مقالات و مضامین

بسنت میلہ اور جنرل پرویز مشرف

چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف صاحب نے گزشتہ روز لاہور میں بسنت میلہ کے نام پر ہونے والے ہلے گلے کی حمایت اور اس کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے بہت سے غریبوں کو روزگار فراہم ہوا ہے۔ ہمارے نزدیک ملک کے انتظامی سربراہ کی یہ سوچ حقائق کے منافی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۱ء

وفاق المدارس کے پلیٹ فارم کو بچایا جائے

گزشتہ دنوں قومی اخبارات میں پنجاب کے بعض دینی مدارس کے مہتمم حضرات کی مشترکہ پریس کانفرنس کی خبر نظر سے گزری جو ’’وفاق المدارس العربیہ پاکستان‘‘ سے تعلق رکھتے ہیں، اور انہوں نے وفاق کی قیادت پر بعض الزامات عائد کرتے ہوئے وفاق المدارس کے عہدہ داروں کے دوبارہ انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۱ء

خسر اور خوشدامن کی وراثت میں حصہ داری کی سفارش

روزنامہ جنگ لاہور ۲۴ جنوری ۲۰۰۱ء کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل نے ’’خواتین حقوق کمیشن‘‘ کی رپورٹ میں شامل اس سفارش کو شرعی اصولوں کے منافی قرار دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ میاں بیوی کو ماں باپ کی طرح خسر اور خوشدامن کی وراثت میں بھی حصہ دار قرار دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۱ء

دوبئی کے ’’مرکز جمعۃ الماجد للثقافۃ والتراث‘‘ کا علمی ذخیرہ

گزشتہ دنوں جمعیۃ طلباء اسلام پاکستان کے سابق راہنما محمد فاروق شیخ اور جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ متحدہ عرب امارات کے سیکرٹری اطلاعات حافظ بشیر احمد چیمہ کی دعوت پر متحدہ عرب امارات میں چند روز قیام کے لیے حاضری کا موقع ملا اور دوبئی، شارجہ، عجمان، رأس الخیمہ، الفجیرۃ اور ام القوین میں سرکردہ حضرات و شخصیات سے ملاقات کے علاوہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۱ء

دینی مدارس کیلئے تحریص کا جال

روزنامہ جنگ لاہور ۲۲ دسمبر ۲۰۰۰ء کے مطابق جنوبی ایشیا کے امریکی ماہر اور فارن پالیسی اسٹڈیز کے سینئر فیلو مسٹر سٹیفن پی کوہن نے اسلام آباد کے امریکی مرکز اطلاعات میں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس عندیہ کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ کے نئے ریپبلکن صدر جارج ڈبلیو بش کی حکومت پاکستان پر سی ٹی بی ٹی پر دستخط کے لیے دباؤ نہیں ڈالے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۱ء

اسرائیلی اور امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فتویٰ

نامور عرب عالمِ دین اور دانشور الشیخ ڈاکٹر محمد یوسف قرضاوی حفظہ اللہ تعالیٰ نے ایک حالیہ فتویٰ میں بیت المقدس اور افغانستان کی اسلامی حکومت کے بارے میں امریکی طرز عمل کو عالمِ اسلام کے خلاف معاندانہ قرار دیتے ہوئے دنیا بھر کے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیلی اور امریکی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں، اور یہودیوں اور ان کے سرپرستوں کا اقتصادی مقاطعہ کر کے دینی حمیت و غیرت کا اظہار کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۱ء

سندھو دیش کے قیام کیلئے اقوام متحدہ اور امریکہ سے درخواست

سکاٹ لینڈ (برطانیہ) سے شائع ہونے والے اردو جریدہ نوائے وقت نے ۳ نومبر ۲۰۰۰ء کی اشاعت میں خبر شائع کی ہے کہ جئے سندھ قومی محاذ سمیت متعدد قوم پرست جماعتوں نے سندھ کی علیحدگی اور سندھو دیش کے قیام کے لیے اقوامِ متحدہ اور امریکہ سے مدد طلب کر لی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۰ء

احترامِ رمضان آرڈیننس ۱۹۸۱ء کو مؤثر بنانے کا سرکاری اعلان

روزنامہ اوصاف اسلام آباد ۲۴ نومبر ۲۰۰۰ء کی خبر کے مطابق وفاقی حکومت نے ماہِ رمضان المبارک کے دوران ’’احترامِ رمضان المبارک آرڈیننس ۱۹۸۱ء‘‘ کو مؤثر بنانے کا اعلان کیا ہے، جس کے مطابق ماہِ رمضان کے دوران مخصوص اوقات میں عوامی مقامات پر کھانے پینے اور سگریٹ نوشی پر مکمل پابندی ہو گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۰ء

مسلمانوں میں انگریزی جاسوسی کا معاملہ

روزنامہ جنگ لندن ۱۱ اکتوبر ۲۰۰۰ء کے مطابق برطانوی مسلمانوں کی ایک تنظیم ’’مسلم کونسل آف بریٹن‘‘ کے سیکرٹری جنرل یوسف بھائی نے برطانوی ہوم سیکرٹری کے نام ایک خط میں سنڈے ٹائمز کی اس خبر پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ لندن میں فرانس کے سفارتخانہ نے مبینہ طور پر ایسے ایجنٹ بھرتی کیے ہیں جو مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۰ء

جزیرہ پاپانیوگنی کی مسلم اقلیت کو خطرہ

روزنامہ جنگ لندن ۱۶ اکتوبر ۲۰۰۰ء کی ایک خبر کے مطابق برطانوی ہاؤس آف لارڈز کے مسلمان ممبر لارڈ احمد آف رادھرم نے ایک مراسلہ کے ذریعے برطانوی دفترِ خارجہ، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان، اور انڈونیشیا و ملائیشیا کی مسلم حکومتوں کو پاپانیوگنی کی مسلم اقلیت کی حالتِ زار کی طرف توجہ دلائی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۰۰ء

آرمینیا کے عیسائی مسلم فسادات، امریکی کانگریس اور ترک پارلیمنٹ

روزنامہ جنگ لندن ۷ اکتوبر ۲۰۰۰ء کے مطابق ترکی پارلیمنٹ کی ۵ سیاسی جماعتوں نے مشترکہ طور پر امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی کانگریس نے آرمینیا میں خلافتِ عثمانیہ کے دور میں عیسائیوں کے قتلِ عام کی مذمت کی قرارداد منظور کی تو ترکی اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۰ء

فلسطینیوں پر اسرائیلیوں کے وحشیانہ حملے

مشرقِ وسطیٰ میں فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کے حملوں اور وحشیانہ تشدد سے علاقہ کی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے، اور اسرائیلی حملوں کے خلاف پوری دنیا میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ حالیہ کشیدگی کا پس منظر یہ ہے کہ امریکہ کی کوششوں سے اسرائیلی اور فلسطینی لیڈر یاسر عرفات کے درمیان اوسلو مذاکرات کے مطابق جو معاہدہ طے پایا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۰ء

ملک کا عدالتی نظام اور سپریم کورٹ آف پاکستان

روزنامہ جنگ لندن ۹ اکتوبر ۲۰۰۰ء کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس جناب ارشاد حسین خان نے ملک کے عدالتی نظام کے ایک شعبہ عائلی مقدمات کے حوالے سے کوڈ آف کریمینل پروسیجرز مجریہ ۱۸۹۸ء کی دفعہ ۴۹۱ اور فیملی کورٹس آرڈیننس میں مجوزہ ترامیم کے مسودہ کو عوامی رائے کے لیے مشتہر کرنے کی منظوری دی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۰ء

ترکی میں اسلامی حکومت کے قیام کی کوشش

روزنامہ جنگ لاہور نے ۲ ستمبر ۲۰۰۰ء کو خبر شائع کی ہے کہ ترکی کی ایک عدالت نے سرکردہ عالمِ دین فتح اللہ بلند پر اسلامی مملکت کے قیام کے لیے موجودہ حکومت کا تختہ الٹنے کے اقدام میں فردِ جرم عائد کر دی ہے، الزام ثابت ہونے پر انہیں دس سال قید کی سزا ہو سکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۰ء

اٹلی سپریم کورٹ کی طرف سے خاوند سے بے وفائی کی اجازت

روزنامہ جنگ لاہور نے ۱۱ ستمبر ۲۰۰۰ء کو مندرجہ ذیل خبر شائع کی ہے کہ لندن (نمائندہ جنگ) اٹلی کی عورتوں کو یہ حق حاصل ہو گیا ہے کہ وہ دن کے وقت ازدواجی زندگی سے باہر تعلقات قائم کر سکتی ہیں لیکن رات کے وقت انہیں گھر آنا ہو گا تاکہ ان کے خاوند کی عزت مجروح نہ ہو - - - مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۰ء

خطرناک سرگرمیوں میں ملوث نام نہاد سماجی تنظیمیں

روزنامہ جنگ لاہور ۲۱ اگست ۲۰۰۰ء کے ادارتی شذرہ کے مطابق بہاولپور میں ایک ایسی سماجی تنظیم کا انکشاف ہوا ہے جو گمشدہ بچوں کی بازیابی کے حوالے سے خدمات سرانجام دے رہی ہے اور باقاعدہ رجسٹرڈ ہے۔ مگر وہ اب تک ایک لاکھ بچوں کو اغوا کر چکی ہے جن میں چالیس ہزار کے لگ بھگ بچیاں بھی شامل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۰ء

نائجیریا میں نفاذِ شریعت کا سلسلہ

روزنامہ اوصاف اسلام آباد ۲۱ اگست ۲۰۰۰ء کی خبر کے مطابق افریقی ملک نائجیریا میں مسلم اکثریت کی حامل آٹھویں ریاست بورتو میں بھی شرعی قوانین کے نفاذ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ جبکہ اس سے قبل نائجیریا کی سات ریاستوں میں نفاذِ شریعت کا اعلان کیا جا چکا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۰ء

شرعی طور پر ممنوع اشیا کی درآمد پر پابندی

روزنامہ جنگ لاہور نے ۲۳ جولائی ۲۰۰۰ء کو ایک خبر شائع کی ہے جس کے مطابق وفاقی وزارتِ تجارت نے بیرونی ممالک سے بعض اشیا کی درآمد پر پابندی کے ضمن میں اشیائے ممنوعہ کی جو نئی فہرست تیار کی ہے اس میں شرعی قوانین کے حوالے سے بھی چند اشیا شامل کی گئی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۰ء

لاوارث بچوں کی تبدیلئ مذہب اور اسمگلنگ کا دھندا

روزنامہ اوصاف اسلام آباد نے ۲۳ جولائی ۲۰۰۰ء کو پی آئی اے اور فرائیڈے اسپیشل کے حوالے سے یہ خطرناک رپورٹ شائع کی ہے کہ بعض ادارے لاوارث بچوں کو عیسائی ظاہر کر کے انہیں بیرون ملک اسمگل کرنے کے مذموم کاروبار میں مصروف ہیں۔ اور کراچی کا ایک معروف ٹرسٹ اب تک بائیس ہزار بچوں کو فروخت کر کے کروڑوں روپے کما چکا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۰ء

دینی مدارس کے بارے میں حکومت کے اعلانات اور پالیسیوں کا تضاد

حکومت کے ذمہ دار حضرات ایک طرف دینی مدارس کے نظام میں مداخلت نہ کرنے کے اعلانات کر رہے ہیں، اور دوسری طرف وزارتِ تعلیم کی طرف سے ملک بھر کے دینی مدارس کے کوائف جمع کرنے کی مہم جاری ہے اور سروے فارم بدستور مدارس میں تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ وزارتِ تعلیم کی طرف سے جاری کیا جانے والا سروے فارم اس وقت ہمارے سامنے پڑا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۰ء

مشرف حکومت کے عبوری دستور میں اسلامی دفعات کی شمولیت

چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے بالآخر دستورِ پاکستان کی اسلامی دفعات کو اپنے عبوری آئین کا حصہ بنانے کا اعلان کر دیا ہے، اور ان کے سیکرٹریٹ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک اعلانیہ میں بتایا گیا ہے کہ قرارداد مقاصد، اسلام کو سرکاری مذہب قرار دینے، قرآن و سنت کے منافی دستور سازی کی ممانعت، وفاقی شرعی عدالت، اسلامی نظریاتی کونسل ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۰ء

امریکی ریاست نیو جرسی میں حلال فوڈ کا قانون

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۱۸ جون ۲۰۰۰ء کی خبر ہے کہ نیو جرسی امریکہ کی وہ پہلی ریاست بن گئی ہے جہاں حلال مصنوعات کی فروخت کے لیے بل منظور کیا گیا ہے جسے ’’حلال فوڈ بل‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ قانون سازی بل نمبر ۱۹۱۹ سیکشن ۱۔۸ کے بعد حلال کے نام پر صارفین کو حرام گوشت فراہم کرنے والوں کے خلاف قانونی کاروائی میں آسانی ہو گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۰ء

قرآنی تعلیمات کا فروغ اور صوبائی وزیر ڈاکٹر خالد رانجھا

پنجاب کے وزیر قانون و اقلیتی امور ڈاکٹر خالد رانجھا نے کہا ہے کہ پاکستان کلمہ طیبہ کے نام پر حاصل کیا گیا ہے، اور یہ ایک اسلامی ملک ہے جہاں قرآن بنیادی آئین کی حیثیت رکھتا ہے، اور کوئی بھی حکومت یا اسمبلی قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون منظور کرنے کی مجاز نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۰ء

افریقہ میں اسلام کی دعوت و نفاذ کی تازہ لہر

مالیر کوٹلہ بھارت سے مولانا مفتی فضیل الرحمٰن ہلال عثمانی کے زیر ادارت شائع ہونے والے دینی جریدہ ماہنامہ دارالسلام نے مئی ۲۰۰۰ء کے شمارہ میں ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ افریقہ کے مسلم اکثریت رکھنے والے ملک تنزانیہ میں، جہاں ایک عرصہ سے جولیس نریرے نامی عیسائی حکمران مسلط تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۰ء

پنجاب میں عیسائی ریاست کا مبینہ امریکی منصوبہ

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۲۱ مئی ۲۰۰۰ء کے مطابق جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمٰن نے فیصل آباد میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ پنجاب میں عیسائی ریاست کے قیام کے لیے متحرک ہو چکا ہے اور این جی اوز کے ذریعے آئندہ پچیس سال میں اس کی راہ ہموار کرنے کا کام جاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۰ء

سائنسی تحقیقات اور کائنات کا نظام

روزنامہ جنگ لاہور ۱۸ مئی ۲۰۰۰ء کے مطابق برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس نے بی بی سے نشر ہونے والی ایک تقریر میں سائنسدانوں کے قدرت کے خلاف کام کرنے پر نکتہ چینی کرتے ہوئے ان خطرات کا اظہار کیا ہے کہ سائنسدان قدرت کی حسین دنیا کے خلاف یکطرفہ دلائل سے روحانی اور دینی اصولوں کو پس پشت ڈال کر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۰ء

انڈونیشی مسلمانوں کی جدوجہد اور امریکی دھمکی

روزنامہ اوصاف اسلام آباد ۱۸ مئی ۲۰۰۰ء کی خبر کے مطابق امریکی وزیر خارجہ میڈین البرائٹ نے واشنگٹن میں انڈونیشی وزیرخارجہ کے دورے کے موقع پر ان کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ انڈونیشیا کے صوبہ ایچے میں شدت پسند اسلامی گروپوں اور مجاہدین کو کچلنے کے لیے امریکہ انڈونیشی حکومت کی مدد کرے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۰ء

مشرف حکومت سے مطالبات اور ملک گیر ہڑتال

ملک بھر کے عوام نے ۱۹ مئی کو دینی جماعتوں اور تاجر برادری کی اپیل پر ملک گیر ہڑتال کر کے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کے اسلامی تشخص، دستور کی اسلامی دفعات، عقیدۂ ختم نبوتؐ کے تحفظ، اور ناموسِ رسالتؐ کی حفاظت کے لیے پاکستانی قوم ماضی کی طرح آج بھی پوری طرح متحد ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۰ء

سپریم کورٹ کا فیصلہ اور جنرل پرویز مشرف کیلئے مشورہ

سپریم کورٹ آف پاکستان کے ۱۲ ججوں نے ایک متفقہ فیصلہ کی رو سے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۹ء کے اقدام کو جائز قرار دیتے ہوئے انہیں ہدایت کی ہے کہ وہ تین سال کے اندر انتخابات کرا کے اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کے سپرد کر دیں۔ روزنامہ جنگ لاہور ۱۳ مئی ۲۰۰۰ء کی رپورٹ کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۰ء

دو ہزار سالہ مظالم پر پوپ جان پال دوم کا معافی نامہ

مسیحی ماہنامہ شاداب لاہور نے مارچ ۲۰۰۰ء کے شمارہ میں مسیحی امت کے کیتھولک فرقہ کے سربراہ پوپ جان پال دوم کے اس معافی نامہ کی کچھ تفصیلات شائع کی ہیں جو انہوں نے روم میں ایک تقریب کے دوران بیان کیا ہے۔ پوپ جان پال دوم نے اپنے بیس منٹ کے خطاب میں گزشتہ دو ہزار سال کے دوران مسلمانوں، یہودیوں اور دیگر گروہوں کے خلاف ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۰ء

دینی مدارس اور جنرل پرویز مشرف کے عزائم

چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ روز مصر کے دورہ کے موقع پر اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پاکستان کے دینی مدارس کی اصلاح کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ روزنامہ نوائے وقت لاہور ۱۹ اپریل ۲۰۰۰ء کے مطابق جنرل پرویز نے کہا ہے کہ وہ ملک کے دینی مدارس کو اجتماعی دھارے میں شامل کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے ضروری اقدامات کریں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۰ء

این جی اوز کا دھندا اور جناب عبد الستار ایدھی

روزنامہ جنگ لاہور ۱۷ مارچ ۲۰۰۰ء کے مطابق ممتاز سماجی کارکن جناب عبد الستار ایدھی نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان میں این جی اوز اس وقت کمائی کا سب سے بڑا دھندا ہے، جسے کوئی کام نہیں ملتا وہ این جی او بنا لیتا ہے، تاہم صرف دس فیصد این جی اوز حقیقت میں سماجی خدمات سرانجام دے رہی ہیں باقی نوے فیصد فراڈ ہیں اور ’’مال پانی‘‘ بنا رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۰ء

ثقافت کے نام پر شرمناک سرگرمیاں

روزنامہ اوصاف اسلام آباد نے ۱۶ مارچ ۲۰۰۰ء کو ساہیوال کی ایک رقاصہ فہمیدہ کا تفصیلی انٹرویو شائع کیا ہے جس میں اس نے بتایا کہ پاکستان سے مختلف ممالک میں رقاصاؤں کے جو ثقافتی طائفے جاتے ہیں ان سے رقص و سرود کی محفلیں سجانے کے علاوہ جسم فروشی کا مکروہ دھندہ بھی کرایا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۰ء

قراردادِ مقاصد اور سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ سید نسیم حسن شاہ

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۱۳ مارچ ۲۰۰۰ء کی ایک رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق چیف جسٹس جناب سید نسیم حسن شاہ نے لاہور میں ’’قراردادِ مقاصد‘‘ کے عنوان پر ایک خصوصی نشست سے خطاب کرتے ہوئے عدلیہ پر زور دیا ہے کہ وہ جوڈیشل ایکٹیوازم کے تحت قراردادِ مقاصد کو من و عن نافذ کر دے تاکہ اسلامی معاشرے کا قیام ممکن ہو سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۰ء

آلیج محمد کے جانشین لوئیس فرخان کے قبولِ اسلام کی خبر

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۱۷ جنوری ۲۰۰۰ء کے مطابق جامعہ ازہر قاہرہ کے سرکردہ علماء کرام نے مصر کے صدر حسنی مبارک کے نام ایک خط میں ان سے کہا ہے کہ وہ مصر کی قومی اسمبلی میں گزشتہ دنوں پیش ہونے والے اس بل پر بحث کو تین ماہ کے لیے مؤخر کر دیں جس کے ذریعے عورتوں کو یہ حق دیا جا رہا ہے کہ وہ خاوندوں کے ساتھ تنازعہ کی صورت میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۰ء

خواتین کو طلاق کا حق اور جامعہ ازہر

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۱۷ جنوری ۲۰۰۰ء کے مطابق جامعہ ازہر قاہرہ کے سرکردہ علماء کرام نے مصر کے صدر حسنی مبارک کے نام ایک خط میں ان سے کہا ہے کہ وہ مصر کی قومی اسمبلی میں گزشتہ دنوں پیش ہونے والے اس بل پر بحث کو تین ماہ کے لیے مؤخر کر دیں جس کے ذریعے عورتوں کو یہ حق دیا جا رہا ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۰ء

مسلمانوں کا قتل عام اور عالمی عدالت

روزنامہ جنگ لاہور ۱۶ جنوری ۲۰۰۰ء کے مطابق ہیگ کی بین الاقوامی عدالت کے جنگی ٹربیونل نے بوسنیا کے پانچ کروٹ باشندوں کو مسلمانوں کے قتلِ عام کا مجرم قرار دے دیا ہے۔ ان پانچ کروٹ باشندوں نے ۱۹۹۳ء میں بوسنیا کے ایک وسطی گاؤں میں ایک سو مسلمانوں کا قتلِ عام کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۰ء

وفاقی شرعی عدالت اور اس کے بعض فیصلے

وفاقی شرعی عدالت کا قیام دستورِ پاکستان کے تحت اس لیے عمل میں لایا گیا تھا کہ ملک میں رائج جو قوانین اور ضابطے قرآن و سنت کے منافی ہیں ان کا تعین کر کے انہیں اسلامی تعلیمات کے سانچے میں ڈھالا جائے۔ اور وفاقی شرعی عدالت نے اس سلسلہ میں اب تک بہت سے اہم فیصلے صادر کیے ہیں جن میں سودی قوانین کو خلافِ اسلام قرار دینے کا تاریخی فیصلہ بھی شامل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۰ء

انڈونیشیا میں مسیحی مسلم کشمکش اور دینی بیداری

نوائے وقت لاہور ۱۹ دسمبر ۱۹۹۹ء کی ایک خبر کے مطابق انڈونیشیا میں دینی حلقوں کے پرجوش مظاہرہ کے بعد رمضان المبارک کے دوران تمام نائٹ کلبوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ انڈونیشیا آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا اسلامی ملک ہے، لیکن جہاں اس کا آئین سیکولر بنیادوں پر استوار ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۰ء

ہم جنس پرستوں کے حق میں امریکی اور برطانوی عدالتوں کے فیصلے

روزنامہ جنگ لاہور نے ۲۲ دسمبر ۱۹۹۹ء کی اشاعت میں خبر دی ہے کہ امریکی ریاست ورماؤنٹ کی سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستوں کو بھی میاں بیوی جیسے حقوق کا حقدار قرار دے دیا ہے۔ جج نے اپنی رولنگ میں کہا ہے کہ ریاست ورماؤنٹ کے ہم جنس پرست جوڑے بھی انہی حقوق کے حقدار ہیں جو مرد اور عورت کے جوڑے کو حاصل ہیں - - - مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۰ء

بچوں کی لازمی تعلیم اور چائلڈ لیبر کا مسئلہ

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۲۳ دسمبر ۱۹۹۹ء کی ایک خبر کے مطابق حکومتِ پاکستان نے سکولوں میں بچوں کی تعلیم کو لازمی بنانے کے لیے قانونی اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ جن کے تحت دکانوں، ہوٹلوں اور دیگر اداروں میں بچوں سے مزدوری لینے پر پابندی عائد کی جائے گی، اور بچوں کو سکول نہ بھیجنے والے والدین اور بچوں سے مزدوری کا کام کرانے والے دکانداروں اور مالکوں کے لیے سزائیں تجویز کی جائیں گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۰ء

ترکی میں دینی بیداری پر قدغنیں

روزنامہ جنگ لاہور ۱۷ مئی ۱۹۹۹ء کی ایک خبر کے مطابق ترکی کے صدر سلیمان ڈیمرل نے پارلیمنٹ کی نومنتخب خاتون رکن نروکو آجک کو ترکی کی شہرت سے محروم کر دینے کے فرمان پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے بعد یہ امکان ہے کہ انہیں ترکی سے نکال دیا جائے گا۔ نروکو آجک حالیہ انتخابات میں ترک پارلیمنٹ کی رکن منتخب ہوئی ہیں مگر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۱۹۹۹ء

سنکیانگ کے مسلمانوں کی حالت زار اور چینی حکومت

ہفت روزہ ضربِ مومن کراچی نے ۳۰ اپریل ۱۹۹۹ء کی اشاعت میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے حوالے سے رپورٹ شائع کی ہے کہ چین کی سرحد پر مسلم اکثریت کے صوبہ سنکیانگ میں گزشتہ ایک سال کے دوران ۱۹۰ افراد کو پھانسی دی گئی ہے۔ اگرچہ چین کی وزارتِ خارجہ نے ایمنسٹی کی اس رپورٹ کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۱۹۹۹ء

شرعی احکام اور ہماری عدالتوں کے فیصلے

روزنامہ پاکستان لاہور ۷ مئی ۱۹۹۹ء کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل نے سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس شائق عثمانی کے اس فیصلہ کو قرآنی احکام کی خلاف ورزی قرار دیا ہے جس میں وراثت میں لڑکی اور لڑکے کے حصہ کو برابر قرار دیتے ہوئے اس ضمن میں قرآنی حکم میں اجتہاد کی تجویز پیش کی گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۱۹۹۹ء

وفاقی شرعی عدالت کے خاتمے کا مطالبہ

پاکستان بار کونسل کی ایک قرارداد قومی اخبارات کے ذریعے سامنے آئی ہے جس میں وفاقی شرعی عدالت اور حدود آرڈیننس کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ بار کونسل کے وائس چیئرمین رانا اعجاز احمد خان کے مطابق پاکستان بار کونسل نے وفاقی شرعی عدالت اور حدود آرڈیننس کو امتیازی قوانین کے زمرے میں شمار کرتے ہوئے انہیں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۱۹۹۹ء

قوم پرست جماعتیں اور پاکستان کی دستوری اسلامی حیثیت

قوم پرست جماعتوں کے متحدہ محاذ ’’پونم‘‘ نے ایک حالیہ اجتماع میں مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کے دستور پر نظرثانی کی جائے، جس کے لیے پونم کی طرف سے آئینی ترامیم کا پیکیج پیش کیا گیا ہے۔ اس پیکج میں مکمل صوبائی خودمختاری کے ساتھ ساتھ قومیتوں کی بنیاد پر نئے صوبوں کے قیام اور ملک کا نام تبدیل کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۱۹۹۹ء

مولانا سمیع الحق کی خوش آئند پیشکش

جمعیۃ علماء اسلام (س) کے سیکرٹری جنرل مولانا سمیع الحق نے روزنامہ اوصاف اسلام آباد (۱۵ مارچ ۱۹۹۹ء) کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مولانا فضل الرحمٰن سے اتحاد کے لیے تیار ہیں۔ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے باہمی خلفشار نے جہاں اہلِ حق کی اس نمائندہ جماعت کی پارلیمانی قوت کو رفتہ رفتہ کمزور تر کر کے رکھ دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۱۹۹۹ء

خواتین کو ورغلانے کی عالمی مہم

گزشتہ ہفتے ملک بھر میں خواتین کے حقوق کا دن منایا گیا اور مختلف شہروں میں تقریبات منعقد کر کے اس سلسلہ میں مطالبات دہرائے گئے۔ خواتین کے حقوق کی بحالی کا نعرہ مغرب سے درآمد شدہ ہے جس کا اصل مقصد عورتوں کو ورغلا کر گھریلو ذمہ داریوں سے بیزار کرنا اور اسی طرح خاندانی نظام کو سبوتاژ کرنا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۱۹۹۹ء

بنگلہ دیش میں مولانا ساجد عثمان کی گرفتاری

گزشتہ دنوں بنگلہ دیش میں ایک پاکستان عالمِ دین مولانا ساجد عثمان کو گرفتار کر لیا گیا۔ وہ میرے شاہ صادق آباد ضلع رحیم یار خان میں حفظ قرآن کریم کی معروف درسگاہ مدرسہ خدام القرآن کے بانی حضرت مولانا محمد عثمانؓ کے فرزند ہیں، ایک عرصہ تک جہاد افغانستان سے منسلک رہے ہیں اور حرکۃ الجہاد الاسلامی کے ذمہ دار حضرات میں سے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۱۹۹۹ء

ترکی میں اسلامی بیداری اور سیکولر فوج کا الٹی میٹم

۱۶ جنوری ۱۹۹۹ء کو گورنر سرحد نے ایک آرڈیننس کے ذریعے صوبہ سرحد کے مالاکنڈ ڈویژن اور ہزارہ ڈویژن کے ضلع کوہستان میں شرعی قوانین کے نفاذ کے لیے ’’شرعی نظامِ عدل آرڈیننس ۱۹۹۹ء‘‘ کا اعلان کیا ہے۔ جن کے تحت سوات، دیر، چترال اور کوہستان کے چار اضلاع اور مالاکنڈ کے قبائلی علاقے میں عدالتوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ مقدمات کے فیصلہ شریعتِ اسلامیہ کے مطابق کریں گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۱۹۹۹ء

Pages