجوبہ سے کم نہیں تھی کہ اس خطے میں مسلم اقتدار کے خاتمہ کو ایک صدی گزر چکی تھی، جبکہ مغرب میں اسلام کے نام پر صدیوں سے چلی آنے والی خلافت عثمانیہ ربع صدی قبل اپنے وجود اور تشخص سے محروم ہو گئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کل جماعتی مشاورتی سیمینار
دینی جدوجہد کی موجودہ صورتحال کے حوالہ سے گوجرانوالہ میں منعقدہ سیمینار میں تحفظ تقدس مسجد نبویؐ، سودی نظام کے خلاف وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ اور ملک میں موجودہ سیاسی کشمکش اور خلفشار کے حوالہ سے اہم تجاویز دی گئیں اور قومی سطح پر معاملات کو آگے بڑھانے پر غور کیا گیا۔ اس سیمینار میں راقم الحروف کے علاوہ مولانا اقبال رشید، جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کفار کے ساتھ نبی اکرمؐ کا معاشرتی رویہ
جناب سرور کائنات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معاشرتی زندگی کے اس پہلو پر آج کی محفل میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے کافروں کے ساتھ معاشرتی زندگی میں کیا معاملہ کیا ہے اور ان کے ساتھ زندگی کیسے گزاری ہے؟ اس حوالہ سے جناب سرور کائناتؐ کی حیات مبارکہ کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ (۱) پہلا حصہ اس چالیس سالہ دور کا ہے جو نبوت سے پہلے مکہ مکرمہ میں گزرا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مسیلمہ کذاب کا دعوائے نبوت
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ کچھ عرصہ سے جمعۃ المبارک کے بیان میں سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے کسی نہ کسی پہلو پر گفتگو چل رہی ہے، آج سیرت مبارکہ کے اس پہلو پر کچھ عرض کرنا چاہوں گا کہ رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک میں جن لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کیا ان کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل کیا تھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں چار اشخاص نے نبوت کا دعویٰ کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
منافقین کے خلاف جہاد کی نبویؐ حکمت عملی
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے حوالہ سے ایک پہلو پر آج چند گزارشات پیش کرنا چاہوں گا۔ قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ’’یا ایہا النبی جاہد الکفار والمنافقین واغلظ علیہم‘‘ اے نبیؐ! کافروں اور منافقین کے ساتھ جہاد کریں اور ان پر سختی کریں۔ چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد مدینہ منورہ کے دس سالہ دور میں کافروں کے خلاف مسلسل جہاد کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پاکستان میں نفاذِ شریعت کیوں ضروری ہے؟
بعد الحمد والصلوٰۃ! ہماری آج کی گفتگو کا عنوان ”پاکستان میں نفاذِ شریعت کی جدوجہد“ ہے، میں اس کے عمومی تناظر پر مختصراً کچھ عرض کرنا چاہوں گا۔ پہلی بات یہ ہے کہ باقی تمام پہلوؤں سے قطع نظر ہم بحیثیت مسلمان اس بات کے پابند ہیں کہ ہمارے معاشرے میں قرآن و سنت کے احکام و قوانین کا عملی نفاذ ہو، اس لیے کہ قرآن و سنت کے احکام و قوانین پر عمل ہر مسلمان کا فریضہ اور ذمہ داری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
آئی پی ایس کے زیر اہتمام مبارک ثانی کیس کے فیصلے پر ایک اہم مشاورت
اٹھائیس اگست کو اسلام آباد میں انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کی دعوت پر مبارک ثانی کیس کے بارے میں سپریم کورٹ کے نئے فیصلہ پر ایک اہم مشاورت میں شرکت کا موقع ملا جس کی انسٹیٹیوٹ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے، راقم الحروف نے اس نشست میں جو معروضات پیش کیں وہ اگلے مرحلے میں نذر قارئین کی جائیں گی ان شاء اللہ تعالیٰ (راشدی) ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
طلاق و خلع کی شرح میں مسلسل اضافہ پر ایک سیمینار
۲۲ اپریل ۲۰۱۹ء کو فاطمہ جناح خواتین یونیورسٹی راولپنڈی میں منعقدہ ایک سیمینار کی رپورٹ مولانا حافظ سید علی محی الدین کے قلم سے ملاحظہ فرمائیں (ابوعمار زاہد الراشدی): ’’گزشتہ کچھ عرصے سے ہمارے معاشرتی مسائل میں جو مسئلہ نہایت شدت اور تیزی سے سر اٹھا کر ہمارے خاندانی نظام کو شدید عدمِ استحکام، بے سکونی، لاینحل مسائل کی جانب مسلسل بڑھا رہا ہے، وہ طلاق و خلع کی رفتار میں نہایت تیزی سے اضافہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کشمیر کے خلاف قادیانی سازشیں
تحریک خدام اہل سنت جھاٹلہ کا شکر گزار ہوں کہ اس تاریخی سنی کانفرنس میں حاضری اور کچھ گزارشات پیش کرنے کا موقع دیا۔ اس کانفرنس کا آغاز اب سے پچیس برس قبل حاجی حافظ شیر زمان رحمہ اللہ تعالیٰ نے کیا تھا، جو تسلسل کے ساتھ جاری ہے اور ان کے خلوص کی علامت ہونے کے ساتھ ساتھ ان کا صدقہ جاریہ بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات جنت میں بلند فرمائیں، آمین یا رب العالمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تورات کے احکامِ عشرہ
۲۵ دسمبر کو پوری دنیا کی مسیحی برادری کرسمس کے نام سے تہوار مناتی ہے، جو ان کا سب سے بڑا قومی اور مذہبی تہوار سمجھا جاتا ہے۔ ہم اس موقع پر مسیحی دوستوں کو تورات کے ان احکامِ عشرہ کی یاددہانی کرانا چاہیں گے، جو بائبل کی کتاب ”خروج“ کے باب ۲۰ میں یوں درج ہیں۔ ”اور خدا نے یہ سب باتیں فرمائیں کہ خداوند تیرا جو تجھے ملک مصر سے اور غلامی کے گھر سے نکال لایا، میں ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عام انتخابات۔ دینی جماعتیں کیا کریں؟
کچھ دنوں سے مجلس احرار اسلام پاکستان کے راہنماؤں مولانا سید کفیل شاہ بخاری، جناب حاجی عبد اللطیف چیمہ اور بعض دیگر دوستوں کے ساتھ مشاورت چل رہی ہے کہ جو دینی جماعتیں ملک کی عمومی دینی جدوجہد میں تو شریک ہیں مگر انتخابات میں براہ راست حصہ نہیں لیتیں، انہیں عام انتخابات میں کیا کردار ادا کرنا چاہیے؟ ان جماعتوں میں ”پاکستان شریعت کونسل“ اور ”مجلس احرار اسلام پاکستان“ شامل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
معاشی اصلاح کے لیے حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کا فارمولا
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ہم اس وقت قومی سطح پر ہمہ گیر معاشی بدحالی کا شکار ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بجلی کے ناقابل برداشت بلوں اور ٹیکسوں میں بے تحاشہ اضافہ نے عام شہری تو کجا متوسط طبقہ کی زندگی بھی اجیرن کر رکھی ہے اور اصلاحِ احوال کی کوئی تدبیر سجھائی نہیں دے رہی۔ اس پس منظر میں ایسی صورتحال میں ماضی کے عادل حکمرانوں کے طریق کار اور خاص طور پر قرنِ اول کے خلفاء کرام کے اسوۂ حسنہ کو سامنے رکھنا ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
چھ ستمبر یومِ دفاع پاکستان اور سات ستمبر یومِ ختمِ نبوت
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ اگست ہمارا یوم آزادی کا مہینہ ہے۔ ۱۴ اگست کے حوالے سے ملک بھر میں تقریبات ہو رہی ہیں۔ ستمبر ہمارا دفاعِ پاکستان کا مہینہ ہے، پورا مہینہ پاکستان کے دفاع کے حوالے سے مقالات، مضامین، سیمینار، پروگرام، جلسے ہوتے رہیں گے اور ہم دفاعِ وطن کے عنوان سے اپنے جذبات، موقف اور احساسات کا اظہار کریں گے۔ اسی دوران ستمبر میں ہی ربیع الاول شروع ہو جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلامی معیشت کی بنیادیں
اسلامی نظریاتی کونسل نے ۲۶ و ۲۷ اپریل ۲۰۱۶ء کو اسلام آباد میں اسلامی معیشت کے حوالہ سے دو روزہ سیمینار کا اہتمام کیا، جس کی مختلف نشستوں سے ملک کے ممتاز علماء کرام، اصحاب دانش اور ماہرین معیشت نے خطاب کیا اور ”اسلامی معیشت کی بنیادیں اور دور جدید کی مشکلات“ کے موضوع کے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کیا۔ کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی صدر نشین تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تحریک تحفظ ختم نبوت کا ایک اہم سوال
عقیدہ ختم نبوت مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے، جس کا تعلق جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی اور ان کے مقام و عظمت سے ہے۔ اس لیے دنیا کا ہر مسلمان اس کے حوالے سے بہت حساس اور جذبہ حمیت سے سرشار ہے اور اس میں کسی قسم کی لچک اس کے لیے قابلِ قبول نہیں ہے۔ عقیدہ ختم نبوت پر گفتگو کے مختلف دائرے ہیں: ایک دائرہ اعتقادی ہے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی و عصری تعلیم کے نصاب کو یکساں بنانے کا پس منظر
نئی حکومت کی جانب سے دینی مدارس اور اسکولوں کا یکساں نصاب رائج کرنے کے اعلانات کے بعد یہ موضوع ایک بار پھر زیر بحث آ گیا ہے۔ راقم نے ایک وائس میسج میں اس پر اپنے موقف کا اظہار کیا تھا، جو مختلف حلقوں میں توجہ کے ساتھ سنا گیا۔ اسے عزیزم مولوی حذیفہ سواتی نے تحریری صورت دی ہے، جسے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ آج کی خبر کے مطابق عمران خان کی حکومت نے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سفرِ معراج کے دو پہلو
خیر پور سندھ کی مرکزی جامع مسجد کے خطیب مولانا مفتی محمد اسد اللہ شیخ نے ۴ مئی کو میری حاضری کے موقع پر جامع مسجد میں معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر بیان کا اہتمام کر رکھا تھا۔ اس موقع پر جو گزارشات پیش کیں ان کا خلاصہ درج ذیل ہے۔ بعد الحمد والصلوٰۃ۔ اسراء و معراج کا واقعہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کا اہم واقعہ ہے اور بڑے معجزات میں سے ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے ایک حصے میں جسم اطہر کے ساتھ بیداری کی حالت میں یہ مقدس سفر کرایا، جس کا ایک حصہ اسراء کہلاتا ہے جو مکہ مکرمہ سے بیت المقدس تک تھا، جبکہ دوسرا حصہ معراج کہلاتا ہے جو زمین سے عرش بلکہ اس سے بھی آگے کی منازل تک تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سندھ اسمبلی کے ارکان اپنی رائے پر نظر ثانی کریں
گزشتہ روز سندھ اسمبلی نے ایک قرارداد کے ذریعہ اسلامی نظریاتی کونسل کو ختم کر دینے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ چند ہفتے قبل قومی اسمبلی نے ایک قرارداد کے ذریعہ سفارش کی تھی کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو قومی اسمبلی اور دیگر متعلقہ ایوانوں میں پیش کر کے ان کے مطابق قانون سازی کا اہتمام کیا جائے۔ اسلامی نظریاتی کونسل ایک دستوری ادارہ ہے جو جید علماء کرام اور ممتاز ماہرین قانون پر مشتمل ہے اور اس کے ذمہ کام یہ ہے کہ وہ ملک میں رائج قوانین کا جائزہ لے کر ان کی شرعی حیثیت کا تعین کرے اور جن قوانین کو قرآن و سنت سے متصادم پائے ان کی اصلاح تجویز کرتے ہوئے حکومت کو متبادل قوانین کے لیے سفارشات فراہم کرے۔ اسلامی نظریاتی کونسل ۱۹۷۳ء کے دستور کے نفاذ کے فوراً بعد قائم کر دی گئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
موجودہ حالات میں قومی اتفاقِ رائے کی ضرورت
دہشت گردی کے خلاف جنگ کو ’’سانحہ پشاور‘‘ نے ایک نیا رخ دے دیا ہے اور اس کے لیے قومی سطح پر اقدامات کو منظم کرنے کی طرف پیش رفت جاری ہے۔ سیاسی راہ نماؤں کے مشترکہ اجتماعات اور ان کے ساتھ عسکری راہ نماؤں کی مشاورت کے بعد دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام پر بحث ہو رہی ہے۔ سیاسی قیادت میں اس سلسلہ میں اتفاق رائے پیدا نہیں ہو رہا اور اس سے قبل ملک میں مختلف مواقع پر قائم ہونے والی فوجی عدالتوں کے فیصلوں اور طریق کار کے بارے میں بعض سیاسی راہ نماؤں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عامر احمد عثمانی کا انٹرویو
سب سے پہلے تو میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے دوستوں کے ساتھ اس ملاقات کا موقع فراہم کیا اور میرے لیے خوشی اور سعادت کی بات ہے کہ بہت سے دوستوں سے گفتگو ہو رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائیں۔ میں ۱۹۴۸ء میں پیدا ہوا، میرے والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر قدس اللہ سر العزیز کا تعلق بٹل اور شنکیاری کے درمیان ایک جگہ ہے ”کڑمنگ بالا“ وہاں سے تھا۔ ہمارے دادا محترم وہاں ہوتے تھے، چھوٹے سے زمیندار تھے۔ حضرت والد صاحب رحمہ اللہ اور چچا محترم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی رحمہ اللہ تعالیٰ کی والدہ فوت ہو گئی تھیں تو حالات نے ان کو اس رخ پر لگایا کہ یہ مختلف رشتہ داروں کے پاس رہنے لگے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس کی سالانہ تعطیلات
مدارس دینیہ میں شعبان المعظم اور رمضان المبارک کی تعطیلات کا آغاز ہوتے ہی تعلیم و تدریس کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور سینکڑوں مدارس میں مختصر دورانیے کے مختلف کورسز اس وقت چل رہے ہیں۔ زیادہ تر ذوق قرآن کریم کے ترجمہ و تفسیر کا ہے، جس کی ابتدا حضرت مولانا حسین علیؒ، حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ، حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ، حضرت مولانا حماد اللہ ہالیجویؒ، حضرت مولانا غلام اللہ خانؒ، حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور حضرت مولانا محمد عبد اللہ بہلویؒ جیسے بزرگوں سے ہوئی تھی اور اب ان کے سینکڑوں تلامذہ ملک کے طول و عرض میں دورہ تفسیر قرآن کریم کے عنوان سے یہ سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
معاملہ اتنا آسان نہیں جتنا پرویز رشید نے سمجھ لیا
وفاقی وزیر اطلاعات جناب پرویز رشید صاحب نے گزشتہ روز سینٹ آف پاکستان میں مولانا عطاء الرحمٰن کی تحریک پر اپنے ان ریمارکس کی وضاحت کی جو انہوں نے چند دن قبل آرٹس کونسل کراچی کے ادبی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے دینی مدارس پر تبصرہ کرتے ہوئے دیے تھے اور جن پر ملک بھر میں احتجاج و اضطراب کا سلسلہ جاری ہے۔ پرویز رشید صاحب کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ باتیں ان مدارس کے بارے میں کہی تھیں جو دہشت گرد پیدا کرتے ہیں اور علماء حق کے بجائے انہوں نے نصاب پر تنقید کی تھی، جبکہ علماء حق کا وہ احترام کرتے ہیں اور اگر ان باتوں سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو وہ اس پر معذرت خواہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا عبد اللطیف انورؒ کی رحلت
شاہکوٹ کے مولانا عبد اللطیف انور گزشتہ دنوں انتقال کر گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ دینی و مسلکی کارکنوں کی موجودہ کھیپ شاید اس نام سے اتنی مانوس نہ ہو، مگر دو عشرے قبل کے تحریکی ماحول میں یہ ایک متحرک اور جاندار کردار کا نام تھا۔ شیرانوالہ لاہور اور جمعیت علماء اسلام کے ساتھ گہری عقیدت اور بے لچک وابستگی رکھنے والے مولانا عبد اللطیف انورؒ کا نام سامنے آتے ہی نگاہوں کے سامنے ایک بے چین اور مضطرب شخص کا پیکر گھوم جاتا ہے، جو ملک میں نفاذ شریعت، تحفظ ختم نبوت، تحفظ ناموس صحابہؓ اور مسلک علماء دیوبند کی ترجمانی و پاسداری کے لیے نہ صرف فکرمند رہتا تھا بلکہ ہر وقت متحرک رہنا اور اپنے مشن کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہ کرنا اس کے مزاج کا حصہ بن گیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسرائیل: نسلی امتیاز کی آخری علامت
میں علمائے کرام کے ایک وفد کے ہمراہ ۲۸ نومبر کو جنوبی افریقہ پہنچا تھا، جبکہ ۶ دسمبر کو گوجرانوالہ واپس آ گیا ہوں۔ اس دوران میں نے متعدد دوستوں سے نیلسن منڈیلا کے بارے میں پوچھا کہ وہ کس حال میں ہیں؟ سب کا اجمالی جواب یہی تھا کہ وہ پہلے سے بہتر حالت میں ہیں، لیکن اس کے ساتھ یہ خبر بھی ملتی رہی کہ ان کے آبائی گاؤں میں آخری رسوم کے حوالے سے پیشگی تیاریاں جاری ہیں، جو بتاتی ہیں کہ حالت کچھ زیادہ اچھی نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
انتخابات میں عدمِ دلچسپی کی وجوہات
انتخابات کی آمد آمد ہے، ۱۱ مئی قریب آ رہی ہے، لیکن ابھی تک انتخابات کا ماحول پیدا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ آج کی ایک اخباری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ووٹ کے استعمال کے حوالے سے پاکستان دنیا کی دیگر اقوام و ممالک سے بہت پیچھے، جبکہ اعداد و شمار کے لحاظ سے بالکل پچھلی صفوں میں کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ ووٹ کا استعمال قانوناً لازمی نہیں ہے اور یہ وجہ تو عموماً بیان کی جاتی ہے کہ تعلیم کی شرح کم ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی جماعتوں کی قیادتوں سے سوال
قومی سیاست میں پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی دھماکہ خیز واپسی کے دیگر نتائج تو وقت کے ساتھ ساتھ سامنے آتے رہیں گے، لیکن اتنا ضرور ہوا ہے کہ وہ قومی سیاست میں واپس آ گئے ہیں اور انہوں نے قومی سیاست دانوں اور میڈیا کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ یہ توجہ مثبت ہو یا منفی، بہرحال توجہ ہے اور سیاست میں بسا اوقات منفی توجہ زیادہ گہرے اثرات مرتب کرتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 11
- 12
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »