قومی معیشت کی بحالی کا واحد راستہ : اسلامی تعلیمات
عام انتخابات کے بعد قومی اور صوبائی سطح پر نئی حکومتوں نے کام شروع کر دیا ہے اور اخباری اطلاعات کے مطابق عسکری و سیاسی قیادت نے قومی معیشت کی بحالی کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار کیا ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات ازسرنو طے پا جانے کی خبریں بھی آ چکی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خواتین کی وراثت کیلئے قانون سازی کا تاریخی پس منظر
ایک اخباری خبر کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے حلف اٹھاتے ہی صوبہ میں خواتین کو وراثت کا شرعی حق دلوانے کے لیے قوانین میں ترامیم کے لیے متعلقہ حکام سے بات کی ہے۔ خواتین کو وراثت میں ان کا حصہ دلانے اور دیگر معاشرتی حقوق سے بہرہ ور کرنے کا معاملہ قانونی اور معاشرتی دائروں میں عرصہ دراز سے زیربحث ہے۔ بالخصوص صوبہ خیبر پختونخوا میں تو اس پر قانون سازی کی تاریخ کم و بیش ایک صدی کا احاطہ کیے ہوئے ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عورتوں کی وراثت پر ایک صدی قبل کی قانون سازی
گزشتہ کالم میں نوے برس قبل صوبہ سرحد اسمبلی میں قانون سازی کا ذکر کیا تھا۔ جمعیت علماء ہند کے صدر حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ تعالیٰ نے ’’کفایت المفتی‘‘ میں اس کا تفصیل کے ساتھ تذکرہ فرمایا ہے جس کا آج کے علمی و قانونی ماحول میں دوبارہ سامنے آنے کو بوجوہ ضروری سمجھتے ہوئے اس کالم میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’نوائے راشدی‘‘
مختلف دینی اور قومی مسائل پر اخبارات و جرائد اور مجالس و محافل کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی اظہارِ خیال کا موقع ملتا رہتا ہے جو بحمد اللہ تعالیٰ سنجیدہ احباب اور اصحابِ فکر و دانش سے دعاؤں کے حصول کا ذریعہ بنتا ہے اور میرے لیے اطمینان کا باعث ہوتا ہے۔ عزیزم ناصر الدین خان عامر نے ایسی بہت سی گزارشات کو محفوظ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جن میں سے ایک انتخاب زیر نظر مجموعہ میں آڈیو لنک کے ساتھ تحریری صورت میں بھی پیش کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’مسئلہ رؤیتِ ہلال‘‘
ہماری عبادات کے نظام کا ایک بڑا حصہ چاند کی گردش کے ساتھ متعلق ہے اور چاند کا مہینہ چاند کی رؤیت پر طے پاتا ہے۔ اگر انتیس دن کے بعد چاند نظر آجائے تو اگلا مہینہ شروع ہو جاتا ہے ورنہ گزشتہ ماہ کے تیس دن پورے کیے جاتے ہیں۔ پہلی رات کا چاند اس قدر باریک ہوتا ہے کہ اسے دیکھنے کا باقاعدہ اہتمام کیا جاتا ہے اور اس کے ثبوت کے لیے فقہاء اسلام نے ضابطے طے کیے ہیں جن میں فقہی اختلاف فطری امر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’خلافتِ اسلامیہ اور پاکستان میں نفاذِ شریعت کی جدوجہد‘‘
امتِ مسلمہ کی خودمختاری اور آزادانہ حیثیت کے ساتھ وحدت و ہم آہنگی اور مسلم معاشروں میں قرآن و سنت کے احکام کی عملداری اس وقت ملتِ اسلامیہ کی سب سے بڑی ضرورت ہے، جس کے لیے عالمِ اسلام کے مختلف حلقوں میں بیسیوں بلکہ سینکڑوں گروہ اپنے اپنے انداز میں جدوجہد کر رہے ہیں، اور ان کے اہداف میں خلافت کی بحالی کے علاوہ معاشی استحکام و آزادی، نفاذِ شریعت اور مسلم تہذیب و ثقافت کا تحفظ شامل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’اسوۂ رہبر عالم ﷺ‘‘
گزشتہ نصف صدی کے دوران بحمد اللہ تعالیٰ سینکڑوں اجتماعات میں جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ اور اسوۂ حسنہ کے مختلف پہلوؤں پر اظہارِ خیال کی سعادت حاصل ہوئی ہے جن میں سے کچھ صفحۂ قرطاس پر منتقل ہو کر اخبارات و جرائد میں شائع ہوئے ہیں۔ عزیزم حافظ ناصر الدین خان عامر نے ان میں سے چند مطبوعہ مضامین کو زیر نظر کتاب کی صورت میں مرتب کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’قرآن کریم اور رمضان کریم‘‘
رمضان المبارک قرآن کریم کا مہینہ ہے، اس میں اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب کا نزول ہوا ہے اور اسی میں وہ سب سے زیادہ پڑھی جاتی ہے۔ دنیا بھر میں تراویح، تہجد اور نوافل کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کی اپنے طور پر تلاوت بھی اس ماہِ مبارک میں کثرت سے ہوتی ہے جو قرآن کریم اور رمضان المبارک کے ساتھ مسلمانوں کی عقیدت و محبت اور قلبی لگاؤ کا زندہ اظہار ہے۔ قرآن کریم نسلِ انسانی کی قیامت تک راہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ کا جامع اور آخری پیغام ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’تبلیغی جماعت‘‘
دورِ حاضر میں سادہ اور عام فہم انداز میں مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات سے آگاہ کرنے اور دینی ماحول میں واپس لانے کی کوشش اور اس کے لیے دعوت و تربیت کا سب سے بڑا دائرہ تبلیغی جماعت کا ہے جو بلاشبہ حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی قدس اللہ سرہ العزیز کی مخلصانہ مساعی اور جہدِ مسلسل کا ثمرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس عمل و محنت نے پوری دنیا میں وسعت و پذیرائی حاصل کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’معیشت کے چند اہم پہلو، اسلامی نقطۂ نظر سے‘‘
معیشت انسانی معاشرہ کا ایک اہم شعبہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ’’جعل اللہ لکم قیاماً‘‘ بتایا ہے کہ اموال و دولت کو خالقِ کائنات نے انسانوں کے لیے زندگی گزارنے کا اہم ذریعہ قرار دیا ہے اور اس کے مختلف پہلوؤں اور تقاضوں پر کلام پاک میں تفصیلی بات کی گئی ہے۔ جبکہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام خصوصاً نبئ آخر الزماں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اصول و ضوابط اور احکام و قوانین ہر پہلو سے واضح کیے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’بھٹو خاندان اور قومی سیاست‘‘
سر شاہنواز بھٹو مرحوم کا خاندان سندھ کی سیاست میں ایک متحرک خاندان کے طور پر متعارف چلا آرہا ہے، ان کا دور تو میں نے نہیں دیکھا البتہ ان کے فرزند ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے خاندان کے سیاسی کردار سے ملک کے دیگر شہریوں کی طرح میرا واسطہ بھی چلا آ رہا ہے، مجھے جب سیاست و صحافت کے کوچہ سے آشنائی ہوئی تو وہ صدر محمد ایوب خان مرحوم کی حکومت میں وزیرخارجہ تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’سنی شیعہ کشمکش‘‘
سُنی شیعہ اختلافات اور مختلف دائروں میں باہمی کشمکش کی تاریخ صدیوں کو محیط ہے اور برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش بھی ایک ہزار سال سے زائد عرصہ سے اس کی آماجگاہ چلے آ رہے ہیں۔ یہ اختلافات عقیدہ و فکر میں بھی ہیں، سیاست و معاشرت میں بھی ہیں، اور اسلام کی تعبیر و تشریح کے بنیادی معاملات میں بھی ہیں، اور ان میں کمی کی بجائے دن بدن وسعت اور شدت مسلسل اضافہ پذیر ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’تذکارِ رفتگاں‘‘
بحمد اللہ تعالیٰ مجھے دینی و ملی مسائل پر اخبارات و جرائد میں لکھتے ہوئے نصف صدی سے زیادہ عرصہ بیت چکا ہے اور اس سلسلہ میں کم و بیش ہر شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے اصحابِ علم و دانش نے حوصلہ افزائی فرمائی ہے جو یقیناً میرے لیے ایک قیمتی سرمایہ اور اعزاز کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس دوران دینی و قومی حوالے سے بہت سی سرکردہ شخصیات کے بارے میں لکھنے کا موقع ملا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
امریکہ کی آمش قوم
آمشوں کے بارے میں پڑھ سن تو رکھا تھا کہ امریکہ میں کچھ لوگ ایسے بھی آباد ہیں جو بجلی استعمال نہیں کرتے، خچروں کے ذریعے کھیتی باڑی کرتے ہیں، گھوڑا گاڑیوں کے ذریعے سفر کرتے ہیں، اور باقی دنیا سے الگ تھلگ زندگی گزارتے ہیں، مگر دیکھنے کا اتفاق ۲۱ اکتوبر ۲۰۰۳ء کو ہوا۔ میرا خیال تھا کہ ایسے لوگ اگر ہیں بھی تو کسی جزیرے میں ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’اسلام، جمہوریت اور پاکستان‘‘
۱۹۶۲ء کی بات ہے جب صدر محمد ایوب خان مرحوم نے مارشل لاء ختم کرتے وقت نئے دستور کی تشکیل و ترتیب کے کام کا آغاز کیا تھا اور پاکستان کے نام سے ’’اسلامی‘‘ کا لفظ حذف کر کے اسے صرف ’’جمہوریہ پاکستان‘‘ قرار دینے کی تجویز سامنے آئی تھی، تو دینی و عوامی حلقوں نے اس پر شدید احتجاج کرتے ہوئے حکومت کو یہ تجویز واپس لینے پر مجبور کر دیا تھا۔ میری عمر اس وقت چودہ برس تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’متحدہ مجلس عمل: توقعات، کارکردگی اور انجام‘‘
اسلامی جمہوریہ پاکستان کا قیام اسلام کے نام پر اور اسلامی نظام کے نفاذ کے وعدے پر عمل میں آیا تھا اور جنوبی ایشیا کے مسلمانوں نے، جن میں یو پی، مشرقی پنجاب، آسام، بہار اور مغربی بنگال کے مسلمان بطور خاص قابل ذکر ہیں، ایک نظریاتی اسلامی ریاست کی تشکیل کے جذبہ کے ساتھ اس کے لیے بے پناہ قربانیاں دی تھیں، مگر قیام پاکستان کے بعد سے اس مملکت خداداد میں اسلامی نظام کے نفاذ اور قرآن و سنت کے احکام کی عمل داری کا مسئلہ ابھی تک مسلسل سوالیہ نشان بنا ہوا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’مذہبی جماعتیں اور قومی سیاست‘‘
اسلامی جمہوریہ پاکستان کا قیام اسلام کے نام پر اور اسلامی نظام کے نفاذ کے وعدے پر عمل میں آیا تھا اور جنوبی ایشیا کے مسلمانوں نے ایک نظریاتی اسلامی ریاست کی تشکیل کے جذبہ کے ساتھ اس کے لیے بے پناہ قربانیاں دی تھیں، مگر قیام پاکستان کے بعد سے اس مملکت خداداد میں اسلامی نظام کے نفاذ اور قرآن و سنت کے احکام کی عمل داری کا مسئلہ ابھی تک مسلسل سوالیہ نشان بنا ہوا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’آپ نے پوچھا (سوالنامے، انٹرویوز، مراسلے)‘‘
مختلف دینی و ملی مسائل پر اظہارِ خیال تحریری اور تقریری صورت میں گزشتہ چھ عشروں سے میرا معمول چلا آ رہا ہے جو مضامین، تقاریر، سوال و جواب، انٹرویوز اور اخباری بیانات کے ساتھ ساتھ اب ٹویٹس کی صورت میں بھی ہوتا ہے۔ میرے چھوٹے فرزند حافظ ناصر الدین خان عامر نے ۲۰۱۶ء سے zahidrashdi.org کے عنوان سے ویب سائیٹ قائم کر رکھی ہے جس پر وہ اب تک تینتالیس سو سے زائد تحریریں جمع کر چکا ہے اور مزید کا سلسلہ جاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
"حدود آرڈیننس اور تحفطِ نسواں بل"
قیام پاکستان کے بعد جب اسلام کے نام پر بننے والی اس ریاست کو دستوری طور پر قرارداد مقاصد کے ذریعے سے ایک نظریاتی اسلامی مملکت قرار دے دیا گیا تو اس کا ناگزیر تقاضا تھا کہ ملک کے عدالتی، انتظامی، معاشی اور معاشرتی ڈھانچوں کا ازسرنو جائزہ لے کر ایک اسلامی معاشرے کی تشکیل اور نشوونما کے لیے سماجی محنت کے ساتھ ساتھ ضروری قانون سازی بھی کی جاتی۔ اسی بنیاد پر ۱۹۷۳ء کے دستور میں اسلام کو ملک کا ریاستی دین قرار دیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’دینی مدارس کا نصاب و نظام، نقد و نظر کے آئینے میں‘‘
۱۸۵۷ء میں متحدہ ہندوستان کے باشندوں کی مسلح تحریکِ آزادی کی ناکامی اور دہلی پر باضابطہ برطانوی حکومت قائم ہونے کے بعد جب دفتروں اور عدالتوں سے فارسی زبان کی بساط لپیٹ دی گئی، فارسی اور عربی کے ساتھ فقہ اسلامی اور دیگر متعلقہ علوم کی تعلیم دینے والے مدارس کے معاشرتی کردار پر خط تنسیخ کھینچ دیا گیا، اور ہزاروں مدارس اس نوآبادیاتی فیصلے کی نذر ہو گئے، تو حکیم الامت حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی جماعت کے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’خطبہ حجۃ الوداع: اسلامی تعلیمات کا عالمی منشور‘‘
مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کی سالانہ تعطیلات میں امریکہ جانے کا موقع ملتا ہے تو دارالہدیٰ، سپرنگ فیلڈ، ورجینیا (واشنگٹن) میں حاضری ہوجاتی ہے اور میرا زیادہ تر قیام وہیں رہتا ہے۔ دارالہدیٰ کے سربراہ مولانا عبد الحمید اصغر حضرت مولانا حافظ غلام حبیب نقشبندی رحمہ اللہ تعالیٰ کے خلفاء میں سے ہیں اور باذوق بزرگ ہیں۔ میری حاضری پر حدیثِ نبویؐ کے کسی موضوع پر مسلسل لیکچرز کا پروگرام بنا لیتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’امام اعظم ابو حنیفہؒ: فقہی و سیاسی کردار‘‘
حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کی ان عظیم علمی شخصیات میں سے ہیں جن سے امت نے ہر دور میں استفادہ کیا ہے اور ان کے علوم و فیوض رہتی دنیا تک اہل علم و دانش کی راہنمائی کا ذریعہ بنتے رہیں گے۔ مجھے بھی ایک طالب علم کے طور پر امام صاحبؒ سے استفادہ اور ان کے بارے میں مختلف حوالوں سے گفتگو کا موقع ملتا رہتا ہے جو میرے لیے فیض و برکت کے ساتھ ساتھ اعزاز کی بات بھی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’سیرۃ النبیؐ اور انسانی حقوق‘‘
الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں مختلف موضوعات پر فکری نشستوں کا سلسلہ شروع سے چلتا آ رہا ہے اور متعدد عنوانات پر ان نشستوں میں گفتگو ہو چکی ہے۔ ۲۰۱۸ء کے دوران ان نشستوں کا عنوان ’’سیرت نبویؐ اور انسانی حقوق‘‘ تھا جس کے مختلف پہلوؤں پر گزارشات پیش کی گئیں۔ الشریعہ اکادمی کے لائبریرین مولانا حافظ کامران حیدر نے انہیں صفحۂ قرطاس پر منتقل کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’علامہ محمد اقبالؒ کا تصورِ دین و ملت‘‘
مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ تعالیٰ ہماری ملی تاریخ کی ایک نامور شخصیت ہیں جنہوں نے جنوبی ایشیا میں امت مسلمہ کی علمی، دینی، فکری، تہذیبی اور سیاسی دائروں میں قائدانہ راہنمائی کی اور مسلمانوں میں دینی حمیت اور ملی غیرت بالخصوص جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے ساتھ والہانہ عقیدت و محبت کے جذبہ کو مسلمانوں کے دلوں میں اجاگر کیا۔ ان کے کسی علمی و فکری موقف سے اختلاف کی گنجائش ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’چند معاصر مذاہب کا تعارفی مطالعہ‘‘
ہمارے ہاں ’’تقابلِ ادیان‘‘ کے عنوان سے مختلف اداروں میں کورسز منعقد ہوتے رہتے ہیں جن میں عام طور پر ادیان و مذاہب کے ساتھ ہمارے اعتقادی مباحث علماء کرام اور طلبہ کو پڑھائے جاتے ہیں اور ہر سال ہزاروں حضرات اس سے مستفید ہوتے ہیں۔ مجھے بھی کافی عرصہ سے ان کورسز میں شرکت اور گزارشات پیش کرنے کا موقع مل رہا ہے، جو انتہائی ضروری اور مفید ہیں، مگر اس سلسلہ میں میری گزارش یہ ہوتی ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’جامعہ حفصہ کا سانحہ: حالات و واقعات اور دینی قیادت کا لائحہ عمل‘‘
جامعہ حفصہ اور لال مسجد اسلام آباد کے تنازع کا جب آغاز ہوا تو راقم الحروف نے اس کے مختلف پہلوؤں پر اسی وقت سے اپنے تاثرات و احساسات کو قلم بند کرنا شروع کر دیا تھا جو مختلف کالموں اور مضامین کی صورت میں ماہنامہ الشریعہ، روزنامہ اسلام اور روزنامہ پاکستان میں شائع ہوتے رہے اور ان کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ میری ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ اپنے مضامین اور کالموں میں متعلقہ مسئلہ کی معروضی صورت حال کی وضاحت کے ساتھ ساتھ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’بھارت‘‘
بھارت ہمارا پڑوسی ملک ہے، ہم مدتوں اکٹھے رہ کر پون صدی قبل الگ ہوئے تھے۔ بھارت کے ساتھ ہمارے بہت سے تاریخی، سماجی، جغرافیائی اور مذہبی معاملات چلتے رہتے ہیں جو انسانی سماج کا لازمی حصہ ہوتے ہیں۔ ایسے مسائل پر باہمی محاذ آرائی بھی ہو جاتی ہے اور مکالمات و روابط کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ ایک سیاسی کارکن اور صحافی کے طور پر یہ مسائل ہمیشہ میرا موضوع رہے ہیں، ان پر بہت کچھ بیان کیا ہے اور بہت کچھ لکھا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پاکستان شریعت کونسل کا موقف اور پروگرام
۲۳، ۲۴ جولائی ۲۰۰۳ء کو مدرسہ تعلیم القرآن لنگرکسی مری میں پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلس مشاورت کا دو روزہ سالانہ اجلاس امیر مرکزیہ حضرت مولانا فداء الرحمٰن درخواستی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے سرکردہ علماء کرام نے شرکت کی۔ اجلاس میں پاکستان شریعت کونسل کو ہر سطح پر ازسرنو متحرک کرنے کا فیصلہ ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’خیمہ داؤد‘‘ کے دو اہم فیصلے
خیمہ داؤد (کیمپ ڈیوڈ) کے پروٹوکول اور مذاکرات کے بعد ہمارے صدر محترم کے لہجے میں مزید نکھار آ گیا ہے اور وہ پہلے سے زیادہ واضح اور دو ٹوک لہجے میں کچھ باتیں کہنے لگے ہیں۔ مثلاً انہوں نے وطن واپسی سے قبل امریکا میں بھی یہ بات کھلے لہجے میں کہہ دی ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس بات کا فیصلہ کریں کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
یومِ آزادی اور اس کا پیغام
۱۴ اگست کو پوری قوم نے یوم آزادی منایا۔ چھپن برس قبل ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو برصغیر پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش نے برٹش استعمار کی غلامی سے آزادی حاصل کی تھی اور اسی روز دنیا کے نقشے پر ’’پاکستان‘‘ کے نام سے ایک نئی اسلامی ریاست نمودار ہوئی تھی۔ اس خوشی میں اس دن ہر سال یوم آزادی منایا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’صہیونیت اور اسرائیل کا تاریخی پس منظر‘‘
۱۹۶۷ء کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران میں مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں زیرِ تعلیم تھا اور حضرت مولانا مفتی عبد الواحد نور اللہ مرقدہ کی راہ نمائی میں جمعیۃ علماء اسلام کا ایک متحرک کارکن بھی تھا، اس جنگ کے مناظر اور دینی حلقوں کے اضطراب و بے چینی اب تک ذہن میں نقش ہیں۔ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان نے مصر، شام اور اردن کے حق میں اور بیت المقدس پر اسرائیل کے تسلط کے خلاف ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حدود آرڈیننس اور خواتین کے حقوق
قومی اسمبلی میں ایم ایم اے کی خواتین ارکان اسمبلی نے ویمن کمیشن کی سربراہ جسٹس ماجدہ کی طرف سے حدود آرڈیننس کو ختم کرنے کے مطالبہ پر احتجاج کیا ہے اور کہا ہے کہ شرعی قوانین کی منسوخی کا کوئی قدم برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق ویمن کمیشن نے حکومت سے سفارش کی ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حدود آرڈیننس کے خلاف مظاہرہ ۔ لمحہ فکریہ
گزشتہ روز اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے تیس کے لگ بھگ این جی اوز سے تعلق رکھنے والی خواتین نے حدود آرڈیننس کے خلاف مظاہرہ کیا۔ اخباری رپورٹ کے مطابق مظاہرہ کی قیادت کرنے والیوں میں دیگر سرکردہ خواتین کے علاوہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی محترمہ حنا جیلانی بھی شامل تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جرمن حکومت کی طرف سے صوبہ سرحد میں شیلٹر ہومز کی تعمیر
اخباری اطلاعات کے مطابق صوبہ سرحد کے گورنر سید افتخار حسین شاہ نے صوبائی اسمبلی کے منظور کردہ ’’شریعت ایکٹ‘‘ پر ابھی تک دستخط نہیں کیے۔ حالانکہ یہ ایکٹ صوبہ سرحد کی اسمبلی نے ۷ جون کو متفقہ طور پر منظور کیا تھا اور اس کے بعد صوبائی وزارت قانون کی طرف سے توثیق کے لیے گورنر سرحد کو بھجوا دیا گیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مغرب اور اسلام میں تہذیبی بالادستی کی جنگ
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کے دوران صدر جنرل پرویز مشرف نے جہاں اپنی پالیسیوں کی وضاحت کی ہے، وہاں عالمِ اسلام اور مغرب کے درمیان کشمکش پر بھی تبصرہ کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ اس کشمکش کو روکنے کے لیے دونوں فریقوں کو سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قادیانیت کے بارے میں اقبالؒ کے ارشادات
۲۶ مئی قادیانی مذہب کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کا یومِ وفات ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو لاہور میں وفات پائی تھی جسے ایک صدی مکمل ہو گئی ہے۔ اور اپنے مذہب کے ایک سو سال مکمل ہو جانے پر مرزا قادیانی کے پیروکار دنیا بھر میں یہ پورا سال ’’صد سالہ تقریبات‘‘ کے عنوان سے منا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلام کا تصورِ جہاد
جہاد کے حوالے سے ایک اور مسئلہ بھی مختلف حضرات کے لیے ذہنی الجھن کا باعث بنا ہوا ہے کہ یہ مذہب اور عقیدہ کے لیے طاقت کا استعمال ہے، جبکہ عقیدہ کے لیے طاقت کا استعمال اب دنیا میں متروک ہو چکا ہے۔ آج کی دنیا میں رائے، عقیدہ اور مذہب کی آزادی کو جو مقام حاصل ہے اس کی رو سے عقیدہ اور مذہب کے لیے طاقت کا استعمال ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قائد کا تصورِ پاکستان: قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق اور جمہوریت
قائد اعظم محمد علی جناحؒ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے وہ عظیم سیاسی رہنما ہیں جن کی کوششوں سے پاکستان کے نام پر اس وقت ایک ایسی اسلامی سلطنت وجود میں آئی، جب دنیا بھر میں ریاست کے ساتھ مذہب کا تعلق ختم کرنے کا سلسلہ عروج پر تھا، حتیٰ کہ اسلامی خلافت کی نمائندگی کرنے والی سلطنتِ عثمانیہ بھی اپنا وجود کھو چکی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
احکام القرآن، عصری تناظر میں
الحمد للہ ۵ مارچ کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں دورہ تفسیر قرآن کریم کی سالانہ کلاس تکمیل پذیر ہوئی۔ یہ سلسلہ گزشتہ ڈیڑھ عشرہ سے جاری ہے اور کرونا کے دور میں کچھ وقفہ کے ساتھ یہ بارہویں کلاس تھی۔ ۱۰ فروری سے اس کا آغاز ہوا اور ملک کے مختلف حصوں سے فضلاء اور طلبہ نے اس میں شرکت کی۔ ہمارے ہاں ترجمہ و تشریح کے ساتھ قرآن کریم سے متعلقہ دیگر ضروری معلومات بھی کورس کا حصہ ہوتی ہیں اور مختلف اساتذہ ان کی تدریس کے فرائض سرانجام دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
گوجرانوالہ شہر کی فریاد
گزشتہ دنوں گوجرانوالہ کے سرکٹ ہاؤس میں ضلعی امن کمیٹی کا اجلاس تھا اور محرم الحرام کے سلسلہ میں انتظامات زیربحث تھے۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اور ڈی سی او صاحب کے علاوہ مختلف مکاتبِ فکر کے علماء کرام بھی شریک تھے۔ محرم الحرام سے قبل اس قسم کا اجلاس ضروری سمجھا جاتا ہے تاکہ عشرۂ محرم الحرام کے دوران اہلِ تشیع کے جو جلوس وغیرہ ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پانی ہمیشہ نچلی جانب ہی بہتا ہے!
پنجاب کے دو اعلیٰ ترین افسروں کی کھلی کچہریوں کی اخباری رپورٹ اس وقت میرے سامنے ہے۔ چیف سیکرٹری جناب سلمان صدیق اور آئی جی پولیس چودھری احمد نسیم نے کھلی کچہریاں لگا کر عوام کی شکایات سنی ہیں اور بہت سے لوگوں کی داد رسی کے لیے موقع پر احکامات جاری کیے ہیں۔ ہماری دونوں سے پرانی یاد اللہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلامی احکامات اور حکومت کی ذمہ داری
محترم افضال ریحان صاحب نے ایک حالیہ کالم میں ’’مسلم ریاست کیسی ہونی چاہیے؟‘‘ کی تمہید کے ساتھ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان (۱) کلمہ طیبہ (۲) نماز (۳) زکوٰۃ (۴) روزہ اور (۵) حج کا ذکر کیا ہے، اور فرمایا ہے کہ اسلام ان ہی پانچ ارکان کا نام ہے اور ان کے علاوہ باقی تمام امور ضمنی اور ثانوی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’ورلڈ کونسل آف ریلیجئنز فار جسٹس اینڈ پیس‘‘
دینی مدارس کے وفاقوں کی مشترکہ قیادت نے صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کر کے انہیں متعلقہ مسائل پر اپنے موقف سے تفصیل کے ساتھ آگاہ کیا۔ اور صدر پرویز مشرف نے انہیں ایک بار پھر یقین دلایا کہ دینی مدارس کے نظام میں مداخلت نہیں کی جائے گی اور ان پر اچانک چھاپے نہیں مارے جائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جبر کی حکومتوں کی ملی روایت؟
ایک محفل میں عالمِ اسلام کی موجودہ صورتحال پر گفتگو ہو رہی تھی اور مسلم ممالک پر جبر اور طاقت کے ذریعے مسلط ہونے والی حکومتوں کا ذکر ہو رہا تھا کہ ایک صاحب نے کہا، ہمارے ہاں یہ پرانی روایت چلی آ رہی ہے کہ عوام کی رائے کی پروا کیے بغیر جبر کی حکومتیں قائم ہو جاتی ہیں اور پھر انہیں سندِ جواز بھی فراہم ہو جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
انگریز نے ہمیں ’’تہذیب‘‘ کیسے سکھائی؟
انگریز جب ہمارے ہاں آئے تو ان کا دعویٰ تھا کہ ہم مشرقی اقوام کو تہذیب سکھانے آئے ہیں، زندگی کا سلیقہ بتانے آئے ہیں اور متمدن معاشرہ کے آداب سے بہرہ ور کرنے کے لیے آئے ہیں۔ انگریزوں کا خیر مقدم کرنے والے اور ان کی راہ میں آنکھیں بچھانے والے ہمارے دوستوں نے بھی ہمیں یہی بتایا کہ ہماری تہذیب پرانی ہو چکی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تبلیغی جماعت کا عالمی اجتماع اور دعوتِ اسلام کے تقاضے
اسلام یہودیت اور ہندومت کی طرح نسلی دین نہیں ہے بلکہ پوری انسانیت کا دین ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور اعلانِ نبوت کے بعد سے قیامت تک کا ہر انسان اسلام کی دعوت اور پیغام کا مخاطب ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے امتیازات اور خصوصیات میں اس بات کا بطور خاص ذکر کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ترقی یافتہ دور میں بھی انسانی دماغ حرفِ آخر نہیں
ہم نے گزشتہ شب دنیا کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک امریکا کے دارالحکومت کے ایک علاقہ میں موم بتیوں کی روشنی میں نماز تراویح کا آغاز کیا۔ سپرنگ فیلڈ کے علاقہ میں مغرب سے تھوڑی دیر بعد بجلی منقطع ہوئی اور تراویح اور اس کے بعد بیان وغیرہ سے فارغ ہوئے تو اس کے بعد بجلی کا سلسلہ بحال ہو گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
واشنگٹن کے ایئر پورٹ پر ون مین پی ٹی شو
۲۴ مئی کو واشنگٹن سے واپسی کا پروگرام تھا۔ ڈیلس ایئر پورٹ سے لندن ہیتھرو کے لیے یونائیٹڈ ایئر لائن کی پرواز تھی۔ سفر میں میرا ذاتی سامان دو تین جوڑے کپڑے، کچھ کاغذات اور رسائل ہوتا ہے۔ مگر عزیزوں اور دوستوں کے تحائف اور مختلف حضرات تک پہنچانے کے لیے امانتیں اچھا خاصا مسئلہ پیدا کر دیتی ہیں، جس کا اس سفر میں بھی سامنا کرنا پڑا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مکہ مکرمہ کے اخبار ’’العالم الاسلامی‘‘ پر ایک نظر
’’رابطہ عالم اسلامی‘‘ کے زیر اہتمام مکہ مکرمہ سے ’’العالم الاسلامی‘‘ ہفت روزہ اخبار عربی میں شائع ہوتا ہے جو اخباری سائز کے سولہ صفحات پر مشتمل ہوتا ہے اور اس میں دو صفحات انگلش کے بھی ہوتے ہیں۔ اس میں عالم اسلام کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے خبروں اور تبصروں کے علاوہ رابطہ عالم اسلامی کی سرگرمیوں کی رپورٹیں شائع ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عراق پر حملہ: عظیم تر اسرائیل کی جانب پیش قدمی
امریکہ نے بالآخر عراق پر حملہ کر دیا اور امریکی افواج نے عراق کے مختلف مراکز کو نشانہ بناتے ہوئے جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ دنیا کے اکثر ممالک نے امریکہ کے اس اقدام کی مخالفت کی، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اکثریت کی حمایت حاصل نہ ہونے کی وجہ سے امریکی گروپ کو اپنی قرارداد واپس لینا پڑی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر