بیانات و محاضرات

حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ

حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی ؒ کا تاریخ میں تعارف دو حوالوں سے ہے۔ ۱۸۵۷ء کے بعد مذہبی حلقوں کی جو نئی تقسیم ہوئی تھی اس میں دیوبندی مکتبۂ فکر کا بانی اور نقطۂ آغاز کہا جاتا ہے۔ ۱۸۵۷ء اور یعنی ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور سے پہلے ہمارے ہاں مسلم معاشرے میں جو مذہبی دائرہ بندی تھی اس کے عنوانات اور تھے، ۱۸۵۷ء کے بعد جہاں اور بہت سی باتیں تبدیل ہوئیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم نومبر ۲۰۲۲ء

’’اثمھما اکبر من نفعھما‘‘

’’مرکز الاقتصاد الاسلامی‘‘ اور ’’وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان‘‘ کا شکرگزار ہوں کہ ایک اہم ترین قومی و دینی مسئلہ پر تمام مکاتبِ فکر کے سرکردہ علماء کرام اور تاجر طبقہ کے راہنماؤں کے اس اجتماع کا اہتمام کیا، بالخصوص شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم اور ان کے رفقاء کا شکریہ ادا کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ سب کو جزائے خیر سے نوازیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ نومبر ۲۰۲۲ء

سر سید احمد خان اور قائد اعظم کے کیمپ سے ایک گزارش

قائد اعظم ہمارے قومی لیڈر اور ہمارے محسن تھے، آپ پاکستان کے بانی ہیں، پاکستان کے لیے ان کی خدمات ہیں۔ آج مجھے کہا گیا کہ اس وقت ملتِ اسلامیہ کو جو چیلنجز درپیش ہیں اور مسلم دنیا کو جس صورتحال کا سامنا ہے اس پر بات کروں تو میرا جی چاہ رہا ہے کہ قائد اعظم کے حوالے سے ہی بات کروں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ نومبر ۲۰۲۲ء

جمعۃ المبارک ۲۵ نومبر ۔ یومِ انسدادِ سود

قرآن مجید نے صراحت کے ساتھ سود کے کاروبار کو اللہ اور رسول کے ساتھ جنگ قرار دیا ہے اور واضح حکم دیا ہے کہ سودی کاروبار چھوڑ دو۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سودی نظام ختم کیا تھا اور خلافت راشدہ، خلافت بنو امیہ، خلافت عباسیہ اور خلافت عثمانیہ کے ادوار میں ہماری معیشت میں سود کا کوئی شائبہ نہیں تھا۔ سود کا نظام مغرب نے شروع کیا اور چلتے چلتے جب ہم پر غیر مسلم حکومتیں آئیں تو ہمارا نظام بھی سودی ہوتا چلا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ نومبر ۲۰۲۲ء

سودی نظام سے نجات کی نوید

گزشتہ دنوں ہمارے ملک کے وزیرخزانہ جناب اسحاق ڈار نے اعلان کیا ہے کہ حکومت نے سودی نظام کو ختم کرنے اور غیر سودی معیشت کو اپنانے کا فیصلہ کر لیا ہے، اور وفاقی شرعی عدالت نے رمضان المبارک میں جو فیصلہ کیا تھا کہ سودی نظام ختم کرو اور شریعت کا نظام نافذ کرو، اس پر مقرر کردہ مدت کے اندر عملدرآمد کا ہم نے پروگرام بنا لیا ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں جو اپیلیں دائر کی گئی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ نومبر ۲۰۲۲ء

قومی خلفشار کے اسباب کا جائزہ لینے کی ضرورت

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ احد کے موقع پر پریشان کن صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کا ذکر قرآن کریم میں تفصیل کے ساتھ کیا گیا ہے۔ جنگ کے ابتدائی مراحل میں مسلمانوں کی فتح اور پیش قدمی کے حالات پیدا ہو گئے تھے مگر اچانک پانسہ پلٹ گیا اور وقتی پسپائی کے ساتھ بہت نقصان کا سامنا کرنا پڑا، مسلمان لشکر کچھ دیر کے لیے تتربتر ہو گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ اکتوبر ۲۰۲۲ء

مسلم امت کا معاشرتی مزاج

جمعیت اہلسنت والجماعت ہمارے شہر کے علماء کرام کی ایک جماعت ہے جس کے تحت ہم وقتاً فوقتاً دینی کاموں کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں اور اجتماعی طور پر کام کرتے ہیں۔ تعلیمی، اصلاحی، مسلکی، دعوتی اور اس کے ساتھ رفاہی کام بھی مل جل کر کرتے رہتے ہیں۔ کافی عرصے سے یہ جماعت کام کر رہی ہے، حالیہ سیلاب کا مرحلہ آیا تو ہم نے مشاورت کی کہ اس محاذ پر بھی کردار ادا کرنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ اکتوبر ۲۰۲۲ء

معاشرہ کے ضرورت مندوں کی خبرگیری

آج کا یہ پروگرام جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ گوجرانوالہ کی طرف سے درسِ قرآن کریم کے عنوان سے ہے جبکہ اس کے اشتہار میں سیلاب زدگان کی امداد اور بحالی کے لیے جمعیت اہل سنت کی سرگرمیوں کا بھی ذکر ہے اس لیے اس حوالہ سے کچھ گزارشات پیش کروں گا کہ جب معاشرہ میں کچھ لوگ کسی اجتماعی آزمائش کا شکار ہو کر بے سہارا ہو جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ اکتوبر ۲۰۲۲ء

ٹرانسجینڈر ایکٹ ۲۰۱۸ء سے آگاہی

مرکزی جمعیت اہلحدیث گوجرانوالہ کا شکرگزار ہوں کہ ایک اہم مسئلہ پر تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام کا یہ مشترکہ اجتماع منعقد کیا جس میں سرکردہ علماء کرام کے ساتھ طلبہ بھی شریک ہیں جو ہماری مستقبل کی قیادت ہے اور مجھے اس پر خوشی ہوئی ہے کہ ہمارے طلبہ کو بھی مسائل کا ادراک ہونا چاہیے تاکہ وہ مستقبل میں امت کی قیادت کا فریضہ صحیح طریقہ سے انجام دے سکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ اکتوبر ۲۰۲۲ء

دینی و قومی جدوجہد ۔ چند اہم مسائل

یہ مجلسِ احرار اسلام کی سالانہ کانفرنس ہے اور بہت اہم مقام پر ہے۔ کوئی تقریر کرنے کی بجائے اس وقت ہمیں قومی سطح پر دینی جدوجہد کے حوالے سے جو چیلنجز درپیش ہیں اور اس مورچے اور اس جیسے دیگر مورچوں کے حوالے سے جن مسائل کا ہمیں سامنا ہے، ان کی ایک فہرست عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہم کہاں کہاں پھنسے ہوئے ہیں، کیا کیا مسائل درپیش ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ اکتوبر ۲۰۲۲ء

اسوۂ نبویؐ اور رفاہی ریاست

پہلے یہ دیکھیں کہ ریاست اور رفاہی ریاست میں کیا فرق ہوتا ہے؟ کسی بھی ملک کی حکومت اور ریاست کے تین چار بنیادی کام سمجھے جاتے ہیں: (۱) سرحدوں کی حفاظت (۲) ملک میں امن قائم کرنا (۳) ظلم زیادتی ہو تو انصاف فراہم کرنا (۴) لوگوں کو ایک دوسرے پر ظلم کرنے سے روکنا (۵) اور لوگوں کو زندگی کی سہولتیں زیادہ سے زیادہ فراہم کرنا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ ستمبر ۲۰۲۲ء

ٹرانس جینڈر ایکٹ ۲۰۱۸ء ۔ پاکستان شریعت کونسل کا تجزیہ و تجاویز

ٹرانس جینڈر (تحفظ حقوق) ایکٹ ۲۰۱۸ء مئی ۲۰۱۸ء میں منظور کیا گیا۔ پارلیمنٹ نے اس قانون کو منظور کرنے کا ادعا یہ لکھا ہے کہ ٹرانس جینڈر لوگوں کو دیگر شہریوں کے مساوی حقوق حاصل ہوں اور ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ اس قانون کےمطابق ٹرانس جینڈرز کو قانونی طور پر منظور اور تسلیم کر لیا گیا ہے اور ان کو وہی حقوق حاصل ہونگے جو دوسرے مرد و خواتین کو حاصل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ ستمبر ۲۰۲۲ء

مولانا قاری عبد الحلیمؒ اور مولانا ظفر احمد قاسمؒ

ماضی کو یاد رکھنا اور بزرگوں کو یاد کرنا یہ تو قرآن کریم کا حکم بھی ہے اور اسلوب بھی۔ قرآن کریم نے حکم دیا ’’ذکرھم بایام اللہ‘‘ کہ گزرے ہوئے دنوں کو یاد کر کے لوگوں کو نصیحت کریں۔ یعنی پچھلے دنوں میں اچھے لوگوں نے کیا کیا تھا، برے لوگوں نے کیا کیا تھا، اچھے کاموں کا انجام کیا ہوا تھا، برے کاموں کا نتیجہ کیا ہوا تھا۔ پچھلے زمانوں اور لوگوں کو یاد کریں اور اس کے ساتھ نصیحت کریں، سبق حاصل کریں۔ مکمل تحریر

۲۳ ستمبر ۲۰۲۲ء

سیلاب زدگان کی امداد اور بحالی

مدینہ منورہ میں ایک علاقہ اشعریوں کا محلہ کہلاتا تھا۔ حضرت ابو موسی اشعریؓ اور ان کے ساتھ چند خاندان غزوہ خیبر کے موقع پر یمن سے ہجرت کر کے آئے تھے اور آکر مدینہ منورہ میں آباد ہوگئے تھے، وہاں انہوں نے الگ جگہ لے کر اپنا محلہ بسایا تھا جو اشعریوں کا محلہ کہلاتا تھا۔ یمن سے آنے والے اس مہاجر قبیلے کی جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین حوالوں سے تعریف کی ہے، ایک دفعہ ان کو ڈانٹا تھا اور دو حوالوں سے ان کی تعریف کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ ستمبر ۲۰۲۲ء

سودی نظام کے خلاف جدوجہد اور تنظیمِ اسلامی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے سود کو ہر شریعت میں حرام ٹھہرایا تھا اور قرآنِ مجید میں بنی اسرائیل پر لعنت کے جو اسباب ذکر ہوئے ہیں ان میں یہ بھی ذکر ہے ’’واخذھم الربٰوا وقد نھوا عنہ‘‘۔ ان کے ملعون ہونے کے اسباب میں ایک یہ بھی تھا کہ ان کو سود سے منع کیا گیا تھا لیکن وہ سود کا کاروبار کرتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ ستمبر ۲۰۲۲ء

دعوتِ دین کے تقاضے اور داعی کی صفات

میسج ٹی وی کا شکرگزار ہوں کہ ایک اہم موضوع پر، جو وقت کی ضرورت ہے، گفتگو کرنے کا موقع فراہم کیا۔ داعی کی صفات کیا ہونی چاہئیں اور دعوت کے تقاضے کیا ہیں؟ اس پر بات کرنے سے پہلے بطور تمہید عرض کرنا چاہوں گا کہ ایک طرف دعوت ہے اور ایک طرف دفاع ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ ستمبر ۲۰۲۲ء

دفاعِ پاکستان اور تحفظِ ختمِ نبوت

۶ ستمبر یومِ دفاعِ پاکستان اور ۷ ستمبر یومِ تحفظِ ختمِ نبوت ہے، ان دونوں کے ساتھ ہماری تاریخ وابستہ ہے اور دینی و ملی روایات وابستہ ہیں، اس موقع پر تقریبات ہوتی ہیں، وطن کے شہداء اور ختم نبوت کے شہداء کو یاد کیا جاتا ہے، جن کی قربانیوں کی بدولت ہمارا ملک بھی محفوظ ہے اور عقیدہ بھی بحمد اللہ محفوظ ہے۔ ۶ ستمبر ۱۹۶۵ء کو بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو اس کا ہدف لاہور پر قبضہ کرنا تھا۔ پاک فوج کے جوانوں نے بڑی قربانیوں کے ساتھ ملک کا دفاع کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ ستمبر ۲۰۲۲ء

شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ کے فتوٰی کا تسلسل

جب ہم اپنی علمی و دینی تحریکوں کا ذکر کرتے ہیں تو ان میں دو بڑے نام آتے ہیں، پہلا نام حضرت مجدد الف ثانیؒ کا، اور دوسرا نام حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا ہے۔ ان دونوں کی جدوجہد دراصل شاہ صاحبؒ کے فتوے کا تاریخی پس منظر ہے۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ کی تحریک کیا تھی؟ حضرت مجدد الف ثانیؒ سے پہلے برصغیر میں اکبر بادشاہ نے اس دور کے سیکولرازم کا نفاذ چاہا تھا کہ کسی مذہب کی کوئی اجارہ داری نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ اگست ۲۰۲۲ء

قومی و دینی خودمختاری کی جدوجہد اور علماء کرام

میں تاریخ اور سیاست کے طالب علم کے طور پر خود کو اس زمانہ میں محسوس کر رہا ہوں جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے بنگال، میسور اور دیگر علاقوں پر قبضہ کے بعد دہلی کی طرف پیش قدمی شروع کی تو مغل بادشاہت کا منصب شاہ عالم ثانی کے پاس تھا۔ اور مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے شاہ عالم ثانی نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ یہ معاہدہ کر لیا تھا کہ بادشاہت کا ٹائٹل تو اسی کے پاس رہے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جولائی ۲۰۲۲ء

مسجد کے اعمال کو زندہ کرنے کی ضرورت

بعد الحمد والصلوٰۃ! میں سب سے پہلے اس مسجد کی تعمیر پر آپ حضرات کو مبارکباد دینا چاہوں گا، اس کے سنگ بنیاد کی تقریب میں بھی حاضری ہوئی تھی اور آج تین منزلہ شاندار عمارت دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی ہے، اللہ تعالیٰ بنانے والوں، تعاون کرنے والوں اور اہلِ علاقہ سب کے لیے اس کارِ خیر کو دنیا و آخرت کی کامیابیوں کا ذریعہ بنائیں، آمین یا رب العالمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ جون ۲۰۲۲ء

مغربی یلغار اور اسلامی تحریکیں

پاکستان میں شریعتِ اسلامیہ کی بالادستی کی جنگ اسلام آباد میں نہیں بلکہ واشنگٹن، نیویارک، جنیوا اور لندن میں لڑی جا رہی ہے اور مغربی لابیاں اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور جنیوا کنونشن کی قراردادوں کی آڑ میں ’’انسانی حقوق‘‘ کے ہتھیاروں کے ساتھ اسلامی نظامِ حیات پر حملہ آور ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۱۹۹۴ء

علومِ دینیہ کی ترویج میں خواتین کا کردار

بعد الحمد والصلوٰۃ! یہ مدرسہ ہمارے محترم دوست اور بزرگ ساتھی حضرت مولانا حافظ مہر محمد صاحبؒ کی یادگار اور ان کا صدقہ جاریہ ہے۔ ہم جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں کئی برس اکٹھے پڑھتے رہے ہیں، وہ مجھ سے سینئر تھے اور دو تین سال پہلے فارغ ہوئے تھے، البتہ ترجمہ قرآن کریم کی کلاس میں شریک رہے ہیں۔ فاضل اور محقق عالم تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ مئی ۲۰۲۲ء

سودی نظام اور ہمارا افسوسناک رویہ

آج کی گفتگو اس حوالے سے ہو گی کہ قرآن کریم نے بہت سے کاموں سے منع کیا ہے مگر ان میں سے بعض امور پر سخت لہجہ اختیار کیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے کاموں سے بہرحال بچنا ضروری ہے، ان میں سے ایک کام سود کا لین دین بھی ہے اور اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ ’’ان کنتم مومنین‘‘ اگر تم مسلمان ہو تو سود کا لین دین ترک کر دو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ اپریل ۲۰۲۲ء

کھیلوں کے مقابلے اور سنت نبویؐ

بعد الحمد والصلوٰة۔ آج الشریعہ اکادمی میں کرکٹ میچ ہوا ہے جس میں اکیڈمی ہی کی دو ٹیموں نے حصہ لیا اور اس میں کنگنی والا کی ٹیم نے کوروٹانہ ٹیم پر برتری حاصل کی۔ اس پر کامیاب ٹیم کو مبارک باد دیتے ہوئے کھیلوں کے مقابلوں کے بارے میں کچھ باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ عام طور پر کھیلوں سے تین قسم کے فوائد مقصود ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ مارچ ۲۰۲۲ء

دینی مدارس کے نظام کا تاریخی پسِ منظر اور معاشرتی کردار

ہجری اعتبار سے یہ رجب المرجب کا مہینہ ہے، اس مہینے کے فضائل اور خصوصیات اپنے مقام پر، لیکن ہمارے ہاں دو باتوں کا اس میں زیادہ تذکرہ ہوتا ہے۔ ایک جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفرِ معراج کے حوالے سے اور دوسرا یہ کہ دینی مدارس کے تعلیمی سال کا یہ آخری مہینہ ہوتا ہے۔ اس میں مدارس کی تقریبات ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ فروری ۲۰۲۲ء

فکری شبہات کی دلدل اور اربابِ علم و دانش کی ذمہ داری

جامعہ خیر المدارس میں حاضری سے نسبتوں کی تازگی اور خیر بلکہ اخیار کے ماحول میں کچھ وقت گزارنے کا وقتاً فوقتاً موقع مل جاتا ہے جس پر مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کا شکرگزار ہوں۔ میں یہاں مخدوم العلماء حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ کے دور سے حاضر ہوتا آ رہا ہوں اور میں نے ان کی زیارت پہلی بار یہیں کی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ فروری ۲۰۲۲ء

مسلم سوسائٹی میں مسجد اور امام و خطیب کا کردار

اسلامی یونیورسٹی بہاولپور کے اس پروگرام میں شرکت میرے لیے اعزاز کی بات ہے اور اس سے اس عظیم ادارہ کے ساتھ پرانی نسبتیں بھی تازہ ہو رہی ہیں۔ اس کا پہلا دور جامعہ عباسیہ کے عنوان سے ہماری تاریخ کا حصہ ہے جس کی علمی و دینی خدمات ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ جنوری ۲۰۲۲ء

بخاری شریف اور عصرِ حاضر

آپ حضرات نے بخاری شریف کے آخری باب اور روایت کی قراءت کی ہے جو ہم نے سنی ہے اور اس سے آپ کا سبق مکمل ہو گیا ہے۔ مگر آپ کے پڑھے ہوئے اسباق میں سے دو تین باتوں کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں۔ ایک یہ کہ بخاری شریف کا نام ایک بار پھر ذہن میں تازہ کر لیں کہ اس کتاب کا اصل نام بخاری شریف نہیں ہے، یہ عرفی نام ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ جنوری ۲۰۲۲ء

امارتِ اسلامی افغانستان کو تسلیم نہ کرنے کی اصل وجہ

افغانستان کی صورتحال یہ ہے کہ امریکہ اور نیٹو کی افواج کو اپنی ناکامی کے اعتراف کے ساتھ وہاں سے واپسی کو کچھ عرصہ گزر چکا ہے، امارتِ اسلامی افغانستان نے اپنی حکومت قائم کر لی ہے جسے پورے افغانستان میں کنٹرول حاصل ہے ،امن و امان کی صورتحال پہلے سے کہیں بہتر ہے، اور نئے حکمران بار بار کہہ رہے ہیں کہ انہیں موقع دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ جنوری ۲۰۲۲ء

حلال و حرام کے دائرے اور حکمِ خداوندی

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں عقیدہ اور عبادت کے بعد جس موضوع پر سب سے زیادہ توجہ دلائی ہے وہ حلال و حرام اور جائز و ناجائز کے مسائل ہیں۔ حلال و حرام کھا نے پینے اور لباس کے معاملات میں بھی ہے، باہمی تعلقات و حقوق کے حوالہ سے بھی ہے، اور کلام و گفتگو کے دائرہ میں بھی ہے۔ آج اس کے بارے میں کچھ معروضات پیش کرنا چاہوں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ دسمبر ۲۰۲۱ء

نبی آخر الزمانؐ اور اہلِ کتاب

ارشادِ باری تعالیٰ ہے ’’الذین اٰتیناھم الکتاب یعرفونہ کما یعرفون ابنائھم‘‘ جن کو ہم نے کتاب دی ہے وہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح پہچانتے ہیں جیسے وہ اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں۔ یعنی انہیں رسول اللہؐ کو پہچاننے میں کوئی دیر نہیں لگی مگر انکار کر دیا جس کی وجہ قرآن کریم نے یہ بیان کی ہے کہ ’’حسدًا من عند انفسھم‘‘ انہوں نے حسد کی وجہ سے ایمان لانے سے انکار کر دیا۔ حالانکہ وہ نہ صرف نبی آخر الزمانؐ کا انتظار کر رہے تھے بلکہ ’’کانوا یستفتحون علی الذین کفروا من قبل‘‘ اپنے مخالفوں کے خلاف نبی اکرمؐ کی برکت سے فتح کی دعائیں کیا کرتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ نومبر ۲۰۲۱ء

دستور کی عملداری اور وفاداری ۔ تین سوالات

حضراتِ علماء کرام اور قابل صد احترام شرکاء محفل! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کا شکریہ ادا کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ عقیدۂ ختم نبوت، تحفظ ناموس رسالتؐ اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت اور عقیدت کے اظہار کے اس محاذ پر عالمی مجلس کی کوششوں سے سرگرمیاں مسلسل جاری رہتی ہیں، اللہ تعالیٰ ترقیات اور برکات نصیب فرمائے۔ دو تین باتیں آپ سے عرض کرنا چاہوں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ اکتوبر ۲۰۲۱ء

سیرۃ النبیؐ اور علاج و پرہیز

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ میں محترم بھائی ڈاکٹر فضل الرحمن (ایم ایس) کا، ان کے رفقاء کا، اور یہاں کی انتظامیہ کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہء حسنہ کے حوالے سے محفل کا انعقاد کیا اور مجھے بھی موقع بخشا کہ میں آپ حضرات کے ساتھ اس مبارک محفل میں بیٹھوں اور اس کی برکات حاصل کروں - - - مکمل تحریر

۱۰ اکتوبر ۲۰۲۱ء

تحفظ ناموس رسالت ۔ جدوجہد کی موجودہ صورتحال

کالعدم تحریک لبیک کی طرف سے سڑکوں پر دھرنا اور احتجاج کئی دنوں سے جاری ہے اور کئی دنوں تک چلے گا، اس سلسلہ میں صورتحال اور اپنا موقف عرض کرنا چاہتا ہوں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا اقوام متحدہ، یورپی یونین اور تمام بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ چلا آ رہا ہے کہ جس طرح کسی بھی ملک میں عام شہری کی توہین جرم سمجھی جاتی ہے، حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین کو بھی بین الاقوامی سطح پر جرم تسلیم کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ اکتوبر ۲۰۲۱ء

مسلم ریاست میں تعلیمی اداروں کی ذمہ داری

پہلی بات تو میں عمومی موضوع کے حوالے سے کہنا چاہوں گا کہ پاکستان اور ریاست مدینہ جسے موجودہ حکومت کا تصور بیان کیا جاتا ہے، جبکہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ بھی یہی بات کرتے رہے ہیں، اور مفکر پاکستان علامہ اقبالؒ بھی یہی بات کرتے رہے ہیں، اس لیے پہلی گزارش یہ کروں گا کہ تحریک پاکستان اور پاکستان کی ریاست کے جو فکری رہنما ہیں، میں سر سید احمد خان سے شروع کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ ستمبر ۲۰۲۱ء

تہذیبی یلغار اور حضرت جعفر بن ابی طالبؓ

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ابھی ہمارے شہر کے معروف قاری جناب قاری حماد انور نفیسی نے قرآن کریم کی بہت خوبصورت لہجہ میں تلاوت کی ہے اور ان سے پہلے مولانا ندیم احمد نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی تلاوت کا ذکر کیا ہے جو انہوں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمائش پر کی تھی جبکہ ایک تلاوت قرآن کریم کا میں تذکرہ کرنا چاہتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ اکتوبر ۲۰۲۱ء

سیدنا حضرت ابوہریرہؓ کے حافظہ کا امتحان

بعد الحمد والصلوٰۃ! حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو احادیث مبارکہ کو یاد کرنے کا خصوصی ذوق تھا، جہاں بیٹھتے حدیثیں بیان کرتے تھے۔ جب انہوں نے بہت زیادہ حدیثیں بیان کرنا شروع کر دیں تو آخر عمر میں کچھ لوگوں کو یہ خدشہ پیدا ہوا کہ وہ بوڑھے ہو گئے ہیں، پتہ نہیں ان کا حافظہ ٹھیک کام کرتا ہے یا نہیں؟ جان بوجھ کر غلط بیان کرنا اور بات ہے لیکن اگر کسی کا حافظہ کمزور ہو تو ممکن ہے کہ بات ادھر کی ادھر بیان کر دے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ اکتوبر ۲۰۲۱ء

مسلم حکومتیں اور اسلامی نظام

آج میں آپ حضرات کو موجودہ معروضی حالات میں اسلام کے قانون و نظام کو کسی بھی سطح پر تسلیم کرنے والی مسلم حکومتوں کی صورتحال سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں جن کے دستور و قانون میں اسلام کا نام شامل ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اسلامی حکومتیں اور ریاستیں ہیں۔ سعودی عرب، پاکستان اور ایران تو سب کے سامنے ہیں البتہ مراکش میں بھی سربراہ مملکت کو امیر المؤمنین کہا جاتا ہے جس کا پس منظر اس وقت میرے سامنے نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ ستمبر ۲۰۲۱ء

چھ اور سات ستمبر کی ختم نبوت کانفرنسوں کی اہمیت و ضرورت

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام چھ ستمبر کو لیاقت باغ راولپنڈی اور سات ستمبر کو مینارِ پاکستان لاہور کے وسیع میدان میں جو تاریخی ختم نبوت کانفرنسیں منعقد ہو رہی ہیں ان کی تیاریوں کے سلسلہ میں یہ اجتماعات ہو رہے ہیں اور ان میں شرکت کو باعث سعادت سمجھتے ہوئے چند گزارشات پیش کر رہا ہوں۔ پہلی بات یہ کہ عقیدۂ ختم نبوت، ناموسِ رسالتؐ، خاندانی نظام کے تحفظ اور مسجد و مدرسہ کی آزادی کے لیے جدوجہد کے جو مراحل اس وقت درپیش ہیں ان میں یہ بات سب دوستوں کے پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ ۔ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ اگست ۲۰۲۱ء

افغانستان کی موجودہ صورتحال اور ہماری ذمہ داری

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج کل افغانستان کی صورتحال دینی اور سیاسی حلقوں میں، تقریباً ہر جگہ زیر بحث ہے اس مناسبت سے دو تین گزارشات میں عرض کرنا چاہوں گا۔ (۱) پہلی بات یہ کہ افغان قوم کی عظمت اور حریت پسندی کو سلام ہو کہ اس نے بیرونی دخل اندازی اور غیر ملکی تسلط کو ہمیشہ کی طرح اب بھی مسترد کر دیا ہے۔ افغانستان پر برطانیہ نے قبضہ کی کوشش کی تھی جب انہوں نے متحدہ ہندوستان پر قبضہ کیا تھا تو برطانیہ کو ناکامی ہوئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ اگست ۲۰۲۱ء

گھریلو تشدد کی روک تھام کے قانون پر ہمارے تحفظات

ہماری آج کی گفتگو کا موضوع ایک نیا قانون ہے جو صوبوں میں نافذ ہو گیا ہے اور مرکز میں نافذ ہونے جا رہا ہے، جس کو ”گھریلو تشدد کی روک تھام کا قانون“ کہتے ہیں۔ اس پر ملک بھر کے دینی حلقوں نے اعتراض کیا ہے کہ یہ شرعی احکام کے خلاف ہے ، ہماری تہذیبی روایات کے خلاف ہے، دستور کے خلاف ہے اور مسلمہ انسانی حقوق کے خلاف ہے۔ اس پر بحث چل رہی ہے اور مختلف مکاتب فکر کے دینی حلقے اپنے اپنے ذوق کے مطابق بات کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ اگست ۲۰۲۱ء

دینی جدوجہد کے ناگزیر تقاضے اور ہمارا اصل محاذ

بعد الحمد والصلوٰة۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کا شکر گزار ہوں کہ مختلف دینی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سرکردہ حضرات کے اس اجتماع میں شرکت اور کچھ عرض کرنے کا موقع فراہم کیا۔ یہ اجتماع سات ستمبر کو مینار پاکستان لاہور کے وسیع میدان میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ختم نبوت کانفرنس کی تیاریوں کے سلسلہ میں منعقد ہوا ہے اور اس میں کانفرنس کو بھرپور کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے مختلف پروگرام تشکیل دیے جائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ جولائی ۲۰۲۱ء

حدیث و سنت کی قانونی حیثیت

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج کل سوشل میڈیا پر سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان کا ایک انٹرویو گردش کر رہا ہے جس میں انہوں نے قرآن مجید اور سنت و حدیث کی قانونی حیثیت پر گفتگو کی ہے۔ طویل انٹرویو ہے، انہوں نے کیا کہا ہے اور کیا کہنا چاہتے ہیں وہ ایک طرف، مگر اس سے جو کچھ سمجھا گیا ہے اور جو سمجھا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ ایک اسلامی ریاست میں قانون کی بنیاد قرآن کریم ہے، حدیث و سنت کی کچھ چیزیں ہیں، لیکن عموماً حدیث و سنت قانون کی بنیاد نہیں ہے۔ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ جون ۲۰۲۱ء

مسلم حکمرانوں کی ایک اہم ذمہ داری

قرآن کریم کو زیر زبر پیش اور دیگر علامات کے بغیر عرب لوگ تو صحیح پڑھ لیتے ہیں مگر غیر عربوں کے لیے یہ ممکن نہیں ہے، جبکہ تلفظ اور اعراب کی غلطی کی وجہ سے بسا اوقات قرآن کریم کے الفاظ کا معنی الٹ ہو جاتا ہے اور ایسا پڑھنے والے کی بے خبری میں ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جون ۲۰۲۱ء

دینی جدوجہد کے چند ضروری دائرے

بعد الحمد والصلوٰة ۔ مجھے یہ معلوم کر کے بہت خوشی ہوئی ہے کہ سرگودھا کے مختلف حلقوں کے دوست اور علماء کرام آج ایک جگہ جمع ہیں، یہ بڑی اچھی بات ہے، علماء کرام اور ہم خیال دوستوں کو وقتاً فوقتاً کسی نہ کسی عنوان پر اور کسی نہ کسی بہانے اکٹھے بیٹھتے رہنا چاہئے، اس سے ایک تو لوگوں کو سہارا ہوتا ہے کہ علماء میں وحدت ہے، جبکہ آپس میں تبادلۂ خیالات، ایک دوسرے کے حالات سے واقفیت اور ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ بھی ہو جاتا ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کا یہ اجتماع قبول فرمائیں، آمین یا رب العالمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ مئی ۲۰۲۱ء

تحریک لبیک پاکستان کا مطالبہ اور سرکاری رویہ

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں پر پرسوں لاہور میں ہونے والے تشدد پر ملک بھر میں جو اجتماعی ردعمل کا اظہار ہوا ہے وہ اطمینان بخش ہے، اور اس بات کی علامت ہے کہ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا مسئلہ اور دینی شعائر کا تحفظ ملک بھر کے تمام مکاتب فکر اور تمام طبقات کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ سب نے اس درد کو محسوس کیا ہے اور سب نے اس پر اپنے جذبات، ردعمل اور یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے حوالے سے، ختم نبوت کے حوالے سے بات ہو یا ناموس رسالت کے حوالے سے بات ہو، ہمیشہ امت نے اور پاکستانی قوم نے یکجہتی کا اظہار کیا ہے، اس یکجہتی کا ایک بار پھر ر مکمل تحریر

۲۰ اپریل ۲۰۲۱ء

ریاستِ مدینہ کیسے وجود میں آئی؟

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب سوسائٹی میں جو تبدیلیاں کی تھیں ان میں سب سے پہلی اصلاح یہ ہے کہ عربوں کو ریاست کا تصور دیا ۔ نبی کریمؐ کے یثرب پہنچتے ہی پہلے سال کے اندر ریاست بن گئی، حضورؐ کو اس کا سربراہ تسلیم کیا گیا اور ’’میثاقِ مدینہ‘‘ کے نام سے ایک دستور طے ہو گیا۔ میثاق مدینہ میں جناب نبی کریمؐ، مہاجرین، انصار کے دونوں قبیلے بنو اوس اور بنو خزرج، یہود کے تینوں قبیلے بنو قینقاع، بنو قریظہ اور بنو نضیر کے علاوہ اردگرد کے دیگر قبائل بھی شامل تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۸ء

تحفظِ ناموسِ رسالتؐ کے سلسلہ میں علماء اور وکلاء کی مشترکہ ذمہ داری

اسلام آباد کے بہت سے سرکردہ وکلاء محترم حافظ ملک مظہر جاوید ایڈووکیٹ کی سربراہی میں تحفظ ختم نبوت اور ناموسِ رسالت کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل ہیں جو لائقِ تحسین ہے۔ گذشتہ دنوں ان کی محنت و کاوش سے خصوصی عدالت برائے انسدادِ دہشت گردی کے جج راجہ جواد عباسی نے سوشل میڈیا پر توہینِ رسالت کا ارتکاب کرنے والے تین مجرموں کو سزائے موت، جبکہ ایک مجرم کو دس سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ محترم وکلاء کا یہ گروپ ’’انٹرنیشنل لائیرز فورم اسلام آباد‘‘ کے عنوان سے سرگرم عمل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ فروری ۲۰۲۱ء

اختلاف رائے اور اسوۂ صدیق اکبرؓ

رائے کا اختلاف فطری بات ہے، جہاں علم ہو گا اور عقل ہو گی وہاں اختلاف بھی ہو گا۔ اختلاف کا ہونا کوئی غلط بات نہیں بلکہ اختلاف کا نہ ہونا فطرت کے منافی ہے۔ ہماری امت کے دو سب سے بڑے بزرگوں حضرت صدیق اکبرؓ اور حضرت فاروق اعظمؓ کے درمیان بھی اختلاف ہوتا رہا ہے جو ہمارے لیے اسوہ اور نمونہ ہے کہ اختلاف کی صورت میں کیا کرنا چاہیے۔ ہمارے ان دو بڑے بزرگوں کے درمیان متعدد امور میں اختلافات کا ذکر روایات میں ملتا ہے جن میں سے صرف تین واقعات کا ذکر کرنا چاہوں گا جو خلافت صدیق اکبرؓ کے مختصر دور میں پیش آئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ فروری ۲۰۲۱ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter