مقالات و مضامین

اَن پڑھ عوام اور تنگ نظر مولوی

’’اوصاف‘‘ کے مراسلات کے صفحہ میں ان دنوں اسلام آباد کی محترمہ شیبا احمد اور اسلام آباد و راولپنڈی کے قارئین کے درمیان ’’مراسلاتی جنگ‘‘ جاری ہے۔ شیبا احمد کو ’’اوصاف‘‘ پر اعتراض ہے کہ وہ محترمہ کے بقول ملک کے پڑھے لکھے اور باشعور شہریوں کی بجائے جاہل، گنوار اور تنگ نظر لوگوں بالخصوص مولویوں کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے سی ٹی بی ٹی پر دستخط کی مخالفت کر رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ فروری ۲۰۰۰ء

خواتین کے حقوق کا عالمی دن اور مغربی فلسفہ

گزشتہ روز خواتین کے حقوق کا عالمی دن منایا گیا۔ دنیا کے مختلف ملکوں میں اس سلسلہ میں تقریبات کا اہتمام کیا گیا، سیمینارز منعقد ہوئے، اخبارات و جرائد نے خصوصی اشاعتوں کا اہتمام کیا، اداروں نے رپورٹیں جاری کیں اور خواتین کے حقوق اور ان کی مبینہ مظلومیت اور کسمپرسی کے حوالے سے تجزیے پیش کیے گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ مارچ ۲۰۰۰ء

خلیفۃ المسلمین کے لیے قریشی ہونے کی شرط

ایک صاحب کسی تہہ خانے میں بیٹھے تھے، دوپہر کا وقت تھا اور پوچھ رہے تھے کہ کیا سورج نکل آیا ہے؟ ساتھیوں نے عرض کیا کہ حضرت! سورج نصف آسمان پر جگمگا رہا ہے۔ کہنے لگے کہ مجھے تو نظر نہیں آ رہا۔ دوستوں نے کہا کہ حضرت! یہ روشنی جو تہہ خانے کے کونوں کھدروں تک میں نظر آ رہی ہے اسی سورج کی روشنی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ اکتوبر ۲۰۰۰ء

سعودی عرب میں جمہوریت: جارج ڈبلیو بش کا نیا پینترا

صدر جارج ڈبلیو بش کو سعودی عرب اور عالمِ اسلام کے حوالے سے جمہوریت یاد آئی ہے اور انہوں نے اسلام کو جمہوریت کا حامی مذہب قرار دیتے ہوئے سعودی عرب میں جمہوریت کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا ہے، جس پر عالمی سطح پر تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔ صدر بش کچھ دنوں سے اسلام کے حوالے سے مسلسل کچھ نہ کچھ کہہ رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ نومبر ۲۰۰۳ء

کیا طالبان تنہا ہو گئے؟

افغانستان میں امریکی اتحاد کی پشت پناہی سے قائم ہونے والی نئی حکومت کے سربراہ حامد کرزئی نے کہا ہے کہ ’’ملا محمد عمر مجرم ہیں، اس لیے اگر وہ گرفتار ہوئے تو انہیں عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے گا‘‘۔ ادھر امریکی اتحاد کا ترجمان بھی بار بار کہہ رہا ہے کہ ’’ملا محمد عمر کا بچ نکلنا ہمیں منظور نہیں ہے، اس لیے نئی حکومت کو انہیں بہرحال گرفتار کرنا ہوگا‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ جنوری ۲۰۰۰ء

اسامہ بن لادن اور اسامہ بن مرشد ؒ

امریکی وزیر خارجہ مسز میڈیلین البرائٹ نے گزشتہ دنوں پھر دھمکی دی ہے کہ عرب مجاہد اسامہ بن لادن بچ نہیں سکیں گے اور بالآخر امریکی ادارے ان تک پہنچنے اور انہیں گرفتار کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ اگر اسامہ بن لادن کی زندگی باقی ہے تو دنیا کی کوئی طاقت اس مردِ مجاہد کو گزند نہیں پہنچا سکتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ اگست ۲۰۰۰ء

اکیسویں صدی کے تقاضے

نئی عیسوی صدی کی آمد آمد ہے اور اگرچہ اہلِ مغرب اور چین کے درمیان یہ اختلاف پیدا ہو گیا ہے کہ نئی صدی کا آغاز ۲۰۰۰ء سے ہو گا یا ۲۰۰۱ء سے اکیسویں صدی شروع ہو گی؟ کیونکہ اہلِ چین نے نئی صدی کی تقریبات ۲۰۰۱ء سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے مگر اہلِ مغرب اس کا آغاز ۲۰۰۰ء سے کر رہے ہیں اور اس کے لیے زور و شور کے ساتھ تیاریاں جاری ہیں اور تقریبات کا ہر جگہ اہتمام کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ دسمبر ۲۰۰۰ء

آج کا ابرہہ اور بیت اللہ شریف

تاریخ ایک بار پہلے بھی بیت اللہ کے خلاف عیسائی لشکر کی یلغار کا منظر دیکھ چکی ہے۔ یہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت والے سال کا قصہ ہے۔ یمن پر ابرہہ نامی شخص حکمران تھا اور سلطنتِ روما کی طرف سے یمن کا گورنر تھا۔ اس کا تعلق عیسائی مذہب سے تھا، یمن میں عیسائی مذہب کے لوگ کچھ عرصہ قبل ذونواس نامی بت پرست بادشاہ کے مظالم کا شکار ہوئے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ مارچ ۲۰۰۰ء

بہائی مذہب اور اس کے پیروکار

گزشتہ روز اسلام آباد میں جمعیت علماء اسلام (ق) کے زیر اہتمام ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیعہ راہنما علامہ علی غضنفر کراروی نے مذہبی امور کے سابق وزیر راجہ محمد ظفر الحق کے بارے میں شکوہ کیا کہ انہوں نے ’’بہائی مذہب‘‘ کے افراد کو ملک میں سرگرمیوں کی کھلی اجازت دے رکھی تھی بلکہ بہائیوں کی مذہبی کتاب ’’کتاب اقدس‘‘ کی رونمائی کی ایک تقریب میں بھی وہ شریک ہوئے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ دسمبر ۱۹۹۹ء

حسن محمود عودہ اور قادیانی فلسفۂ حساب

گزشتہ ہفتے برطانیہ کے شہر سلاؤ میں مولانا منظور احمد چنیوٹی کے ہمراہ الاستاذ حسن عودہ سے ملاقات ہوئی اور مختلف امور پر باہم گفت و شنید کا موقع ملا۔ حسن عودہ کا تعلق فلسطین کے مشہور شہر حیفہ سے ہے اور قادیانی خاندان میں جنم لینے اور پرورش پانے کے باعث وہ ایک دور میں راسخ العقیدہ قادیانی شمار ہوتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۱۹۹۹ء

سودی نظام کے خاتمہ کی جدوجہد اور حافظ حسین احمد کی تجویز

سود کے مسئلہ پر سپریم کورٹ کے شریعت اپلیٹ بینچ میں دوبارہ بحث شروع ہونے والی ہے جو ان سطور کی اشاعت تک خاصی آگے بڑھ چکی ہو گی۔ سود اسلامی شریعت میں حرام ہے اور قرآن کریم نے سودی کاروبار پر اصرار کو اللہ تعالیٰ اور اس کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اعلانِ جنگ کے مترادف قرار دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ مئی ۱۹۹۹ء

ذکری مذہب اور اس کے عقائد

مولانا اللہ وسایا قاسم نے اپنے حالیہ دورہ تربت کے حوالہ سے ایک مضمون میں ذکری مذہب اور اس کے پیروکاروں کی سرگرمیوں کا تذکرہ کیا ہے۔ راقم الحروف کو بھی گزشتہ دنوں چنیوٹ اور چناب نگر میں مجلس تحفظ ختم نبوت اور ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد کی دو الگ الگ تربیتی کلاسوں میں ذکری مذہب کے بارے میں لیکچر دینے کا موقع ملا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم دسمبر ۱۹۹۹ء

واشنگٹن ٹائمز اور ’’ملاؤں‘‘ کا خوف

بعض قومی اخبارات نے این این آئی کے حوالے سے امریکی اخبار واشنگٹن ٹائمز کی ایک رپورٹ کے کچھ حصے شائع کیے ہیں جس میں پاکستان میں مُلاؤں کی بڑھتی ہوئی طاقت پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور ان کی راہ روکنے کے لیے امریکی حکومت کو عملی اقدامات کا مشورہ دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں شدت پسند ملاؤں نے ایک مضبوط ملیشیا قائم کر رکھی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ اکتوبر ۱۹۹۹ء

دوراہے پر منزل کا تعین!

دورِ نبویؐ کا مشہور واقعہ ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص آیا اور عرض کیا کہ میں اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں مگر میرے اندر اتنے عیب ہیں اور اتنے گناہوں کا عادی ہوں کہ بیک وقت سب کو چھوڑنا میرے لیے مشکل ہے، اس لیے گناہوں کو مجھ سے باری باری چھڑوائیے۔ ایک ایک کر کے سب ترک کر دوں گا مگر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ مارچ ۱۹۹۹ء

ندوۃ العلماء لکھنؤ کے مولانا سید سلمان حسن ندوی کے ساتھ چند روز

سیرین ایئرلائنز سے سفر کا پہلا تجربہ تھا۔ یہ ان سستی ایئرلائنوں میں سے ہے جو میرے جیسے سفید پوش مسافروں کی کئی کمزوریاں ڈھانپ لیتی ہیں۔ چھ جون کو صبح پانچ بجے کراچی سے سوار ہوا اور دہران، دمشق اور میونخ کے ہوائی اڈوں پر دو دو تین تین گھنٹے سٹاپ کرتا ہوا شام سات بجے (پاکستانی گیارہ بجے) ہیتھرو ایئر پورٹ سے امیگریشن کے مراحل سے گزر کر لندن میں داخل ہو گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم جولائی ۱۹۹۸ء

طالبان اور شمالی اتحاد: وزیر خارجہ پاکستان کے بیان کا جائزہ

وزیر خارجہ جناب گوہر ایوب خان نے کہا ہے کہ پاکستان، افغانستان میں طالبان اور شمالی اتحاد کے لیڈروں کو مذاکرات کی میز پر بٹھانا چاہتا ہے۔ اور اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا ہے کہ ’’ہمارے نزدیک دونوں برابر ہیں‘‘۔ خدا جانے خان صاحب نے یہ بات کس ترنگ میں آ کر کہہ دی ہے، ورنہ جہاں تک حقائق کا تعلق ہے وہ اس کی کسی طرح بھی تائید نہیں کرتے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ مارچ ۱۹۹۸ء

لوئیس فرخان اور نیشن آف اسلام

امریکہ کی سیاہ فام آبادی سے تعلق رکھنے والی تنظیم ’’نیشن آف اسلام‘‘ اور اس کے لیڈر لوئیس فرخان کے بارے میں ان دنوں عالمی ذرائع ابلاغ سے مختلف پروگرام نشر ہو رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے یہ خبر آئی تھی کہ برطانوی ہوم آفس نے لوئیس فرخان کے برطانیہ میں داخلے پر وہ پابندی برقرار رکھی ہے جو ۱۹۸۶ء میں اس بنا پر عائد کی گئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ جولائی ۱۹۹۸ء

الشیخ عز الدین بن عبد السلامؒ اور ہمارے آج کے مسائل

امتِ مسلمہ کی چودہ سو سالہ تاریخ ایسے علماءِ حق کے تذکروں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے ہر دور میں حالات کی رفتار کا جائزہ لیتے ہوئے امتِ مسلمہ کی صحیح راہنمائی کی اور وقت کے ظالم و جابر حکمرانوں کو راہِ راست پر لانے اور ان کے سامنے کلمۂ حق بلند کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ انہی میں سے ایک حق گو اور صاحبِ بصیرت عالمِ دین کا تذکرہ آج کے کالم میں کرنے کو جی چاہتا ہے جنہیں تاریخ شیخ الاسلام عز مکمل تحریر

۷ جون ۱۹۹۸ء

سیالکوٹ چیمبر آف کامرس کا سیرت اسٹڈی سنٹر

سیالکوٹ کے ’’سیرت اسٹڈی سنٹر‘‘ کا نام تو کافی عرصہ سے سن رکھا تھا اور اس کی سرگرمیوں کی اطلاعات بھی وقتاً فوقتاً ملتی رہیں، مگر اسے دیکھنے کا اتفاق گزشتہ روز ہوا۔ پروفیسر عبد الجبار شیخ اس ادارے کے ڈائریکٹر ہیں، پرانے اساتذہ میں سے ہیں، متعدد کتابوں کے مصنف ہیں، ریٹائرمنٹ کے بعد آرام سے نہیں بیٹھے اور نہ صرف سیرت اسٹڈی سنٹر کے کاموں کی نگرانی کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جولائی ۲۰۰۳ء

برمنگھم (الاباما، امریکہ) میں دو دن

گزشتہ اٹھارہ برس کے دوران بلامبالغہ بیسیوں بار برمنگھم جانے کا اتفاق ہوا ہے، مگر ۷ اکتوبر ۲۰۰۳ء کو جب میں برمنگھم کے ایئرپورٹ پر اترا تو یہ شہر میرے لیے بالکل نیا تھا، اس لیے کہ یہ وہ برمنگھم نہیں تھا جو برطانیہ کا دوسرا بڑا شہر ہے اور دنیا بھر میں معروف ہے۔ بلکہ یہ امریکہ کی ریاست الاباما کا ایک شہر ہے جو نیویارک سے تقریباً تیرہ سو میل جنوب کی طرف واقع ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ اکتوبر ۲۰۰۳ء

۸ مارچ: خواتین کا عالمی دن

۸ مارچ کو دنیا بھر میں خواتین کا دن منایا جاتا ہے، اس موقع پر خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر مشتمل رپورٹیں سامنے آتی ہیں، سیمینارز منعقد ہوتے ہیں، اخبارات کی خصوصی اشاعتوں کا اہتمام ہوتا ہے، این جی اوز اپنے اپنے انداز میں پروگرام کرتی ہیں اور عورتوں کی مظلومیت کا تذکرہ ہر سطح پر ہوتا ہے۔ عورت بلاشبہ مظلوم ہے، ہر دور میں مظلوم رہی ہے، اور آج بھی مظلوم ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ مارچ ۲۰۰۴ء

برطانیہ میں مسلمانوں کی دینی تعلیم کا مربوط سلسلہ

برطانیہ کا اس سال کا گرم ترین ویک اینڈ میں نے بہت مصروف گزارا۔ محکمہ موسمیات نے پہلے ہی پیشگوئی کر دی تھی کہ ۱۹ جون کا اتوار اس موسم کا گرم ترین دن ہو گا۔ چنانچہ اس روز لندن کا درجہ حرارت ۳۳ سینٹی گریڈ تھا، مگر گرمی کے آثار ایک دو روز پہلے ہی شروع ہو گئے تھے۔ لیسٹر کے مولانا محمد فاروق مُلا نے مجھے پابند کر رکھا تھا کہ ۱۸ جون کو ہفتہ کا دن ان کے ساتھ گزاروں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ جون ۲۰۰۵ء

اسلام آباد میں ’’امریکہ اور عالمِ اسلام‘‘ سیمینار

پاکستان شریعت کو نسل کے زیر اہتمام علماء کرام اور دانشوروں کے ایک بھرپور سیمینار میں خلیج عرب میں امریکی افواج کی مسلسل موجودگی کو حرمین شریفین کے تقدس اور تحفظ کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے دنیا بھر کی مسلمان حکومتوں اور بین الاقوامی مسلم تنظیموں سے اپیل کی گئی ہے کہ خلیج سے امریکی فوجوں کی واپسی کے لیے منظم اور مربوط جدوجہد کی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ ستمبر ۱۹۹۶ء

پیر محسن الدین احمدؒ اور فرائضی تحریک

چند روز قبل لندن سے شائع ہونے والے اردو روزنامہ میں ایک چھوٹی سی خبر تھی کہ بنگلہ دیش کے معروف روحانی پیشوا پیر محسن الدین احمد ضلع فرید پور میں انتقال کر گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ پیر صاحبؒ ہمارے محترم بزرگ تھے جو ایک عرصہ تک جمعیت علماء اسلام مشرقی پاکستان کے امیر رہے ہیں، وہ متحدہ پاکستان کی آخری قومی اسمبلی کے رکن تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ ستمبر ۱۹۹۷ء

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سے میجر جنرل (ر) ظہیر الاسلام عباسی کی اپیل

گزشتہ دنوں اخبارات میں ایک مختصر سی خبر شائع ہوئی کہ میجر جنرل (ر) ظہیر الاسلام عباسی نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو ہری پور سنٹرل جیل سے ایک اپیل بھجوائی ہے جس میں ان سے ان فوجی افسروں کے کیس کا ازسرنو جائزہ لینے کی درخواست کی گئی ہے جنہیں گزشتہ سال ملک کے خلاف سازش کے الزام میں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی طرف سے سزائیں سنائی گئی تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ اپریل ۱۹۹۷ء

چودھواں آئینی ترمیمی بل اور سیاسی جماعتوں کا داخلی نظام

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے دستور میں ترمیم کا چودھواں بل منظور کر لیا ہے جس کے تحت اسمبلیوں کے ارکان کی ’’فلور کراسنگ‘‘ پر پابندی لگا دی گئی ہے، اور اب اگر کسی رکن اسمبلی نے اس سیاسی جماعت سے علیحدگی اختیار کی یا اس کے ڈسپلن کی خلاف ورزی کی جس کے ٹکٹ پر وہ منتخب ہوا ہے یا جس میں اس نے باضابطہ شمولیت اختیار کی ہے، تو وہ اسمبلی کی رکنیت سے محروم ہو جائے گا۔ اس بل کے بارے میں عام طور پر مکمل تحریر

۱۴ جولائی ۱۹۹۷ء

لیڈی ڈیانا کی یاد میں

پرنسس آف ویلز شہزادی ڈیانا کی حادثاتی موت پر بہت کچھ لکھا گیا ہے اور مسلسل لکھا جا رہا ہے۔ اصحابِ قلم اپنے اپنے ذوق اور زاویۂ نگاہ سے شہزادی کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر اظہارِ خیال کر رہے ہیں اور اربابِ دانش لیڈی ڈیانا کو حادثاتی موت کے بعد عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی کے اسباب تلاش کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اکتوبر ۱۹۹۷ء

تبدیلی کا مجددی راستہ اور مولانا فضل الرحمٰن

جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا یہ اعلان نظر سے گزرا کہ جمعیت نے انتخابی سیاست سے کنارہ کشی کا فیصلہ کر لیا ہے اور اب جمعیت الیکشن میں حصہ لینے کی بجائے اپنے مقاصد کے لیے عوامی جدوجہد کو منظم کرنے کا راستہ اختیار کرے گی۔ انہوں نے موجودہ انتخابی سسٹم پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نظام میں اچھے افراد کا آگے آنا اور اسلامی نظام کا نافذ ہونا ممکن نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ جولائی ۱۹۹۷ء

دو دن طالبان کے کابل میں

گزشتہ ماہ کے آخر میں دو روز کے لیے کابل جانے کا موقع ملا۔ اس سے قبل اس دور میں کابل جانا ہوا تھا جب نجیب حکومت کے خاتمہ کے بعد پروفیسر صبغۃ اللہ مجددی مجاہدین کی عبوری حکومت کے سربراہ تھے، احمد شاہ مسعود وزیر دفاع کی حیثیت سے عسکری معاملات کو کنٹرول کر رہے تھے، افغانستان کی سابق حکمران پارٹی کا ہیڈ کوارٹر مولوی محمد نبی محمدی کی حرکتِ انقلاب اسلامی کے قبضہ میں تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ مارچ ۱۹۹۷ء

برطانیہ میں غیر سودی سرمایہ کاری کا منصوبہ

چند ہفتے قبل برطانیہ میں لنکاشائر کے شہر برنلے کی مسجد فاروق اعظمؓ کے سیکرٹری حاجی عزت خان صاحب کے ہاں نماز جمعہ کے بعد کھانے کے لیے بیٹھے تھے کہ ایک انگریز نوجوان بریف کیس ہاتھ میں پکڑے وارد ہوا، اس کے ساتھ ایک مسلمان بھائی تھے۔ ہم کھانے سے فارغ ہو کر چائے پینے کی تیاری کر رہے تھے، انہیں بھی چائے میں شریک ہونے کی دعوت دی گئی اور اس کے ساتھ ہی گفتگو کا آغاز ہو گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم ستمبر ۱۹۹۷ء

الجزائر کے انتخابات اور افسوسناک داخلی صورتحال

برادر مسلم ملک الجزائر میں عام انتخابات پانچ جون کو ہوئے اور جوں جوں انتخابات کی تاریخ قریب آ رہی تھی، الجزائر میں قتل و غارت کی خبروں میں اضافہ ہو رہا تھا۔ لندن کے بعض اخبارات نے ریڈیو نشریات کے حوالے سے یہ خبر شائع کی ہے کہ گزشتہ پیر کے روز الجزائر کے سکیورٹی فورسز نے قومی انتخابات سے قبل کی جانے والی کارروائی کے تحت ایک سو تیس راسخ العقیدہ مسلمانوں کو ہلاک کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ جون ۱۹۹۷ء

ترکی میں اسلامی اقدار کے اَحیا کی جدوجہد

ترکی کے وزیر اعظم جناب نجم الدین اربکان کے خلاف قومی اسمبلی میں مخالف پارٹیوں کی طرف سے پیش کی جانے والی تحریکِ مذمت گزشتہ دنوں سات ووٹوں سے ناکام ہو گئی۔ بی بی سی کے ایک نشریہ کے مطابق یہ تحریک فوج کے دباؤ کے تحت پیش کی گئی تھی لیکن اسے کامیابی حاصل نہیں ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جون ۱۹۹۷ء

چین کے صوبہ سنکیانگ کے مسلمانوں کی صورتحال

عوامی جمہوریہ چین کے سرحدی صوبہ سنکیانگ میں ترک مسلمانوں اور چینی نسل کے لوگوں کے درمیان فسادات کی خبریں کچھ دنوں سے پھر منظر عام پر آرہی ہیں، اور ’’نیوز ویک‘‘ نے اپنی حالیہ اشاعت میں اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ان فسادات کے حوالے سے سنکیانگ کے مسلمانوں کے خلاف چینی حکومت کے اقدامات عالمِ اسلام کے ساتھ چین کے تعلقات پر اثرانداز ہو سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ مارچ ۱۹۹۷ء

بھارتی پارلیمنٹ میں یکساں سول کوڈ کا بل

بھارتی پارلیمنٹ میں ان دنوں ملک بھر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے لیے ایک پرائیویٹ بل پر بحث جاری ہے، یہ بل جنتا پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ شنکررادت نے پیش کر رکھا ہے اور اسے بھارتیہ جنتا پارٹی اور شیوسینا کی حمایت حاصل ہے جو بھارت میں انتہا پسند ہندو تنظیمیں شمار کی جاتی ہیں، جبکہ کانگریس اور جنتادل نے اس بل کی مخالفت کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ جون ۱۹۹۷ء

سرحد میں نظامِ صلوٰۃ کے قیام کے اعلان پر منفی تبصرے کیوں؟

ایک کہاوت مختلف حوالوں سے بیان ہوتی آ رہی ہے کہ کسی صاحب کو اپنے بازو پر شیر کی تصویر بنوانے کا شوق چرایا تو انہوں نے ایک گودنے والے کی خدمات حاصل کیں، جو سوئی سے جسم پر نقشے کے مطابق سوراخ کر کے ان میں رنگ بھرتا اور جلد پر تصویر نقش ہو جاتی۔ گودنے والے نے سوئی سنبھالی اور ان صاحب کا ہاتھ پکڑ کر اپنا کام شروع کر دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ جولائی ۲۰۰۴ء

’’دینی مدارس میں تحقیق و صحافت: موجودہ صورتحال اور آئندہ کا لائحہ عمل‘‘

انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد ملک کے محبِ وطن اسلامی حلقوں کی طرف سے تبریک و شکریہ کا مستحق ہے کہ تحقیق اور ریسرچ کے شعبہ میں وہ ایک بڑے خلا کو پر کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اور اپنے قیام کے بعد سے پندرہ سال کے عرصہ میں خاصا کام کر چکا ہے۔ مطالعہ و تحقیق، تجزیہ اور ریسرچ کے ادارے زندہ قوموں کی ضرورت اور علامت ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ جولائی ۲۰۰۴ء

لندن میں میڈیا پر ایک سیمینار

گزشتہ اتوار کو ہمبرسمتھ لندن کے آئرش سنٹر ہال میں ورلڈ اسلامک فورم کا چوتھا سالانہ میڈیا سیمینار منعقد ہوا جس کی صدارت فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے کی اور اس میں میڈیا کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین شریک ہوئے۔ ورلڈ اسلامک فورم اس سے قبل لندن میں تین سالانہ سیمینار کر چکا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ اگست ۱۹۹۷ء

ایک نومسلم آئرش بزرگ حاجی عبدالرحمٰن سے ملاقات

جامعہ الہدیٰ نوٹنگھم میں اگر کبھی دو تین روز قیام کا موقع ملے تو میزبانی میں ایک سفید ریش بزرگ پیش پیش نظر آئیں گے۔ سرخی مائل سفید رنگت، کرتہ شلوار اور سفید عمامے کے ساتھ واسکٹ پہنے ہوئے پہلی نظر میں کوئی افغان عالم دین محسوس ہوتے ہیں لیکن وہ افغان نہیں آئرش ہیں۔ ان کا نام حاجی عبدالرحمٰن ہے اور جنوبی آئرلینڈ کے دارالحکومت ڈبلن سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ اگست ۱۹۹۷ء

میثاقِ مدینہ یا خلافتِ راشدہ؟

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) حمید گل صاحب نے اپنی قائم کردہ ’تحریکِ اتحادِ پاکستان‘‘ کے مقاصد کی وضاحت کرتے ہوئے ایک حالیہ مضمون میں اس بات پر زور دیا ہے کہ آج کے دور میں اسلامی ریاست کی تشکیل کے لیے ’’میثاقِ مدینہ‘‘ کو بنیاد بنانے کی ضرورت ہے۔ میثاقِ مدینہ کے بارے میں ان کے علاوہ بھی بہت سے دانشور کچھ عرصے سے یہ بات کہتے آ رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ جولائی ۱۹۹۷ء

شریعت بل: جمعیت علماء اسلام کا نقطۂ نظر

قومی اسمبلی میں وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی حکومت کی طرف سے پیش کردہ شریعت بل کا مسودہ اخبارات کے ذریعے سامنے آنے کے بعد متحدہ جمعیت علماء اسلام پاکستان کے قائم مقام امیر مولانا محمد اجمل خان نے اس مسودہ کا جائزہ لینے کے لیے (۱) مولانا میاں محمد اجمل قادری (۲) سینیٹر حافظ حسین احمد (۳) جناب عبد المتین چودھری ایڈووکیٹ آف ساہیوال اور (۴) راقم الحروف ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم مئی ۱۹۹۱ء

ہفت روزہ نقاب گوجرانوالہ کا انٹرویو

مولانا زاہد الراشدی ۲۸ اکتوبر ۱۹۴۸ء کو گکھڑ ضلع گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا شمار ملک کے نامور علماء اور مصنفین میں ہوتا ہے۔ مولانا زاہد الراشدی کا پورا نام ’’محمد عبد المتین خان زاہد‘‘ ہے۔ یہ نام تاریخی ہے جس کا عدد حروف ابجد کے اعتبار سے ۱۳۶۷ بنتا ہے جو ہجری لحاظ سے ان کا سن پیدائش ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ جنوری ۱۹۹۶ء

قومی معیشت کی ’’اوورہالنگ‘‘ کی ضرورت

روزنامہ اوصاف لاہور ۲۹ دسمبر ۲۰۲۳ء کی رپورٹ کے مطابق عالمی بینک کے علاقائی ڈائریکٹر ناجی بن حسائن نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں پاکستان کی معاشی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا معاشی ماڈل ناکارہ ہو چکا ہے، پاکستان کو اپنی معیشت کی اوورہالنگ کرنے کی ضرورت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۲۴ء

احتساب اور اس کے تقاضے

صدر محترم جناب فاروق احمد خان لغاری نے قومی اسمبلی توڑ کر محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو رخصت کر دیا ہے اور جناب ملک معراج خالد کو نگران وزیر اعظم مقرر کر کے تین فروری ۱۹۹۷ء کو انتخاب کرانے کا اعلان کیا ہے۔ ان اقدامات پر عام طور پر اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے اور کچھ حلقے ناخوش بھی ہیں۔ نگران وزیر اعظم ملک معراج خالد کا تعلق بھی حکمران پارٹی سے ہے اور وہ پیپلز پارٹی کے بانی ارکان میں سے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ نومبر ۱۹۹۶ء

افغان طالبان کا موقف

راقم الحروف کو آٹھ تا گیارہ جون تین چار یوم افغانستان کی تحریک طالبان اسلام کے مختلف حضرات کے ساتھ ملاقاتوں کا موقع ملا تو اس دوران کوئٹہ، قندھار اور افغانستان کے سرحدی قصبہ سپین بولدک میں طالبان کے متعدد ذمہ دار حضرات سے افغانستان کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا۔ افغانستان کی موجودہ صورتحال کے بارے میں طالبان کا موقف اور مختلف مسائل کے حوالے سے ان کے خیالات ان سطور کی صورت میں قارئین کے سامنے پیش کر رہا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ اکتوبر ۱۹۹۶ء

حضرت عمر فاروق اعظمؓ کا معیارِ حکمرانی

جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم اور خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اسلام کے طرزِ حکمرانی کی بات مختصراً دو کالموں میں ہو چکی ہے۔ آج کے کالم میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت کے چند واقعات درج کیے جا رہے ہیں، جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اسلام کا حکمرانی کا مزاج کیا ہے۔ حضرت عمرؓ نے خلیفۂ دوم کی حیثیت سے زمامِ اقتدار سنبھالنے کے بعد صوبوں کے گورنروں اور دیگر عمّال کو جو ہدایات جاری کیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ اگست ۱۹۹۶ء

پہلے احتساب یا انتخاب؟

پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف نے قومی اسمبلی کے انتخابات بہرصورت تین فروری کو کرانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی اسمبلی احتساب کے لیے نہیں بلکہ انتخاب کے لیے توڑی گئی ہے اس لیے احتساب کے نام پر انتخابات کو ملتوی کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اس سے قبل صدر سردار فاروق احمد خان لغاری نے بھی اپنی نشری تقریر میں کہا تھا کہ وہ احتساب کے نام پر انتخاب کو ملتوی نہیں ہونے دیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ نومبر ۱۹۹۶ء

مذہب ہی خواہشات اور مفادات کا توازن قائم کر سکتا ہے

کابل پر طالبان کی حکومت کے قیام اور ان کی طرف سے افغانستان میں مکمل شرعی نظام کے نفاذ کے اعلان کے بعد اسلامی شریعت ایک بار پھر موضوعِ بحث بن گئی ہے اور عالمی ذرائع ابلاغ کے ساتھ ساتھ علم و دانش کی محفلوں میں بھی شرعی قوانین کے مختلف پہلوؤں کا ذکر پہلے سے زیادہ ہونے لگا ہے، دنیا بھر کی اسلامی تحریکات کو طالبان کی اس کامیابی سے حوصلہ ملا ہے اور وہ شریعتِ اسلامیہ کے نفاذ و غلبہ کی جدوجہد میں نئے جذبہ و ولولہ کے ساتھ پیشرفت کر رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ اکتوبر ۱۹۹۶ء

دینی مدارس کا آزادانہ کردار اور مغربی لابیاں

لاہور کے ایک قومی روزنامہ نے ۳ اگست ۱۹۹۶ء کو کے پی آئی کے حوالہ سے یہ خبر شائع کی ہے کہ پنجاب کے چیف سیکرٹری نے تمام ڈپٹی کمشنروں سے دینی مدارس کے بارے میں کوائف طلب کر لیے ہیں۔ خبر کے مطابق ان کوائف کے حصول کے بعد حکومت دینی مدارس کو تحویل میں لینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ عوام کے رضا کارانہ تعاون اور چندے سے چلنے والے دینی مدارس ملک کے ہر علاقے میں موجود ہیں اور یہ مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں مکمل تحریر

۱۷ اگست ۱۹۹۶ء

فضا کے چند گھنٹے ’’الاہرام‘‘ کی پناہ میں

۲۵ نومبر ۱۹۹۶ء کی شام کو لندن سے سعودیہ جاتے ہوئے ’’مصر للطیران‘‘ کے ذریعے ہیتھرو ایئر پورٹ سے قاہرہ کے لیے روانگی ہوئی تو حسب معمول پرواز کی روانگی کے چند لمحے بعد فضائی میزبان اخبارات کی ٹرالی دھکیلتے ہوئے آگے بڑھی، میں نے اخبارات پر نظر ڈالی اور ایک معروف عربی اخبار ’’الاہرام‘‘ اٹھا لیا، اس کی سرخیاں اور دو چار صفحات سرسری طور پر دیکھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ دسمبر ۱۹۹۶ء

نکاح کے وقت حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی عمر اور راویانِ حدیث کا مقام و مرتبہ

گزشتہ دنوں روزنامہ پاکستان میں محترم بریگیڈیئر (ر) حامد سعید اختر صاحب کا قسط وار مضمون نظر سے گزرا جس میں انہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کے نکاح کے وقت ان کی عمر کے حوالے سے تفصیلی بحث کی ہے، اور خلاصے کے طور پر یہ بات بیان فرمائی ہے کہ ہمیں احادیث کی وہ تمام روایات مسترد کر دینی چاہئیں جو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے بارے میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ ستمبر ۲۰۱۰ء

Pages