بیانات و محاضرات

حضرت صدیق اکبرؓ کی خلافت اور اہم کارنامے

سیدنا صدیق اکبرؓ کی حیات مبارکہ، مقام و فضیلت اور خلافت و حکومت کے حوالہ سے گفتگو کے بیسیوں پہلو ہیں اور ہر ایک میں ہمارے لیے سبق اور راہنمائی موجود ہے، مگر آج حضرت ابوبکرؓ کی خلافت کے عنوان سے تین چار سوالات کا مختصر جائزہ لینا چاہوں گا۔ ایک یہ کہ خلافت کسے کہتے ہیں؟ دوسرا یہ کہ حضرت ابوبکرؓ کو خلیفہ کس نے بنایا تھا؟ تیسرا یہ کہ ان کی خلافت کی نظریاتی بنیاد کیا تھی؟ اور چوتھا یہ کہ بحیثیت خلیفہ انہوں نے کون سے اہم کارنامے سرانجام دیے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ فروری ۲۰۲۱ء

غیر مسلموں سے معاہدہ اور اسوۂ صدیق اکبرؓ

سیدنا صدیق اکبرؓ کی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کا واقعہ پوری اہمیت اور تفصیل کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے اور قرآن کریم نے بھی ’’اذھما فی الغار اذ یقول لصاحبہ‘‘ کے حوالہ سے اس کا تذکرہ کیا ہے جو بلاشبہ ہمارے لیے ایمان کی تازگی کے ساتھ ساتھ زندگی کے بیسیوں معاملات میں راہنمائی کے پہلو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ جبکہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کا ہجرت کا ایک اور سفر بھی ہمارے لیے اسی طرح سبق آموز ہے مگر عام طور مجالس میں اس کا تذکرہ نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ جنوری ۲۰۲۱ء

دین میں عُسر اور یُسر کا مفہوم

قرآن کریم کی جس آیت کریمہ میں ماہ رمضان میں قرآن کریم کے نزول اور روزے کی فرضیت کا تذکرہ ہے اور مسافر و مریض کے لیے روزہ دوسرے دنوں میں قضا کر لینے کی سہولت بیان کی گئی ہے، وہاں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ’’یرید اللّٰہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر‘‘ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ فرماتے ہیں اور تنگی کا ارادہ نہیں فرماتے۔ آج قرآن کریم کے اس ارشاد گرامی کے حوالہ سے کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یُسر اور عُسر کا مفہوم کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے شریعت کے احکام میں تنگی اور آسانی کی کون سی صورتیں بیان فرمائی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ جولائی ۲۰۱۴ء

سیدنا صدیق اکبرؓ اور خلافت راشدہ

حضرت ابوبکر صدیقؓ سب سے افضل صحابی ہیں اس لیے جناب نبی اکرمؐ کی حیات مبارکہ میں ہی ان کے حوالہ سے یہ ماحول بن گیا تھا کہ کم و بیش سبھی حضرات کا یہ اندازہ تھا کہ آنحضرتؐ کی جانشینی کے منصب پر وہی فائز ہوں گے، اس پر بہت سی شہادتیں احادیث و تاریخ میں موجود ہیں جن میں سے تین چار کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ احد کی جنگ میں جب مسلمانوں کے لشکر میں افراتفری مچی جس کا ذکر قرآن کریم میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے اور ایک مرحلہ میں یہ مشہور ہو گیا کہ رسول اللہ شہید ہو گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ جنوری ۲۰۲۱ء

’’عشرۂ شیخ الہندؒ‘‘

سالِ رواں کے آغاز میں ’’مولانا ارشد مدنی سوشل میڈیا ڈیسک‘‘ کی طرف سے شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی یاد میں ’’عشرۂ شیخ الہندؒ‘‘ کا اہتمام کیا گیا جس کے تحت مسلسل دس روز تک اکابر اہل علم و دانش کے خطابات کا سلسلہ چلتا رہا اور سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں ہزاروں افراد نے اس سے استفادہ کیا۔ اختتامی نشست دارالعلوم دیوبند کے صدر المدرسین حضرت مولانا سید ارشد مدنی دامت برکاتہم کی زیرصدارت انعقاد پذیر ہوئی جس میں مہمان خصوصی ندوۃ العلماء لکھنو کے رئیس حضرت مولانا سید رابع ندوی دامت برکاتہم تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ جنوری ۲۰۲۱ء

درسِ نظامی کا آن لائن کورس

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے زیر اہتمام درس نظامی کے تین سالہ آن لائن کورس کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر اللہ رب العزت کا شکر ادا کرتے ہوئے اور اس کی بے پناہ نعمتوں پر اس کی بارگاہ میں سجدۂ شکر بجا لاتے ہوئے دو تین باتیں تعارفی اور تمہیدی طور پر عرض کرنا چاہتا ہوں۔ پہلی بات یہ کہ آج سے تین عشرے قبل ہم نے جب الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کا آغاز کیا تو بنیادی ہدف دین کی دعوت اور تعلیم و ترویج تھا۔ اس کے تین بنیادی مرحلے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ جنوری ۲۰۲۱ء

ہماری گھریلو درسگاہ

آج کی اس محفل میں حاضری میرے لیے مختلف حوالوں سے خوشی اور سعادت کی بات ہے ، ایک تو اس لیے کہ چند بچیوں نے قرآن کریم حفظ مکمل کیا ہے جن میں میری بھتیجیاں بھی شامل ہیں جو ہمارے چھوٹے بھائی مولانا منہاج الحق خان راشد کی بیٹیاں ہیں، دوسرا اس حوالہ سے کہ یہ درسگاہ والد گرامی امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ اور ہماری دو ماؤں کی گھریلو درسگاہ ہے، اور تیسرا اس لیے کہ میری اپنی ابتدائی درسگاہ بھی یہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ دسمبر ۲۰۲۰ء

چند معاصر مذاہب کا تعارفی مطالعہ ― دورِ حاضر کے مدعیانِ نبوت

میری گفتگو کا ایک دائرہ یہ ہوتا ہے کہ جس دور میں ہم رہ رہے ہیں اس میں نئی نبوت اور وحی کے دعوے کے ساتھ کون کون سے گروہ دنیا میں موجود ہیں اور اپنا کام کر رہے ہیں۔ ان سے بھی ہمیں ضرور متعارف ہونا چاہیے، یہ تقریباً چار یا پانچ ہیں، ان کا ذکر کرتا ہوں۔ ایک تو ذکری مذہب ہے کہ بلوچستان میں مکران اور تربت کی پٹی ان سے بھری پڑی ہے، یہ تقریباً چار سو سال سے چلے آرہے ہیں، ان کی مختصر تاریخ ذکر کر دیتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۸ء

چند معاصر مذاہب کا تعارفی مطالعہ ― دورِ اول کے مدعیانِ نبوت

حضرات علماء کرام! آج منحرف مذاہب کے حوالے سے بات کریں گے۔ منحرف مذاہب سے مراد وہ مذاہب ہیں جو نام اسلام کا لیتے ہیں لیکن نئی نبوت اور نئی وحی کے قائل ہیں۔ میں نے ان کو منحرف مذاہب کا ٹائٹل صرف فرق بتانے کے لیے دے رکھا ہے ورنہ تو یہ غیر مسلموں میں ہی ہیں۔ یہ اس وقت کون کون سے ہیں؟ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اور آپؐ کے بعد اب تک بہت سے لوگوں نے مختلف ادوار میں مختلف علاقوں میں نبوت اور نئی وحی کا دعوٰی کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۸ء

چند معاصر مذاہب کا تعارفی مطالعہ ― بدھ مت

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ حضرات علماء کرام! آج بدھ مذہب کے بارے میں تعارفی معلومات مہیا کی جائیں گی۔ بدھ ازم، بدھ مت، یہ مہاتما بدھ کے نام سے متعارف ہے۔ مہاتما بدھ کا اصل نام ’’سدارتھا بوتم‘‘ ہے۔ ’’مہاتما‘‘ خدا کی صفات کے مظہر کو کہتے ہیں۔ مہاتما بدھ پانچ سو سال قبل مسیح ہندوستان کے علاقے میں راجہ شدودھن کے ہاں پیدا ہوئے جو کہ ہندو کھشتری ذات سے تعلق رکھتے تھے۔ مہاتما بدھ کی پیدائش نیپال کی سرحد کے قریب بھارت میں اور بعض مؤرخین کے مطابق بنارس کے شمال میں ایک سو کلو میٹر کے فاصلے پر ایک بستی میں ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۸ء

چند معاصر مذاہب کا تعارفی مطالعہ ― ہندومت

حضرات علماء کرام! آج ہندو مذہب کے حوالے سے کچھ بات ہو گی کہ ہندو مذہب کیا ہے، اس کے ساتھ ہمارے معاملات کیا چلے آرہے ہیں، اور اس وقت ہم کس پوزیشن میں ہیں۔ ہندو مذہب کا آغاز کب ہوا، اس کی بنیادیں کیا ہیں، اور ان کے بنیادی عقائد کیا ہیں، اس بارے میں تاریخ خاموش ہے۔ ہندو مذہب کی بنیاد اور بنیادی عقائد کے بارے میں کوئی متفقہ بات نہیں ملتی۔ عام طور پر اسے وطنی مذہب سمجھا جاتا ہے۔ ایک زمانے میں متحدہ ہندوستان میں رہنے والے لوگ ہندی اور ان کا مذہب ہندو مذہب کہلاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۸ء

چند معاصر مذاہب کا تعارفی مطالعہ ― سکھ مت

ان ادیان میں سے جن مذاہب کے ساتھ ہمارا عملی واسطہ ہے آج آغاز کرنے لگا ہوں، اپنے قریبی اور پڑوسی مذہب یعنی سکھ مذہب کے بارے میں۔ سکھ مذہب پنجاب کا مذہب ہے، ان کی تاریخ زیادہ سے زیادہ پانچ سو سال کی ہے، اکبر بادشاہ کے زمانے میں ان کا آغاز ہوا۔ ان کو سمجھنے سے پہلے ایک اور بات سمجھنی ضروری ہے کہ بابا گرو نانک سکھ مذہب کے بانی پہلے ہندو تھے۔ شیخوپورہ کے ساتھ ننکانہ صاحب ضلع ہے، اس کا پرانا نام تلونڈی تھا۔ بابا نانک کے نام سے اس کا نام ننکانہ صاحب رکھا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۸ء

چند معاصر مذاہب کا تعارفی مطالعہ ― عیسائیت

حضرات علماء کرام! آج آپ سے بات کرنا چاہوں گا عیسائیت، مسیحیت، حضرت عیسٰی علیہ السلام کی پیروکاری کا دعوٰی رکھنے اور انجیل کی بات کرنے والوں کے بارے میں۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ساڑھے پانچ، چھ صدیاں پہلے مبعوث ہوئے اور خاتم انبیائے بنی اسرائیل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں انجیل عطا فرمائی، ان کو بغیر باپ کے پیدا کیا اور بغیر موت کے زندہ اٹھا لیا۔ یہ ان کے اعزازات و امتیازات میں سے ہے۔ حضرت عیسٰیؑ نے فلسطین میں اپنی دعوت پیش کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۸ء

چند معاصر مذاہب کا تعارفی مطالعہ ― یہودیت

تعارف ادیان و مذاہب کے حوالے سے ہم نے گزشتہ نشست میں بات شروع کی تھی۔ موجودہ تناظر میں عالمی طور پر ہمارا سب سے بڑا ٹکراؤ یہود سے ہے، تو آج ان کے حوالے سے بات ہوگی۔ یہودیت اس وقت تعداد کے لحاظ سے کوئی بڑا مذہب نہیں ہے تقریباً ڈیڑھ کروڑ ہیں۔لیکن اثر و رسوخ کے اعتبار سے، عالمی نظام میں مداخلت کے اعتبار سے، میڈیا اور معیشت پر کنٹرول کے حوالے سے یہودی اس وقت طاقتور ترین قوم ہیں۔ یہودیت کو سمجھنا اور پہچاننا ہمارے لیے بہت سے حوالوں سے ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۸ء

تعلیمی نظام اور تحریکی تقاضے

کافی عرصہ کے بعد جامعہ فریدیہ میں حاضری اور اساتذہ و طلبہ کے ساتھ ملاقات کی سعادت حاصل ہوئی ہے اور مجھ سے کہا گیا ہے کہ کچھ گزارشات بھی کروں اس لیے تعمیل حکم میں چند باتیں عرض کر رہا ہوں۔ جامعہ فریدیہ ملک کے بڑے تعلیمی اداروں میں سے ہے اور مختلف حوالوں سے اپنی ایک الگ تاریخ رکھتا ہے۔ حضرت مولانا محمد عبد اللہ شہیدؒ کی محنتوں کا ثمرہ اور ان کا صدقہ جاریہ ہے۔ انہوں نے اور ان کے خاندان و رفقاء نے اس علمی ادارہ اور مرکز کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور جامعہ فریدیہ آزمائشوں کے مختلف مراحل سے گزرا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ دسمبر ۲۰۲۰ء

دیوبندیت کا عالمی تعارف

جامعہ رشیدیہ کو پاکستان میں دیوبندیت کے تعارف اور فروغ کی جدوجہد میں اہم مقام حاصل ہے اور ہم نے طالب علمی کے دور میں جن مراکز سے دیوبندیت کا سبق لیا ہے جامعہ رشیدیہ بھی ان میں سے ہے۔ پاکستان بننے کے بعد مسائل کی علمی تحقیق و وضاحت کے حوالہ سے حضرت والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کو دیوبندیت کی علمی ترجمانی کا مقام حاصل ہوا اور جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ ان کا مرکز تھا، جبکہ دیوبندیت کے تحریکی اور تاریخی پس منظر اور مقام سے نئی نسل کو روشناس کرانے میں جامعہ رشیدیہ ساہیوال نے اہم کردار ادا کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ اپریل ۲۰۱۴ء

دینی مدارس کی تعلیم اور انسانی معاشرہ کی ضروریات

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ دار العلوم نیویارک کے مختلف اجتماعات میں کئی سالوں وقتاً فوقتاً حاضری کا موقع ملتا رہتا ہے اور اساتذہ و منتظمین کے ذوق و محنت کو دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔ آج اللہ تعالیٰ نے سالانہ جلسہ تقسیم اسناد و انعامات میں شرکت کی توفیق دی ہے، علماء کرام، اساتذہ، طلبہ اور طلبہ و طالبات کے والدین کے اس بڑے اجتماع میں آپ حضرات سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں اور آپ سب حضرات کو مبارک باد دیتا ہوں کہ اس سال دار العلوم سے گیارہ طلبہ نے قرآن کریم حفظ مکمل کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ جولائی ۲۰۱۱ء

مکالمہ بین المذاہب: اہداف اور دائرے

’’مکالمہ بین المذاہب‘‘ آج کے اہم عالمی موضوعات میں سے ہے جس پر دنیا بھر میں گفتگو کا سلسلہ جاری ہے اور ہر سطح پر اس کی اہمیت پر زور دیا جا رہا ہے۔ برطانیہ کے وزیراعظم جناب ٹونی بلیئر کے حوالے سے اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ وہ ۲۷ جون ۲۰۰۷ء کو وزارت عظمیٰ سے سبکدوش ہونے کے بعد انٹرفیتھ ڈائیلاگ یعنی بین المذاہب مکالمہ کے لیے ایک باقاعدہ ادارہ قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ اس سلسلہ میں عالمی سطح پر سنجیدگی کے ساتھ کوئی فورم یا ادارہ کام نہیں کر رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ مئی ۲۰۰۷ء

’’من احب شیئا اکثر ذکرہ‘‘

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ہم سب کے لیے سعادت کی بات ہے کہ جناب سرور کائناتؐ کے تذکرہ کے لیے منعقد ہونے والی مبارک محفل میں بیٹھے ہیں، مختلف حوالوں سے آقائے نامدارؐ کا ذکر کر رہے ہیں اور سن رہے ہیں، اللہ تعالیٰ ہماری حاضری قبول فرمائیں اور عمل کی توفیق سے بھی نوازیں، آمین یا رب العالمین۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تذکرہ کے ہزاروں پہلو ہیں جن میں سے آج کی مختصر گفتگو میں ایک دو کا تذکرہ ہی ہو سکے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ مارچ ۲۰۱۴ء

ویلفیئر اسٹیٹ، اسوۂ نبویؐ کی روشنی میں

جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے ہزاروں پہلو ہیں جن میں سے ہر ایک پر بات کی جا سکتی ہے، مگر میں آج ان میں سے صرف ایک پہلو پر کچھ معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ آج دنیا میں رفاہی ریاست اور ویلفیئر اسٹیٹ کی بات کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ ایک ریاست کو اپنی آبادی کے نادار، بے سہارا، ضرورت مند اور بوجھ تلے دبے ہوئے شہریوں کی کفالت کی ذمہ داری اٹھانی چاہیے، اور بہت سی حکومتوں نے اسے اپنی ذمہ داری میں شامل کر رکھا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جنوری ۲۰۱۴ء

منصب رسالتؐ — دین کے تمام شعبوں کی اتھارٹی

آج کی اس کانفرنس کا موضوع سیرت النبیؐ ہے اور جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب رسالت کو گفتگو کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ سیرت نبوی کے ہزاروں پہلو ہیں جو گفتگو کے لیے توجہ کو کھینچتے ہیں اور منصب کے بھی بیسیوں پہلو ایسے ہیں جن پر گفتگو کی جا سکتی ہے اور جن پر گفتگو کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، لیکن میں منصب کو ’’اتھارٹی‘‘ کے مفہوم پر فوکس کرتے ہوئے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ جناب نبی اکرمؐ دین کے تمام شعبوں میں فائنل اتھارٹی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ مارچ ۲۰۱۲ء

باہمی مشاورت کی اہمیت اور شرعی حیثیت

مشورہ اور شورائی نظام و ماحول اسلام کے امتیازات میں سے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی خصوصیات میں اس بات کا قرآن کریم میں ذکر فرمایا ہے کہ ’’وامرھم شوریٰ بینھم‘‘ ان کے معاملات باہمی مشاورت کے ساتھ طے ہوتے ہیں۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا سلسلہ جاری تھا اور آپؐ کو بظاہر مشورہ کی ضرورت نہیں تھی مگر آپؐ کے لیے بھی حکم خداوندی یہ تھا کہ ’’وشاورھم فی الامر‘‘ آپ مسلمانوں سے اپنے معاملات میں مشاورت کرتے رہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ دسمبر ۲۰۲۰ء

سودی نظام کے خاتمہ کی مہم

جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جاہلیت کی جن اقدار کو انسانی معاشرہ سے ختم کیا ان میں ایک بڑی لعنت سود کی تھی، جاہلی معاشرہ میں سود کا چلن عام تھا اور ذاتی قرضوں اور تجارت دونوں میں سود کا لین دین ہوتا تھا۔ جب سود کی حرمت کا اعلان ہوا تو مشرکین کی طرف سے یہ اشکال پیش کیا گیا کہ ’’انما البیع مثل الربوٰا‘‘ تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے، جب تجارت جائز ہے تو سود کیسے حرام ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’’احل اللہ البیع وحرم الربوٰا‘‘ یہ دونوں ایک نہیں ہیں، تجارت کو اللہ تعالیٰ نے حلال کیا ہے اور سود کو حرام قرار دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ فروری ۲۰۱۴ء

ناموس رسالتؐ کے تحفظ کے ناگزیر تقاضے

بعد الحمد و الصلوٰۃ۔ مجھے گفتگو کے لیے جو موضوع دیا گیا ہے اس کے مطابق بین الاقوامی تناظر میں محبت رسولؐ کے تقاضوں پر کچھ معروضات پیش کرنی ہیں، اس سلسلہ میں پہلی بات تو یہ کروں گا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صرف ہمارے نبی نہیں ہیں بلکہ پوری نسل انسانی کے نبی ہیں اور ان کا خطاب ’’یا ایھا الناس‘‘ کے عنوان سے ہے، چنانچہ آج کے عالمی تناظر میں پوری نسل انسانی تک نبی اکرمؐ کی دعوت، پیغام اور تعارف کو پہنچانا ہماری ذمہ داری بنتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ نومبر ۲۰۲۰ء

اسوۂ نبویؐ اور عصرِ حاضر

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ قیامت تک ہر زمانے اور ہر قوم کے لیے اسوۂ حسنہ ہے اور ہر دور میں نسلِ انسانی اس سے راہنمائی حاصل کرتی ہے۔ آج بھی نسلِ انسانی اور خاص طور پر امتِ مسلمہ کے لیے یہی راہنمائی فلاح و نجات کا سب سے بڑا سر چشمہ ہے۔ امتِ مسلمہ اس وقت جن مسائل میں الجھی ہوئی ہے ان کی فہرست بہت طویل اور انہیں صرف شمار کیا جائے تو اس کے لیے خاصا وقت درکار ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ جنوری ۲۰۱۳ء

اسلامی تحقیق و مطالعہ کے حوالہ سے جدید تحدّیات

معزز اساتذہ کرام اور عزیز طلبہ و طالبات! ارباب فکر و دانش کے اس اجتماع میں شرکت اور گفتگو کا موقع فراہم کرنے پر محترم ڈاکٹر دوست محمد صاحب، مولانا ڈاکٹر صالح الدین حقانی اور ان کے رفقاء کا شکریہ ادا کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر سے نوازیں، آمین۔ مجھے خوشی ہو رہی ہے کہ ان طلبہ و طالبات سے مخاطب ہوں جو تعلیم کا ایک دور مکمل کر کے تحقیق، ریسرچ اور مطالعہ کے نئے دور میں داخل ہوئے ہیں اور نسل انسانی کی راہنمائی کا فریضہ سنبھالنے کی تیاری کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ نومبر ۲۰۱۲ء

نسبت کی اہمیت و برکات اور اس کے تقاضے

آج کا یہ اجتماع ’’سالکین‘‘ کے عنوان سے ہے۔ سلوک، احسان اور تزکیۂ تصوف کی اصطلاحات ہیں جو اصلاح نفس کے حوالہ سے صوفیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے مختلف دائروں میں اپنا اپنا مفہوم اور دائرہ کار رکھتی ہیں۔ میں تفصیلات میں جائے بغیر اس سلسلہ کے دو پہلوؤں پر کچھ عرض کرنا چاہوں گا ایک یہ کہ نسبت کے تقاضے کیا ہوتے ہیں؟ اور دوسرا یہ کہ اصلاح اور تزکیہ کے لیے قرآن کریم نے کیا نصاب بیان فرمایا ہے؟ بزرگوں کے ساتھ نسبت ہمارے ہاں بہت اعزاز، برکت اور اعتماد کی بات سمجھی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ اکتوبر ۲۰۲۰ء

مسئلہ قادیانیت کے تین پہلو

جنوبی ایشیا کے کسی حصے میں عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے اس پہلو پر جب بات ہوتی ہے تو قادیانیت کا تذکرہ لازمی سمجھا جاتا ہے کیونکہ گزشتہ کم و بیش سوا سو برس سے قادیانیت ہی کو عقیدۂ ختم نبوت سے انکار کے عنوان سے پہچانا جاتا ہے اور اسی کے ساتھ علماء اسلام اور دینی جماعتوں کی کشمکش جاری ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا تو تمام مکاتب فکر کے علماء کرام نے متفقہ طور پر انہیں اور ان کے پیروکاروں کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اپریل ۲۰۱۲ء

قومی بدعہدی پر اجتماعی توبہ و استغفار کی ضرورت

غزوۂ تبوک کے موقع پر منافقین نے جہاد میں شرکت سے گریز کرنے اور پیچھے رہ جانے کے ساتھ ساتھ جو مختلف حرکتیں کی تھیں سورہ التوبہ میں انہیں ایک ایک کر کے بیان کیا گیا ہے، اور ان آیات میں اسی تسلسل میں ایک اہم بات بیان فرمائی گئی ہے۔ بعض مفسرین کرامؒ نے ان آیات کے ضمن میں ثعلبہ بن حاطب نامی ایک شخص کا واقعہ بیان کیا ہے اور محققین نے اس کے ساتھ یہ وضاحت فرمائی ہے کہ ثعلبہ بن حاطبؓ نامی معروف بزرگ بدری صحابی ہیں اور بدری صحابہؓ میں سے کسی بزرگ کے ساتھ نفاق کی نسبت درست نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اگست ۲۰۱۱ء

تلاوتِ قرآنِ کریم کے تقاضے

آج تمہید اور آغاز کے طور پر چند گزارشات پیش کر رہا ہوں دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس کارِ خیر کو جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔ قرآن کریم نے خود اپنے بارے میں متعدد ہدایات اور احکامات بیان فرمائے ہیں جن میں سے دو تین کا تذکرہ کرنا چاہوں گا، مثلاً ایک جگہ ارشاد ربانی ہے کہ ’’لایمسہ الا المطہرون‘‘ قرآن کریم کو پاک لوگ ہی ہاتھ لگاتے ہیں۔ اس سے فقہاء کرام نے یہ مسئلہ بیان فرمایا ہے کہ قرآن کریم کو طہارت کے بغیر ہاتھ لگانا جائز نہیں ہے۔ طہارت کے دو درجے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ اکتوبر ۲۰۱۱ء

مکالمہ بین المذاہب کے مختلف دائرے اور اہداف

’’مکالمہ بین المذاہب‘‘ پر اس وقت دنیا میں مختلف سطحوں پر ہونے والی گفتگو کا پس منظر کیا ہے؟ اور اس میں ہمارا کردار کیا ہونا چاہیے؟ میں اسے تین حصوں میں تقسیم کروں گا، ایک یہ کہ مکالمہ بین المذاہب کا دائرہ کیا ہے؟ دوسرا یہ کہ موجودہ عالمی تناظر میں اس کے اہداف و مقاصد کیا ہیں؟ اور تیسرا یہ کہ اسلامی نقطۂ نظر سے اس کے معروضی تقاضے کیا ہیں؟ مکالمہ بین المذاہب کا ایک دائرہ یہ ہے کہ سرے سے مذہب کی کوئی ضرورت انسان کو فرد یا معاشرے کی سطح پر ہے بھی یا نہیں؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ جون ۲۰۱۱ء

جس نے رسولؐ کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی

جناب نبی اکرمؐ کے تذکرہ کے سینکڑوں پہلو ہیں اور ہر پہلو کے بیسیوں رخ ہیں، اس لیے سیرت طیبہ پر گفتگو کرنے والوں کو سب سے پہلے اس امتحان کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ سیرت مبارکہ کا کون سا پہلو بیان کیا جائے اور کون سا پہلو چھوڑ دیا جائے؟ جبکہ یہ ’’کون سا چھوڑ دیا جائے‘‘ کا پہلو زیادہ آزمائش والا ہوتا ہے کہ حبیبِ خدا کی سیرت کا کوئی پہلو بھی ایسا نہیں جسے چھوڑ دینے کا آسانی کے ساتھ فیصلہ کیا جا سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ فروری ۲۰۱۱ء

دینی طلبہ کے لیے تین نصیحتیں

دینی مدرسہ کے اساتذہ اور طلبہ جمع ہیں اور مجھے ان کی خدمت میں کچھ معروضات پیش کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ تعمیلِ حکم میں پہلی بات تو یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہمیں انسانی سوسائٹی میں اپنے کام کی نوعیت اور اہمیت کے بارے میں سمجھنا چاہیے کہ (۱) ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ کیا ہے اور اسے دنیا کس نظر سے دیکھ رہی ہے؟ (۲) دینی مدارس کی مخالفت کرنے والے ان مدارس کے خلاف کیوں ہیں؟ (۳) اور مدارس کے خلاف اہلِ مغرب کے غصہ و اضطراب کی وجہ کیا ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ جنوری ۲۰۱۱ء

تلاوتِ قرآن کریم کا ذوق اور ضرورت

بحمد اللہ تعالیٰ آج ہم الشریعہ اکادمی میں حفظ قرآن کریم کی کلاس کا باقاعدہ آغاز کر رہے ہیں، ناظرہ اور قاعدہ کی کلاس تو اکادمی کے آغاز سے جاری ہے اور روزانہ صبح محلہ کے بچے یہاں آ کر قاعدہ اور ناظرہ قرآن کریم کے ساتھ ضروری دینی امور کی تعلیم حاصل کرتے ہیں مگر حفظ قرآن کریم کی باقاعدہ کلاس آج شروع ہو رہی ہے جس میں بچوں کو حفظ قرآن کریم اور ضروریات دین کی ابتدائی تعلیم کے ساتھ ساتھ ریاضی اور انگلش کی ضروری تعلیم بھی دی جائے گی، ان شاء اللہ تعالیٰ، تا کہ وہ حفظ قرآن کریم کی تکمیل کے بعد حسب استعداد مڈل یا میٹرک کا امتحان دے سکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ اپریل ۲۰۱۱ء

امت مسلمہ کے مسائل و مشکلات اور علماء کا کردار

امت مسلمہ اس وقت عالمی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق ڈیڑھ ارب سے زیادہ مسلمانوں پر مشتمل ہے، ایک امریکی تھنک ٹینک کے حوالہ سے شائع ہونے والی اخباری خبروں کے مطابق اس وقت دنیا میں مسلمانوں کی تعداد ایک ارب سڑسٹھ کروڑ کے لگ بھگ ہے اور کہا جاتا ہے کہ مسلم امہ جو دنیا کی کل آبادی کا پانچواں حصہ سمجھی جاتی تھی اب چوتھے حصے کی طرف بڑھ رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ مئی ۲۰۱۱ء

دنیا کو حقوق کا شعور کس نے عطا کیا؟

آج کی نشست میں، جو اس موضوع پر اس سلسلہ کی آخری نشست ہے، اسلامی تعلیمات اور سنت نبویؐ میں انسانی حقوق کی پاسداری کے حوالہ سے کچھ واقعات عرض کرنا چاہوں گا تاکہ مغرب کے اس پروپیگنڈا اور دعوے کی حقیقت واضح ہو سکے کہ دنیا کو اس نے حقوق کا شعور عطا کیا ہے اور انسانی حقوق کی پاسداری کا دور مغرب کے تہذیبی انقلاب سے شروع ہوا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ مارچ ۲۰۱۱ء

فہم قرآن کے دو صحیح راستے

فہم قرآن کے حوالہ سے بیسیوں پہلو ہیں جن کے بارے میں عرض کیا جا سکتا ہے اور ان کی ضرورت بھی ہے لیکن آج میں صرف اس ایک پہلو پر گزارش کروں گا کہ قرآن کریم کا ترجمہ پڑھتے ہوئے کسی تفسیر کا مطالعہ کرتے ہوئے یا درس سنتے ہوئے قرآن کریم کی کسی آیت کے مفہوم کے بارے میں ذہن الجھ جائے، مغالطہ لگ جائے، غلط فہمی پیدا ہو جائے، کنفیوژن ہو جائے، کوئی اشکال سامنے آجائے تو ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ جنوری ۲۰۱۰ء

حدیث نبوی ؐ کی تین نمایاں حیثیتیں

آج مجھے حدیث نبویؐ کے بارے میں کچھ گزارشات پیش کرنی ہیں۔ حدیث لغوی طور پر گفتگو اور بات چیت کو کہتے ہیں مگر شریعت میں اسے جناب نبی اکرمؐ کے حوالہ سے گفتگو کے لیے مخصوص کر دیا گیا ہے، اور حدیث نبویؐ میں جناب نبی اکرمؐ کے ارشادات اور افعال و اعمال کے علاوہ صحابہ کرامؓ کے ایسے اقوال و اعمال کو بھی شمار کیا جاتا ہے جو نبی اکرمؐ کے علم و مشاہدہ میں آئے اور آپؐ نے ان پر خاموشی اختیار کر کے ان کی تصویب و توثیق فرما دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ فروری ۲۰۱۰ء

ماں اور بچے کی صحت

ماں اور بچے کی صحت کے حوالہ سے اس سیمینار میں باخبر حضرات کی طرف سے جو اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں اور صورتحال کا جو نقشہ کھینچا گیا ہے وہ انتہائی تشویشناک ہے، حاملہ خواتین کو بروقت طبی امداد مہیا نہ ہونے کے باعث ہزاروں خواتین کی زچگی کی حالت میں موت، اور نوزائیدہ بچوں کو ضروری طبی سہولتیں میسر نہ آنے کی وجہ سینکڑوں بچوں کی اموات کے بارے میں یہ اعداد و شمار چونکا دینے والے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ جولائی ۲۰۱۰ء

مسئلہ سود پر دو اہم باتیں

مختلف مکاتب فکر کے ارباب علم و دانش سود اور سودی نظام کے حوالہ سے موجودہ معروضی صورتحال اور اس سلسلہ میں مشکلات و مسائل کے حل کے موضوع پر اظہار خیال کر رہے ہیں۔ میں اس مرحلہ میں اس موضوع پر کوئی تفصیلی بات نہیں کرنا چاہتا اور مختلف الخیال ارباب دانش کے خیالات سننے کی نیت سے حاضر ہوا ہوں، مگر مجھ سے پہلے ایک فاضل دوست نے اپنے خطاب میں کچھ اہم نکات کی طرف توجہ دلائی ہے جن میں سے دو نکات پر مختصرًا کچھ عرض کرنا مناسب سمجھتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ جون ۲۰۱۰ء

علماء اور جدید دور کے تقاضے

آپ حضرات دعوت و ارشاد کے حوالہ سے تخصص کا دو سالہ کورس مکمل کر کے چند دنوں میں فارغ التحصیل ہونے والے ہیں جبکہ آپ میں سے بیشتر حضرات اپنا تعلیمی دورانیہ مکمل کر کے عملی زندگی کا آغاز کر رہے ہیں، اس لیے آپ کے استاذ محترم حضرت مولانا ڈاکٹر ساجد الرحمن صدیقی صاحب کا ارشاد ہے کہ میں آپ حضرات کے سامنے اس موضوع پر گفتگو کروں کہ رسمی تعلیم کے دور سے فارغ ہونے کے بعد عملی زندگی میں داخل ہونے پر آپ حضرات کو کس قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا ہو گا اور ان سے نمٹنے کے لیے آپ کیا تدابیر اختیار کریں گے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ جون ۲۰۱۰ء

تحقیق کی اسلامی روایت اور اسلاف کا طرز عمل

تحقیق، روایت اور ہمارے اسلاف کا طرز عمل، اگر میں اس موضوع کو تھوڑا سا تقسیم کروں تو یہ تین بنیادی نکتے ہیں: (۱) تحقیق کیا ہے؟ (۲) ہماری روایت کیا ہے؟ (۳) اور آج کے دور میں اس کے تقاضے کیا ہیں؟ اس عنوان سے مزید شاخیں بھی نکلتی ہیں اور نئے عنوان بنتے ہیں لیکن میں انہی دو تین نکات کے گرد اپنی گفتگو مکمل کرنے کی کوشش کروں گا۔ تحقیق حق سے ہے، حق معلوم کرنا، حق تک رسائی حاصل کرنا، حق کو سمجھنا، حق کی وضاحت کرنا، حق کو پیش کرنا، حق کو ثابت کرنا، حق کی حجت قائم کرنا، یہ سارے تحقیق کے مراحل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ مئی ۲۰۱۲ء

زندگی کی حقیقت اور اس کیلئے فائدہ مند کام

زندگی میں پہلی بار ہانگ کانگ میں حاضری کا موقع ملا ہے، ہانگ کانگ کی مساجد کے بورڈ آف ٹرسٹیز کا شکرگزار ہوں جس کی دعوت پر یہ حاضری ہوئی ہے، اور مولانا قاری محمد طیب کا شکرگزار ہوں جنہوں نے اپنے اس مرکز میں آپ حضرات کے ساتھ ملاقات اور گفتگو کا اعزاز بخشا ہے اللہ تعالیٰ سب کو جزائے خیر سے نوازیں، ہمارا مل بیٹھنا قبول فرمائیں، کچھ مقصد کی باتیں کہنے سننے کی توفیق دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ مارچ ۲۰۰۹ء

قرآن کریم اور حضرت عمرؓ کا ذوق

مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میری مادر علمی ہے اور تعلیمی و تدریسی سرگرمیوں کی جولانگاہ بھی ہے۔ اس کا قیام ۱۹۵۲ء میں عمِ مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی دامت برکاتہم اور ان کے رفقاء کی مساعی سے عمل میں آیا تھا، اور اپنے برادر گرامی مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے ساتھ مل کر انہوں نے کم و بیش نصف صدی تک اس گلشن علم کی آبیاری کی ہے۔ گزشتہ پانچ چھ برس سے دونوں بھائی معذور اور صاحب فراش ہیں اور ان کے حکم اور ہدایت پر ان کی جگہ یہ خدمت سرانجام دینے کی ہم ناکارہ لوگ کوشش کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ اکتوبر ۲۰۰۷ء

آسمانی مذاہب میں قربانی کا تصور

آج عید کا دن ہے، قربانی کی عید جس میں دنیا بھر کے مسلمان اللہ تعالی کی بارگاہ میں نذرانہ پیش کرنے کے لیے جانور ذبح کرتے ہیں اور اللہ تعالی کی رضا کے لیے اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔ یہ قربانی نسلِ انسانی کے آغاز سے چلی آرہی ہے، قرآن کریم نے سب سے پہلی قربانی کا حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل کے حوالہ سے ذکر کیا ہے۔ ان کا رشتے پر جھگڑا ہو گیا تھا، فیصلے کے لیے انہیں قربانی پیش کرنے کو کہا گیا، دونوں نے قربانی پیش کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ نومبر ۲۰۰۹ء

حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی ؒ

حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ ہمارے دور کے اکابر علماء میں سے تھے جن کی امارت و سیادت کو ملک بھر کے علماء تسلیم کرتے تھے۔ بزرگ تھے، بڑے تھے، وہ ہم سب کے رہنما اور سربراہ تھے۔ سیاسی میدان میں بھی، روحانی دائرے میں بھی اور علمی ماحول میں بھی۔ ضلع رحیم یار خان میں خانپور کٹورہ کے ساتھ ایک بستی ہے دینپور شریف، جو ہمارے بڑے علمی اور روحانی مراکز میں سے ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۶ء

اہلِ سنت کے تمام مکاتب فکر کی مشترکہ جدوجہد

جامع مسجد خلفاء راشدینؓ کھیالی دروازہ گوجرانوالہ کے منتظمین کا گزشتہ چار عشروں سے معمول چلا آ رہا ہے کہ وہ محرم الحرام کے آخری عشرہ کے دوران تحفظ ناموس صحابہ کرام و اہل بیت عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عنوان سے دو روزہ کانفرنس منعقد کرتے ہیں جس میں اہل سنت کے تینوں مکاتب فکر دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث کے سرکردہ علماء کرام کا خطاب ہوتا ہے اور ہزاروں عوام اس میں شریک ہوتے ہیں۔ بحمد اللہ تعالٰی میں اس کانفرنس کے بانیوں میں سے ہوں اور مسلسل شریک ہو رہا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ ستمبر ۲۰۲۰ء

حدیثِ نبویؐ کی ضرورت و اہمیت

’’حدیث‘‘ عربی زبان میں بات چیت اور گفتگو کو کہتے ہیں، لیکن جب ہم مذہبی حوالہ سے حدیث کا لفظ بولتے ہیں تو اس سے مراد ہر وہ بات ہوتی ہے جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول و منسوب ہو، یا ان کے بارے میں کسی روایت میں مذکور ہو۔ گویا کسی قول، عمل یا واقعہ میں جناب نبی اکرمؐ کا ذکر آجائے تو وہ حدیث بن جاتا ہے اور حضرت امام ولی اللہ دہلویؒ کے بقول حدیثِ نبویؐ تمام دینی علوم کا سر چشمہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۱ء

علومِ حدیث: امام بخاریؒ، امام طحاویؒ اور شاہ ولی اللہؒ کا اسلوب

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ہم اس وقت سب حدیث نبویؐ کے طلبہ بیٹھے ہیں اور حدیث نبویؐ کے حوالہ سے گفتگو کر رہے ہیں، حدیث نبویؐ اپنے عمومی مفہوم میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و اعمال اور احوال و واقعات پر مشتمل ہے اور تمام علوم دینیہ کا سر چشمہ اور ماخذ ہے۔ ہمیں قرآن کریم حدیث نبویؐ کی وساطت سے ملا ہے، سنت نبویؐ کے حصول کا ذریعہ بھی یہی ہے، اور فقہ کا استنباط بھی اسی سے ہوتا ہے۔ اسی لیے حدیث نبویؐ کو ہمارے نصاب میں سب سے زیادہ مقدار میں اور تفصیل کے ساتھ پڑھایا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ اپریل ۲۰۱۰ء

نئے مورچے،پرانے ہتھیار ۔ لمحہ فکریہ!

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ المرکز الاسلامی بنوں میں حاضری کی ایک عرصہ سے خواہش تھی مگر ہر کام کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔ حضرت مولانا سید نصیب علی شاہ الہاشمیؒ ہمارے پرانے ساتھیوں میں سے تھے، ہم نے جمعیۃ طلباء اسلام اور پھر جمعیۃ علماء اسلام میں ایک عرصہ تک اکٹھے کام کیا ہے، ان کا یہ کام تو خود میرے ذوق کا کام ہے کہ آج کے جدید مسائل کا علمی حل اجتماعی طور پر تلاش کیا جائے اور علمی مسائل میں باہمی مشاورت اور علمی مذاکرہ کو ذریعہ بنایا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ مارچ ۲۰۱۰ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter