ترکی میں دینی مدارس کی بندش

برادر مسلم ملک ترکیہ میں حکمران ’’رفاہ پارٹی‘‘ اور فوج کے درمیان کشمکش عروج پر ہے۔ رفاہ پارٹی جناب نجم الدین اربکان کی قیادت میں ملک میں اسلامی اقدار و روایات کے احیا کے لیے بتدریج آگے بڑھ رہی ہے۔ جبکہ فوج کی قیادت ترکی کی لادینی اور سیکولر حیثیت کو بچانے کے لیے اربکان حکومت پر مسلسل دباؤ ڈال رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۱۹۹۷ء

قومی احتساب اور اس کے تقاضے

وطن عزیز کافی عرصہ سے احتساب کے شور و غل کا شکار ہے۔ سیاسی اور عوامی حلقوں کی طرف سے بدعنوانی اور رشوت خوروں کے کڑے احتساب کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، مختلف سرکاری محکموں میں کروڑوں روپے کے گھپلوں کے انکشافات ہو رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۱۹۹۷ء

عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ کے مطالبات

روزنامہ جنگ لاہور ۹ اپریل ۱۹۹۷ء کے مطابق ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی چیئرپرسن بیگم عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ نے جنگ پینل کو انٹرویو دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عورت کو طلاق کا حق دیا جائے، اور طلاق کی صورت میں جائیداد مرد اور عورت میں برابر تقسیم کرنے کا قانون بنایا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۱۹۹۷ء

آزادی کے پچاس سال اور عالمی موسیقی کانفرنس

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ان دنوں ملک کے قیام کی پچاس سالہ تقریبات منائی جا رہی ہیں اور گزشتہ ماہ کے دوران اسی سلسلہ میں اسلام آباد میں مسلم سربراہ کانفرنس کا انعقاد بھی ہو چکا ہے۔ اگرچہ پچاس سالہ تقریبات کو جشن کے طور پر منانے کا طرزعمل بجائے خود محل نظر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۱۹۹۷ء

مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی بستیوں کی تعمیر

مقبوضہ بیت المقدس میں نئی یہودی بستی کی تعمیر ان دنوں اسرائیل اور فلسطین کے لیڈروں کے درمیان نئی کشیدگی کا باعث بنی ہوئی ہے، اور فلسطین کے صدر یاسر عرفات نے یہودی بستی کی تعمیر کو امن کے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف عالمی رائے عامہ کی حمایت حاصل کرنے کی مہم شروع کر رکھی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۱۹۹۷ء

صائمہ کیس کا فیصلہ

جسٹس احسان الحق چوہدری، جسٹس ملک محمد قیوم، اور جسٹس خلیل الرحمان رمدے پر مشتمل لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ نے گزشتہ گیارہ ماہ سے زیرسماعت شہرہ آفاق ’’صائمہ کیس‘‘ کا فیصلہ سنا دیا ہے۔ جس کے مطابق دو ججوں کے اکثریتی فیصلہ کی رو سے والدین کی مرضی کے خلاف صائمہ کے نکاح کو درست قرار دیتے ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۱۹۹۷ء

ترکی میں اسلام اور جمہوریت آمنے سامنے

کمیونزم کی شکست اور سوویت یونین کے بکھر جانے کے بعد مغرب نے اسلام کو اپنا سب سے بڑا حریف قرار دے کر اس سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی کر لی ہے اور اس کی ترجیحات میں سب سے مقدم یہ بات ہے کہ مسلم ممالک میں دینی بیداری کی تحریکات کا راستہ روکا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۱۹۹۷ء

ریاست اور مذہب کے باہمی تعلق کا مغربی پس منظر

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ مذہب اور ریاست کا آپس میں کوئی تعلق ہے یا نہیں ہے، اس حوالے سے مغرب کا کہنا یہ ہے اور اقوام متحدہ کی تشکیل اسی بنیاد پر ہوئی ہے کہ مذہب کا ریاست کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، مذہب فرد کا انفرادی معاملہ ہے اور مذہب کا دائرہ معاشرت تک نہیں بلکہ شخص اور فرد تک ہے۔ وہ مذہب سے انکار نہیں کرتے، لیکن مذہب ان کے نزدیک تین چیزوں کا نام ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ اکتوبر ۲۰۱۵ء

’’میثاق النبیین‘‘ اور فلسطین کا حالیہ بحران

جناب نبی کریمؐ کی سیرت طیبہ کے بارے میں قرآن مجید نے بیسیوں نہیں سینکڑوں آیات میں ذکر کیا ہے، اور اس کا سب سے پہلا مرحلہ جو قرآن مجید نے ذکر کیا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ نسلِ انسانی کو پیدا کرنے سے پہلے میں نے حضرات انبیاء کرامؑ کی ارواح کو اکٹھا کیا اور ان سے ایک عہد لیا تھا جسے ’’میثاق النبیین‘‘ کہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ اکتوبر ۲۰۲۳ء

جسٹس محمد رفیق تارڑ کا جرأتمندانہ فیصلہ

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۴ فروری ۱۹۹۷ء کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق جج جسٹس (ر) محمد رفیق تارڑ نے یہ کہہ کر اسلامی نظریاتی کونسل کی رکنیت قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے کہ جس ادارے کا سربراہ اسلامی علوم سے بے بہرہ ہو اس کی رکنیت کو وہ قبول نہیں کر سکتے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۱۹۹۷ء

فحاشی کے خلاف صوبہ سرحد حکومت کی مہم

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۲۰ فروری ۱۹۹۷ء کے مطابق صوبہ سرحد کی حکومت نے پورے صوبے میں سینما گھروں کو سیل کر دیا ہے۔ صوبہ کے نئے وزیر اعلیٰ سردار مہتاب عباسی کے حکم پر یہ ایکشن اس الزام پر لیا گیا ہے کہ صوبہ سرحد کے اکثر سینما گھروں میں بلیو پرنٹس دکھائی جاتی ہیں اور بھارتی فلموں کے ذریعے فحاشی پھیلائی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۱۹۹۷ء

نفاذِ اسلام کی جدوجہد اور پارلیمنٹ کی بالادستی کا مسئلہ

روزنامہ جنگ لاہور ۶ فروری ۱۹۹۷ء کی ایک خبر کے مطابق کویت کے امیر الشیخ جابر الاحمد الصباح نے کویتی پارلیمنٹ کے ۵۰ ارکان کا یہ مطالبہ ماننے سے انکار کر دیا ہے کہ ملک میں شرعی قوانین کو قانون سازی کا بنیادی ماخذ قرار دیا جائے، اور کہا ہے کہ اس سلسلہ میں فیصلہ پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر ہی کیا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۱۹۹۷ء

چین کے صوبہ سنکیانگ کے مسلمانوں کی جدوجہد

چین کے شمال مغربی صوبے سنکیانگ میں گزشتہ ماہ مسلم کش فسادات کے بعد اخباری اطلاعات کے مطابق فوج نے صوبے کا نظم و نسق سنبھال لیا ہے اور صوبے کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے، جس کے بعد وہاں سے کوئی خبر باہر نہیں آر رہی۔ لیکن اس سے قبل اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۱۹۹۷ء

مُردوں کیلئے ایک امریکی تنظیم کی تجاویز

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۴ نومبر ۱۹۹۶ء کی ایک خبر کے مطابق امریکہ کی ایک انتہا پسند تنظیم ’’ارتھ رولز‘‘ نے حکومت کو تجویز پیش کی ہے کہ امریکہ میں مردوں کو دفنانا یا انہیں جلانا قانونی طور پر ممنوع قرار دیا جائے، اس کی بجائے مردہ افراد کے اعضا جسمانی طور پر معذور افراد کو لگائے جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۱۹۹۷ء

مصر میں مساجد پر سرکاری کنٹرول کا نیا قانون

برادر مسلم ملک ’’عرب جمہوریہ مصر‘‘ میں ان دنوں مساجد پر سرکاری کنٹرول کے سلسلہ میں حکومت اور مذہبی حلقوں کے درمیان کشمکش جاری ہے۔ ہفت روزہ ’’العالم الاسلامی‘‘ مکہ مکرمہ نے ۶ جنوری ۱۹۹۷ء کی اشاعت میں اس سلسلہ میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ مصری پارلیمنٹ نے ایک قانون منظور کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۱۹۹۷ء

الجزائر: سرکاری ریفرنڈم اور اسلامی نظام کا مستقبل

برادر مسلم ملک الجزائر کی حکومت نے گزشتہ ماہ کے اواخر میں ایک ریفرنڈم کا اہتمام کیا جس کے بارے میں حکومت کا کہنا ہے کہ عوام نے اس ریفرنڈم میں حکومت کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے اسلامی بنیاد پرستوں کو مسترد کر دیا ہے۔ چنانچہ اس ریفرنڈم کے بعد دستوری طور پر یہ پابندی عائد کر دی گئی ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۱۹۹۷ء

میاں محمد نواز شریف اور اسلام کی تشریح کا حق

روزنامہ جنگ لاہور ۲۰ دسمبر ۱۹۹۶ء کی ایک خبر کے مطابق پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ میاں محمد نواز شریف نے اپنی جماعت کے انتخابی امیدواروں کے ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سیاسی اسلامی ٹھیکیداروں کے اسلام کے حق میں نہیں، کیونکہ ان کے نزدیک اسلام کا نفاذ مخلوق کی خدمت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۱۹۹۷ء

مجلسِ شوریٰ میں غیر مسلموں کی نمائندگی

حضرت مولانا قاضی عبد الکریم صاحب آف کلاچی پاکستان کے بزرگ علماء میں سے ہیں اور اہم دینی و قومی مسائل پر ان کے وقیع مضامین مختلف جرائد میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ کچھ عرصہ سے وہ ایک مسئلہ پر تسلسل کے ساتھ اظہارِ خیال کر رہے ہیں کہ کسی مسلمان ملک کی پارلیمنٹ میں غیر مسلموں کی نمائندگی کا کوئی شرعی جواز نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۱۹۹۷ء

کلیدی عہدوں پر قادیانیوں کی واپسی کا مسئلہ

سندھ کی صوبائی نگران حکومت میں قادیانی وزیر کنور ادریس کی شمولیت پر دینی حلقوں کا احتجاج مسلسل جاری ہے اور لاہور ہائیکورٹ میں قادیانی ججوں کے تقرر کا مسئلہ بھی اس احتجاج میں شامل ہو گیا ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ایک وفد نے گزشتہ روز صدر مملکت سردار فاروق احمد لغاری سے ملاقات کر کے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۱۹۹۷ء

برطانیہ میں لڑکیوں کیلئے الگ سکول

برطانیہ کے دوسرے بڑے شہر برمنگھم میں پاکستانیوں کی بڑی آبادی کے علاقہ الم راک میں ایک اسکول کو صرف لڑکیوں کے لیے مخصوص کر دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اور روزنامہ جنگ لندن ۱۴ نومبر کی ایک خبر کے مطابق اس سلسلہ میں برمنگھم سٹی کونسل کی ایجوکیشن کمیٹی نے منظوری دے دی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۱۹۹۶ء

شیخ التفسیر حضرت احمد علی لاہوریؒ: حیات و خدمات

شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ ایک نو مسلم خاندان کے فرد تھے۔ ان کے والد محترم جو گکھڑ منڈی کے قریب بستی جلال کے رہنے والے تھے،سکھ مذہب سے مسلمان ہوئے تھے، اور اللہ رب العزت نے ان کو یہ مقام عطا فرمایا کہ ان کے بیٹے مولانا احمد علی لاہوریؒ کا شمار برصغیر کے چوٹی کے علماء اور اہل اللہ میں ہوتا ہے۔ حضرت لاہوریؒ نے قرآن کریم کی ابتدائی تعلیم مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں حضرت باواجی عبد الحقؒ سے حاصل کی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ اکتوبر ۲۰۲۳ء

برطانیہ کی مردم شماری کے فارم میں مذہب کا خانہ

روزنامہ جنگ لندن ۱۴ نومبر ۱۹۹۶ء کی ایک خبر کے مطابق برطانوی حکومت نے ملک میں مردم شماری کے لیے، جو ۲۰۰۱ء میں ہو رہی ہے، مردم شماری کے فارم میں مذہب کے خانے کا اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اسے لازمی خانہ قرار دیا جا رہا ہے، جس میں درج سوال کا جواب دینا ہر شخص کے لیے ضروری ہو گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر۱۹۹۶ء

’’الرابطۃ الاسلامیۃ العالمیۃ‘‘ : دینی تحریکات کے درمیان مفاہمت کی جدوجہد

گزشتہ دنوں لندن میں پاکستان، افغانستان، سعودی عرب، شام اور الجزائر کی دینی تحریکات کے نمائندوں کا ایک اجلاس ہوا جس میں شریک ہونے والوں میں ڈاکٹر محمد المسعدی (سعودی عرب)، الشیخ عمر بکری محمد (شام)، الشیخ محمد عبد اللہ مسعی (الجزائر)، قاضی صادق الوعد (افغانستان)، اور مولانا محمد عیسٰی منصوری (برطانیہ) بطور خاص قابلِ ذکر ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۱۹۹۶ء

مسلم ممالک کی باہمی تجارت کیلئے الگ کرنسی کا منصوبہ

روزنامہ جنگ لاہور ۲۲ اگست ۲۰۰۲ء کی ایک خبر کے مطابق ’’اسلامی ممالک نے باہمی تجارت ڈالر یا دیگر عالمی کرنسیوں میں کرنے کی بجائے گولڈ میں کرنے کے پلان پر کام شروع کر دیا ہے۔ یہ پلان ملائیشیا کی تجویز پر پیش کیا گیا ہے اور اس پر عملدرآمد سال ۲۰۰۳ء میں ہو گا۔ یہ تجارت ایک نئے سسٹم پر ہو گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۲ء

سودی نظام کے خاتمہ کیلئے مزید ایک سال کی مہلت

سپریم کورٹ آف پاکستان کے شریعت ایپلٹ بینچ نے حکومتِ پاکستان اور یونائیٹڈ بینک کی درخواست پر سودی نظام کے تسلسل کو ایک سال مزید جاری رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔ وزارتِ خزانہ نے اس موقع پر یہ موقف اختیار کیا تھا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے ۳۰ جون ۲۰۰۱ء تک سودی نظام ختم کرنے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۱ء

سودی نظام کے خاتمہ کی ڈیڈ لائن اور دینی راہنماؤں کے مطالبات

ملک سے سودی نظام کے خاتمہ کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے ڈیڈلائن کی تاریخ ۳۰ جون ۲۰۰۱ء جوں جوں قریب آ رہی ہے اس حوالہ سے مختلف اطراف سے بیانات کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے ملک میں رائج تمام سودی قوانین کو قرآن و سنت کے منافی قرار دیتے ہوئے حکومت کو ہدایت کر رکھی ہے کہ وہ ۳۰ جون ۲۰۰۱ء تک ان قوانین کے خاتمہ اور یکم جولائی سے اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر غیر سودی مالیاتی نظام کے مکمل تحریر

جون ۲۰۰۱ء

عالمی مالیاتی اداروں کے اہداف اور آسٹریلوی راہنماؤں کی یاددہانی

روزنامہ جنگ کراچی ۲۰ نومبر ۲۰۰۰ء کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کی ڈیموکریٹک سوشلسٹ پارٹی کی راہنما مس سوبل اور مزدور راہنما ٹم گڈن نے لاہور پریس کلب کے پروگرام ’’میٹ دی پریس‘‘ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے جو قرضے ملتے ہیں ان کے ایک ڈالر کے گیارہ ڈالر واپس کرنا پڑے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۰ء

سودی نظام کے خاتمہ کا فیصلہ: سرکاری اعلانات اور حکومت کی نئی مالیاتی اسکیم

روزنامہ جنگ لاہور ۲۱ جون ۲۰۰۰ء کی ایک خبر کے مطابق دارالعلوم کراچی کے صدر مہتمم مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی نے اس امر پر تشویش اور افسوس کا اظہار کیا ہے کہ حکومت ایک طرف سودی قوانین کے خاتمہ کی بات کر رہی ہے مگر دوسری طرف حکومت کی طرف سے جن نئی مالیاتی اسکیموں کا اعلان کیا گیا ان میں سود پر مبنی اسکیم بھی شامل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۰ء

غریب ممالک کیلئے عالمی قرضوں سے نکلنے کا راستہ

روزنامہ اوصاف اسلام آباد ۱۳ اپریل ۲۰۰۰ء کے مطابق امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے خلاف گزشتہ روز ہزاروں افراد نے مظاہرہ کیا ہے۔ مظاہرین نے زنجیریں پکڑ رکھی تھیں جو اس بات کو ظاہر کر رہے تھے کہ چھوٹے ممالک آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے قرضوں میں جکڑے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۰ء

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا مالیاتی کمیشن

روزنامہ نوائے وقت کے مدیر محترم نے ۲۵ جنوری ۲۰۰۰ء کے ایک ادارتی شذرہ میں اس امر پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ وفاقی شرعی عدالت کی ہدایت پر ملک کے مالیاتی نظام کو سودی اثرات سے نجات دلانے اور اسلامی سانچے میں ڈھالنے کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جس مالیاتی کمیشن کا اعلان کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۰ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter