بیانات و محاضرات

’’حرمتِ مسجدِ اقصیٰ اور امتِ مسلمہ کی ذمہ داری‘‘ : تین اہم سوالات

مجلسِ اتحادِ امت پاکستان کے زیر اہتمام ۶ دسمبر ۲۰۲۳ء کو اسلام آباد کنونشن سینٹر میں ’’حرمتِ مسجدِ اقصٰی اور امتِ مسلمہ کی ذمہ داری‘‘ کے عنوان پر قومی سیمینار سے خطاب کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ میں اس اجتماع میں ایک کارکن کے طور پر اپنا نام شمار کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں، اللہ تعالیٰ ہم سب کی حاضری قبول فرمائیں۔ میں بس دو تین سوالات عرض کرنا چاہوں گا، باقی قائدین جو خطاب فرمائیں گے وہ ہمارا ایجنڈا ہوگا ان شاء اللہ تعالیٰ اور اس پر عمل کیا جائے گا۔ مکمل تحریر

۶ دسمبر ۲۰۲۳ء

سائنس اور مذہب: کیسے اور کیوں کا سوال

۲۱ دسمبر کو مجھے مانسہرہ (ہزارہ) کے قراقرم ہوٹل میں سائنس اور مذہب کے حوالے سے منعقد ہونے والے ایک سیمینار میں شرکت کا موقع ملا۔ سائنس میں نے نہ پڑھی ہے اور نہ ہی میرے مطالعہ اور تحقیق و گفتگو کا کبھی موضوع رہا ہے۔ مگر سیمینار کے منتظمین بالخصوص پروفیسر عبد الماجد صاحب کا اصرار تھا کہ میں بہرحال اس سیمینار میں شرکت کروں بلکہ کلیدی خطاب بھی کروں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ دسمبر ۲۰۰۶ء

بیت المقدس اور قیصرِ روم

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ فلسطین اور بیت المقدس جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے کچھ عرصہ بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ حکومت میں مسلمانوں کی تحویل میں آیا تھا، اس سے پہلے فلسطین عیسائیوں کے پاس تھا۔ حضرت عمرؓ کی خلافت کے زمانے میں حضرت ابو عبیدہ عامر بن الجراحؓ نے فلسطین فتح کیا جو کہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ نومبر ۲۰۲۳ء

بیت المقدس پر اہلِ اسلام کا استحقاق

کچھ عرصہ سے فلسطین اور بیت المقدس کے حوالے سے گفتگو چل رہی ہے، آج میں اس کے ایک پہلو پر چند گزارشات پیش کرنا چاہوں گا۔ وہ یہ کہ بیت المقدس پر استحقاق کس کا ہے؟ دعویدار تو یہودی، عیسائی اور مسلمان تینوں ہیں مگر تاریخی حوالے سے میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جب تک یہود اہلِ حق تھے اور ’’انی فضلتکم علی العالمین‘‘ کا اعزاز ان کے پاس تھا، بیت المقدس ان کا قبلہ تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ نومبر ۲۰۲۳ء

حلال و حرام سے آگاہی اور علماء کرام کی ذمہ داری

حلال آگہی کونسل پاکستان اور محترم جناب آفاق شمسی کا شکرگزار ہوں کہ میری کراچی حاضری کے موقع پر حضرات علماء کرام کے ساتھ علمی، تعلیمی اور روحانی مرکز جامعہ اشرف المدارس میں ملاقات کا اہتمام فرمایا۔ میری حضرت حکیم محمد اختر ؒ کے ساتھ نیاز مندی تھی، ان کی خدمت میں حاضری ہوتی رہتی تھی اور بعض بیرونی اسفار میں ان کے ساتھ شرکت رہی ، حکیم محمد مظہر صاحب کے ساتھ بھی نیاز مندی کا تعلق ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ نومبر ۲۰۲۳ء

موجودہ حالات میں علماء کرام اور اہلِ دین کی ذمہ داری

اتحادِ اہلسنت قلعہ دیدار سنگھ کے احباب نے فرمائش کی ہے کہ ان کی اس ماہانہ نشست میں موجودہ عالمی صورتحال میں علماء کرام اور اہلِ دین کی ذمہ داریوں کے حوالے سے کچھ گزارشات پیش کروں۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے تو آج کے حالات پر ایک نظر ڈالنا ہو گی جن کا نقشہ کچھ اس طرح ہے کہ دنیا میں اس وقت ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ جون ۲۰۰۲ء

’’طوفان الاقصیٰ‘‘ کا پس منظر اور پیش منظر

عالمی ادارہ تنظیم الاسلام، محترم مولانا پیر محمد رفیق احمد مجددی اور مولانا سعید احمد صدیقی کا شکرگزار ہوں کہ فلسطینی تنظیم حماس کے ’’طوفان الاقصیٰ‘‘ آپریشن کے بعد بیت المقدس اور غزہ کی صورتحال کے حوالے سے مجھے اس اجتماع میں حاضری اور کچھ باتیں عرض کرنے کا موقع دیا۔ ہر طرف غم کا ماحول ہے لیکن ان بچوں کو سامنے دیکھ کر خوشی کا اظہار کرنا چاہوں گا کہ یہ ہماری مستقبل کی قیادت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ نومبر ۲۰۲۳ء

فلسفہ اور سائنس، اسلامی نقطۂ نظر سے

انسان اپنی سوچ اور سمجھ کے ذریعے سے، اپنی عقل استعمال کر کے کسی معاملہ میں نتائج اخذ کرتا ہے تو وہ اس کا فلسفہ کہلاتا ہے۔ اور کسی معاملہ میں مشاہدات اور تجربات کے ذریعے سے نتائج تک پہنچا جائے تو اسے سائنس کہتے ہیں۔ جب تک کائنات کے حقائق کا مشاہدہ اور تجربہ شروع نہیں ہوا تھا تو فلسفہ ہی سب کچھ تھا اور سائنس بھی اسی کا حصہ تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ نومبر ۲۰۱۵ء

معرکۂ فلسطین کی معروضی صورتحال پر ایک نظر

فلسطین انبیاء کرام علیہم السلام کا وطن ہے، بیت المقدس کی سرزمین ہے، اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی عقیدتوں اور محبتوں کا مرکز ہے۔ اس کی تاریخ کا آغاز سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت سے ہوتا ہے جب انہوں نے اپنے والد آذر کے ساتھ آخری مکالمہ کے بعد اہلیہ محترمہ حضرت سارہؓ اور بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام کے ساتھ بابل سے فلسطین کی طرف ہجرت فرمائی تھی اور اس سرزمین کو اپنا مسکن بنا لیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ اکتوبر ۲۰۲۲ء

رسول اللہؐ کی بعثت پر ماحولیاتی تبدیلی کا ایک واقعہ

سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثتِ مبارکہ کے ساتھ انسانی سماج میں ماحولیاتی دائرہ میں بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں جن میں سے ایک کا تذکرہ کرنا چاہوں گا۔ اس کا ذکر قرآن کریم میں بھی ہے اور بخاری شریف کی ایک روایت کے مطابق جناب نبی اکرمؐ نے بھی اس کا تذکرہ فرمایا ہے۔ وہ یہ کہ بعثتِ نبویؐ سے قبل جِنوں کی آمد و رفت آسمانوں تک عام تھی، وہ فرشتوں کے ماحول میں آتے جاتے تھے اور وہاں کی خبریں سن کر دنیا میں اپنے دوست انسانوں کو بتاتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ اکتوبر ۲۰۲۳ء

ریاست اور مذہب کے باہمی تعلق کا مغربی پس منظر

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ مذہب اور ریاست کا آپس میں کوئی تعلق ہے یا نہیں ہے، اس حوالے سے مغرب کا کہنا یہ ہے اور اقوام متحدہ کی تشکیل اسی بنیاد پر ہوئی ہے کہ مذہب کا ریاست کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، مذہب فرد کا انفرادی معاملہ ہے اور مذہب کا دائرہ معاشرت تک نہیں بلکہ شخص اور فرد تک ہے۔ وہ مذہب سے انکار نہیں کرتے، لیکن مذہب ان کے نزدیک تین چیزوں کا نام ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ اکتوبر ۲۰۱۵ء

’’میثاق النبیین‘‘ اور فلسطین کا حالیہ بحران

جناب نبی کریمؐ کی سیرت طیبہ کے بارے میں قرآن مجید نے بیسیوں نہیں سینکڑوں آیات میں ذکر کیا ہے، اور اس کا سب سے پہلا مرحلہ جو قرآن مجید نے ذکر کیا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ نسلِ انسانی کو پیدا کرنے سے پہلے میں نے حضرات انبیاء کرامؑ کی ارواح کو اکٹھا کیا اور ان سے ایک عہد لیا تھا جسے ’’میثاق النبیین‘‘ کہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ اکتوبر ۲۰۲۳ء

سنتِ نبویؐ پر عمل کا ذوق اور برکات

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی اجتماعی ملاقات حجۃ الوداع کے موقع پر ہوئی، اس کے کچھ عرصہ بعد حضور نبی کریمؐ انتقال فرما گئے تھے۔ حجۃ الوداع میں تقریباً‌ ڈیڑھ لاکھ کے قریب اجتماع تھا، اس میں کئی دن اکٹھے رہے تھے اور جناب نبی کریمؐ یہ فرما کر اپنی امت کے ساتھ وہ دن گزارے تھے ’’ لعلی لا القاکم بعد عامی ہذا‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ ستمبر ۲۰۲۳ء

حُبِّ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مختلف ذوق

جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت ہمارے ایمان کا تقاضہ ہے، اس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا کیونکہ ایمان کا معیار ہی حبِ رسول ؐہے۔ جناب نبی کریمؐ کے ساتھ جیسی محبت ہوگی ویسا ہی ایمان ہو گا۔ محبت ایمان کی علامت ہے اور تذکرہ محبت کا تقاضا ہے۔ ’’من احب شیئا اکثر ذکرہ‘‘ فطری بات ہے کہ جس کو جس سے محبت زیادہ ہوتی ہے اس کا تذکرہ بھی زیادہ کرتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ ستمبر ۲۰۲۳ء

تحریکِ ختم نبوت کے حوالہ سے تین سوالات کا جائزہ

ایک سوال عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ قادیانی کلمہ پڑھتے ہیں، بلکہ ہمارے روکنے کے باوجود پڑھتے ہیں، قرآن کریم بھی پڑھتے ہیں، جناب نبی کریمؐ کا نام بھی لیتے ہیں، بیت اللہ کی بات بھی کرتے ہیں، تو وہ مسلمان کیوں نہیں ہیں؟ آج کی یونیورسٹیوں، جدید تعلیمی اداروں اور عالمی ماحول میں یہ سوال اکثر پڑھے لکھے دوستوں سے کیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ ستمبر ۲۰۲۳ء

تعلیمی تخصصات کے تین اہم دائرے

مولانا مفتی نعمان احمد ہمارے شہر کے باذوق اور فکرمند علماء کرام میں سے ہیں، دینی تعلیم و تربیت کے دائروں میں وسعت اور تنوع تلاش کرتے رہتے ہیں اور مجھے بھی شریک کار بنا لیتے ہیں۔ ان کے مرکز ادارۃ النعمان میں سہ ماہی امتحان میں اچھی پوزیشن حاصل کرنے والوں میں انعامات کی تقسیم کے لیے یہ تقریب منعقد ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ ستمبر ۲۰۲۳ء

دفاعِ وطنِ عزیز کے چار بڑے دائرے

آج ۶ ستمبر ہے جو قومی سطح پر یومِ دفاع پاکستان کے طور پر منایا جاتا ہے، اس دن تحریکِ پاکستان کے شہداء، ۱۹۶۵ء کی جنگ کے شہداء اور ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لیے جہاں بھی ہمارے جوانوں فوجیوں اور سویلین نے قربانیاں دی ہیں ان کا تذکرہ ہوتا ہے، انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے، ان کے لیے دعائیں کی جاتی ہیں اور وطن کے دفاع کے لیے تجدید عہد کیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ ستمبر ۲۰۲۳ء

یومِ دفاع، یومِ فضائیہ اور یومِ ختمِ نبوت

ستمبر کا مہینہ شروع ہو گیا ہے، اس مہینے میں عام طور پر ملک کے دینی ، سیاسی اور سماجی حلقے دو عظیم واقعات کی یاد تازہ کرتے ہیں جس پر اجتماعات اور پروگرامز ہوتے ہیں اور اخبارات میں مضامین چھپتے ہیں، ایک ۶ ستمبر کا یومِ دفاع ِ پاکستان اور دوسرا ۷ ستمبر کا یومِ ختمِ نبوت، یہ اجتماعات مہینے کے آخر تک چلتے رہیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ ستمبر ۲۰۲۳ء

تحریک تحفظ ختم نبوت کی معروضی صورتحال

نوے سال کی طویل جدوجہد کے بعد اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا تاریخی فیصلہ کیا تھا جسے نصف صدی گزر چکی ہے اور آج ہم تحفظ ختم نبوت کی جدوجہد کے اہم موڑ پر کھڑے ہیں۔ اس مرحلہ میں ضروری ہے کہ ہم تحریک تحفظ ختم نبوت کی معروضی صورتحال کا جائزہ لیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ اگست ۲۰۲۳ء

حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور عصر حاضر

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ مولانا حافظ عبد الوحید اشرفی، مولانا مفتی عبد الحفیظ، مجلس ارشاد المسلمین اور جامعہ محمدیہ کاہنہ کے دوستوں کا شکرگزار ہوں کہ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے حوالہ سے منعقد ہونے والی اس تقریب میں حاضری اور کچھ کہنے سننے کا موقع فراہم کیا، اللہ تعالیٰ جزائے خیر سے نوازیں، آمین یا رب العالمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ اگست ۲۰۲۳ء

بنی اسرائیل کی جدوجہدِ آزادی کی چند جھلکیاں

اگست کا مہینہ شروع ہو گیا ہے اور حسبِ معمول ہر طرف سبز ہلالی پرچم لہرانے کا آغاز بھی ہو گیا ہے۔ چودہ اگست کو ہم قومی یومِ آزادی مناتے ہیں، اس روز برصغیر نے برطانوی استعمار کی حکومت سے آزادی حاصل کی تھی اور اسی روز پاکستان کے نام سے ایک نئی سلطنت اس خطہ میں وجود میں آئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ اگست ۲۰۲۳ء

اتحادِ امت کیلئے اکابر اصحابِؓ رسولؐ کا اسوہ

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ تین بزرگوں کا ایک مشترکہ ذوق ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ تینوں بزرگ بڑے ہیں، تینوں کا ذوق بھی بڑا ہے اور مشترک ذوق ہے۔ جب باغیوں نے امیر المؤمنین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کیا اور مسجد نبویؐ پر قبضہ کر لیا۔ یہ دارالحکومت تھا، فوج بھی تھی، سارے محکمے موجود تھے۔ حضرت عثمانؓ سے تقاضا کیا گیا کہ سب کچھ آپ کے پاس ہے آپ کاروائی کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ جولائی ۲۰۲۳ء

عید کی اساس : آزادی اور تکمیلِ دین

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج عید کا دن ہے اور دنیا کے بیشتر حصوں میں مسلمان آج قربانی کی عید منا رہے ہیں۔ ملت اسلامیہ کا ایک بڑا حصہ حرمین شریفین اور منیٰ میں جمع ہے اور مناسکِ حج کی ادائیگی میں مصروف ہے۔ جبکہ قربانی کی سنت دنیا کے ہر حصے میں ادا کی جا رہی ہے۔ عید کا معنی خوشی ہے اور مسلمان کے لیے خوشی کا سب سے بڑا مقام اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ جون ۲۰۲۳ء

قومی مقاصد کے لیے دینی حلقوں کی مسلسل جدوجہد

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے گوجرانوالہ کی مختلف مساجد میں تحفظ ختم نبوت کے حوالے سے دروس کا اہتمام کیا ہے جس کے تحت آج تیسواں درس ہے اور مجھے کچھ گزارشات پیش کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ پہلی بات تو یہ عرض کروں گا کہ دروس کے اس تسلسل کا مقصد کیا ہے اور تحفظ ختم نبوت کے لیے کام کرنے والی جماعتیں اس محاذ پر مسلسل سرگرم عمل کیوں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ جون ۲۰۲۳ء

مذاہب کا تسلسل اور ختمِ نبوت: ایک قادیانی اعتراض کا جواب

چند سال پہلے کیپ ٹاؤن جنوبی افریقہ میں ایک ختم نبوت کانفرنس کے دوران میں نے قادیانیت کے حوالے سے ایک پہلو پر گفتگو کی گئی تھی جو الحمد للہ پسند کی گئی اور دنیا بھر میں اسے وسیع پیمانے پر پھیلایا گیا اور سنا گیا۔ اس پر قادیانی حضرات کی طرف سے ایک اعتراض سامنے آیا ہے اور وہ بھی دنیا بھر میں پھیلایا گیا ہے - - - مکمل تحریر

۱۵ اپریل ۲۰۱۶ء

دینی مدارس کا مقدمہ عوام کی عدالت میں

مدارس کے اساتذہ، منتظمین، معاونین اور طلباء سب کو اللہ تعالیٰ یہ سلسلہ خیر مسلسل جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں۔ دینی مدارس کو جو مشکلات درپیش ہیں، انتظامی، مالی اور معاشرتی حوالوں سے، آج انہیں ایک ترتیب کے ساتھ دہراؤں گا کہ ہماری جدوجہد کیا ہے، مسائل کیا درپیش ہیں اور تقاضے کیا ہیں؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ جون ۲۰۲۳ء

تخصصات کا تعارف و پس منظر اور دعوت و ارشاد کے دائرے

میں آج تخصص فی الدعوۃ والارشاد کا پس منظر، مقاصد اور الشریعہ اکادمی کی ماضی کی سرگرمیوں کے حوالے سے تمہیدی گزارشات کروں گا اور ان شاء اللہ العزیز اتوار سے باقاعدہ کلاسوں کا آغاز ہو جائے گا۔ میرے ذمہ ایک تو آج کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر حضرت امام شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی تصنیف ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کی تدریس ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ مئی ۲۰۲۳ء

قرآنِ کریم: انسانی سماج کی گائیڈ بک

ابھی رمضان المبارک کا مہینہ گزرا ہے، جو پوری دنیا میں قرآن مجید کا مہینہ ہوتا ہے۔ قرآن مجید اپنے دائرے میں کام کر رہا ہے اور دنیا کا کوئی علاقہ اس سے خالی نہیں ہے۔ آج سے پچاس سال پہلے جن علاقوں میں قرآن مجید نہیں پڑھا جاتا تھا وہاں آج پڑھا جاتا ہے۔ جن ممالک میں قرآن مجید کا داخلہ بند تھا وہاں اب تراویح میں قرآن مجید سنایا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ اپریل ۲۰۲۳ء

ہماری دعائیں!

بعد الحمد والصلوٰۃ! رمضان المبارک کا ایک عشرہ گزر گیا ہے، دو عشرے باقی ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ ہے۔ ویسے تو سارے مہینے ہی رحمتوں اور برکتوں والے ہیں، اللہ تعالی کی رحمت کو کہیں رکاوٹ نہیں ہے، لیکن اس مہینے میں عام مہینوں سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوتی ہیں۔ یہ توبہ استغفار، اللہ تعالیٰ سے مانگنے اور اس کے سامنے جھولی پھیلانے کا مہینہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ اپریل ۲۰۲۳ء

حفاظِ کرام اور ان کے والدین سے چند باتیں

مولانا احسن ندیم صاحب کا شکر گزار ہوں کہ اس محفل میں شریک ہونے، آپ کے ساتھ ملاقات کرنے اور کچھ باتیں کہنے سننے کا موقع فراہم کیا۔ قرآن مجید چھ سال کے عرصہ میں ترجمہ اور تفسیر کے ساتھ درس کی صورت میں نمازیوں کو سنایا گیا ہے اور چھ بچوں نے قرآن کریم حفظ مکمل کیا ہے، یہ بڑی سعادت کی بات ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ مارچ ۲۰۲۳ء

علماء کرام اور سماجی خدمت و قیادت

جب نوجوانوں میں بیٹھتا ہوں تو خوشی ہوتی ہے کہ نوجوانوں میں بیٹھا ہوا ہوں۔ ایک لطیفے سے گفتگو کا آغاز کروں گا۔ آج کل رواج ہے کہ سٹیج سیکرٹری صاحبان القاب کی لائن لگا دیتے ہیں۔ ایک جلسے میں گفتگو کرنی تھی تو سٹیج سیکرٹری صاحب جو اچھے خاصے نقیب تھے، انہوں نے مجھے بلانے کے لیے آٹھ دس لقب بولے۔ میں مائیک پر آیا تو کہا کہ اللہ کرے آپ کی سب باتیں ٹھیک ہوں مگر ایک بات مجھے پسند آئی ہے، آپ نے القاب میں کہا ہے کہ ’’اس تقریب کے دولہا‘‘، یہ بات یاد رہے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ فروری ۲۰۲۳ء

قرآن کریم کی دنیوی و اخروی برکات

یہ مدرسہ حضرت ابی بن کعبؓ کے نام پر ہے، ان کا کچھ تعارف کروانا چاہوں گا۔ حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ امت کے سب سے بڑے قاری ہیں، ان کو امت کا سب سے بڑا قاری جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔ حضورؐ نے چند بڑے قاریوں کا ذکر فرمایا تو حضرت ابو موسیٰ اشعری، حضرت معاذ بن جبل، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت سالم مولیٰ حذیفہ اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہم کا بطور خاص ذکر کیا، اور فرمایا ’’اقرأھم اُبی‘‘ کہ میرے ساتھیوں میں سب سے بڑا قاری اُبی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ مارچ ۲۰۲۳ء

توہینِ رسالت کی سزا کے قانون پر عملدرآمد کے طریقِ کار میں تبدیلی

توہینِ رسالت کی سزا کے قانون کا طریقِ کار تبدیل کرنے کی سرکاری تجویز قانون و انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے اور اس طریقِ کار کو اس سے قبل ملک کے قانونی حلقے متفقہ طور پر مسترد کر چکے ہیں۔ قتل کے جرم میں ایک عرصہ تک ہمارے ہاں یہ طریقِ کار رائج تھا کہ قتل کا مقدمہ سیشن کورٹ میں باضابطہ پیش ہونے اور ملزم پر فردِ جرم عائد کرنے سے پہلے درجہ اول کا مجسٹریٹ اس کیس کی چھان بین کرتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۰ء

دینی و قومی جدوجہد کے چند اہم محاذ

ہمارا بنیادی کام مسجد، مدرسہ، تعلیم، نماز اور لوگوں کی رہنمائی ہے، لیکن اس کے ساتھ ملک کی عمومی دینی جدوجہد بھی ہمارے دائرہ کار سے باہر نہیں ہے۔ اگر ہم دینی جدوجہد کے کسی شعبے میں حصہ لیتے ہیں تو یہ زائد از ڈیوٹی عمل نہیں ہے بلکہ ہماری ذمہ داری کا حصہ ہے۔ میں یہ عرض کیا کرتا ہوں کہ کسی بھی عالم دین کا ملک کی عمومی دینی جدوجہد سے لاتعلق رہنا میری نظر میں کبیرہ گناہ سے بھی بڑی چیز ہے، یہ نہ سوچیں کہ ہوتا رہے گا بلکہ یہ سوچیں کہ ہم نے کرنا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ فروری ۲۰۲۳ء

مدرسہ اور یونیورسٹی کے تعلق کا تاریخی پس منظر

جامعۃ الرشید کے ساتھ میری بہت سی نسبتیں ہیں، ان میں سے ایک نسبت کا ذکر کرنا چاہوں گا کہ حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی نور اللہ مرقدہٗ اور میرے والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر قدس اللہ سرہ العزیز دورہ حدیث کے ساتھی تھے، انہوں نے اکٹھے شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ سے دورہ حدیث پڑھا تھا۔ اس نسبت کے اظہار کے بعد عرض کرنا چاہوں گا کہ ’’الغزالی یونیورسٹی‘‘ میری زندگی بھر کے خوابوں کی تعبیر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ مارچ ۲۰۲۳ء

فضلائے مدارس کو الوداعی نصیحتیں

پہلی بات یہ کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد گرامی ہےجو کسی اور حوالے سے ہے لیکن میں کسی اور حوالے سے نقل کیا کرتا ہوں۔ روایت میں آتا ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجلس میں تشریف فرما تھے، سامنے سے ایک صاحب گزرے جو پراگندہ حال تھے، بکھرے ہوئے بال، میلا کچیلا بدن اور میلے کچیلے کپڑے۔ اس کیفیت میں سامنے سے گزرے تو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا کہ خدا کے بندے! ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ فروری ۲۰۲۳ء

معراج النبیؐ کی حکمت

جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں ایک بڑا معجزہ معراج اور اسراء کا ہے کہ اللہ رب العزت نے جناب نبی کریمؐ کو رات کے کچھ حصے میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر کرائی، آسمان اور عرش کی سیر کرائی، اور جنت اور دوزخ دکھائی۔ یہ نبی کریمؐ کا معجزہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ فروری ۲۰۲۳ء

نبی اکرمؐ کا کفار کے ساتھ معاشرتی رویہ

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ جناب سرورِ کائنات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معاشرتی زندگی کے اس پہلو پر آج کی محفل میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آپؐ نے کافروں کے ساتھ معاشرتی زندگی میں کیا معاملہ کیا ہے اور ان کے ساتھ زندگی کیسے گزاری ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ اکتوبر ۲۰۱۶ء

قرآن و حدیث کا باہمی تعلق اور حضرت امام بخاریؒ

ہمارے سامنے علماء کرام تشریف فرما ہیں جنہوں نے بخاری شریف کی آخری حدیث پڑھی ہے اور وہ طلباء کرام موجود ہیں جنہوں نے قرآنِ مجید حفظ مکمل کیا ہے۔ میں اس موقع پر قرآن مجید اور حدیثِ رسولؐ کے باہمی تعلق پر مختصر بات کرنا چاہتا ہوں۔ قرآنِ مجید اور حدیثِ رسولؐ لازم و ملزوم ہیں، لیکن ان کے مابین تعلق پر دو تین باتیں ہر وقت ہمارے ذہن میں رہنا ضروری ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ فروری ۲۰۲۳ء

مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کی خدمات

مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ بھارت کے مظلوم مسلمانوں کے لیے بہت بڑے سہارے اور ڈھارس کی حیثیت رکھتے تھے اور صرف قلم اور زبان کی دنیا کے آدمی نہیں تھے بلکہ انہوں نے عملی میدان میں بھارتی مسلمانوں کی جرأت مندانہ قیادت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ فروری ۲۰۰۰ء

خلافتِ صدیق اکبرؓ کے پانچ راہنما اصول

کچھ عرصہ سے ہماری اس ہفتہ وار نشست میں ’’اسلام کا نظامِ خلافت‘‘ کے عنوان سے گفتگو چل رہی ہے۔ ان دنوں چونکہ ملک بھر میں خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مختلف قسم کے پروگرام ہو رہے ہیں اس لیے اسی سلسلہ میں چند گزارشات پیش کرنا چاہوں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ جنوری ۲۰۲۳ء

حدیثِ نبویؐ۔ علومِ دینیہ کا سرچشمہ

مدرسہ انوار العلوم جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ کے دورہ حدیث کے طلبہ نے شیخ الحدیث حضرت مولانا داؤد احمد کی سربراہی میں اساتذہ کرام سے اپنے نصاب کی تعلیم حاصل کی ہے اور آج وہ بخاری شریف کا آخری سبق اور حدیث شریف پڑھنے کا اعزاز حاصل کر رہے ہیں۔ اس سعادت پر میں طلبہ، ان کے والدین و اہل خاندان، اساتذہ اور مدرسہ کے منتظمین و معاونین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ جنوری ۲۰۲۳ء

سودی نظام۔علماء کرام کی ذمہ داری کیا ہے؟

آج کل ہمارا عام طور پر موضوع سود ہی ہوتا ہے کیونکہ سودی نظام کے خلاف مہم جاری ہے اور مختلف طبقات تاجر برادری ، علماء کرام اور دینی حلقے اس حوالے سے جدوجہد کر رہے ہیں۔ آج میں اس پہلو پر گزارش کرنا چاہوں گا کہ وطنِ عزیز کو سودی نظام سے نجات دلانے کی جدوجہد میں علماء کرام کو کیا کرنا چاہیے؟ علماء کرام خواہ کسی بھی مکتبہ فکر کے ہوں، مسجد، جمعہ، وعظ و خطابت اور تدریس سے جو تعلق رکھتے ہیں، انہیں دو تین کام تو کرنے ہی چاہئیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جنوری ۲۰۲۳ء

مسئلہ ختمِ نبوت میں عالمی اداروں کی دلچسپی

اس وقت دین کے حوالے سے جدوجہد کے جتنے بھی دفاعی محاذ ہیں، ان میں سب سے بڑا محاذ ختم نبوت کا ہے۔ یہ سب سے بڑا محاذ کیوں ہے؟ یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ باقی محاذوں اور مسائل پر ہمارا سامنا آپس کے داخلی گروپوں سے ہوتا ہے۔ کوئی بھی مسئلہ ہو وہ امتِ مسلمہ کے داخلی گروپوں کا ہوگا، یا اپنے آپ کو امتِ مُسلمہ میں شمار کرنے والوں کا ہوگا۔ لیکن ختمِ نبوت کے مسئلے پر ہمارا محاذ اور مورچہ داخلی نہیں بلکہ خارجی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ دسمبر ۲۰۲۲ء

اسلام آباد کے علماء کرام کی دوہری ذمہ داری

آج اسلام آباد حاضری اس سلسلہ میں ہوئی ہے کہ سود کے نظام کے خلاف جو جدوجہد چل رہی ہے اور پچھتر سال سے اس نے مختلف اتار چڑھاؤ آئے ہیں، وہ کس پوزیشن میں ہے اور اس وقت کیا تقاضے ہیں؟ اس حوالے سے جماعتِ اسلامی کے زیر اہتمام مارگلہ ہوٹل اسلام آباد میں ایک مشترکہ اجتماع تھا، جس میں حاضر ہو کر میں نے وہاں علماء اور رہنماؤں کی باتیں سنیں اور کچھ گزارشات پیش کیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ دسمبر ۲۰۲۲ء

قرآن کریم آج بھی راہنمائی کا سرچشمہ ہے

میرے اور آپ سب کے لیے یہ سعادت کی بات ہے کہ جن بچوں نے قرآن پاک حفظ مکمل کیا ہے، انہوں نے آخری سبق سنایا ہے اور ان کی دستار بندی ہوئی ہے، اور ان بچوں، ان کے والدین اور استاد محترم کی خوشی میں ہم شریک ہو رہے ہیں۔ اصل خوشی تو ان کی ہے۔ اللہ پاک ان کو یہ خوشیاں مبارک کریں اور ان کا قرآن کریم حفظ کرنا ہم سب کے لیے دنیا و آخرت کی برکات، سعادتوں اور خوشیوں کا ذریعہ بنے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ دسمبر ۲۰۲۲ء

سودی نظام کی مشکلات اور اسلامی تعلیمات

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دورِ جاہلیت کے جن معاملات کو حرام اور ناجائز قرار دیا ان میں سود بھی شامل ہے جس کا رواج اس وقت عام تھا اور ذاتی قرضوں کے علاوہ تجارتی لین دین میں بھی سود چلتا تھا۔ جب سود کو حرام قرار دینے کا اعلان ہوا تو اس کے بارے میں یہ اشکال پیش کیا گیا کہ بیع اور کاروبار بھی تو سود کی طرح ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ دسمبر ۲۰۲۲ء

قومی حرمتِ سود سیمینار اور ہماری ذمہ داریاں

کراچی آنا ہوتا ہے تو جامعۃ الرشید میں حاضری میری ترتیب میں شامل ہوتی ہے۔ جامعۃ الرشید کے ساتھ ابتدا سے الحمد للہ تعلق ہے، اللہ تعالیٰ دارین میں یہ تعلق قائم رکھیں۔ کل مجھے دیگر پروگراموں کے علاوہ ’’قومی حرمتِ سود سیمینار‘‘ میں شرکت کا موقع ملا۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم نے دعوت نامہ بھیجا تو میں نے عرض کیا کہ اتفاق سے ان دنوں کراچی میں ہی ہوں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم دسمبر ۲۰۲۲ء

بچوں سے پہلے والدین پر توجہ دینے کی ضرورت

مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے اپنے خطاب میں تمام والدین کو اس طرف توجہ دلائی ہے کہ نئی نسل کی بے راہ روی اور گمراہی کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔ یہ بات بہت ضروری ہے کہ اولاد کو صحیح رخ پر رکھنا ماں باپ کی ذمہ داری ہے جیسا کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ارشاد فرمایا ہے کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرتِ سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ دسمبر ۲۰۲۲ء

دینی مراکز کو مضبوط کرنے کی ضرورت

دو تین باتیں عرض کروں گا۔ ابھی ہمارے معروف خطیب مولانا شبیر احمد عثمانی گفتگو فرماتے ہوئے تاریخ کا حوالہ دے رہے تھے۔ میں تاریخ کا طالب علم ہوں اس لیے دو باتیں تاریخ کے حوالے سے کروں گا۔ دینی درس گاہ کیا ہے؟ علامہ محمد اقبالؒ ہمارے ملک و قوم کے صف اول اور چوٹی کے رہنماؤں میں سے تھے، اللہ رب العزت نے ان کو بہت عظمت دی اور ان سے بہت کام لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ نومبر کو ۲۰۲۲ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter